شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9910
9910 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن أحمد بن بالويه نا محمد بن يونس نا سعيد بن عامر نا شعبة عن عاصم الأحول عن أبي عثمان : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم وجيه آل فلان فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ما رزئت في مال و لا ولد ؟ قال : لا قال : إن أبغض عباد الله إلى الله العفريت النفريت الذي لم يرزأ في مال و لا ولد قال : فبايعه بأطراف أصابعه هكذا جاء مرسلا
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی محمد بن احمد بن بالویہ نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو ابو عثمان نے یہ کہ ایک آدمی نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( وجیہ ) آل فلاں ۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کبھی تمہارے مال یا اولاد میں کوئی نقصان پہنچا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ کے بندوں میں سے اللہ کے نزدیک مبغوض اور ناپسندیدہ شخص (عفریت نفریت ) ہوتا ہے۔ جس کو نہ کبھی اس کے مال میں گھاٹا ہو نہ اولاد میں۔ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیعت تو کیا مگر انگلیوں کے کناروں اور پوروں کے ساتھ۔ یہ روایت مرسل طریقہ پر آئی ہے۔
أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9910
