شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل المشي إلى المساجد · حديث 2885
2885 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا يحيى بن جعفر الواسطي ثنا يزيد بن هارون ثنا سليمان عن أبي عثمان عن أبي بن كعب قال : كان رجل ما أعلم أحدا من أهل المدينة ممن يصلي إلى القبلة أبعد منزلا من المسجد منه و كان يحضر الصلوات مع النبي صلى الله عليه و سلم قال : فقيل له لو اشتريت حمار تركبه في الظلماء و الرمضاء فقال : و الله ما أحب أن منزلي بلزم المسجد فأخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك فسأله فقال يا رسول الله كيما يكتب أثري و خطاي و رجوعي إلى أهلي و إقبالي و إدباري فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ أعطاك الله ما احتسبت أجمع أخرجه مسلم من حديث سليمان التيمي
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو یحییٰ بن جعفر واسطی نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو سلیمان نے ابو عثمان سے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں ایک آدمی تھا جو لوگ اہل مدینہ میں سے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے ان میں سے میں کسی دوسرے آدمی کو نہیں جانتا تھا جو مسجد سے بعید ترین ہو(یعنی وہ سب سے دور سے پیدل مسجد میں آتا تھا) اس کو کسی نے کہا کہ اگر آپ سواری کے لئے کوئی جانور گدھا وغیر ہ خرید لیتے تاکہ وہ اندھیری رات میں اور دوپہر کی گرمی میں کام آتا آپ اس پر سوار ہو کر آتے جاتے۔ اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں یہ بالکل پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر مسجد کے دروازے پر ہو متصل ہو' حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی آپ نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا میں نے اس لئے کہا ہے کہ تاکہ میرے قدموں کے نشان لکھے جائیں اور میرے قدم لکھے جائیں اورگھر کی طرف میرا واپس لوتنا اور مسجد کی طرف آنا جانا سب لکھا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تجھے عطا کر دیا ہے وہ سب کچھ جس کے ثواب کی اپنے لئے امید کر رکھی ہے ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے سلیمان تیمی کی حدیث سے۔
أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَیْمَانَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← يحيى بن جعفر الواسطي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated walk to mosques · Hadith 2885
