Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2897

2897 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنبأ أحمد بن عبيد الصفار ثنا ابن أبي قماش ثنا أبو عمران موسى بن إسماعيل ثنا ابن المبارك عن داود بن صالح قال : قال لي أبو سلمة بن عبد الرحمن : يا ابن أخي هل تدري إلى شيء نزلت اصبروا و صابروا و رابطوا ؟ قال : قلت لا قال : إنه لم يكن على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم غزو يرابط فيه و لكن انتظار الصلاة بعد الصلاة فذلك الرباط فذلك الرباط قال ابن المبارك : فحدثني محمد بن المطرف عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الوضوء للصلاة عن المكاره من الكفارات و كثرة الخطى إلى المساجد من الكفارات فذلك الرباط فذلك الرباط كذا هو في كتابي

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد عبدان نے انکو خبر دی احمد بن عبید صفار نے انکو ابن ابی قماش نے انکو ابو عمران موسیٰ بن اسماعیل بن مبارک نے داؤد بن صالح سے اس نے کہا کہ مجھ سے کہا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے یا ابن اخی اے بھانجے نے کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ آیت کس چیز کے بارے میں اتری تھی ؟ اصبرو ا وصابرو اروابطو ۔ "خود صبر کرو دوسروں کو صبر دلاؤ اور سرحد پر جہاد کے لئے گھوڑے تیار رکھو کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا کہ نہیں انہوں نے کہا کہ عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تو کو ئی غزوہ ایسا نہیں تھا جس میں سرحد پر گھوڑا باندھا جاتا لیکن اس سے مراد ہے ایک نما زکے بعد دوسری کا انتظار کرنا یہی رباط ہے یہی رباط ہے (یعنی رابطو پر عمل کرنا یہی ہے)۔ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں مجھے خبر دی محمد بن مطرف نے علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے مشکلات کے وقت وضو کرنا گناہوں کے کفارات میں سے ہے اور مساجد کی طرف کثرت سے قدم بھرنا بھی کفارات میں سے ہے یہی رباط ہے۔ یہی رباط ہے۔ اسی طرح میری کتاب میں ہے۔

دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عِمْرَانَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2897

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2898

2898 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو محمد أحمد بن عبد الله المزني ثنا أحمد بن نجدة القرشي ثنا سعيد بن منصور ثنا ابن المبارك ثنا مصعب بن ثابت حدثني داود بن صالح قال : قال لي أبو سلمة بن عبد الرحمن : يا ابن أخي هل تدري في أي شيء نزلت هذه الآية : { اصبروا و صابروا و رابطوا } قال : قلت لا قال : يا ابن أخي إني سمعت أبا هريرة يقول : لم يكن في زمان النبي صلى الله عليه و سلم غزو يرابط فيه و لكن انتظار الصلاة بعد الصلاة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے انکو ابو محمد احمد بن عبداللہ مزنی نے ان کو احمد بن نجدہ قرشی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو ابن مبارک نے ان کو مصعب بن ثابت نے ان کو داؤد بن صالح نے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے اے بھتیجے کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ آیت کس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے؟ "اصبروا وصابرو ا ورابطو"۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں نہیں جانتا ۔ انہوں نے فرمایا : اے بھتیجے بے شک میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا وہ فرماتے تھے عہد رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تو کوئی ایسا غزوہ ہی نہیں تھا جس میں سرحد پر گھوڑے باندھے جاتے ہوں لیکن اس سے مراد ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أبو عبد الله الحافظ انبأ أبو محمد احمد بن عبد الله المزني ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2898

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2899

2899 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه ثنا محمد بن أيوب ثنا علي بن عبد الله المديني ثنا صفوان بن عيسى ثنا الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذباب عن سعيد بن المسيب عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إسباغ الوضوء على المكاره و اعمال الأقدام إلى المساجد و انتظار الصلاة بعد الصلاة يغسلن الخطايا غسلا هكذا روي بهذا الإسناد و قد مضى في كتاب الطهارة بما هو الصواب

ہمیں خبر دی ہےابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو علی بن عبداللہ مدینی نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے ان کو حارث بن عبدالرحمٰن بن ابو ذباب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو علی بن ابی طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ مشکلات کے با وجود وضو کو مکمل کرنا ور مساجد کی طر ف پیدل چل کر جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کے انتظار میں بیٹھے رہنا یہ امور گناہوں کو دھو دیتے ہیں اس اسناد کے ساتھ اسی طرح مروی ہے اور کتاب الطہارت اس سند کے ساتھ آئی ہے جو درست ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2899

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2900

2900 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو صادق بن أبي الفوارس قالا : ثنا أبو العباس الأصم ثنا سعيد بن عثمان التنوخي الحمصي ثنا الهيثم بن جميل الأنطاكي ثنا محمد بن مسلم عن إسماعيل بن أمية أخبرني المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من توضأ ثم خرج يريد الصلاة فهو في الصلاة حتى يرجع إلى بيته

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن اسحٰق نے اور ابو صادق بن ابوالفوارس نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس اصم نے ان کو سعید بن عثمان خصمی نے ان کو ہیثم بن جمیل انطا کی نے ان کو محمد بن مسلم نے اسماعیل بن امیہ سے ان کو خبر دی ہے مقری نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے وضو کیا پھر وہ گھر سے نماز کے ارادے سے نکلا وہ نماز میں شمار ہے حتی کہ وہ واپس آ جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← الهيثم بن جميل الأنطاكي ← سعيد بن عثمان التنوخي الحمصي ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو زكريا بن أبي إسحاق و أبو صادق بن أبي الفوارس

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2900

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2901

2901 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا والدي ثنا أبو بكر محمد بن إسحاق ثنا إبراهيم بن محمد الحلبي بصرى ثنا يحيى بن الحارث ثنا أبو غسان المديني و اسمه محمد بن المطرف عن أبي حازم عن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم بشر المشائين في الظلم بالنور التام لفظ حديث أبي زكريا و في حديث أبي عبد الله بالنور التام يوم القيامة و قال في إسناده ثنا يحيى بن الحارث الشيرازي و كان ثقة نا زهير بن محمد التميمي و أبو غسان المديني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو میرے والد نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحٰق نے ان کو ابراہیم بن محمد حلبی بصری نے ان کو یحییٰ بن حارث نے ان کو ابو غسان مدینی نے ان کا نام محمد بن مطرف ہے اس نے ابو حازم سے اس نے سہل بن سعد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا رات کی تاریکیوں اور اندھیروں میں کثرت کے ساتھ مساجد کی طرف پیدل چلنے والوں کو قیامت کے دن کامکمل نور روشنی کی خوش خبری سنا دیجیے۔ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں ہے۔ ہمیں حدیث بیان کی یحییٰ بن حارث شیرازی نے اور وہ ثقہ روای تھا ان کو زہیر بن محمد تمیمی نے اور ابو غسان مدینی نے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← أبو غسان المديني و اسمه محمد بن المطرف ← يحيى بن الحارث ← إبراهيم بن محمد الحلبي بصرى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← وَالِدِي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2901

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2902

2902 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء أنا أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ثنا أبو المثنى معاذ بن المثنى ثنا داود بن سليمان مؤذن مسجد ثابت البناني حدثني أبي سليمان بن مسلم عن ثابت بن أسلم البناني عن أنس بن مالك : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال بشر المشائين في ظلم الليالي إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة

ہمیں حدیث بیان کی ہے امام اب والطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے ان کو ابو علی حامد بن محمد بن عبداللہ ہروی نے ان کو ابو المثنیٰ معاذ بن مثنیٰ نے ان کو داؤد بن سلیمان مؤذن مسجد ثابت بنانے نے ان کو ابو سلیمان بن مسلم نے ان کو ثابت بن اسلم بنانی نے ان کو انس بن مالک نے انکو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ راتوں کے اندھیروں میں مساجد کی طرف پیدل رواں دواں رہنے والوں کو قیامت میں مکمل روشنی حاصل ہونے کی بشارت دے دیجئے۔

بشر المشائين في ظلم الليالي إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثابت بن أسلم البناني ← أبي سليمان بن مسلم ← داود بن سليمان مؤذن مسجد ثابت البناني ← أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أبو علي حامد بن محمد بن عبد الله الهروي ← الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2902

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2903

2903 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن حمويه العسكري ثنا أبو عمرو محمد بن عبد الله السوسي ثنا محمد بن عبد الله بن المثنى الأنصاري ثنا إسماعيل الكحال ثنا عبد الله بن عيسى بن أوس الخزاعي أن بريدة الأسلمي حدثهم : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : بشر المشائين في الظلم أو قال الظلمة إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن حمویہ عسکری نے ان کو ابو عمرو محمد بن عبداللہ سوسی نے ان کو محمد بن عبداللہ بن مثنیٰ انصاری نے ان کو اسماعیل کحال نے ان کو عبداللہ بن عیسیٰ بن اوس خزاعی نے ان کو بریدہ اسلمی نے ان کو حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بشارت دے دیجئے اندھیروں میں چلنے والوں کو یا یوں کہا تھا کہ ظلمت میں مساجد کی طرف ۔ قیامت کے دن مکمل روشنی کی ۔

عبد الله بن عيسى بن أوس الخزاعي أن بريدة الأسلمي ← إِسْمَاعِيلُ الْكَحَّالُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى الْأَنْصَارِيُّ ← أبو عمرو محمد بن عبد الله السوسي ← أبو بكر محمد بن أحمد بن حمويه العسكري ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2903

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2904

2904 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل أنا أبو عثمان البصري ثنا أبو عثمان سعيد بن المسيب بن قريش الساسي و أبو الحسن محمد بن حاتم بن المظفر المروزي قالا : ثنا يحيى بن معين ثنا أبو عبيدة الحداد ثنا إسماعيل بن سلمان الكحال عن عبد الله بن أوس عن بريدة : عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو عثمان سعید بن مسیب بن قریش ساسی نے اور ابو الحسن محمد بن حاتم بن مظفر مروزی نے دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن معین نے ان کو ابو عبید ہ حداد نے ان کو اسماعیل بن سلمان الکحال نے ان کو عبداللہ بن اوس نے ان کو بریدہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مذکورکی مثل۔

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2904

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2905

2905 - أخبرنا أبو علي الروذباري ثنا الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ أبو حاتم الرازي ثنا عبد الله بن جعفر ثنا عبيد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن جناده بن أبي خالد عن مكحول عن أبي إدريس الخولاني عن أبي الدرداء : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من مشى في ظلمة الليل إلى المساجد أتاه الله نورا يوم القيامة

ہمیں خبر دی ابو علی روزباری نے ان کو حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو خبر دی ابو حاتم رازی نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو عبیداللہ بن عمرو نے ان کو زید بن ابو انیسہ نے ان کو جنادہ بن ابو خالد نے ان کو مکحول نے ان کو ابو ادریس خولانی نے ان کو ابو درداء نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کی تاریکی میں مساجد کی طرف چلا اللہ تعالیٰ اس کے پاس قیامت کے دن روشنی لے آئے گا۔

مَنْ مَشَی فِیْ ظُلْمَۃِ اللَّیْلِ اِلَی الْمَسَاجِدِ، آتَاہُ اللہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، ← مَكْحُولٌ ← جُنَادَةَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← الحسين بن الحسن بن أيوب أنبأ أبو حاتم الرازي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2905

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2906

2906 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس السياري ثنا عبد الله بن محمود ثنا محمد بن علي بن الحسن بن شقيق ثنا خاقان ثنا الحسن بن محمد قاضي مروة قال : سمعت مقاتل بن سليمان يقول في : قول الله عز و جل : { سابقوا إلى مغفرة من ربكم } قال التكبيرة الأولى 2906 - مكرر ـ أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن إسحاق بن زريق ثنا عبد الله بن عون ثنا عثمان بن مطر الشيباني عن ثابت البناني عن أنس بن مالك في : قوله : { سابقوا إلى مغفرة من ربكم } قال التكبيرة الأولى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس سیاری نے ان کو عبداللہ بن محمود نے ان کو محمد بن علی بن حسن بن شقیق نے ان کو خاقان نے ان کو حسن بن محمد قاضی مرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مقاتل بن سلیمان سے سنا تھا وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں فرماتے تھے: "سابقو ا الیٰ مغفرۃ من ربکم" اپنے رب کی طرف سے مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔ فرمایا کہ اس سے تکبیر اولیٰ مراد ہے۔ مکر رہے ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن اسحاق بن زریق نے ان کو عبداللہ بن عون نے ان کو عثمان بن مطر شیبانی نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک نے اللہ کے اس قول کے بارے میں۔ "سابقو الیٰ مغفرۃ من ربکم " کہ اپنے رب کی طرف سے مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے سبقت کرو۔ فرمایا کہ اس سے مراد تکبیر اولیٰ ہے۔

التكبيرة الأولى ← أنس بن مالك في قوله سابقوا إلى مغفرة من ربكم ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ الشَّيْبَانِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، ← محمد بن إسحاق بن زريق ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← التكبيرة الأولى مكرر ← في قول الله عز و جل سابقوا إلى مغفرة من ربكم ← مُقَاتِلِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ← الحسن بن محمد قاضي مروة ← خاقان ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ السَّيَّارِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2906

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2907

2907 - أخبرنا أبو الحسن المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا يوسف بن يعقوب ثنا محمد بن أبي بكر ثنا حماد أبو أسامة حدثني أبو فروة حدثني أبو عبيد حاجب سليمان بن عبد الملك قال : سمعت شيخا في المسجد الحرام يقول : قال أبو الدرداء قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لكل شيء أنفة و أن أنفة الصلاة التكبيرة الأولى فحافظوا عليها قال أبو عبيد : فحدثت بها رجاء بن حيوة فقال حدثتنيه أم الدرداء عن أبي الدرداء

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو حماد بن ابو اسامہ نے ان کو ابو قردہ نے ان کو ابو عبید حاجب سلیمان بن عبدالملک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے مسجد الحرام میں ایک شیخ سے سنا وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر شے کہ ایک چنیدہ اور عمدہ حصہ ہوتا ہے اور نماز کا چنیدہ اور عمدہ حصہ تکبیر اولیٰ ہے لہذا اس کی حفاظت کرو۔ ابو عبید نے کہا کہ میں نے اس بات کے بارے میں رجاء بن حیوۃ کو بتایا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے اسی کے بارے میں حدیث بیان کی تھی ام درداء نے ابو درداء سے۔

أَبُو الدَّرْدَاءِ ← شَيْخًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ← أبو عبيد حاجب سليمان بن عبد الملك ← أَبُو فَرْوَةَ ← حَمَّادٌ أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2907

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2908

2908 - أخبرنا أبو القاسم علي بن الحسن بن علي الطهماني أنا الحاكم يحيى بن منصور ثنا محمد بن عبد الله و أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ثنا محمد بن عبد الله بن سليمان مطين ثنا سويد بن سعيد ثنا الحسن بن السكن عن الأعمش عن أبي ظبيان عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل شيء صفوة و صفوة الصلاة التكبيرة الأولى

ہمیں خبر دی ہے ابو القاسم علی بن حسن بن علی طھمانی نے ان کو حاکم یحییٰ بن منصور نے ان کو محمد بن عبداللہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصرہ بن قتادہ نے ان کو محمد بن حسن بن اسماعیل سراج نے ان کو محمد بن عبداللہ بن سلیمان مطین نے ان کو سوید بن سعید نے ان کو حسن بن سکنی نے اعمش سے اس نے ابو ضبیان سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر شے میں سے کوئی خلاصہ اور عطر ہوتا ہے اور نماز میں سے وہ چیز تکبیر اولیٰ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← الْحَسَنِ بْنِ السَّكَنِ، ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← محمد بن عبد الله بن سليمان مطين ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← محمد بن عبد الله و ← الحاكم يحيى بن منصور ← أبو القاسم علي بن الحسن بن علي الطهماني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2908

chevron_left Previous
1…919293…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood