شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9682
9683 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن عيسى بن سنان عن عبادة بن محمد بن عبادة بن الصامت : قال لما حضرت عبادة الوفاة قال : أخرجوا فراشي إلى الصحن يعني الدار ثم قال اجمعوا إلي موالي و خدمي و جيراني و من كان يدخل علي فجمعوا له فقال إن يومي هذا لا أراه إلا آخر يومي يأتي علي من الدنيا و أول ليلة من الآخرة و إني لا أدري لعله قد فرط مني إليكم بيدي أو بلساني شيء و هو و الذي نفسي بيده القصاص يوم القيامة و أحرج على أحد منكم في نفسه شيء من ذلك إلا اقتص مني قبل أن تخرج نفسي قال فقالوا : بل كنت والدا و كنت مؤدبا قال و ما قال لخادم سوءا قط فقال أغفرتم لي ما كان من ذلك ؟ قالوا : نعم قال : اللهم اشهد فقال أمالي فاحفظوا وصيتي أحرج على إنسان منكم يبكي فإذا أخرجت نفسي فوضؤوا و أحسنوا الوضوء ثم ليدخل كل إنسان منكم مسجدا فيصلي ثم يستغفر لعبادة و لنفسه فإن الله تبارك و تعالى قال : { استعينوا بالصبر و الصلاة } ثم أسرعوا بي إلى حفرتي و لا تتبعني نار و لا تضعوا تحي أرجوانا
ہمیں خبر دی ابو محمد سعید بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عیسیٰ بن سنان نے ان کو عبادہ بن محمد بنعبادہ بن صامت نے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبادہ کی وفات کا وقت قریب آگیا تو فرمایا کہ میرا بستر صحن میں نکال دو۔ یعنیحویلی میں۔ اس کے بعد فرمایا کہ میرے غلاموں کو میرے خادموں کو میرے پڑوسیوں کو اور ملنے جلنے والوں سب کو میرے پاس جمع کرو۔ گھر والوں نے سب کو جمع کر لیا انہوں نے فرمایا کہ میرا یہ دنیا میں رہنےکا آخری دن ہے میں سمجھتا ہوں اور آج کی رات آخرت کی پہلی رات ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ شاید مجھ سے تمہارے حق میں کوئی زیادتی ہو گئی ہو میرے ہاتھ سے یا میری زبان سے ۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہےقیامت کے دن مجھےاس کا بدلہ دینا ہو گا جس کسی کے دل میں کوئی بات ہو وہ میری بات نکلنے سے پہلے پہلے مجھ سے اپنا بدلہ لے لے ۔ کہتے ہیں کہ سب لوگوں نے کہا کہ بلکہآپ تو سب کے لئے والد کی جگہ تھے اور آپ تو سب کو آداب تمیز سکھاتے تھے ان کے پوتے کہتے ہیں جو کہ راوی تھے انہوں نے جو کبھی اپنے کسی خادم کو بھیبرا نہیں کہا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے مجھے معاف کر دیا ہے جو کچھ بھی اس میں سے ہو ؟ سب نے کہا کہجی ہاں معاف کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا اے اللہ تو گواہ ہو جا۔ پھر فرمایا کہ اے اللہ آپ لوگ میری وصیت یاد رکھو میں تم میں سے ہر آدمی سے درخواست کرتا ہوں کہ روئے نہیں جب میری روح نکل جائے تو وضو کرنا اور احسن طریقے سے وضو کرنا تم میں سے ہر انسان مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے اور عباد کے لئے اور اپنی ذات کے لئے دعا مانگے بے شک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے صبر وصلوٰۃ کے ساتھ مدد پکڑو اس کے بعد مجھے جلدی میری قبر پر پہنچانا اور میرے پیچھے نہتو آگ لے جانا اور نہ ہی میرے نیچے رکھنا میں امید کرتا ہوں یا ارغوانا ور سرخ رنگ سے منع کیا ہے ۔
لما حضرت عبادة الوفاة ← عبادة بن محمد بن عبادة بن الصامت ← عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9682
