Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9802

9802 - و بإسناده عن أبي أمامة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا رأيتم أمرا لا تستطيعون تغييره فاصبروا حتى يكون الله هو الذي يغيره

اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے ابو امامہ سے یہ کہ رسول للہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس وقت تم لوگ کسی ایسے امر کو دیکھو جس کو بدل دینے کی تم لوگ استطاعت نہیں رکھتے ہو تو اس پر صبر کیا کرو یہاں تک صبر کرو کہ خو اللہ تعالیٰ اس کو بدل دے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9802

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9803

9803 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن أحمد بن أبي العوام نا أبو عامر نا علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي راشد عن عبد الرحمن بن شبل رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الفساق هم أهل النار فقال رجل يا رسول الله من الفساق ؟ قال : النساء فقال رجل يا رسول الله ألسن أمهاتنا و بناتنا و أخواتنا و أزواجنا ؟ قال : بلى و لكنهن إذا أعطين لم يشكرن و إذا ابتطئن لم يصبرن

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن احمد بن العوام نے ان کو ابو عامر نے ان کو علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابو سلام نے ان کو ابو راشد نے ان کو عبدالرحمٰن بن شبل نے وہ اصحاب رسول میں سے ایک آدمی تھے کہا کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ بے شک فاسق اہل جہنم ہیں۔ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ فاسق کون ہیں؟ فرمایا کہ عورتیں ہیں ؟ اس آدمی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا وہ ہماری مائیں بہنوں اور بیٹیاں اور ہم لوگوں کی بیویاں نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہاں کیوں نہیں مگر وہ جب عطا کی جاتی ہیں تو شک نہیں کرتیں اور جب دیر سے دی جائیں تو صبر نہیں کرتیں۔

أَبِي رَاشِدٍ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9803

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9804

9804 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن شاذان نا قتيبة بن سعيد ح و أخبرنا أبو الحسين علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا إبراهيم بن بشار قالا : أنا سفيان عن عمرو بن محيصن عن محمد بن قيس بن مخرمة عن أبي هريرة قال : لما نزلت { من يعمل سوءا يجز به } شقت على المسلمين فسألوا النبي صلى الله عليه و سلم فقال و في رواية قتيبة بلغت من المسلمين مبلغا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قاربوا و سددوا ففي كل ما يصاب به المسلم كفارة حتى الشوكة يشاكها أو النكبة ينكبها رواه مسلم عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن شاذان نے ان کو قتیبہ بن سعید نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن بشار نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی سفیان نے عمرو بن محیص سے اس نے محمد بن قیس بن مخرمہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: من یعمل سوء یجزبہ جو شخص بر اعمل کرے گا اس کی سزاد یا جائے گا۔ تو مسلمانوں پر مشکل اور سخت گزری۔ لہٰذا انہوں نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو حضورصلیٰ اللہ علیہ وسلمنے فرمایا اور ایک روایت میں قتیبہ سے مروی ہے۔ وہ مسلمانوں مشکل گزری۔ لہٰذا حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو ۔ کردار و گفتار کی سچائی و درستگی کے ساتھ سلامتی والی روش اختیار کرو لہٰذا ہر اس کیفیت میں جس میں مسلمان تکلیف ومصیبت پہنچایا جائے وہ کفارہ ہوتی ہے (یعنی گناہوں کو مٹاتی ہے ) یہاں تک کہ کانٹا جو اس کو چبھایا جاتا ہے۔ یا کوئی رنج و تکلیف جو اس کو تکلیف دیتی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا۔

قُتَيْبَةُ، ← و في رواية قتيبة بلغت من المسلمين مبلغا ← لما نزلت شقت على المسلمين فسألوا النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ، ← عمرو بن محيصن ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، ← و، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9804

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9805

9805 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني محمد بن أحمد المحبوبي نا أحمد بن سيار نا محمد بن كثير نا سفيان عن إسماعيل بن أبي خالد ح و أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري نا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا مسدد نا يحيى بن سعيد عن إسماعيل بن أبي خالد نا أبو بكر بن أبي زهير الثقفي عن أبي بكر الصديق أنه قال : يا رسول الله كيف الصلاح بعد هذه الآية { من يعمل سوءا يجز به } فكل سوء عمله يجزى به و في رواية سفيان قال : قلت يا رسول الله كيف الصلاح بعد هذه الآية { من يعمل سوءا يجز به } فكل سوء عملناه جزينا به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم غفر الله لك يا أبا بكر قاله ثلاثا ألست تمرض ألست تحزن ألست تنصب ألست يصيبك البلاء قال بلى قال : فذاك ما تجزون به و في رواية سفيان قلت نعم قال فهو ما تجزون به في الدنيا

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبردی محمد بن احمد محبوبی نے ان کو احمد بن سیار نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو ابو بکر بن ابو زہیر ثقفی نے ان کو ابو بکر صدیق نے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس روایت کے بعد خیرو بھلائی کہاں ہے: من یعمل سوء یجزبہ جو شخص برا عمل کرے گا اس کی جزا سزا دیا جائے گا۔ تو اس کا تو مطلب ہوا کہ ہر غلط عمل کی سزا ملے گی۔ اور سفیان کی ایک روایت میں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ اس آیت کے بعد خیر کہاں ہے؟ (یعنی پھر خیر نہیں ہے)من یعمل سوء یجزبہ مطلب یہ ہوا کہ ہم جو بھی برا یا غلط عمل کریں اس کی سزا ملے گی۔ تو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تجھے معاف فرمائے اے ابو بکر تین مرتبہ یہی کہا۔ پھر فرمایا کہ کیا آپ بیمار نہیں ہوتے ؟ کیا آپ رنجیدہ اور دکھی نہیں ہوتے ؟ کیا آپ تکلیف اور تھکن کا شکار نہیں ہوتے؟ کیا تجھ پر آزمائش اور مصیبت نہیں آتی؟ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں آتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: یہی جزا ہے جو تمہیں دی جاتی ہے۔ اور سیفیان کی ایک روایت میں ہے کہ میں نے بھی کہا کہ کیوں نہیں؟ تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی وہ سزا ہے جو تمہیں دنیا میں ہی دے دی جاتی ہے۔

أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الثَّقَفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ ← و، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9805

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9806

9806 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن بكر بن سواده عن عبيد بن عمير عن عائشة : أن رجلا تلا { من يعمل سوءا يجز به } فقال : إنا لنجزى بما عملنا هلكنا إذا فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : نعم يجزى به المؤمن في الدنيا مصيبته في جسده و ماله و فيما يؤذيه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر بن حسن نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحرین نضر نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے ان کو بکر بن سوادہ نے ان کو عبید بن عمیر نے ان کو سیدہ عائشہ نے کہ ایک آدمی نے یہ آیت تلاوت کی: من یعمل سوء یجزبہ تو کہا کہ اگر ہمیں اپنے ہر عمل کی اور اپنے کہے کی سزاملنے گئی تو ہم تو ہلاک ہو جا ئیں گے اس وقت۔لہٰذا یہ بات حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: جی ہاں بالکل مؤمن کو اس کی مصیبت کی سزا دنیا میں دی جاتی ہے جو بھی مصیبت ہو خواہ اس کی جان میں ہو یا اس کے مال میں ۔ اور اس میں بھی جو اس کو تکلیف پہنچے۔

عائشة أن رجلا تلا ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9806

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9807

9807 - و أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أحمد بن عيسى نا عبد الله بن وهب : فذكره غير أنه قال إن بكر بن سواده حدثه أن يزيد بن أبي يزيد حدثه عن عبيد بن عمير و لم يذكر قوله و ماله

اور ہمیں خبر دی ابو الحسن مصری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو احمد بن عیسیٰ نے ان کو عبیداللہ بن وہب نے ۔ اس نے اسی حدیث کو ذکر کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس نے کہا کہ بے شک بکر بن سوادہ نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ یزید بن ابو یزید نے اس کو حدیث بیان کی ہے عبید بن عمیر سے مگر اس نے یہ قول ذکر نہیں کیا کہ اس کے مال میں (قولہ ومالہ )۔

عبيد بن عمير و لم يذكر قوله و ماله ← أن يزيد بن أبي يزيد ← إِنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ ← عبد الله بن وهب فذكره غير أنه ← أحمد بن عيسى، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9807

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9808

9808 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني قالا نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ نا إبراهيم بن عبد الله نا الهيثم بن الربيع نا سماك بن عطية عن أيوب عن أبي قلابة عن أنس قال : بينا أبو بكر مع النبي صلى الله عليه و سلم إذا نزلت هذه الآية : { فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * و من يعمل مثقال ذرة شرا يره } فرفع أبا بكر يده فقال يا رسول الله إني لراء ما عملت من مثقال ذرة من شر له رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما لك يا أبا بكر أرأيت ما ترى في الدنيا مما تكره فمثاقيل ذر الشر و يدخر الله لك مثاقيل ذر الخير حتى توافيه يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابواحمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہرجانی نے دونوں نے کہا ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو ہثیم بن ربیع نے ان کو سماک بن عطیہ نے ان کو ایوب نے ابو قلابہ سے اس نے انس سے کہ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک یہ آیت نازل ہوئی: فمن یعمل متقال ذرۃ خیراًیرۃ ومن یعمل مثقال ذرۃ شراًیرہ جو شخص ذرے کے برابر شر کا عمل کرے گا اس کو دیکھ لے گا۔ اور جو شخص ذرے کے برابر شر کا عمل کرے گا اس کو بھی دیکھ لے گا۔ تو حضرت ابو بکر صدیق نے اپنا ہاتھ اوپر کواٹھا لیا اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ میں نے ذرے کے برابر بھی اگر غلطی کی ہو گی تو وہ بھی سامنے آ جائے گی ؟ تو حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیتے ہوئے فرمایا: تجھے کیا پرواہ ہے اے ابو بکر! کیا آپ نے نہیں دیکھا ہے آپ جو دنیا میں دیکھتے ہیں اس قبیل سے جو ناگوارنا پسند کیفیت دیکھتے ہیں وہ برائی کے ذرے میں ۔ تیرے لئے اللہ تعالیٰ خیر کے ذرے جمع کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن آپ کو وہ پورے پورے عطا کئے جائیں گے۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ الرَّبِيعِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9808

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9809

9809 - حدثنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن أمية بنت عبد الله قالت : سألت عائشة عن قول الله عز و جل : { من يعمل سوءا يجز به } فقالت : لقد سألتني عن شيء ما سألني عنه أحد منا سألت عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال هذه معاتبة الله للعبد مما يصيبه من الحمى و الحزن و النكبة حتى البضاعة يضعها في يد كمه فيفقدها فيفزع لها فيجدها في جيبه حتى إن العبد ليخرج من ذنوبه كما يخرج التبر الأحمر من الكير

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے ان کو امیہ بنت عبداللہ نے وہ کہتی ہیں میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پو چھا اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں من یعمل سوء یجزبہ تو سیدہ نے فرمایا کہ آپ نے مجھ سے ایسی چیز پوچھی ہے جو مجھ سے کسی ایک نے نہیں پوچھی جب سے میں نے رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پوچھی تھی میں نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے پو چھا تھا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے بندے کو سر زنش اور جھڑکی ہے یا عتاب ہے اور انتباہ ہے اس قبیل سے ہے جزا جیسے بخار ہو جاتا ہے۔ یا انسان رنجیدہ خاطر ہوتا ہے۔ یا کوئی تنگی اور تکلیف ہوتی ہے یہاں تک کوئی معمولی سی پونچی جس کو انسان جیب میں رکھ کر بھول جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ گم ہو گئی ہے اور اس پر پریشان ہونا ہے اس کے لئے پھر اس کو وہ اپنی جیب میں پا لیتا ہے (اس پر بھی اس کو اجر ملتا ہے) یہاں تک کہ بندہ اپنے گناہوں سے ایسے نکل جاتا ہے جیسے سونا بھٹی میں سے نکلتا ہے۔

لَقَدْ سَأَلْتنِي ← قول الله عز و جل ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← أُمَيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9809

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9810

9810 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عثمان بن عمر الضبي نا مسدد نا يحيى بن أبي عامر الخزاز حدثني ابن أبي مليكة قال : قالت عائشة إني لأعلم أشد آية في القرآن قول الله عز و جل : { من يعمل سوءا يجز به } فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عائشة إن المسلم يجزى بأسوأ عمله في الدنيا فذكر المرض و أشياء حتى ذكر النكبة آخر ذلك و في رواية ابن عبدان قال سألت عائشة و رواه ابن جريج عن ابن أبي مليكة فاختصره

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر ضبی نے ان کو مسدد نے ان کو یحییٰ نے ان کو ابو عامر خزاز نے ان کو حدیث بیان کی ہے ابن ابو ملیکہ نے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: بے شک میں جانتی ہوں سخت ترین آیت قرآن میں وہ اللہ کا یہ فرمانا ہے من یعمل سوء یجزبہ( جو شخص برائی کا عمل کرتا ہے اس کے بارے میں سزا اس کو دی جائے گی ) رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ بے شک مسلمان دنیا میں اپنے بدتر اعمال کی سزا دے دیا جاتا ہے۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں مرض کا ذکر کیا اور کچھ دیگر اشیاء کا یہاں تک کہ اس کے آخر میں رنج اور سختی کو ذکر کیا اور ابن عبدان کی ایک روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا ۔۔۔۔۔اور اس روایت کو ابن جریج نے روایت کیا ہے ابن ابو ملیکہ سے مگر اس نے اس کو مختصر کیا ہے۔

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← يحيى بن أبي عامر الخزاز ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9810

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9811

9811 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو أحمد بن بلال نا عبد الرحمن بن بشر نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما أصاب المسلم شيء إلا كان له كفارة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن بلال نے ان کو عبدالرحمٰن بن بشر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے اس نے ابن ابو ملیکہ سے اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا: مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔

ما أصاب المسلم شيء إلا كان له كفارة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أبو أحمد بن بلال ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9811

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9812

9812 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد نا سعيد بن منصور نا أبو معاوية عن عاصم الأحول عن الحسن : في قوله { من يعمل سوءا يجز به } فقال الحسن إنما ذاك إنما أراد الله عز و جل هوانه فأما من أراد الله عز و جل كرامته فإنه يتجاوز عن سيئاته وعد الصدق الذي كانوا يوعدون

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابو معاویہ نے ان کو عاصم احول نے ان کو حسن نے اللہ کے اس قول کے بارے میں من یعمل سوء یجزبہ تو حسن نے فرمایا کہ یہ چیز وہ ہے اللہ نے جس کے ساتھ اس عمل کرنے والے کی ذلت ورسوائی کا ارادہ کیا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ جس کی عزت و اکرام کا ارادہ کرتا ہے اس کی غلطیوں اور گناہوں سے وہ درگزر کرتا ہے۔ یہ وہ سچا وعدہ جس کا وہ وعدہ دیئے جاتے ہیں۔

الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ، ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9812

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9813

9813 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا نا فضيل بن عبد الوهاب نا هشيم أنا منصور عن الحسن : أن عمران بن حصين ابتلى في جسده فقال : ما أراه إلا بذنب و ما يعفو الله أكثر و تلا : { ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم }

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو فضیل بن عبدالوہاب نے ان کو ہثیم نے ان کو منصور نے حسن سے یہ کہ عمران بن حصین نے اپنے وجود کا جائزہ لیا تو فرمایا کہ نہیں دیکھا اس کو میں نے مگر کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہی تکلیف پہنچتی ہے اور اس میں سے بھی جو اللہ معاف کرتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم ویعفوعن کثیرجو کچھ تمہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے (یعنی تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے ) اور بہت ساری ان غلطیوں کو وہ معاف کر دیتا ہے۔

الحسن أن عمران بن حصين ابتلى في جسده ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9813

chevron_left Previous
1…923924925…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood