Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9718

9719 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان نا أبو بكر بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين أنا يزيد بن هارون أنا شريك بن الخطاب العنبري عن المغيرة أبي محمد عن الحسن : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أدخل نفسك في هموم الدنيا و اخرج منها بالصبر و ليردك عن الناس ما تعلم من نفسك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو ابو بکر بن ابو الدنیان نے ان کو حدیث بیان کی ہے محمد بن حسین نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو شریک بن خطاب نے مغیرہ سے اس نے ابو محمد سے اس نے حسن سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ اپنے نفس کو دنیا کے فکروں میں داخل کر اور اس سے صبر کے ساتھ نکل جا۔ اور جو کچھ آپ اپنے بارے میں جانتے ہیں اس کو لوگوں سے چھپا لو گے۔

الْحَسَنِ، ← المغيرة أبي محمد ← شريك بن الخطاب العنبري ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9718

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9719

9720 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي قالا أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى نا هشيم عن مجالد عن الشعبي عن صله بن زفر عن حذيفة قال : تعودوا الصبر فإنه يوشك أن ينزل بكم البلاء مع أنه لا يصيبكم أشد مما أصابنا و نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر فارسی نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو عمرو بن مطر نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو ہشیم نے ان کو مجالد نے ان کو شعبی نے ان کو صلح بن زفر نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ صبر کی عادت بناؤ بے شک عین ممکن ہے کہ تمہارے اوپر کوئی آزمائش آجائے حالانکہ کتنا ہی مشکل آجائے اس مشکل سے زیادہ سخت نہیں ہو گی جو ہمیں اس وقت پہنچی جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے ۔

حُذَيْفَةَ ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر الفارسي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9719

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9720

9721 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا إسماعيل بن قتيبة نا يحيى بن يحيى قال : قرأت على مالك بن أنس عن قطن بن وهب عن عويمر بن الأجدع عن يخنس مولى آل الزبير أخبره أنه كان جالسا عند عبد الله بن عمر في الفتنة فأتته مولاة له تسلم عليه فقالت إني أردت الخروج يا أبا عبد الرحمن اشتد علينا الزمان فقال لها عبد الله اقعدي لكاع فإني : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يصبر أحد على ولاها و شدتها إلا كنت له شهيدا أو شفيعا يوم القيامة رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو اسماعیل بن قتبیہ نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ روایت پڑھی تھی مالک بن انس کے سامنے قطن بن وہب سے اس نے عویمر بن اجدع سے اس نے یخنس مولیٰ آل زبیر سے اس نے اس کو خبر دی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے فتنہ کے دور میں ان کے پاس ان کی نوکرانی آئی اس نے ان کو سلام کیا وہ بولی میں تو خروج کا یا نکلنے کا ارادہ کر چکی ہو اے ابو عبدالرحمٰن ہمارے اوپ ربڑا کھٹن وقت آگیا ہے حضرت عبداللہ نے ان سے کہا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا فرمای رہے تھے کہ نہیں صبر کرتا کوئی ایک بھید نیا کی حکومت پر اور ا کی سختی پر مگر میں اس کا گواہ ہوں گا یا فرمایا تھا کہ میںآس کا سفارشی ہوں گا قیامت کے دن اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے ۔

يخنس مولى آل الزبير ← عويمر بن الأجدع ← قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← على مالك بن أنس ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9720

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9721

9722 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد نا عبيد بن الحسن الغزال الحافظ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في موضع آخر نا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار نا أبو بكر بن سلام و عبيد الغزال قالا نا إسماعيل بن عمرو البجلي نا فضيل بن مرزوق عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قضى نهمته في الدنيا حيل بينه و بين شهوته في الآخرة و من مدعيته إلى زينة المترفين كان مهينا في ملكوت السماء و من صبر على القوت الشديد أسكنه الله الفردوس حيث شاء تفرد به إسماعيل بن عمرو البجلي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن احمد زاہد نے ان کو عبید اللہ بن حسن غزال حافظ نے ح اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے دوسرے مقام پر ان کو ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن سلام اور عبید غزال نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی اسماعیل بن عمر و بجلی نے ان کو فضیل بن مرزوق نے ان کو عدی بن ثابت نے ان کو براء بن عازب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں ہی اپنی ہر خواہش کی تکمیل کر لے یہ چیز قیامت میں اس کے اور ا کی خؤاہش کے درمیان آڑ اور پردہ ہوگی اور جو شخص مالداروں کی زینت کی طرف اپنی نگاہیں دراز کرے وہ آسمانوں کی حکومت کے سامنے بے عزت ہو جاتا ہے اور جو شخص سخت روزگار پر صبر کرے اللہ تعالیٰ اس کو جنت فردوس میں ٹھکانہ دیں گے جہاں وہ خود چاہے گا اس روایت کے ساتھ اسماعیل بن عمر و بجلی متفرد ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ← أبو بكر بن سلام و عبيد الغزال ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أبو عبد الله الحافظ في موضع آخر ← و، ← عبيد بن الحسن الغزال الحافظ ← أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9721

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9722

9723 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو زرعة الدمشقي نا يحيى بن صالح الوحاظي نا سعيد بن عبد العزيز عن عبد الرحمن بن سلمة الجمحي عن عبد الله بن عمرو : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : قد أفلح من أسلم و كان رزقه كفافا و صبر على ذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو زرعہ دمشقی نے ان کو یحییٰ بن صالح وحاظمی نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ان کو عبدالرحمٰن بن سلم جمحی نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے اس نے رسول اللہﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا وہ شخص کامیاب ہو گیا جو مسلمان ہوا مگر اس کا رزق بمشکل گزرا کرنے کا ہے اور وہ اسی پر صبر کرتا ہے ۔

قد أفلح من أسلم و كان رزقه كفافا و صبر على ذلك ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْجُمَحِيُّ ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9722

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9723

9724 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا الربيع بن سليمان نا ابن وهب نا سليمان بن بلال عن عمرو بن أبي عمرو عن أبي الحويرث : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : طوبى لمن رزقه الله الكفاف و صبر عليه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلمان نے ان کو ابن وہب نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو عمرو بن ابو عمرو نے ان کو ابو الحویرث نے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قابل مبارک باد ہے وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ رزق بقدر گزارہ دیتا ہے اور وہ اس پر بھی صبر کرتا ہے ۔

أَبِی الْحُوَیْرِثِ ← عَمْرُو بْنُ اَبِیْ عَمْرِو ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9723

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9724

9725 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد صاحب ثعلب نا موسى بن سهل نا إسماعيل بن قتيبة عن يونس بن عبيد حدثني أبو العلاء بن الشخير حدثني أحمد بن سليم قال : و لا أحسبه إلا و قد رأى نبي الله عليه السلام قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يبتلي عبده بما أعطاه فمن رضي بما قسم الله له بارك له فيه و وسعه و من لم يرض لم يبارك له فيه قال الإمام أحمد كان في كتاب الحاكم أبي عبد الله أحمد بالدال و كان يتوهمه تصحيفا و يحسبه أحمر بالراء و أنا أحسبه أحمد بن معاوية بن سليم بالراء ذكره ابن منده في الصحابة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نےان کو ابو عمر محمد بن عبدالواحد زاہد صاحب ثعلب نے ان کو موسی بن سہل نے ان کو اسماعیل بن قتبیہ نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو ابو علا بن شخیر نے ان کو احمد بن سلیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نہیں گمان کرتا مگر انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو جو کچھ دیتا ہے اس پر اس کو آزماتا ہے جو شخص اللہ کی اس تقسیم پر راضی ہوجاتا ہے جو اس کے لئے اس نے کی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس میں برکت اور وسعت عطا کرتا ہے اور جو شخص راضی نہیں ہوتا اس کے لئے ا س میں برکت نہیں دی جاتی۔ امام احمد نے فرمایا کہ ابو عبداللہ احمد حاکم کی کتاب میں دال کے ساتھ لکھا ہوا تھا مگر وہ اس کو غلط سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ یہ احمر ہے راہ کے ساتھ اور میں اس کو احمد بن معاویہ بن سلیم سمجھتا ہو راء کے ساتھ ابن مندہ نے اس کو صحابہ میں شمار کیا ہے ۔

و لا أحسبه إلا و قد رأى نبي الله ← أحمد بن سليم ← أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← مُوسَی بْنُ سَهْلٍ ← أبو عمر محمد بن عبد الواحد الزاهد صاحب ثعلب ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9724

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9725

9726 - و قد رواه حماد بن زيد عن يونس و قال : عن رجل من بني سليم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره فيحتمل أن يكون ذلك عن أحد بني سليم فوقع في كتاب شيخنا أحمد

اس کو روایت کیا ہے حماد بن زید نے یونس سے وہ کہتے ہیں کہ مروی ہے بنو سلیم کے ایک آدمی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ؛ پھر اس نے روایت ذکر کی ہے ۔ احتمال ہے کہ یہ بنو سلیم کے کسی دوسرے آدمی سےمروی ہو ہمارے شیخ احمد کی کتاب میں واقع ہوا ہے ۔

رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ← يونس و ← و قد رواه حماد بن زيد

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9725

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9726

9727 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا وهب بن جرير نا شعبة عن الأزرق بن قيس عن عسعس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد رجلا فسأل عنه فجاء فقال يا رسول الله إني أردت أن آتي هذا الجبل فأخلو فيه و أتعبد فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لصبر أحدكم ساعة على ما يكره في بعض مواطن الإسلام خير من عبادته خاليا أربعين سنة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ازرق بن قیس سے اس نے عسعس سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو موجود نہ پایا تو اس کے بارے میں پوچھا پھر وہ شخص آگیا تو اس نے کہا یا رسول اللہ میں نے چاہا تھا کہ میں اس پہاڑ پر جا کر اس کے غار میں داخل ہو جاؤں اور عبادت کروں رسول اللہﷺ نے فرمایا البتہ تمہارے کسی ایک آدمی کا ایکساعت صبر کرنا اس کیفیت پر جس کو وہ نا پسند کرتا ہے اسلام کے بغض مقامات پر بہتر ہے چالیس سال تک اس کے لئے عبادت کرنے سے ۔

عسعس ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9726

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9727

9728 - و رواه حماد بن سلمة عن الأزرق بن قيس عن عسعس عن أبي حاضر : عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال ستين سنة

اور اس کو روایت کیا ہے حماد بن سلمہ نے ازرق بن قیس سے اس نے عسعس سے اس نے ابو حاضر سے اس نے نبی کریم ﷺ سے انہوں نے کہا کہ ساٹھ سال تک۔

ستين سنة ← النبي صلى الله عليه و سلم و ← أَبِي حَاضِرٍ، ← عسعس ← الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، ← و رواه حماد بن سلمة

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9727

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9728

9729 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا ابن أبي قماش عن عسعس بن سلامة قال : كنا في الجبانة و معنا أبو حاضر الأسدي فقال رجل من القوم وددت أن لنا في هذا الجبان قصر فيه من الطعام و اللباس ما يكفينا حتى الموت أخبرنا رجل فقال أبو حاضر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم فقد بعض أصحابه فسأل عنه فقيل إنه قد تفرد في بعض هذه القفران يتعبد فبعث إليه فأتي به فقال ما حملك على ما صنعت ؟ فقال يا رسول الله كبرت سني و رق عظمي و قرب أجلي فأحببت أن أخلو بعبادة ربي قال : فنادى رسول الله صلى الله عليه و سلم بأعلى صوته و كان إذا أراد أن يعلم الناس أمرا نادى به فينا ألا إن موطنا من مواطن المسلمين أفضل من عبادة الرجل وحده ستين سنة قالها نادى بها ثلاثا

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابن قماش نے ان کو عسعسی بن سلامہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جبل جبانہ میں تھے اور ہمارے ساتھ ابو حاضر اسدی تھے لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ ہمارے لئے اس پہاڑ میں مکان ہو اسی میں کھانے پینے کا انتظام بھی ہو اس قدر جو ہمیں زندگی بھر مرنے تک کافی ہو ۔ ہمیں ایک آدمی نے خبر دی پس کہا ابو حاضر نے یہ کہ رسول اللہﷺ نے بعض احباب کو نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں پوچھا آپ کو بتایا گیا کہ وہ کسی میدان میں یا جنگل میں علیحدہ ہو گیا ہے وہاں عبادت کرے گا حضور ﷺ نے اس کے پاس کسی کو بھیج کر اس کو بلایا او رپوچھا کہ تم نے جو کچھ کیا اس بات پر تمہیں کس چیز نے ابھارا اس نے کہا یا رسول اللہ میری عمر بڑی ہو گئی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور میرا اجل قریب آچکا ہے میں نے یہ پسند کیا ہے کہ میں علیحدہ ہو کر رہوں رب کی عبادت کروں کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بلند آواز کے ساتھ پکارا اور حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جب وہ لوگوں کو کچھ بتانے کا ارادہ کرتے تھے تو ہمارے اندر اس بات کو پکار کر کہتے تھے ۔ خبر دار بے شک مسلمانوں کے وطنوں میں سے ایک وطن یعنی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ رہنے کی جگہ مین ساتھ رہنا اکیلے رہ کر ساٹھ سالہ عبادت سے افضل ہے آپﷺ نے تین مرتبہ اس کو پکار پکار کر فرمایا۔

رجل من القوم وددت ← كنا في الجبانة و معنا أبو حاضر الأسدي ← عَسْعَسِ بْنِ سَلاَمَةَ ← ابْنُ أَبِي قُمَاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9728

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9729

9730 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب نا عمارة بن عبد الجبار عن شعبة حدثني الأعمش عن يحيى بن وئاب عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن المسلم الذي يخالط الناس و يصبر على أذاهم أفضل من الذي لا يخالط الناس و لا يصبر على أذاهم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو عمارہ بن عبدالجبار نے ان کو شعبہ نے ان کو اعمش نے ان کو یحییٰ بن وثاب نے ان کو ابن عمر نے نبی کریم ﷺ سے انہوں نے فرمایا بے شک وہ مسلمان جو لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی دی ہوئی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو نہ تو لوگوں کے ساتھ گھل مل کر رہتا ہے نہ ہی ان کی تکلیفوں پر صبر کرتا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← يحيى بن وئاب ← الْاَعْمَشِ ← شُعْبَةُ، ← عمارة بن عبد الجبار ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9729

chevron_left Previous
1…916917918…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood