شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في التكليف للضيف عند القدرة عليه · حديث 9634
9635 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ سمعت محمد بن حامد البزاز سمعت الحسين بن منصور يقول : كنت مع أبي أحمد محمد بن عبد الوهاب فسألته عن هذه الآية : { هل أتاك حديث ضيف إبراهيم المكرمين } فقال : نعم و الله علي بن عثام دعاني يوما إلى منزله فجعل يصب الماء بنفسه على يدي و يخدمني في جلالته و هيبته فقلت : يا أبا الحسن أنت بنفسك فقال : حدثني أبو أسامة عن شبل عن ابن أبي نجيح عن مجاهد { هل أتاك حديث ضيف إبراهيم المكرمين } قال : كان إبراهيم يتولى خدمتهم بنفسه
ہمیں دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن حامد بزاز سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسین بن منصور سے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو احمد کے ساتھ تھا یعنی محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ میں نے اس سے اس آیت کے بارے میں پوچھا۔ کیا آپ کے پاس ابراہیم علیہ السلام کے محترم مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا جی ہاں اللہ کی قسم علی بن عثام نے مجھے ایک دن اپنے گھر پر بلایا اور انہوں نے بذات خود پانی میرے ہاتھوں پر انڈیل کر میرے ہاتھ دھلوائے اور اپنی جلالت و ہیت کے باوجود وہ میری خدمت کرتے رہے میں نے کہا اے ابو الحسن آپ بذات خود یہ کام کر رہے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابو اسامہ نے شبل سے اس نے ابن ابو نجیع سے اس نے مجاہد سے کہ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بذات خود مہمانوں کی خدمت کیزمہ داری سنبھالتے تھے۔
الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← محمد بن حامد البزاز ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › Separate the assignment of the guest when he is able to · Hadith 9634
