شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9610
9611 - أنشدنا أبو نصر بن قتادة أنشدنا الشيخ أبو بكر القفال الشاشي : ـ ( أوسع رحلي على من نزل فزادي مباح على من أكل ) ( نقدم حاضر ما عندنا و إن لم يكن غير خبز و خل ) ( و أما الكريم فيرضى به و أما اللئيم فمن لا أبل )
ہمیں شعر سنائے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو شعر سنائے شیخ ابو بکر قفال شناسی نے میرے پاس جو بھی مہمان بن کر ائے میں اس کے لئے اپنا سامان کھول دیتا ہوں میرا سامان سفر یا میری پونجی ہر اس شخص کے لئے کھانا چاہئے جائز ہے ۔ جو کچھ ہمارے پاس موجود ہوتا ہے ہم پیش کر دیتے ہیں اگرچہ روٹی اور سرکے کے سوا اور کچھ بھی نہ ہو ۔ بہر حال شریف انسان تو اسی کو پسند کر لیتا اور اسی پر راضی اور خوش ہو جاتا ہے اور باقی رہا کمینہ انسان تو میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔
Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9610
