Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9670

9671 - أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا يعلى بن عبيد نا أبو سنان حدثني غير واحد عن علي أنه قال : طوبى لعبد يعرف الناس و لا يعرفونه يعرفه الله برضوان أولئك مصابيح الهدى ليسوا بالمذاييع و لا البذر ينجيهم الله من كل فتنة غبراء مظلمة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو ابو سنان نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے متعدد لوگوں نے حضرت علی سے کہ انہوں نے فرمایا مبارک باد ہے اس بندے کے لئے جو لوگوں کو پہچانے مگر اس کو نہ پہچانیں۔ اللہ اس کو اپنی رضا مندی کے ساتھ پہچانے ۔ وہی لوگ ہدایت کے چراغ ہوں گے نہ وہ عیبوں کو پھیلانےاور ظاہر کرنے والے ہوں گے اور نہ برائی کا بیچ بونے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہر فتنے کے غبار و تاریکی سے نجات عطا کرے گا۔

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← غَيْرُ وَاحِدٍ، ← أَبُو سِنَانٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › And it is the door in covering the owners of the groves · Hadith 9670

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الستر على أصحاب القروف · حديث 9671

9672 - و أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله بن أحمد الأديب نا أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي نا بن بن العباس أنا أبو إسحاق نا يعلي بن عبيد عن إسماعيل بن أبي خالد عن زبيد اليافي قال : قال عبد الله : قولوا خيرا تعرفوا به و اعملوا به تكونوا من أهله و لا تكونوا عجلاء مذاييع بذرا

ہمیں خبر دی ابو عمرو اور محمد بن عبداللہ بن احمد ادیب نے ان کو ابو بکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی نے ان کو احمد بن عباس نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو یعلیٰ بن عبید نے ان کو اسماعیل بن ابو خالد نے ان کو زبید بافی نے وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے کہا خیر کی بات کہو اور اسی خبر کے ساتھ پہچانے جاؤ اور خیر کے ساتھ عملکرو اور اہل خیر بن جاؤ اور جلد باز برائی کو سن کر یاد دیکھ کر پجیلانے والے اور برائی کا بیچ بونے والے نہ بنو۔

زبيد اليافي ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← بن بن العباس ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم الإسماعيلي ← أبو عمرو محمد بن عبد الله بن أحمد الأديب ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › And it is the door in covering the owners of the groves · Hadith 9671

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9672

9673 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي نا محمد بن سعد العوفي نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا ابن أخي اين شهاب عن عمه قال : قال سالم سمعت أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : كل أمتي معافى إلا المجاهدين و إن من الإجهار أن يعمل الرجل في الليل عملا ثم يصبح و قد ستره ربه فيقول : يا فلان عملت البارحة كذا كذا و قد بات يستره ربه يبيت في ستر ربه و يصبح يكشف ستر الله عنه رواه مسلم في الصحيح عن محمد بن حاتم و زهير بن حرب و إن من الجهار فإن كان محفوظا فلعله من الهجر و هو الفحش و الإفجار إفحاش في الكلام رواه البخاري عن الأوس عن إبراهيم بن سعد عن ابن أخي بن شهاب و قال و إن من المجانة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن کامل بن خلف قاضی نے ان کو محمد بن سعد عونی نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ابن اخی ابن شہاب نے اپنے چچا سے وہ کہتے ہیں کہ کہا سالم سے کہ میں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے سنا رسول اللہﷺ سے وہ فرما رہے تھے ۔ میری پوری امت چھٹکارا پائے گی سوائے مجاہرین کے بے شک اجہاریہ ہے کہ کوئی آدمی رات کوئی برائی کرے جب صبح ہو تو یہ دیکھے کہ اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالا ہوا ہے ۔ مگر وہ شخص خود لوگوں سے یوں کہے کہ اے فلا نے میں نے گذشتہ رات فلاں فلاں برائی کا کام کیا ہے ۔ حالانکہ اس نے جب رات گذاری تھی تو اس کے رب نے اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دیا تھا اس نے رات رب کے ڈالے ہوئے پردے تلے گذاری تھی ۔ مگر صبح کرتا ہے تو خؤد اس عیب و گناہ کو ظاہر کر دیتا ہے تو گویا وہ اپنے اوپر سے اللہ کے پردے کو خود کھول دیتا ہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔ صحیح میں محمد بن حاتم اور زہیر بن حرب سے کہ بے شک اجہار میں سے یہ بات ہے کہ اگر یہ الفاظ محفوظ ہیں تو اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ۔ صحیح میں محمد بن حاتم اور زہیر بن حرب سے کہ بے شک اجہار میں سے یہ بات ہے کہ اگر یہ الفاظ محفوظ ہیں تو شاید یہ ہجر سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب ہے فحش ۔ اور افجار کا مطلب ہے افحاش فی الکلام۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اس سے اس نے ابراہیم بنسعد سے اس نے ابن اخی ابن شہاب سے اور اس نے کہا کہ بے شک مجانت میں سے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَالِمٍ ← عَمِّہٖ ← ابن أخي اين شهاب ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ← أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9672

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9673

9674 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن زيد بن أسلم : أن رجلا اعترف على نفسه بالزنا على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر الحديث في جلده ثم قال : أيها الناس ما آن لكم أن تنتهوا عن حدود الله فمن أصاب من هذه القاذورة شيئا فليستتر بستر الله فإنه من يبد لنا صفحته نقم عليه كتاب الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو الحسن طرائفی نے ان کو عچمان بن سعید نے ان کو قعبنی نے اس میں جو انہوں نے مالک کے سامنے پڑھا۔ زید بن اسلم سے کہ ایک آدمی نے اپنے خلاف عہد رسول میں زنا کرنے کا اعتراف کیا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی اس کے سنگسار کرنے کے بارے میں ۔ پھر فرمایا اے لوگو کیا ابھی تک وہ وقت نہیں ایا کہ آپ لوگ اللہ کی حدود سے باز آجاؤ۔ پس جو گندگی اور نجاست کے ساتھ کسی قدر آلودہ ہو جائے اس کو چاہیے کہ وہ اللہ کے پردے میں چھپ جائے بے شک وہ جس کا کچا چھٹا ہمارے سامنے کھل کر سامنے آگیا اس پرکتاب اللہ سزا مسلط کر دے گی۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9673

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9674

9675 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا : نا أبو العباس هو الأصم نا أبو بكر محمد بن إسحاق أنا يحيى بن بكير نا الربيع بن صبيح عن الحسن كان يقول : ليس لأهل البدع غيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ابو بکر محمد بن اسحٰق نے ان کو یحییٰ بن بکیر نے ان کو ربیع بن صبیح نے ان کو حسن نے وہ کہا کرتے تھے کہ اہل بدعت کی غیبت نہیں ہے ۔ یعنیاس کی بدعت کو ذکر کرنا غیبت شمار نہ ہو گا۔

ليس لأهل البدع غيبة ← الْحَسَنِ كَانَ ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9674

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9675

9676 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت الأستاذ أبو الوليد يقول سمعت أبا عمرو أحمد بن محمد الحيري سمعت إبراهيم بن هانىء يقول : كنت عند أحمد بن حنبل و عنده الشقيقي و هو يذاكره آداب عبد الله بن المبارك يقول : من تهاون بالستر أطلق لسانه في عيوب الناس نفسه فكفى الناس شره قال : فنفر أحمد من مكانه قال : سبحان الله و نتهاون في الستر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا استاذ ابو ولید سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابو عمرو احمد بن محمد جیری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابراہیم بنمانی سے وہ کہتے ہیں کہ میں احمد بن حنبل کے پاس تھا اور ان کے پاس شقیقی بیٹھے تھے وہ ان کے ساتھ عبدان بن مبارک کے آداب کا مذاکرہ کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں نےعبداللہ بن مبارک سے سنا کہہ رہے تھے جو شخص اللہ کے پردے کو حقیر سمجھتا ہے وہاپنے عیبوں کے ساتھ زبان کھول دیتا ہے ۔ وہ اپنےشر سے لوگوں کو کفایت کرتا ہے کہتے ہیں کہ احمد اپنی جگہ سے اتھ کر چل دئیے وہ کہہ رہے تھے سبحان اللہ اور ہم لوگ اللہ کے پردے کی توہین کرتے ہیں۔

إبراهيم بن هانيء، ← أبا عمرو أحمد بن محمد الحيري ← الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ: ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9675

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9676

9677 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني سمعت إبراهيم بن عبد الله السعدي يقول : سألت الأصمعي عن السفلة فقال : الذي لا يبالي ما قال و ما قيل فيه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انہوں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن یعقوب سے شیبانی سے اس نے سنا ابراہیم بن عبداللہ سعدی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے سنا اصمعی سے سفلہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو شخص یہ پردہ نہیں کرتا کہ اس نے کس کے بارے میں کیا کہہ دیا ہے اس کو یہ بھی پرواہ نہیں ہوتی کہاس کے بارے میں لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔

و ما قيل فيه ← السفلة فقال الذي لا يبالي ما ← سألت الأصمعي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشيباني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9676

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9677

9678 - و سمعت أبا عبد الله الشيباني يقول سمعت أبي يقول سمعت أبا إسحاق القرشي : و سئل عن السفلة فقال مثل الذي لا يبالي ما قال و ما قيل فيه

میں نے سنا ابو عبداللہ شیبانی سے اس نے سنا والد سے اس نے ابو اسحاق قرشی سے ان سے پوچھا گیا تھا کمینے کے بارے میں تو فرمایا کہ اس کی مثال اس جیسی ہے کہ وہ پرواہ نہیں کرتا کہ اس نے کیا کہا ہے اور اس کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے ۔

و ما قيل فيه ← السفلة فقال مثل الذي لا يبالي ما ← أبا إسحاق القرشي و سئل ← أَبِي ← أبا عبد الله الشيباني ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9677

شعب الإيمان · التاسع و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في ستره على نفسه · حديث 9678

9679 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو القاسم علي بن المؤمل نا محمد بن يونس نا المعلى بن الفضل نا سليمان بن عبد الرحمن الأزدي عن أنس أنه قال لبنيه : يا بني أتدرون ما السفلة ؟ قالوا و ما السفلة ؟ قال الذي لا يخاف الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو القاسم علی بن مؤمل ن ے ان کو محمد بن یونس نے ان کو معلی بن افضل نے ان کو سلیمان بن عبدالرحمٰن ازوی نے ان کو انس نے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا اے بیٹے کیا تم جانتے ہو کہ سفلہاور کمینہ کون ہے ؟ انہوں نے پوچھا کہ کون ہے ؟ فرمایا کہ جو شخص اللہ سے نہیں ڈرتا۔

الذي لا يخاف الله عز و جل ← و ما السفلة ← لبنيه يا بني أتدرون ما السفلة ← أَنَسِ، أَنَّهُ ← سليمان بن عبد الرحمن الأزدي ← الْمُعَلَّى بْنُ الْفَضْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← أبو القاسم علي بن المومل ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-ninth of the people of faith › Detached in his jacket on himself · Hadith 9678

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9679

9680 - و روينا هذا عن مجاهد : و هذا لما في الصيام من الصبر على الطعام و الشراب المعتادين بالنهار مع تحرك الطبع نحوهما و نزوع النفس إليهما و لهذا قيل لشهر رمضان شهر الصبر و قد مضى الخبر فيه في باب الصيام و قيل أراد بالصبر الصبر على ما يعرض للمسلمين من قتل أعدائهم المشركين ثم قال : { و إنها لكبيرة إلا على الخاشعين } فقيل رجعت الكناية إلى الصلاة وحدها و قيل رجعت إلى كل واحد منهما بمعنى الخصلة أو الطاعة أو الفعلة كأنه قال : و إن كل واحدة من هاتين الخصلتين لكبيرة أي شاقة إلا على الخاشعين الذين يظنون أنهم ملاقوا ربهم في ذلك الوقت فهم يحبون أم يردوا إلى الله صائمين قال جل جلاله : { يا أيها الذين آمنوا استعينوا بالصبر و الصلاة إن الله مع الصابرين } فالأشبه بالصبر في هذه الآية الصبر على الشديدة لأنه اتبع مدح الصابرين بقوله تعالى : { و لا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات بل أحياء و لكن لا تشعرون } { و لنبلونكم بشيء من الخوف و الجوع و نقص من الأموال و الأنفس و الثمرات و بشر الصابرين * الذين إذا أصابتهم مصيبة قالوا إنا لله و إنا إليه راجعون * أولئك عليهم صلوات من ربهم و رحمة و أولئك هم المهتدون } و بسط الكلام في معنى هذه الآية

اور ہم نے یہر وایت مجاہد سےر وایت کیا ہے یہاس لئے ہے کہ روازے میں کھانے پیچھے سے صبر کرنا ہوتا ہے دن میں جن کی باقاعدہ انسان کو عادت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان دونوں کی طرف طبیعت سخت مائل ہوتی ہے اور نفس کو ان دونوں چیزوں کی شدید خواہش ہوتی ہے ۔ اسی لئے حدیث میں رمضان کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے اور اس بارے میں یہحدیث پہلے باب الصیام میں گذر چکی ہے ۔اور دوسرا قول یہ ہے کہ سبر سے مراد وہ کیفیت ہے جو مسلمانوں کو درپیش آتی ہے جب ان کے دشمن مشرکین انہیں قتل کرتے ہیں ۔ اس صدمے میں صبر کرنا مراد ہے اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ: نماز بڑی بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لئے ۔ اس میں ایک قول تو یہ ہے کہ انہا کی ضمیر صرف نماز کی طرف راجع ہے یعنی اس سے مراد صرف نماز ہے اور دوسر ا قول یہ ہے کہ وہ دونوں میں سے ہر ایک کیطرف راجع ہے یعنی پھر اس کا مرجع خصلت اور اطاعت مقدر ہو گا گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان دونوں خصلتوں میں سے ہر ایک البتہ بڑی یعنی بڑی شان اور مشکل ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لئے جو یقن رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اسی وقت وہ پسند کرتے ہیں کہ وہ روزے کی حالت میں اللہ کی طرف لوٹا ئے جائیں۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ اے لوگوں جو ایمان لا چکے ہو تم لوگ صبر کے ساتھ اور نماز کے ساتھ مدد پکڑو بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ پس زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس آیت میں سبر سے مراد سختی اور مسیبت پر صبر کرنا مراد ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے پیچھے صبر کرنے والوں کی مدح فرمائی ہے ۔ اگلی آیت میںاس طرح ارشاد فرمایا: ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کر دیے جاتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے البتہ ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کسی نہ کسی شے کے ساتھ خوف سے یا بھوک سے یا مالوں کی کمی سے جانوں کی کمی سے اور پھلوں کی کمی سے ۔ اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ لوگ ہیں جن کو جس وقت کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ یہ کہتے ہیں بےشک ہم اللہہی کے لئے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ وہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایت ہیں اور رحمتیں ہیں اور وہی لوگ ہدایت پر ہیں۔ اس آیت کا مفہوم میں تفصیل سے کام لیا گیا ہے ۔

و روينا هذا

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9679

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9680

9681 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد نا جدي نا عمرو بن عون الواسطي نا هشيم أنا خالد بن صفوان عن زيد بن علي بن الحسن عن أبيه عن ابن عباس قال : جاء نعي بعض أهله و هو في سفر فصلى ركعتين ثم قال : فعلنا ما أمرنا الله عز و جل : { و استعينوا بالصبر و الصلاة }

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی اسماعیل بن محمد بن فضیل بن محمد نے ان کو ان کے دادا نے ان کو عمرو بن عون واسطی نے ان کو ہثیم نے ان کو خالد بن صفوان نے ان کو زید بن علی بن حسن نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہان کے خاندان کے بعض افراد کی موت کی خبر ان کے پاس آئی تو اس وقت وہسفر میں تھے لہٰذا انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی پھر کہنے لگے ہمارا کام تو بس وہی ہے جس کا ہمیں اللہ نے حکم دیا ہے صبر و صلوۃ کے ساتھ مدد طلب کرو۔

فعلنا ما أمرنا الله عز و جل و استعينوا بالصبر و الصلاة ← جاء نعي بعض أهله و هو في سفر فصلى ركعتين ثم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن الحسن ← خَالِدِ بْنِ صَفْوَانَ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ← جَدِّي، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9680

شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الصبر على المصائب و عما تنزع إليه النفس من لذة و شهوة · حديث 9681

9682 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة نا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور نا إسماعيل بن إبراهيم أنا عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه : أن ابن عباس نعي إليه أخوه قثم و هو في مسير فاسترجع ثم تنحى عن الطريق ثم صلى ركعتين فأطال فيهما الجلوس ثم قام يمشي إلى راحلته و هو يقول : { و استعينوا بالصبر و الصلاة و إنها لكبيرة إلا على الخاشعين }

ہمیں خبر دی ابو نصر عمرو بن عبدالعزیز بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم نے ان کو عیینہ بن عبدالرحمٰن نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ حضرت ابن عباس کو ان کے بھائی قثم بن عباس کی وفات کی خبر دی گئی حالانکہ وہ اس وقت سفر میں تھے ۔ انہوں نے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھا پھر راستے سے الگ ہو کر انہوں نے دو رکعت پڑھی ان میں لمبی دیر تک بیٹھے رہے اس کے بعد وہ اٹھ کر اپنی سواری کی طرف چلے گئے اور وہ یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے ۔

عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن قتادة،

Shuab ul Iman · Seventy people of faith › It is a door to patience in calamities and from pleasure and desire that the soul desires · Hadith 9681

chevron_left Previous
1…912913914…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood