Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9934

9934 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا محمد بن الفرج الأزرق نا السهمي نا سنان بن ربيعة عن ثابت البناني عن عبيد بن عمير عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من مسلم يبتلى في جسده إلا كتب الله له كل عمل صالح كان يعمله في صحته في مرضه قال الشيخ سنان بن ربيعة هو أبو ربيعة و في هذا دلالة على أنه لم يسمعه من أنس بن مالك و الله أعلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن فرج ازرق سہمی نے ان کو سنان بن ربیعہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو عبید بن عمیر نے کہ حضرت ابن مالک نے کہا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو مسلمان بھی کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ہر صالح عمل لکھتا ہے مرض کے اندر جہ سے وہ صحت میں عمل کرتا رہتا تھا۔ شیخ نے کہا کہ سنان بن ربیعہ وہی ابو ربیعہ ہے۔ اس روایت میں دلالت ہے اس پر کہ انہوں نے اس کو انس بن مالک سے نہیں سنا۔ واللہ اعلم۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← سنان بن ربيعة ← السَّهْمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9934

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9935

9935 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن خالد المطوعي ببخارى من أصل كتابه نا أبو علي الحسن بن الحسين بن البزار البخاري نا عبيد الله بن واصل البخاري نا أحمد بن جنبد بخارى نا عيسى بن موسى غنجار ببخارى عن مخلد بن عمر القاضي ببخارى عن إسحاق بن وهب و هو بخاري عن الحجاج الطائي عن علقمة قال : دخلنا على ابن مسعود فقلنا يا أبا عبد الرحمن ما تشتكي ؟ قال : ذنوبي قلنا فما تشتهي ؟ قال : أشتهي المغفرة قلنا له ألا نأتيك بطيب قال : الطبيب أنزل بي ما ترون قال : ثم بكى عبد الله ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن العبد إذا مرض يقول الرب تبارك و تعالى عبدي في وثاقي فإن نزل به المرض و هو في اجتهاده قال اكتبوا له من الأجر قدر ما كان يعمل في اجتهاده و إن كان به المرض في فترة منه قال : اكتبوا له من الأجر ما كان في فترته فأنا أبكي أنه نزل بي المرض في فترة ولوددت أنه كان في اجتهاد مني

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن خالد مطوعی نے بخارا میں اپنی اصل کتاب میں سے ان کو ابو علی حسن بن حسین بن بزار بخاری نے ان کو عبیداللہ بن واصل بخاری نے ان کو احمد بن جنید بخاری نے ان کو عیسیٰ بن موسیٰ گنجار بخاری نے مخلد بن عمر قاضی سے بخارا میں اسحاق بن وہب سے وہ بھی بخاری ہے اس نے حجاج طائی سے اس نے علقمہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہم داخل ہوئے حضرت ابن مسعود پر ہم نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن کس چیز کی آپ کو شکایت ہے؟ کہا کہ میرے گناہوں کی ۔ ہم نے پوچھا کہ آپ کس کی خواہش رکھتے ہیں ۔ کہا کہ مغفرت کی میں خواہش کرتا ہوں۔ ہم نے اس کو کہا کہ کیا ہم آپ کے پاس کسی طبیب کو نہ لے آئیں؟ انہوں نے کہا کہ طبیب میرے پاس اتر چکا ہے تم لوگ دیکھ نہیں رہے۔ کہتے ہیں کہ پھر عبداللہ رو پڑے۔ پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے کہ بندہ جب بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میری گرفت میں ہے اور میری قید میں ہے۔ اگر اس کو مرض اس حالت میں لگا ہوتا ہے کہ وہ اس کی مشقت میں ہوتا ہے تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قدر وہ مشقت میں رہے اس کے لئے اجر لکھتے جاؤ۔ اور اگر مرض وقفے سے ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وقفہ میں بھی اس کا اجر لکھو۔ میں رو رہا ہوں کہ میرے ساتھ مرض وقفہ کے ساتھ اتر رہے ہیں۔ میں پسند کرتا ہوں کاش کہ وہ مسلسل مشقت کے ساتھ مجھے ہوتا۔

ذنوبي قلنا فما تشتهي ← دخلنا على ابن مسعود فقلنا يا أبا عبد الرحمن ما تشتكي ← عَلْقَمَةَ ← الحجاج الطائي ← إسحاق بن وهب و هو بخاري ← مخلد بن عمر القاضي ← عِيسَى بْنُ مُوسَى غُنْجَارٌ، ← أحمد بن جنبد بخارى ← عبيد الله بن واصل البخاري ← أبو علي الحسن بن الحسين بن البزار البخاري ← أبو بكر محمد بن خالد المطوعي ببخارى من أصل كتابه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9935

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9936

9936 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم نا هارون بن سليمان نا عبد الرحمن بن مهدي عن أبي عوانة عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال : مرض ابن مسعود مرضا له فقلت : ما رأيتك جزعت من مرض أشد مما جزعت في مرضك هذا فقال له إنه أخذني و قرب بي من الغفلة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو اعمش نے ان کو ابراہیم نے علقمہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود بیمار ہو گئے تھے میں نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کسی مرض سے گھبرائے ہوں اس قدر جتنی اس مرض سے آپ پریشان ہوئے میں فرمایا کہ اسی نے مجھے پکڑ لیا ہے اور اس نے غفلت و بے ہوشی کو میرے قریب کر دیا ہے۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي عَوَانَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9936

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9937

9937 - حدثنا أبو بكر بن فورك نا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا محمد بن أبي حميد عن عون بن عبد الله بن عتبة عن أبيه عن ابن مسعود قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فتبسم قال : فقلنا يا رسول الله تبسمت قال : عجبت للمؤمن و جزعه من السقم أحب أن يكون سقيما حتى يلقى الله عز و جل

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن ابو حمید نے ان کو عون بن عبداللہ بن عقبہ نے اپنے والد سے اس نے ابن مسعود سے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم مسکرائے ۔ تو ہم نے پوچھا کہ آپ مسکراتے ہیں؟ فرمایا مجھے حیرانی ہوتی ہے مؤمن سے اور بیماری سے اس کے گھبرانے ہے۔ حالانکہ اگر وہ یہ جان لیتا ہے کہ بیماری میں کس قدر خوبی ہے تو وہ یہ پسند کرتا کہ بیمار ہی رہے حتٰی کہ اللہ سے مل جائے ( یعنی موت تک بیمار رہے)

فَقُلْنَا ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فتبسم ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9937

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9938

9938 - و بإسناده قال : رفع النبي صلى الله عليه و سلم بصره إلى السماء ثم خفضه فقلنا يا رسول الله مما صنعت هذا ؟ قال : عجبت من الملكين بين الملائكة نزلا إلى الأرض يلتمسان عبدا في مصلاه فلم يجداه عرجا إلى السماء إلى ربهما فقالا يا رب كنا نكتب لعبدك المؤمن في يومه و ليلته من العمل كذا و كذا فوجدناه قد حسبته في حبالتك قلم نكتب له شيئا فقال تبارك و تعالى : اكتبا لعبدي عمله في يومه و ليلته و لا تنقصوه شيئا على آخر ما حسبته و له أجر ما كان يعمل

اور اسی کی اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی پھر نیچے کر لی ہم نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟ فرمایا کہ مجھے حیرانی ہوئی ہے دو فرشتوں پر جو زمین پر اترے ہیں اور وہ ایک نمازی بندے کو اس کی نماز پڑھنے کی جگہ پر تلاش کر رہے ہیں مگر اس کو اپنی جگہ پر نہیں پایا ہے اس لئے وہ آسمان کی طرف چڑھ گئے ہیں اپنے رب کی طرف اور جا کر کہا ہے اے ہمارے رب ہم رات دن تیرے مومن بندنے کے نیک اعمال لکھتے رہتے تھے فلاں فلاں اعمال اب ہم نے اس کو موجود نہیں پایا اس لئے کہ آپ نے اس کو اپنے قبضہ میں لے لیا ہے لہٰذا اہم اس کے لئے کچھ بھی نہیں لکھ سکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فرشتو تم میرے بندے کے لئے اس کے عمل لکھتے رہو دن رات اس میں کمی نہ کرو اس کے آخری عمل تک جب میں نے اس کو قبض کیا تھا۔ اور اس کے لئے اس کے عمل کا جو وہ کرتے تھے پورا پورا اجر ہے۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9938

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9939

9939 - أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا نا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى نا يحيى بن المتوكل عن محمد بن أبي بكر عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم

اور ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ نے ان کو یحییٰ بن متوکل نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9939

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9940

9940 - و أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني يحيى بن جعفر أنا يزيد بن هارون أنا أبو عقيل قال : رأيت محمد بن أبي بكر محمد بن عمرو بن حزم دخل على عبد الله بن عبيد الله فقال كيف تجدك يرحمك الله ؟ قال : أحمد الله إليك و الله محمود بخير قال : وفقنا الله و إياك سمعت أبا بكر يحدث عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما مرض مسلم قط إلا وكل الله به ملكين من ملائكته لا يفارقانه حتى يقضي الله فيه بإحدى الحسنيين إما بموت و إما بحياة فإذا قال له العواد كيف تجدك ؟ قال : أحمد الله أجدني و الله محمود بخير قال له الملكان : أبشر بدم هو خير من دمك و بصحة هي خير من صحتك فإذا قال له العواد كيف تجدك ؟ قال : أجدني مجهودا مكروبا في بلاء قال له الملكان أبشر بدم هو شر من دمك و بلاء هو أطول من بلائك لفظ حديث يحيى بن يحيى

اور ہمیں خبر دی ہے ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیانے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو ابو عقیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابو بکر کو دیکھا محمد بن عمرو بن حزم علی بن عبداللہ بن عبیداللہ کے پاس آئے اور آ کر کہا کہ آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں؟ اللہ آپ کے اوپر رحم کرنے فرمایا کہ میں آپ کے سامنے اللہ کی حمد کرتا ہوں اللہ محمود بخیر ہے۔ اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو توفیق عطا کرے میں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہ وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے انہوں نے کیا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بیمار ہوتا کوئی مومن ہرگز مگر اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے دو فرشتے اس پر مقر فرماتا ہے اور وہ اس کو چھوڑ کر نہیں جاتے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں دو میں سے کسی ایک نیکی کے ساتھ فیصلہ کر دے یا تو موت دے دے یا پھر زندہ ر کھے۔ پس جس وقت عیادت کرنے والے اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسے ہیں؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں اللہ کی حمد کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ محمود بہ خیر ہے؟ تو فرشتے اس کو کہتے ہیں۔ آپ خوش ہو جائیے خون کے ساتھ جو بہتر ب تیرے خون سے۔ اور اس صحت کے ساتھ جو تیری صحت سے بہتر ہے اور جب عیادت کرنے والے اس سے پوچھتے ہیں کہ آپ کیسے ہیں؟ اور وہ کہتا ہے میں بہت مصیبت و مشقت میں ہوں بہت ہی کرب میں اور تکلیف میں گرفتار ہوں۔ تو فرشتے اس سے کہتے ہیں آپ اس خون کے ساتھ خوش ہو جائیں جو تیرے خون سے بدتر ہے اور مصیبت کے ساتھ جو تیری اس آزمائش سے زیادہ طویل ہے۔ یہ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کے ہیں۔

أَبُو عَقِيلٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9940

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9941

9941 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق المزكي أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا مرض العبد بعث الله إليه ملكين فيقول : انظرا ما يقول لعواده فإن هو إذ جاؤوه حمد الله و أثنى عليه رفعا ذلك إلى عز و جل و هو أعلم فيقول : لعبدي علي إن توفيته أن أدخله الجنة و إن أنا شفيته أن أبدله لحما خيرا من لحمه و دما خيرا من دمه و أن أكفر عنه سيئاته و قد روي عنه موصولا كما

اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق مزکی نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے مالک کے سامنے پڑھی اس نے زید بن اسلم سے اس نے عطا بن یسار سے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب بیمار ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس دوستوں کو بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ دیکھو کہ یہ اپنے عیادت کرنے والوں سے کیا کہتا ہے جب وہ آتے ہیں اگر وہ اللہ کی حمد وثنا کرتا ہے تو اس حمد وثنا کو وہ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہیں حالانکہ وہ اس کو خوب جانتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے کے لئے مجھ پر ذمہ داری ہے کہ اگر میں اس کو وفات دے دوں تو میں اس کو جنت میں داخل کروں گا اور اگر میں نے اس کو شفا دے دی تو اس کو میں ایسا گوشت بدل دوں گا جو اس کے موجودہ گوشت سے بہتر ہو گا اور ایسا خون جو اس کے موجودہ خون سے بہتر ہو گا۔ اور میں اس کی برائیاں مٹا دوں گا۔ اور ان سے موصول روایت بھی مروی ہے۔

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9941

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9942

9942 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي و أبو محمد بن أبي حامد المقري قالوا : أنا أبو العباس هو الأصم نا إبراهيم بن سليمان نا أبو صالح الحراني نا أبو عياش حدثني سليمان بن سليم و عباد بن كثير عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل إذا ابتلى عبدا بالبلاء بعث الله إليه ملكين فقال لهما : انظرا إلى ما يقول عبدي لعواده حين يعودونه فإن كان قد قال : خيرا و لم يشك إليهم الذي به من البلاء قال الله لملائكته : أبدلوا عبدي بلحمه خيرا من لحمه و بدم خيرا من دمه و أخبروه إن أنا قبضته أدخلته الجنة و إن أنا أطلقته من وثاقه فليستأنف العمل و روي من وجه آخر بإسناد صحيح موصولا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے اور ابو محمد بن ابو حامد مقری نے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن سلیمان نے ان کو ابو صالح حرانی نے ان کو ابو عیاش نے ان کو حدیث بیان کی سلیمان بن سلیم نے اور عباد بن کثیر نے زید بن اسلم سے اس نے عطا بن یسار سے اس نے ابو سعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو کسی آزمائش کے ساتھ آزماتے ہیں تو اس پر دو فرشتوں کو مقرر کرتے ہیں۔ اور ان سے کہتے ہیں کہ دیکھو کہ میرا بندہ اپنی عیادت کرنے والوں کو کیا کیا کہتا ہے وہ اس کی جب عیادت کرنے آتے ہیں اگر وہ بندہ اچھی بات کرتا ہے اور ان کے آگے شکایت نہیں کرتا اس آزمائش کی جس میں وہ مبتلا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتے ہیں۔ اس بندے کے گوشت کو اس سے بہتر گوشت بدل دو اور اس کا خون اس خون سے بہتر بدل دو اور اس کو خبر دے دو کہ اگر میں نے اس کو وفات دے دی تو میں اس کو جنت میں داخل کر دوں گا اور اگر میں نے اس کو اس کی قید سے آزاد کر دیا تو اس کو چاہئے کہ وہ نئے سرے سے عمل شروع کرے۔ اور دوسرے طریق سے مروی ہے صحیح اسناد کے ساتھ بطور مرسل روایت کے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سليمان بن سليم و عباد بن كثير ← أَبُو عَيَّاشٍ، ← أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9942

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9943

9943 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ حدثني بكير بن محمد الصوفي بمكة نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله نا علي بن المديني نا أبو بكر الحنفي نا عاصم بن محمد بن زيد عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تبارك و تعالى : إذا ابتليت عبدي المؤمن و لم يشتك إلى عواده أطلقته من أساري ثم أبدلته لحما خيرا من لحمه و دما خيرا من دمه ثم يستأنف العمل

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو حدیث بیان کی بکیر بن محمد صوفی نے مکہ میں ان کو ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو علی بن مدینی نے ان کو ابو بکر صدیق نے ان کو عاصم بن محمد بن زید نے ان کو سعید بن ابو سعید مقبری نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ جب میں اپنے بندوں کو آزماتا ہوں تو وہ اپنے عبادت کرنے والوں سے کوئی شکایت نہیں کرتا تو میں اس کو تمام قیدوں سے چھٹکارا دے دوں گا پھر میں اس کا گوشت پہلے سے بہتر بدل دوں گا اور خون پہلے خون سے بہتر بدل دوں گا پھر وہ نئے سرے سے عمل شروع کرے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← بكير بن محمد الصوفي بمكة ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9943

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9944

9944 - قال الشيخ : زعم بعض الحفاظ أن مسلم بن الحجاج أخرج هذا الحديث في كتابه عن القواريري عن أبي بكر الحنفي ثم اعترض عليه بأن هذا الحديث إنما يروى عن عاصم عن عبد الله بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة كذلك رواه قرة بن عيسى عن عاصم

شیخ نے فرمایا کہ بعض حفاظ نے گمان کیا ہے کہ مسلم بن حجاج نے اس حدیث کو اپنی کتاب میں قواریری سے نقل کیا ہے اس نے ابو بکر حنفی ہے۔ پھر ان پر انہوں نے اعتراض کیا ہے کہ یہ حدیث یقینی طور پر مروی ہے عاصم سے اس نے عبداللہ بن سعید مقبری سے اس نے ابو ہریرہ سے۔ اسی طرح اس کو روایت کیا قرہ بن عیسیٰ نے عاصم سے۔

عَاصِمٍ، ← أبي هريرة كذلك رواه قرة بن عيسى ← عبد الله بن أبي سعيد المقبري ← عَاصِمٍ، ← أبي بكر الحنفي ثم اعترض عليه بأن هذا الحديث إنما يروى ← الْقَوَارِيرِيُّ ← الشيخ زعم بعض الحفاظ أن مسلم بن الحجاج أخرج هذا الحديث

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9944

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9945

9945 - و رواه معاذ بن معاذ : عن عاصم بن محمد عن عبد الله بن سعيد عن أبيه أو جده عن أبي هريرة و عبد الله بن سعيد شديد الضعف و قد نظرت في كتاب مسلم رحمه الله فلم أجد هذا الحديث و لم يذكره أيضا أبو مسعود الدمشقي في تعليق الصحيح

اور اس کو روایت کیا ہے معاذ بن معاذ سے اس نے عاصم بن محمد سے اس نے عبداللہ بن سعید سے اس نے اپنے والد سے یا دادا سے اس نے ابو ہریرہ سے اور عبداللہ بن سعید شدید ضعیف ہے۔ میں نے مسلم رحمہ اللہ کی کتاب میں نظر ماری تو میں نے یہ حدیث اس میں نہیں پائی اور اس کو ابو مسعود دمشقی نے بھی تعلیق الصحیح میں ذکر نہیں کیا۔

أَبِيهِ، أَوْ جَدِّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← و رواه معاذ بن معاذ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9945

chevron_left Previous
1…934935936…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood