Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9694

9695 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا المفضل بن عمرو نا عبد الرحمن بن سلام الجمحي عن هشام بن المقدام عن أمه فاطمة بنت الحسين عن أبيها : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أصابته مصيبة فقال : إذا ذكرها إنا لله و إنا إليه راجعون حدد الله له أجرها مثل ما كان له يوم أصابته تفرد به هشام روى عنه جماعة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو مفضل بن عمرو نے ان کو عبدالرحمٰن بن سلام جمعی نے ان کو ہشام بن مقدام نے اپنی والدہ فاطمہ بنت حسین سے وہ اپنےو الد سے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے اور اس کو جب وہ یاد کرے تو کہے اناللہ و انا الیہ راجعون اللہ تعاللیٰ اس کے لئے اجر مقرر کر دیں گے اس کی مثل جس دن اس کو مصیبت پہنچی ہے اس روایت کے ساتھ ہشام متفرد ہے مگر اس سےروایت کرنے والی آگے جماعت ہے ۔

أَبِيهَا ← أمه فاطمة بنت الحسين ← هشام بن المقدام ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← المفضل بن عمرو ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9694

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9695

9696 - و رواه سعيد بن أبي أيوب عن إبراهيم بن محمد الثقفي عن هشام بن أبي هشام عن عائشة : عن النبي صلى الله عليه و سلم : و قيل فيه عن محمد بن إبراهيم الثقفي عن هشام بن أبي هشام عن عائشة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قال البخاري هشام هو ابن المقدام لم يصح حديثه

اس کو روایت کیا ہے سعید بن ابو ایوب نے ان کو ابراہیم بن محمد ثقفی نے ان کو ہشام بن ابو ہشام نے اس نے سیدہ عائشہ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اور اس میں کہا یا ہے کہ مروی ہے محمد بنابراہیم ثقفی سے اس نے ہشام بن ابو ہشام سےا س نے سیدہ عائشہ سےاس نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ کی مثل اور بخاری نے کہا کہ ہشام وہ ابن مقدام ہے اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔

البخاري هشام هو ابن المقدام لم يصح حديثه ← النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَائِشَةَ ← هشام بن أبي هشام ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيُّ ← النبي صلى الله عليه و سلم و قيل فيه ← عَائِشَةَ ← هشام بن أبي هشام ← إبراهيم بن محمد الثقفي ← و رواه سعيد بن أبي أيوب

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9695

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9696

9697 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن جعفر نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا ابن نمير نا سعد بن سعيد أخبرني عمر بن كثير بن أفلح عن أبي سفينة مولى أم سلمة عن أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما من عبد تصيبه مصيبة فيقول إنا لله و إنا إليه راجعون اللهم آجرني في مصيبتي و اخلف لي خيرا منها إلا آجره الله في مصيبته و أخلف له خيرا منها قالت : فلما توفي أبو سلمة قلت من خير من أبي سلمة صاحب رسول الله صلى الله عليه و سلم قالت ثم عزم الله لي فقلتها اللهم أجرني عن مصيبتي و الخلف لي خيرا منها قالت : فتزوجت رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن جعفر نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن نمیر نے ان کو سعد بن سعید نے ان کو خبر دی عمرو بن کثیر بن افلح نے ان کو ابو سفیہ مولی ام سلمہ نے اس نے ام سلمہ زوجہر سول سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا فرماتے تھے جس بندے کو کئی مصیبت پہنچے اور وہ اناللہ واناالیہ راجعون پرھے اور یہکہے اے اللہ مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور اس کے پیچھے اس سے بہتر عطا فرما۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت پر اس کو اجر عطا فرمائے گا اور اس کے بعد اس سے بہتر ان کو عطا کرے گا۔ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب میرے شوہر ابو سلمہ کا انتقام ہوگیا تو میں نے سوچ لیا کہ ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے وہ تو صحابی رسول بھی تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے پختہ یقین عطا کیا میں نے یہی دعا کی کہ: اے اللہ میری اس مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور اس مصیبت کے بعد اس نقصان سے بہتر نعمت عطا فرما۔ فرماتی ہے کہ اس کے کچھ دنوں بعد میرا بیاہ رسول اللہﷺ کے ساتھ ہو گیا۔

لله و ← مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ ← أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← أبي سفينة مولى أم سلمة ← عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ← سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9696

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9697

9698 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو الوليد نا الحسن بن سفيان نا محمد بن عبد الله بن نمير نا أبي : فذكره رواه مسلم عن محمد بن عبد الله بن نمير

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الولید نے ان کوحسن بن سفیان سے ان کو محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن عبداللہ بن نمیر سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← أبي فذكره رواه مسلم ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9697

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9698

9699 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا حماد بن سلمة عن أبي سنان قال : دفنت ابني سنان و أبو طلحة الخولاني جالس على شفير القبر فقال : حدثني الضحاك بن عبد الرحمن عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قبض الله ابن العبد قال لملائكته ما قال عبدي ؟ قالوا حمدك و استرجع قال ابنوا له بيتا و سموه بيت الحمد وقفه أبو أسامة كما

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کوحماد بن سلمہ نے ان کو ابو سنان نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا جب کہ ابو طلحہ خولانی اس کو قبر کے دہانے پر بیٹھا ہوا تھا ا س نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی تھی ضحاک بن عبدالرحمٰن نے ابو موسیٰ سے وہ کہتے ہیں کہر سول اللہﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بیٹے کو وفات دیتے ہیں تو اپنے فرشتوں سے پوچھتے ہیں کہ میرے بندے نے اس مصیبت میں کیا کہا تھاَ؟ وہ کہتے ہیں اس نے تیری حمد کی تھی اور اناللہ کہا تھا۔ اللہ فرماتے ہیں اسکے لئے جنت میں گھر بنا دو اس کا نام بیت الحمد رکھدو اور ابو اسامہ نے اسی کے موافق حدیث بیان کی ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← دفنت ابني سنان و أبو طلحة الخولاني جالس على شفير القبر فقال ← أَبِي سِنَانٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9698

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9699

9700 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن عيسى بن سنان عن الضحاك بن عبد الرحمن عن أبي موسى قال : إذا قبض ولد العبد قال : و الله أعلم بما قال العبد ؟ قال يسأل الله الملائكة فقال قبضتم ولد فلان ؟ قالوا نعم ربنا قال : فماذا قال عبدي ؟ قال حمدك و استرجع فقال أخذتم ثمرة فؤاده و حمدني و استرجع ابنوا له بيتا في الجنة و سموه بيت الحمد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید بن ابو عمرو نے وہ دونوں کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عیسیٰ بن سنان نے ان کو ضحاک بن عبدالرحمٰن نے ان کو ابو موسیٰ نے وہ کہتے ہیں جب کسی انسان کا بیٹا لے لیا جاتا ہےتو اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں بندے نے کیا کہا ہے مگر وہ فرشتوں سے پوچھتے ہیں مگر وہ فرشتوں سے پوچھتے ہیں پھر فرماتے ہیں کہ تم لوگوں نے فلاں کا بیٹا چھین لیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ جی ہاں اے ہمارے رب پھر پوچھتے ہیں کہ میرے بندے نے کیا کہا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ تیری حمد کی ہے اس نے ۔ اور اناللہ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم لوگوں نے اس کے دل کا گوشہ توڑ لیا ہے ۔ پھر اس نےمیری حمد کی ہے اور اناللہ پڑھا ہے اس کی بدلے اس کے لئے جنت میں مکان بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔

حمدك و استرجع ← عَبدِي ← فَمَاذَا ← نعم ربنا ← قبضتم ولد فلان ← يسأل الله الملائكة ← العبد ← و الله أعلم بما ← إذا قبض ولد العبد ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9699

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9700

9701 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة عن ثابت عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الصبر عند أول الصدمة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9700

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9701

9702 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا يحيى بن بكير نا شعبة عن ثابت قال : سمعت أنسا و هو يقول لبعض أهله : أتعرفين فلانة فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر بها و هي عند قبر تبكي فقال لها : اتقي الله و اصبري فقالت : إليك عني فإنك لا تبالي بمصيبتي فقيل لها إنه رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذها مثل الموت فانتهت إلى باب فلم تجد بوابين فدخلت عليه فقالت يا رسول الله إني لم أعرفك فقال لها : الصبر في أو عند أو صدمة أخرجاه من حديث شعبة و قال غندر عن شعبة الصبر عند الصدمة الأولى قال الحليمي رحمه الله : قال الله عز و جل لنبيه صلى الله عليه و سلم : { فاصبر كما صبر أولو العزم من الرسل و لا تستعجل لهم } و قال : { و إن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به و لئن صبرتم لهو خير للصابرين } { و اصبر و ما صبرك إلا بالله و لا تحزن عليهم و لا تك في ضيق مما يمكرون } فأمر أن يصبر على أذى قومه كما صبر إخوانه من النبيين الذين تقدموه و كانوا أولي جد في أمر الله و توطين القلب على احتمال ما يستقبلهم من قومهم و أن لا يستعجل بما لهم عند الله من الجزاء بكفرهم و شقاقهم و إيذائهم إياه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو شعبہ نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ اپنے بعض اہل خانہ سے کہہ رہے تھے اتعرفین فلانتہ کیا تم فلاں عورت کو پہچانتی ہو بے شک رسول اللہﷺ اس کے قریب سے گزرے جب کہ وہ قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی ۔ حضور ﷺ نے اس سے فرمایا مائی اللہ سے ڈر اور صبر کیجئے۔ وہ بولی کہ آپ اپنا کام کریں میری مصیبت کا آپ کو ذرہ بھی احساس نہیں ہے ۔ بعد میں اس عورت کو بتایا گیا کہ یہ تو رسول اللہﷺ تھے بس یہ سنتے ہی وہ ایسی ہو گئی جیسے اس کو موت نے دبوچ لیا ہو۔بس وہ حضور ﷺ کے دروازے پر پہنچی دروازے پر کوئی دربان نہیں تھا وہ اندر چلی گئی اور حضؤر ﷺ کے پاس پہنچ گئی اور جا کر بولی یا رسول اللہ مجھے معاف کر دیجئے میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا حضور ﷺ نے اس کو فرمایا کہ صبر تو صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے ۔ بخار و مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث شعبہ سے اور کہا غندر نے شعبہ سے کہ : صبر پہلے صدمے کے وقت ہوتا ہے ۔

أنسا و هو ← ثَابِتٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9701

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9702

9703 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا الهيثم بن جميل نا صالح المري عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم وقف على حمزة بن عبد المطلب حين استشهد فنظر إلى شيء لم ينظر إلى شيء قط كان أوجع لقلبه منه فنظر إليه قد مثل به فقال رحمة الله عليك فإنك كنت ما علمتك إلا فعالا للخيرات وصولا للرحم و لولا حزن من بعدك لسرني أن أدعك حتى تحشر من أفواك شتى أما و الله على ذلك لأمثلن بسبعين منهم مكانك قال : فنزل جبريل عليه السلام على النبي صلى الله عليه و سلم و هو واقف بخواتيم سورة النحل الآية : { و إن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به و لئن صبرتم لهو خير للصابرين } فصبر النبي صلى الله عليه و سلم و كفر عن يمينه و أمسك عما أراد

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابو الازہر نے ان کو ہثیم بن جمیل نے ان کو صالح مری نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ حضؤر ﷺ حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد ان کی لاش کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے حضور ﷺ نے اس وقت ایسا منظر دیکھا جو آپ نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ ایسا منظر تھا جو آپ کے دل کو سب سے زیادہ درد دینے والا تھا۔ اس لئے کہ انہوں نے جب ان کی لاش کو دیکھا تو ان کے ناک کان اور دیگر اعضاء کٹے ہوئے تھے ظالموں نے لاش کا حلیہ بگاڑ رکھا تھا۔ حضور نے دیکھ کر فرمایا تیرے اوپر اللہ کی رحمت ہو میں تو تمہیں اس طرح جانتا ہوں کہ تم بہت زیادہ خیر کے کام کرتے تھے اور بہ زیادہ صلہ رحمیاں کرتے تھے اگر تیرے بعد حزن و غم نہ ہوتا تو مجھے یہ بات اچھی لگتی کہ میں تمہیں اسی حال میں چھوڑ دیتا یہاں تک کہ تو مختلف بہونوں اور بیٹیوں سے اٹھایا جاتا ۔ خبر دا ر اللہ کی قسم میں اس ظلم میں جو تیرے ساتھ کیا گیا ہے تیرے بدلے میں ستر افراد کے لاشوں کا حلیہ خراب کروں گا سب کے ناک کان کاٹوں گا۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ ابھی وہیں کھڑے ہی تھے کہ جبرائیل علیہ السلام سورۃ نحل کی آخری آیات لے کر نازل ہوئے ۔ اگر تم لوگ سزا دو تو اسی قدر سزا دو جتنا دشمنان اسلام نے تمہیں تکلیف پہنچائی ہے ۔ اور البتہ اگر آپ لوگ صبر کرو تو یہ بہتر ہے صبر کرنے والوں کے لئے ۔لہٰذا نبی کریم ﷺ نے صبر کی اور ویسا نہیں کی ااور جو آپ نے قسم کھائی تھی اس کو توڑ دیا اور قسم کا کفارہ ادا کیا ۔ جو کچھ ارادہ کیا تھا اس سے آپ رک گئے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← صالح المري ← الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9702

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9703

9704 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمرو نا محمد بن الليث نا عبد الله بن عثمان نا عيسى بن عبيد الله الكندي نا ربيع بن أنس نا أبو العالية عن علي عن أبي بن كعب قال : أصيب من الأنصار يوم أحد أربع و ستون و أصيب من المهاجرين ستة منهم حمزة فمثلوا بقتلاهم فقالت الأنصار لئن أصبنا منهم يوما من الدهر لنزيدن عليهم فلما كان يوم فتح مكة نادى رجل منهم لا يعرف لا قريش بعد اليوم و أنزل الله على نبيه صلى الله عليه و سلم : { و إن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به و لئن صبرتم لهو خير للصابرين } فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كفوا عن القوم كفوا عن القوم قال الحافظ عيسى هو أبو المنيب العتكي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد محبوبی نے مقام مرو میں ان کو محمد بن لیث نے ان کو عبداللہ بن عثمان نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ کندی نے ان کو ربیع بن انس نے ان کو ابو العالیہ نے ان کو علی نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ جنگ احد والے دن انصار کے چونسٹھ آدمی شہید ہوئے تھے ۔ اور مہاجرین میں سے چھ افراد شہید ہوئے تھے ان میں سے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے کفار نے مقتولین کی لاشوں کا حلیہ خراب کر رکھا تھا انصار نے کہا اگر زمانے میں کبھی بھی ہمیں موقع ملا تو ہم ان سے زیادہ بدلہ لیں گے پھر جب فتح مکہ کا دن آیا تو ایک آدمی نے ان میں سے اعلان کیا کہ آج کے بعد قریش کو کوئی نہیں پہچانے گا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی ۔لہٰذا رسول اللہﷺ نے فرمایا رک جاؤ تم لوگ ان لوگوں سے ہاتھ روک لو۔ حافظ نے کہا ہے کہ عیسیٰ سے مراد ابو منیب عتکی ہے ۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَلِيٍّ، ← أَبُو الْعَالِيَةِ، ← رَبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← عيسى بن عبيد الله الكندي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9703

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9704

9705 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن علي بن حشيش المقري بالكوفة أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا محمد بن أحمد بن نصير بن أبي حكمة النمار نا يحيى بن عبد الحميد الحماني نا ابن المبارك عن معمر عن محمد بن زيد عن يوسف بن عبد الله بن سلام قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا نزل بأهله شدة أمرهم بالصلاة ثم قرأ : { و أمر أهلك بالصلاة و اصطبر عليها }

ہمیں خبر دی ابو الحسین محمد بن علی بن حشیش مقری نے کوفہ میں ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو محمد بن احمد بن نصیر بن ابو حکمتہ نمار نے ان کو یحییٰ بن عبدالحمید حمانی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو معمر نے ان کو محمد بن زید نے ان کو یوسف بن عبداللہ بن سلام نے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ کے گھر والوں پر مشکل پیش آتی تو وہ ان کو نماز پڑھنے کا حکم دیتے یہ آیت پڑھی۔ حضور ﷺ کو حکم تھا کہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئے اور آپ خود بھی اس پر قائم رہئے۔

يُوسُفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلامٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← محمد بن أحمد بن نصير بن أبي حكمة النمار ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو الحسين محمد بن علي بن حشيش المقرئ بالكوفة

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9704

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9705

9706 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار نا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية : في قوله عز و جل : { فاصبر كما صبر أولو العزم من الرسل } قال كانوا ثلاثة و النبي صلى الله عليه و سلم رابعهم إبراهيم و نوح و هود و محمد رابعهم فأمر أن يصبر كما صبروا صلى الله عليهم و سلم أجمعين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے ان کو وکیع نے ان کو ابو جعفر رازی نے ان کو ربیع بن انس نے ان کو ابو العالیہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں: حضور کو جو یہ حکم ہوا کہ آپ ایسے صبر کریں جیسے بڑے مضبوط ارادے والے رسولوں نےصبر کیا تھا۔ ابو العالیہ نے فرمایا کہ وہ تین رسول تھے جب کہ حضور ﷺ ان میں جو تھے ابراہیم علیہ السلام مدنوح علیہ السلام ھودعلیہ السلام اور محمد ان میں چوتھے تھے ۔ تو حضور کو حکم ملا کہ آپ ایسے صبر کریں جیسے ان سب نے صبر کیا تھا۔

أبي العالية في قوله عز و جل ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9705

chevron_left Previous
1…914915916…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood