Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9814

9814 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس الأصم نا إبراهيم بن مرزوق نا روح بن أسلم عن همام عن قتادة عن يزيد بن عبد الله عن زياد بن الربيع قال : قلت لأبي بن كعب يا أبا المنذر آية في كتاب الله أحزنتني قال : ما هي ؟ قلت : { من يعمل سوءا يجز به } قال : إن كنت أراك فقيها إن المؤمن لا يصيبه مصيبة قدم و لا اختلاق عرق و لا خدش عود إلا بذنب و ما يعفو الله عنه كثير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو روح بن اسلم نے ان کو ھمام نے ان کو قتادہ نے ان کو یزید بن عبداللہ بن زیاد بن ربیع نے وہ کہتے ہیں میں نے ابی بن کعب سے کہا اے ابو المنذر! کتاب اللہ میں ایک آیت ہے جس نے مجھے غمگین کر دیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کون سی آیت ہے ؟ میں نے جواب دیا کہ ومن یعمل سوء یجزبہ ہے انہوں نے فرمایا کہ میں تو سہیں فقیہ (سمجھدار ) سمجھتاتھا۔ (بات یہ ہے کہ) مومن کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے خواہ پیر میں تکلیف ہو یا کسی رگ کا پھڑکنا ہو اور خواہ وہ لکڑی کی خراش ہو۔ وہ کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے اور ان میں سے بھی اللہ تعالیٰ زیادہ تر سے درگزر کرتا ہے۔

ما هي قلت من يعمل سوءا يجز به ← قلت لأبي بن كعب يا أبا المنذر آية في كتاب الله أحزنتني ← زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9814

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9815

9815 - و قال قتادة في تفسير قوله : ـ { و ما أصابكم من مصيبة فبما كسبت أيديكم و يعفو عن كثير } قال قتادة ذكر لنا أن نبي الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : لا يصيب ابن آدم خدش عود و لا عثرة قدم و لا اختلاج عرق إلا بذنب و ما يعفو الله عنه أكثر أخبرناه أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو جعفر بن المنادي نا يونس بن محمد نا شيبان عن قتادة فذكره مرسلا

اور کہا قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں وما اصابکم من مصیبۃ فما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر جو کچھ تمہیں مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے اور بہت سارے گناہ تو وہ معاف کر دیتا ہے حضرت قتادہ نے کہا : ہمارے لئے ذکر کیا گیا تھا کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ نہیں پہنچتی کسی آدمی کو کوئی خراش لکڑی وغیرہ سے نہ ہی پیر کا پھسلنا اور نہ ہی کوئی رگ کا پھڑکنا مگر کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور ان میں سے زیادہ تو اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیتا ہے۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو جعفر بن منا دی نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو شیبان نے قتادہ سے پھر اس نے اس کو بطور مرسل روایت کے ذکر کیا ہے۔

لنا ← قَتَادَةَ ← قتادة في تفسير قوله ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9815

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9816

9816 - و رواه أيضا الحسن : عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا و هو تفسير سعيد بن منصور

اور اس کو حسن نے بھی روایت کیا ہے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے بطور مرسل روایت کے اور وہ سعید بن منصور کی تفسیر میں ہے۔

و رواه أيضا الحسن

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9816

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9817

9817 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه نا إسحاق بن الحسن بن ميمون نا عفان بن مسلم نا حماد بن سلمة عن يونس عن الحسن عن عبد الله بن مغفل : أن امرأة كانت بغية في الجاهلية فمر بها رجل أو مرت به فبسط يده إليها فقالت : هه إن الله ذهب بالشرك و جاء الإسلام فتركها و ولى و جعل ينظر إليها حتى أصاب وجهه الحائط فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فذكر له فقال : أنت عبد أراد الله بك خيرا إن الله تبارك و تعالى إذا أراد بعبد خيرا عجل له عقوبة ذنبه يفي و إذا أراد بعبد شرا أمسك عليه حتى يوافى به يوم القيام

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بالویہ نے ان کو اسحاق بن حسن بن میمون نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو یونس نے ان کو حسن نے ان کو عبداللہ بن مغفل نے کہ ایک عورت جاہلیت میں ( طوائف تھی ) اس کے پاس ایک آدمی گزرتا تھا یا وہ اس کے پاس سے گزرتی تو آدمی اس کی طرف دست درازی کرتا تھا۔ تو وہ کہتی کہ میں تیرے لئے ہوں پھر جب اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کر دیا۔ اور اسلام لے آیا تو اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔ ایک مرتبہ اس طرف سے اس کا گزر ہوا اس نے چلتے چلتے اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا اچانک جو مڑا تو اس کا چہرا ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ وہ جب حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو اس نے یہ واقعہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے آپ کے ساتھ خیرو بھلائی کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ شر اور برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کا گناہ اس پر قائم رکھتے ہیں روک کر رکھتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کا پورا بدلہ لیا جائے گا۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9817

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9818

9818 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا مطين نا محمد بن سهل بن عسكر نا الفريابي عن سفيان عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو يؤاخذني الله بما جنت هؤلاء يعني يديه لأوبقني غريب بهذا الإسناد تفرد به ابن عسكر فيما أعلم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو محمد بن سہل بن عسکر نے ان کو فریابی نے ان کو سفیان نے اعمش سے ان کو ابو صالح نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اللہ تعالیٰ گرفت کرنے لگے بسبب اس کے جو انہوں نے گناہ کیا ہے یعنی دونوں ہاتھوں نے تو وہ مجھے ہلاک کر دے گا ۔۔۔۔۔اس اسناد کے ساتھ یہ حدیث غریب ہے میرے علم کے مطابق ابن عساکر اس کو روایت کرنے میں متفرد ہے اکیلا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9818

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9819

9819 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا ابن نمير نا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن أبي بردة قال : كنت جالسا عند ابن زياد و عنده عبد الله بن يزيد فجعل يؤتى برؤوس الخوارج قال : و كانوا إذا مروا برأس قلت إلى النار قال : فقال لي لا تفعل يا ابن أخي فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يكون عذاب هذه الأمة في دنياها

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فضل نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو ابو بکر بن عیاش نے ان کو ابو حصین نے ابو بردہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن زیاد کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور عبداللہ بن یزید بھی اس کے پاس تھے تو اس وقت ان کے پاس ( مقتول ) خارجیوں کے سرلائے جانے لگے۔ کہتے ہیں کہ جب وہ کسی بندے کے پاس گزرتے تو میں یہ کہتا کہ جا تو بھی جہنم کی طرف۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا مجھ سے کہ اے بھتیجے ایسے نہ کہو میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ اس امت کا عذاب وسزا اس کی دنیا میں ہی ہو گا۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9819

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9820

9820 - أخبرنا أبو جعفر كامل بن أحمد المستملي أخبرني أبو العباس محمد بن إسحاق بن أيوب الضبعي من كتابه نا الحسن بن علي بن زياد السري نا إبراهيم بن المنذر الحزامي نا عبد الرحمن بن سعد مؤذن مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثني مالك بن عبيدة الدئلي عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لولا عباد الله ركع و صبية رضع و بهائم رتع لصب عليكم العذاب صبا ثم رضي رضا جده مسافع 9820 - هكذا رواه إسحاق بن إبراهيم في مسنده و قال في إسناده عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن عطاء بن يسار و كذلك رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن محمد عن أبي عامر العقدي و قد : ـ

ہمیں خبر دی ابو جعفر کامل بن احمد مستملی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابو العباس محمد بن اسحٰق بن ایوب ضبعی نے اپنی کتاب سے ان کوحسن بن علی بن زیاد سری نے ان کو ابراہیم بن منذر حزامی نے ان کو عبدالرحمٰن بن سعد مؤذن مسجد رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ان کو حدیث بیان کی مالک بن عبیدہ دئلی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے عبادت گزار بندے نہ ہوتے اور شیر خوار بچے نہ ہوتے چرنے والے بے زبان مویشی نہ ہوتے تو تمہارے اوپر عذاب انڈیل دیتا اس کے بعد وہ راضی ہوتا عبیدہ وئلی کے دادا مسافع تھے۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9820

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9821

9821 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن عثمان بن يحيى الأدمي نا أبو قلابة نا أبو زيد الهروي نا شعبة عن قتادة عن عزرة عن الحسن العرني عن يحيى بن الجزار عن ابن أبي ليلى : عن أبي بن كعب { و لنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر } قال : المصيبة في الدنيا قال الحافظ عزرة هو ابن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن عثمان بن یحییٰ آدمی نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو ابو زید ہروی نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو عزرہ نے حسن عرفی سے اس نے یحییٰ اس جزار سے اس نے ابن ابو لیلیٰ سے اس نے ابی بن کعب سے ۔ولنذیقنھم من العذاب الدنٰی دون العذاب الاکبراور البتہ ضرور ہم ان کو چکھائیں گے چھوٹا یا قریب کا عذاب ماسوائے بڑے عذاب کے۔ ابی بن کعب نے فرمایا کہ اس سے مراد دنیا میں آنے والی یا ملنے والی مصیبت ہے۔ ابو عبداللہ حافظ نے کہا کہ عزرہ نامی شخص وہی ابن یحییٰ ہے۔

الحافظ عزرة هو ابن يحيى ← المصيبة في الدنيا ← أبي بن كعب و لنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ← عَزْرَۃَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ← أَبُو قِلَابَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْآدَمَيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9821

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9822

9822 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا أحمد بن عبد الجبار نا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية : ـ { و لنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر } قال المصائب في الدنيا { لعلهم يرجعون } لعلهم يتوبون

ہمیں خبردی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو احمد بن عبد الجبارنے ان کو وکیع نے ان کو ابو جعفر رازی نے ان کو ربیع بن انس نے ابو العالیہ سے کہ۔ ولنذیقنھم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر ابو العالیہ نے فرمایا کہ عذاب ادنیٰ سے مراد مصائب دنیا مراد ہیں۔ لعلھم یرجعون تاکہ وہ رجوع کریں۔ فرمایا اس کا مطلب ہے تاکہ تو یہ کریں۔

المصائب في الدنيا لعلهم يرجعون لعلهم يتوبون ← أبي العالية و لنذيقنهم من العذاب الأدنى دون العذاب الأكبر ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9822

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9823

9823 - أخبرنا أبو سعيد بن أبي عمرو أنا أبو عبد الله الصفار نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني أبو جعفر الأدمي نا أبو اليمان عن أبي بكر بن أبي مريم عن عطية بن قيس قال : مرض كعب فعاده رهط من أهل دمشق فقالوا : كيف تجدك يا أبا إسحاق ؟ قال : بخير جسد أخذ بذنبه إن شاء ربه عذبه و إن شاء رحمه و إن بعثه بعثه خلقا جديدا لا ذنب له

ہمیں خبر دی ابو سعید بن ابو عمرو نے ان کو بو عبداللہ صفارنے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا نے ان کو ابو جعفر آدمی نے ان کو ابو الیمان نے ان کو ابو بکر بن ابو مریم نے عطیہ بن قیس سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت کعب بیمار ہو گئے تھے اہل دمشق کی ایک جماعت عیادت کرنے آئی انہوں نے پوچھا اے ابو اسحٰق آپ کیسے ہیں؟ بولے خیریت سے ہوں ۔ جسم ہے جو اپنے گناہ کی وجہ سے گرفت میں ہے اگر اس کا رب چاہے اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو اس پر رحم کرے۔ اور اگر نئی تحقیق اٹھائے گا تو اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا۔

كيف تجدك يا أبا إسحاق ← مرض كعب فعاده رهط من أهل دمشق ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ← أَبُو الْيَمَانِ، ← أَبُو جَعْفَرٍ الْأَدَمِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9823

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9824

9824 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر القاضي قالوا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني يونس ح و حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان نا أبو العباس إسماعيل بن عبد الله المكايلي نا عبدان الأهوازي نا أحمد بن عمرو بن السرح نا ابن وهب أنا مالك بن أنس و يونس بن يزيد عن ابن شهاب عن عروة عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من مصيبة يصاب بها المسلم إلا كفر بها عنه حتى الشوكة يشاكها و في رواية بحر يصاب بها المؤمن رواه مسلم عن أبي طاهر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے اور ابو بکر قاضی نے انہوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی یونس نے ’’ح‘‘اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو ابو العباس اسماعیل بن عبداللہ مکایلی نے ان کو عہدان اھوازی نے ان کو احمد بن عمرو بن السرح نے ان کو ابن وھب نے ان کو مالک بن انس نے اور یونس بن یزید نے ان کو ابن شہاب نے ان کو عروہ نے ان کو عائشہ نے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی بھی مصیبت جو مسلمان کو پہنچائی جائے اس کے ذریعے اس شخص کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ حتٰی کہ کانٹا بھی اگر اس کو چھوتا ہے ( تو اس پر اس کو اجر ملتا ہے۔) اور بحر کی ایک روایت میں ہے کہ مومن ۔ ( یعنی مسلم کی جگہ مومن کا لفظ ہے۔ )

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالك بن أنس و يونس بن يزيد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ← عبدان الأهوازي ← أبو العباس إسماعيل بن عبد الله المكايلي ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← و، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9824

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 9825

9825 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني أنا علي بن محمد بن عيسى نا أبو اليمان أخبرني شعيب عن الزهري أخبرني عروة بن الزبير أن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من مصيبة تصيب المسلم إلا كفر الله بها عنه حتى الشوكة يشاكها رواه البخاري عن أبي اليمان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور مجھے خبر دی ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو علی بن محمد بن عیسیٰ نے ان کو ابو الیمان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی شعیب نے زہری سے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی عروہ بن زبیر نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مصیبت بھی مسلمان کو پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہ مٹا دیتے ہیں حتٰی کہ کانٹا جو اس کو چبھ جائے ۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے ابو الیمان ہے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ← أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 9825

chevron_left Previous
1…924925926…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood