شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9646
9647 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي قالا : أنا أبو عمرو بن مطر نا إبراهيم بن علي نا يحيى بن يحيى عن درست بن زياد عن معاوية بن طارق عن نافع قال : أنا عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من دعي فلم يجب فقد عصى الله و رسوله و من دخل على غير دعوة دخل سارقا و خرج مغيرا كذا قال : و إنما هو أبان بن طارق رواه جماعة عن درست بن زياد عن أبان بن طارق تفرد به عنه
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے اور ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو عمرو بن مطرو نے ان کو ابراہیم بن علی نے ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو درست بن زیاد نے ان کو معاویہ بن طارق نے ان کو نافع نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس کو دعوت دی گئی اور اس نے نہ مانی اس نے اللہ کی اوران کے رسول کی نافرمانی کی اور جو شخص دعوت کے بغیر گھس گیا وہ چور بن کر داخل ہوا اور لوٹ مار کرنے والا بن کر نکلا اسی طرح کہا اور سوائے اس کے نہیں کہ وہ ابان بن طارق ہیں۔ اس کو جماعت نے روایت کیا ہے درست بن زیاد سے اس نے ابان بن طارق سے وہاس سے روایت کرنے میں متفرد ہے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← معاوية بن طارق ← درست بن زياد ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أبو نصر بن قتادة و أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي
Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › Separate the assignment of the guest when he is able to · Hadith 9646
