Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9682

9683 - أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا الحسن بن علي بن عفان نا أبو أسامة عن عيسى بن سنان عن عبادة بن محمد بن عبادة بن الصامت : قال لما حضرت عبادة الوفاة قال : أخرجوا فراشي إلى الصحن يعني الدار ثم قال اجمعوا إلي موالي و خدمي و جيراني و من كان يدخل علي فجمعوا له فقال إن يومي هذا لا أراه إلا آخر يومي يأتي علي من الدنيا و أول ليلة من الآخرة و إني لا أدري لعله قد فرط مني إليكم بيدي أو بلساني شيء و هو و الذي نفسي بيده القصاص يوم القيامة و أحرج على أحد منكم في نفسه شيء من ذلك إلا اقتص مني قبل أن تخرج نفسي قال فقالوا : بل كنت والدا و كنت مؤدبا قال و ما قال لخادم سوءا قط فقال أغفرتم لي ما كان من ذلك ؟ قالوا : نعم قال : اللهم اشهد فقال أمالي فاحفظوا وصيتي أحرج على إنسان منكم يبكي فإذا أخرجت نفسي فوضؤوا و أحسنوا الوضوء ثم ليدخل كل إنسان منكم مسجدا فيصلي ثم يستغفر لعبادة و لنفسه فإن الله تبارك و تعالى قال : { استعينوا بالصبر و الصلاة } ثم أسرعوا بي إلى حفرتي و لا تتبعني نار و لا تضعوا تحي أرجوانا

ہمیں خبر دی ابو محمد سعید بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو عیسیٰ بن سنان نے ان کو عبادہ بن محمد بنعبادہ بن صامت نے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبادہ کی وفات کا وقت قریب آگیا تو فرمایا کہ میرا بستر صحن میں نکال دو۔ یعنیحویلی میں۔ اس کے بعد فرمایا کہ میرے غلاموں کو میرے خادموں کو میرے پڑوسیوں کو اور ملنے جلنے والوں سب کو میرے پاس جمع کرو۔ گھر والوں نے سب کو جمع کر لیا انہوں نے فرمایا کہ میرا یہ دنیا میں رہنےکا آخری دن ہے میں سمجھتا ہوں اور آج کی رات آخرت کی پہلی رات ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ شاید مجھ سے تمہارے حق میں کوئی زیادتی ہو گئی ہو میرے ہاتھ سے یا میری زبان سے ۔قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہےقیامت کے دن مجھےاس کا بدلہ دینا ہو گا جس کسی کے دل میں کوئی بات ہو وہ میری بات نکلنے سے پہلے پہلے مجھ سے اپنا بدلہ لے لے ۔ کہتے ہیں کہ سب لوگوں نے کہا کہ بلکہآپ تو سب کے لئے والد کی جگہ تھے اور آپ تو سب کو آداب تمیز سکھاتے تھے ان کے پوتے کہتے ہیں جو کہ راوی تھے انہوں نے جو کبھی اپنے کسی خادم کو بھیبرا نہیں کہا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں نے مجھے معاف کر دیا ہے جو کچھ بھی اس میں سے ہو ؟ سب نے کہا کہجی ہاں معاف کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا اے اللہ تو گواہ ہو جا۔ پھر فرمایا کہ اے اللہ آپ لوگ میری وصیت یاد رکھو میں تم میں سے ہر آدمی سے درخواست کرتا ہوں کہ روئے نہیں جب میری روح نکل جائے تو وضو کرنا اور احسن طریقے سے وضو کرنا تم میں سے ہر انسان مسجد میں داخل ہو اور نماز پڑھے اور عباد کے لئے اور اپنی ذات کے لئے دعا مانگے بے شک اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے صبر وصلوٰۃ کے ساتھ مدد پکڑو اس کے بعد مجھے جلدی میری قبر پر پہنچانا اور میرے پیچھے نہتو آگ لے جانا اور نہ ہی میرے نیچے رکھنا میں امید کرتا ہوں یا ارغوانا ور سرخ رنگ سے منع کیا ہے ۔

لما حضرت عبادة الوفاة ← عبادة بن محمد بن عبادة بن الصامت ← عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9682

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9683

9684 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف : عن أمه أم كلثوم بنت عقبة و كانت من المهاجرات الأول في قوله : { و استعينوا بالصبر و الصلاة } قالت غشي على عبد الرحمن بن عوف غشية فظنوا أنه فاض حتى أنه أفاض نفسه فيها فخرجت امرأته أم كلثوم إلى المسجد تستعين بما أمرت به من الصبر و الصلاة فلما أفاق قال : أغشى علي أنفا ؟ قالوا : نعم قال : صدقتم إنه جاءني ملكان فقالا لي : انطلق نحاكمك إلى العزيز الأمين فقال ملك آخر ارجعاه فإن هذا فيمن كتبت له السعادة و هو في بطون أمهاتهم و يستمتع به بنوه ما شاء الله فعاش بعد ذلك شهرا ثم مات

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حآفظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے ان کو حمید ابن عبدالرحمٰن بن عوف نے ان کو ان کی ماں ام کلثوم بنت عقبہ نے اور وہ پہلی ہجرت کرنے والیوں میں سے تھیں انہوں نےاس آیت کے بارے میں بتایا۔ فرماتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بنعوف پر شدید غشی طاری ہو گئی تھی یہاں تک کہ سب نے یہگمان کر لیا کہ ان کا انتقال ہو جائےگا یا روح نکل جائے گی ۔ چنانچہ ان کی بیوی ام کلثوم نے مسجد میں جا کر صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگی جس کا حکم ہے وہ بے ہوش ہو گئے جب ہوش میں آئے تو پوچھا کہ کیا مجھ پر ابھی ابھی غشی طاری ہوئی تھی؟ سب نے کہا کہ جی ہاں۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگ سچ کہتے ہو میرے پاس دو فرشتے آئے تھے انہوں نے آکر کہا کہ ہمارے ساتھ چل ہم عزیز الا مین کے آگے تجھے پیش کریں گے دوسرے فرشتے نے کہا کہ نہیں تما س کو واپس کر دو یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے لئے میں نے سعادت لکھی تھی حالانکہ اس وقت یہ اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھا اس کے ساتھ اس کے بچے فائدہ اٹھا لیں اللہ جب تک چاہے پھر اس کے بعد وہ ایک ماہ تک زندہ رہے پھر انتقال کر گئے ۔

غُشِيَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ غَشْيَةً، فَظُنُّوا ← أمه أم كلثوم بنت عقبة و كانت من المهاجرات الأول في قوله ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9683

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9684

9685 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس و أبو محمد الكعبي قالا نا إسماعيل بن قتيبة نا يزيد بن صالح عن بكير بن معروف : عن مقاتل بن حيان في قوله عز و جل { و استعينوا بالصبر و الصلاة } يقول : استعينوا على طلب الآخرة بالصبر على الفرائض و الصلاة فحافظوا عليها و على مواقيتها و تلاوة القرآن فيها و ركوعها و سجودها و تكبيرها و التشهد فيها و الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم و إكمال طهورها فذلك إقامتها و إتمامها قوله : { و إنها لكبيرة إلا على الخاشعين } يقول : صرفك عن بيت المقدس إلى الكعبة كبر ذلك على المنافقين و اليهود إلا على الخاشعين يعني المتواضعين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس نے اور ابو محمد کعبی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی اسماعیل بن قتبیہ نے ان کو یزید بن صالح نے ان کو بکر بن معروف نے ماتل ابن حیان سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے استعانت مانگو طلب آخرت پر فرائض پر صبر کرنے کے ساتھ اور نماز کے ساتھ ان کی حفاظت کرو ان کے اوقات پر اور ان میں تلاوت قرآن اور رکوع سجود اور تکبیر اور ان میں تشہد کے ساتھ اور نبی کریم پر صلوٰۃ بھیجنے کے ساتھ اور طہارت کو کامل کرنے کے ساتھ یہی نماز کو قائم کرنا ہےا ور اس کو کامل کرنا ہے اور رہایہ قول کہ یہ بڑی بھاریہے مگر عاجزی کرنے والوں پر کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ آپ کا بیت المقدس سے کعبہ کی طرف متوجہ ہونا یہ یہود اور منافقین پر بھاریہو گا مگر خاشعین پر یعنی متواضع لوگوں پر۔

مقاتل بن حيان في قوله عز و جل ← بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس و أبو محمد الكعبي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9684

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9685

9686 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن الفضل الصائغ بعسقلان نا آدم بن أبي إياس نا أبو جعفر الرازي عن الربيع : عن أبي العالية في قوله : { و لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات بل أحياء } قال : يقول هم أحياء في صور طير خضر يطيرون في الجنة حيث شاؤوا و يأكلون من حيث شاؤوا و قوله : { و لنبلونكم } قال قد ابتلاهم بذلك كله و سيبتليهم بما هو أشد من ذلك يقول الله عز و جل { و بشر الصابرين } إلى قوله { أولئك عليهم صلوات من ربهم و رحمة } و الصلوات و الرحمة على الذين صبروا و استرجعوا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن فضل ضائع نے عسقلان میں ان کو آدم بن ابو ایاس نے ان کو ابو جعفر رازی نے ان کو ربیع نے ان کو ابو العالیہ نے اس قول الہٰی کے بارے میں : جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے ہیں ان کو مردے نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ ربیع کہتے ہیں کہ ابو العالیہ نے فرمایا کہوہ زندہ ہیں سبز پرندوں کی صورتوں میں جنت میں اڑتے پھرتے ہیں جہاں بھی چاہتے ہیں اور کھاتے ہیں جہاں چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان جو ہے کہ ہمت مہیں ضرور آزمائیں گے فرمایا کہ اللہ نے ان کو اس سب کچھ کے ساتھ تو آزما لیا ہے اور عنقریب اس آزمائش کے ساتھا ن کو آزمائیں گے جو اس کے زیادہ سخت ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ صلوت اور رحمتہ ہے ان لوگوں پر صبر کرتے ہیں اور مصیبت کےوقت اناللہ پڑھتے ہیں۔

أبي العالية في قوله ← الرَّبِيعِ، ← أبو جعفر الرازي ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← أحمد بن الفضل الصائغ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9685

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9686

9687 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح حدثني معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في قوله : { و لنبلونكم بشيء من الخوف و الجوع } و نحو هذا قال : أخبر الله سبحانه المؤمنين أن الدنيا دار بلاء و انه مبتليهم فيها و أمرهم بالصبر و بشرهم فقال : { و بشر الصابرين } ثم أخبرهم أنه هكذا فعل بأنبيائه و صفوته يطيب نفوسهم فقال : { مستهم البأساء والضراء وزلزلوا } و أما البأساء : فالفقر و الضراء : فالسقم و زلزلوا : بالفتن و أذى الناس إياهم

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے ان کو ابن عباس نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں البتہ ہم ضرور آزمائیں گے تمہیں کسی نہ کسی چیز کے ساتھ خوف سے اور بھوک سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو خبر دی ہے کہ دنیا دارالا متحان ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اس دنیا میں آزمائے گا۔ اور پھر ان کو اس نے آزمائش میں صبر کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو بشارت دی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں کو خبر دیہے کہاس نے اپنے انبیاء کے ساتھ اور اپنے برگزید لوگوں کے ساتھ اس نے ایسے ہی کیا تھا اور انلوگوں نے اس آزمائش کو بطیب خاطر برداشت کیا تھا چنانچہ ارشاد کہ ان فقر اور بیماری لگ گئی تھی اور وہ اچھی طرح جھنجھوڑے گئے تھے۔

أخبر الله سبحانه المؤمنين ← ابن عباس في قوله و نحو هذا ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9686

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9687

9688 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا سفيان عن منصور عن مجاهد قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : نعم العدلان و نعم العلاوة { أولئك عليهم صلوات من ربهم و رحمة و أولئك هم المهتدون }

ہمیں خبر دی ابو نصر قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور انے ان کو سفیان نے منصور سے اس نے مجاہد سے وہ کہتے ہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا دو بہترین بدلے ہیں اور بہترین عظمتیں ہیں ارشاد باری ہے ۔ وہیں لوگ میں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایات ہیں اور رحمت ہے وہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔

مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9687

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9688

9689 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح عن علي بن أبي طلحة : عن ابن عباس في قوله : { إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله و إنا إليه راجعون } إلى آخر الآية قال : أخبر الله أن المؤمن إذا سلم لأمر الله و رجع و استرجع عند المصيبة كتب الله له ثلاث خصال من الخير الصلاة من الله و الرحمة و تحقيق سبيل الهدى و قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استرجع عند المصيبة جبر الله مصيبته و أحسن عقباه و جعل له خلقا صالحا يرضاه

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ان کو ابو الحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے انہیں ابنعباس رضی اللہ عنہ نے اللہ کے اس قول کے بارے میں جب ان کو کوئی مصیبت آن پہنچتی ہے تو وہ کہتے اناللہ الخ۔ فرمایا کہ مؤمن جس وقت اللہ کے حکم کے لئے تابع فرمان ہو جاتا ہے اور رجوع کرتا ہے اور اناللہ کہتا ہے مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰا س کے لئے خیر کی تین خصلتیں لکھ دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت اور راہہدایت کا پکار ہونا اور رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص مصیبت کے وقت انا للہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت کی تلافی کر دیتا ہے اور اس کی عاقب احسن کر دیتا ہے اور اس کے لئے ایسی نیک اور صالح قائمقام عطا کرتا ہے جو اس کوخوش کر دیتی ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9688

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9689

9690 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا أبو حذيفة عن سفيان عن جويبر : عن الضحاك في قوله : { الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله و إنا إليه راجعون } قال : هي لمن أخذ بالتقوى و أدى الفرائض

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان دونوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ابو العباس بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو جویبر نے ضحاک سے اللہ کے اس فرمان کے بارے میں کہ صبر کرنے والے لوگ وہ ہوتے ہیں کہ جب ان کو مصیبت پہنچی ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کےہیں اور اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ ضحاک نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو تقویٰ حاصل کرتے ہیں اور فرائض کو ادا کرتے ہیں۔

هي لمن أخذ بالتقوى و أدى الفرائض ← إليه راجعون ← لله و ← الضحاك في قوله الذين إذا أصابتهم مصيبة ← جُوَيْبِرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9689

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9690

9691 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس هو الأصم نا ابن مرزوق نا أبو عامر عن سفيان الثوري عن سفيان العصفري : عن سعيد بن جبير قال : لم يعط لأحد من الأمم الاسترجاع غير هذه الأمة أما سمعت قول يعقوب : { يا أسفى على يوسف } رفعه بعض الضعفاء إلى ابن عباس ثم منه إلى النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بنموسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابن مرزوق نے ان کو ابو عامر نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو صفوان عصفری نے ان کو سعید بن جبیر نے وہ کہتے ہیں تمام امتوں میں سے کسی امت کو استرجاع عطا نہیں کیگئی تھی کیا آپ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کا قول نہیں سنا۔ افسوس یوسف کے فراق پر۔ بعض ضعیف راویوں نے اس کو مرفوع کیا ہے ابنعباس کی طرف پھر ان سے نبی کریم ﷺ کی طرف ۔

لم يعط لأحد من الأمم الاسترجاع غير هذه الأمة أما ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ ← ابْنُ مَرْزُوقٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9690

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9691

9692 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا حدثني حمزة أنا عبدان أنا عبد الله بن المبارك أنا المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : أربع من كن فيه بنى الله له بيتا في الجنة من كان عصمة أمره لا إله إلا الله و إذا أصابته مصيبة قال : إنا لله و إنا إليه راجعون و إذا أعطي شيئا قال : الحمد لله و إذا أذنب ذنبا قال : أستغفر الله

ہمیں خبر دی ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ حزقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابو الد نیا نے ان کو حمزہ نے ان کو عبدان نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو مثنی بن صاح نے ان کو عمرو بن شعیب نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ فرماتے ہیں کہ چار صفات ہیں جس شخص میں موجد ہوںاللہ تعالیٰ جنت میں اس کا گھر بنائیں گے جس شخص کا تحفظ اور بچاؤ ہو اور وہ شخص جس کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے اور وہ شخص جب اس کو کوئی شئی عطا ہو تو وہ کہے الحمد للہ ۔ اور جب کوئی گناہ کرے تو کہے استغفراللہ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عَبْدَانُ ← حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9691

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9692

9693 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا نا أبو العباس الأصم نا الربيع بن سليمان نا أسد بن موسى نا هشيم بن بشير نا يحيى بن عبيد الله عن أبيه أنه سمع أبا هريرة يحدث قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انقطع شسع أحدكم فليسترجع فإنه من المصائب تابعه حفص بن غياث و غيره عن يحيى بن عبيد الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسی نے ان کو ہثیم بن بشیر نے ان کو یحییٰ بن عبید اللہ نے ان کو ان کے والد نے کہ انہوں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو تم میں سے کسی کے جو تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اناللہ کہے کیونکہ یہ بھی مصائب میں سے ہے حفص بن غیاث وگیرہ نے اس کا متابع بیان کیا ہے ۔ یحییٰ بن عبید الہ سے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9692

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9693

9694 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا محمد بن يوسف نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن خليفة قال : بينما عمر يمشي إ انقطع شسع نعله فاسترجع فقال له ـ يعني أصحابه ـ مالك يا أمير المؤمنين قال انقطع شسع نعلي فساءني و كل ما ساءك مصيبة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نےا ن کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن خلیفہ نے وہ کہتے ہیں حضرت عمر چل رہے تھے کہ یکایک ان کے جوتے کا تسمیہ ٹوٹ گیا تو انہوں نے اناللہ پڑھا ان کے احباب نے ان سے کہا آپکو کیا ہوا اے ا میر المؤمنین؟ فرمایا کہ میرے جو تے کا تسمیہ ٹوٹ گیا ہے ۔ مجھے یہ بات بری لگی ہے اور ہر وہ چیز جو آپ کو بری لگے وہ مصیبت ہے ۔

له يعني أصحابه مالك يا أمير المؤمنين ← بينما عمر يمشي إ انقطع شسع نعله فاسترجع ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9693

chevron_left Previous
1…913914915…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood