Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9790

9790 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله بن يعقوب أنا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا عبد الرحمن بن زياد و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بكر بن الحسن قالا نا أبو العباس الأصم نا بحر بن نصر نا ابن وهب أخبرني عبد الرحمن بن زياد عن نهشل القرشي عن سعيد بن المسيب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : إذا أحب الله عبدا ألصق به البلاء فإن الله عز و جل يريد أن يصافيه و في رواية جعفر عن سعيد رفعه قال : إذا أحب عبدا ألزق به البلاء

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد نے۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے اور ابو بکر بن حسن نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے ابن وہب نے ان کو خبر دی ہے عبدالرحمٰن بن زیاد نے نہشل قرشی سے اس نے سعیدہ بن مسیب سے یہ کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں۔ تو اس کو آزمائش لگا دیتے ہیں بے شک اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ اس کو برگزیدہ بنا دیں۔ اور ایک روایت میں جعفر نے سعید سے اس کو مرفوع کیا ہے کہ آپ نے فرمایا جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے اس کے ساتھ آزمائش لگا دیتا ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← نهشل القرشي ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو بَكْر بن الحَسَن ← عبد الرحمن بن زياد و ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9790

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9791

9791 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا عبد الله بن محمد بن الحسن بن الشرقي نا أبو معين الحسين بن الحسن الرازي نا عبد الرحمن بن عبد الملك الحزامي نا أبو قتادة بن يعقوب عن عبد الله بن ثعلبة بن أبي معير عن ابن أخي الزهري عن الزهري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كان المؤمن في جحر لقيض الله له فيه من يؤذيه

ہمیں خبر دی ابو انس محمد بن حسن بن داؤد علوی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن بن شرقی نے ان کو ابو معین حسین بن حسن رازی نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبدالملک حزامی نے ان کو ابو قتادہ بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن ثعلبہ بن ابو معیر نے ابن اخی زہری سے اس نے زہری سے اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر مؤمن کسی بل اور سراخ میں بھی چھپا ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ اس میں بھی اس پر کسی ایسے کو مسلط کر دے گا جو اس کو ایذاء پہنچائے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ← عبد الله بن ثعلبة بن أبي معير ← أبو قتادة بن يعقوب ← عبد الرحمن بن عبد الملك الحزامي ← أَبُو مَعِينٍ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9791

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9792

9792 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا السري بن يحيى نا خالد بن زيد الطيب نا أبو قبيس عن الحسن قال : ما من مؤمن إلا و له جار منافق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو سری بن یحییٰ نے ان کو خالد بن زید (طیب نے ) ان کو ابو قیس نے حسن سے انہوں نے کہا کوئی مومن ایسا نہیں ہے مگر اس کے لئے ایک منافق پڑوسی ہوتا ہے۔

ما من مؤمن إلا و له جار منافق ← الْحَسَنِ، ← أبو قبيس ← خالد بن زيد الطيب ← السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَی ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9792

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9793

9793 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا محمد بن أحمد العودي نا موسى بن إسماعيل نا أبو هلال عن قتادة قال : ابتلي أيوب عليه السلام سبع سنين يلقى على كناسة بيت المقدس

ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو محمد بن احمد عودی نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو ابو ہلال نے قتادہ سے وہ کہتے ہیں حضرت ایوب علیہ السلام سات سال تک آزمائے گئے وہ بیت المقدس کے کناسہ اور کوڑے کرکٹ کی جگہ پر ڈال دیئے گئے تھے۔

ابتلي أيوب سبع سنين يلقى على كناسة بيت المقدس ← قَتَادَةَ ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعُودِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9793

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9794

9794 - و حدثنا أبو عبد الله نا محمد بن صالح بن هانىء نا السري بن خزيمة نا موسى بن إسماعيل نا حماد بن سلمة نا علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس : أن امرأة أيوب قالت له قد و الله قد نزل بي الجهد و الفاقة ما إن بعت قرني برغيف فأطعمتك فادع الله أن يشفيك قال : ويحك كنا في النعماء سبعين عاما فنحن في البلاء سبع سنين

اور ہمیں حدیث بیان کی ابو عبداللہ نے ان کو محمد بن صالح بن بانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو علی بن زید نے ان کو یوسف بن مہران نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی نے ان سے کہا اللہ کی قسم مجھ پر بڑی مشقت اور بھوک اور فاقہ آن پڑا ہے اس قدر کہ اگر میں اپنی رانیں بیچوں ایک روٹی کے بدلے میں تو میں آپ کو کھانا کھلا سکتی ہوں پس اللہ سے دعا کرو کہ وہ آپ کو شفا دے انہوں نے کہا افسوس ہے تم پر ہم لوگ سات برس تک نعمتوں اور آسائشوں میں تھے۔ اب ہم سات برس سے آزمائش میں ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةَ أَيُّوبَ، ← يوسف بن مهران ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9794

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9795

9795 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن حمشاد نا أبو مسلم و محمد بن يحيى بن المنذر قالا نا حجاج بن منهال نا حماد بن سلمة عن ثابت و حميد عن أنس بن مالك : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : حفت الجنة بالمكاره و حفت النار بالشهوات رواه مسلم عن القعنبي عن حماد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن حمشاذ نے ان کو ابو مسلم اور محمد بن یحییٰ بن منذر نے دونوں نے کہا کہ ان کو حجاج بن منہال نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت نے اور حمید نے انس بن مالک سے یہ کہ نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جنت مشکلات کی باڑ لگا دی گئی ہے (یعنی جنت والے سارے کام مشکل ومحنت طلب ہیں ) اور جہنم لذات و خواہشات کی باڑ لگا دی گئی ہے۔ (یعنی سب مرغوب ومن پسند ہیں ) مسلم نے اس کو روایت کیا ہے قعنبی سے اس نے حماد سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثابت و حميد ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← أبو مسلم و محمد بن يحيى بن المنذر ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَادٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9795

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9796

9796 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا أبو يحيى بن أبي مسرة نا أبو عبد الرحمن المقري نا نوح بن جعونة عن مقاتل بن حيان عن عطاء بن أبي رباح عن ابن عباس قال : دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم المسجد متوكئا و هو يقول : أيكم يسره أن يقيه الله من فيح جهنم ثم قال : ألا إن عمل الجنة حزن بربوة ثلاث ألا إن عمل النار أو قال الدنيا سهل بشهوة ثلاثا و السعيد من وقي الفتن و من ابتلي فصبر فيا لها ثم يا لها

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو ابو یحییٰ بن ابی مسرہ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن مقری نے ان کو نوح بن جعونہ نے ان کو مقاتل بن حیان نے ان کو عطاء بن ابو رباح نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے سہارا لگائے ہوئے اور وہ فرما رہے تھے۔ تم لوگوں میں سے کون ہے جس کو یہ بات پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی بھاپ سے بچالے۔ اس کے بعد فر مایا: خبردار بے شک جنت کا عمل سخت اونچی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ خبردار جہنم کا عمل۔ یا یہ فرمایا تھا کہ دنیا آسان ہے گھر ا ہوا لذت و شہوت کے ساتھ ( تین بار فرمایا) اور نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے بچا لیا گیا اور جو شخص فتنوں میں مبتلیٰ کیا گیا اور اس نے صبر کیا پس بڑا خوش قسمت ہے وہ پھر بڑا خوش نصیب ہے وہ۔

ألا إن عمل الجنة حزن بربوة ثلاث ألا إن عمل النار أو ← أيكم يسره أن يقيه الله من فيح جهنم ثم ← دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم المسجد متوكئا و هو ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ← نوح بن جعونة ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9796

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9797

9797 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء أنا أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي نا بشر بن موسى الأسدي نا إسماعيل بن أبي أويس نا مالك بن أنس عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الدنيا سجن المؤمن و جنة الكافر أخرجه مسلم من حديث الداروردي عن العلاء

ہمیں حدیث بیان کی امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے ان کو ابو علی حامد بن محمد بن عبداللہ ھروی نے ان کو بشر بن موسیٰ اسدی نے ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو مالک بن انس نے علاء بن عبدالرحمٰن سے انہوں نے اپنے والد سے اس نے حضرت ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا مومن کی قید ہے اور کافر کی جنت ہے۔ اس کو نقل کیا ہے مسلم نے حدیث درا وردی سے علماء سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← مالک بن أنس ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ← الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9797

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9798

9798 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى نا إبراهيم بن أبي طالب نا شجاع بن مخلد و إسماعيل بن سالم قالا نا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن أبي بردة قال : كنت جالسا عند عبد الله بن زياد فأتي برؤوس الخوارج كلما جاء رأس قلت إلى النار فقال لي عبد الله بن يزيد الأنصاري أولا تعلم يا ابن أخي : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن عذاب هذه الأمة جعل في دنياها تابعه الحسن بن الحكم النخعي عن أبي بردة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو شجاع بن مخلد اور اسماعیل بن سالم نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو بکر بن عیاش نے ان کو ابو حصین نے ان کو ابو بردہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں عبداللہ بن زیاد کے پاس تھا۔ اتنے میں خارجیوں کے سردار لائے جانے لگے (یا قتل کے بعد سر لائے گئے ۔) جب بھی کوئی سردار (یاسر ) لایا جاتا تو میں یہ کہتا کہ یہ بھی جہنم میں گیا۔ چنانچہ عبداللہ بن یزید انصاری نے مجھ سے کہا اے میرے بھتیجے کیا آپ نہیں جانتے کہ میں نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا آپ فرماتے تھے۔ بے شک اس امت کا عذاب (یعنی سزا ) اس کی دنیا میں ہی مقرر کر دیا گیا ہے۔ حسن بن حکم نخعی نے ابو بردہ سے اس کا متابع بیان کیا ہے۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي حَصِينٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← شجاع بن مخلد و إسماعيل بن سالم ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9798

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9799

9799 - و أخبرنا أبو القاسم علي بن محمد الأيادي ببغداد نا أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل إملاء نا إسماعيل نا ابن إسحاق القاضي نا محمد بن أبي بكر نا معاذ بن معاذ أنا المسعودي عن سعيد بن أبي بردة عن أبيه عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أمتي أمة مرحومة ليس عليها في الآخرة عذاب إنما عذابها في الدنيا الزلازل و القتل و البلاء

اور ہمیں خبر دی ابو القاسم علی بن محمد ایادی نے بغداد میں ان کو ابو جعفر عبداللہ بن اسماعیل نے بطور املاء کے ان کو اسماعیل نے ان کو ابن اسحٰق قاضی نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو معاذ بن معاذ مسعودی نے ان کو سعید بن ابو بردہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو موسیٰ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک میری امت پر خصوصی رحم کیا گیا ہے ( مرحومہ ہے ) اس پر آخرت میں سزا نہیں ہے یقینی بات ہے کہ اس کا عذاب وسز ازلزلے کا آنا۔ قتل ہونا اور آزمائشیں اور مصائب ہیں۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← ابن إسحاق القاضي ← إِسْمَاعِيلُ ← أبو جعفر عبد الله بن إسماعيل إملاء ← أبو القاسم علي بن محمد الأيادي ببغداد ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9799

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9800

9800 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر أحمد بن سعيد بن فريج الأخميمي بمكة نا أبو الوليد بن حماد نا أبو محمد عبد الله بن الفضل بن عاصم بن عمر بن قتادة بن النعمان الأنصاري حدثني أبي الفضل عن أبيه عاصم عن أبيه عمر عن أبيه قتادة بن النعمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنزل الله عز و جل جبريل عليه السلام في أحسن ما كان يأتيني في صورة فقال إن الله يقرئك السلام يا محمد فيقول لك إني قد أوحيت إلى الدنيا أن عزري و تكدري و تضيقي و تشددي على أوليائي كي يحبوا لقائي فإني خلقتها سجنا لأوليائي و جنة لأعدائي لم تكتبه إلا بهذا الإسناد و فيه مجاهيل

ہمیں خبردی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر احمدبن سعید بن فریج اخمیمی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو الولید بن حماد نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن فضل بن عاصم بن عمر بن قتادہ بن نعمان بن نعمان انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو الفضل نے اپنے والد عاصم سے اس نے اپنے والد عمر سے اس نے اپنے والد قتادہ بن نعمان سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو احسن صورت میں نازل کیا جس احسن صورتوں میں وہ آتے تھے۔ انہوں نے آکر کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اوپر سلام کہتے ہیں اے محمد صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور آپ سے کہتے ہیں بے شک میں نے دنیا کی طرف پیغام دیا ہے کہ میرے دوستوں کے ساتھ تادیب وسز ابو الا معاملہ کریں۔ اور ان کی زندگی مکدر و تلخ کر دو ۔ اور تنگی کر دو اور ان پر تشدد اور سختی کرو یا سخت ہو جاؤ۔ تا کہ وہ ( دنیا سے بے رغبت اور متنفر ہو کر ) میری ملاقات کو محبوب رکھیں۔ میں نے دنیا کو اپنے اولیاء کے لئے قیدخانہ بنایا ہے اور اپنے دشمنوں کے لئے جنت بنایا ہے۔ یہ حدیث بس اسی اسناد کے ساتھ ہی نقل ہوئی ہے جب کہ اس میں کئی راوی مجہول ہیں۔

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9800

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في أي الناس أشد بلاء · حديث 9801

9801 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبد الله الحافظ بهمدان نا إبراهيم بن الحسين نا أبو اليمان نا عفير بن معدان عن سليم بن عامر عن أبي أمامة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله عز و جل يقول للملائكة : انطلقوا إلى عبدي فصبوا عليه البلاء صبا فيحمد الله فيرجعون فيقولون صببنا عليه البلاء صبا كما أمرتنا فيقول ارجعوا فإني أحب أن أسمع صوته

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر احمد بن عبداللہ حافظ نے ہمدان نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابو الیمان نے ان کو عفیر بن معدان نے سلیم بن عامر سے اس نے ابو امامہ سے اس نے نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے جاؤ میرے بندے کے پاس اس پر مصائب انڈیل دو وہ اس پر عمل کرتے ہیں مگر وہ ان مصائب پر صبر کرتا ہے وہ واپس آ کر کہتے ہیں کہ ہم نے تو اس پر مصائب او نڈیل دیئے جیسے آپ نے ہمیں حکم دیا تھا ( مگر وہ تو صبر کر رہا ہے اے رب تو اس پر رقم کر دے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم لوگ واپس ہٹ جاؤ میں تو پسند کرتا ہوں کہ میں اس کی آواز سنتا ہوں (یعنی وہ مجھے پکارتا رہے اور میں سنتار ہوں۔)

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، ← أَبُو الْيَمَانِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر أحمد بن عبد الله الحافظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Separated - in which people are most afflicted · Hadith 9801

chevron_left Previous
1…922923924…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood