Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9598

9599 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن الفرج الأزرق نا يونس بن محمد نا حسين سمعت عبد الرحمن بن مسعود و سليمان بن رياح و زكريا يحدثون عن سلمان : عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : لا يتكلفن أحد للضيف ما لا يقدر عليه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن فرج رزاق نے ان کو یونس بن محمد نے ان کو حسین نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبدالرحمٰن بن مسعود سے اور سلیمان بن ریاح سے اور زکریا سے وہ حدیث بیان کرتے تھے حضرت سلیمان سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے کہ انہوں نے فرمایا تھا: کوئی شخص مہمان کے لئے تکلف نہ کرے اس قدر کہ جس پر اس کو قدرت نہ ہو۔

لا يتكلفن أحد للضيف ما لا يقدر عليه ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← سَلْمَانَ ← عبد الرحمن بن مسعود و سليمان بن رياح و زكريا يحدثون ← حُسَيْنٌ ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَزْرَقُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9598

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9599

9600 - أنبأني أبو عبد الله أنا علي بن عبد الله الدوؤي نا حسين بن محمد نا الحسين بن الرياش نا عبد الرحمن بن مسعود العبدي سمعت سلمان الفارسي يقول : نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نتكلف الضيف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ نے ان کو علی بن عبداللہ نے ان کو دوری نے ان کو حسین بن محمد نے ان کو حسین بن ریاش نے ان کو عبدالرحمٰن بن مسعود عبدی نے انہوں نے سنا سلمان فارسی سے وہ فرماتے تھے کہ ہمیں حضور ﷺ نے مہمان کے لئے تکلف بازی کرنے سے منع فرمایا تھا۔

نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن نتكلف الضيف ← سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← عبد الرحمن بن مسعود العبدي ← الحسين بن الرياش ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← علي بن عبد الله الدوؤي ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9599

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9600

9601 - أخبرنا أبو بكر الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني نا أبو أحمد بن فارس نا محمد بن إسماعيل قال : حسين الرياشي سمع عبد الرحمن بن مسعود سمع سلمان : أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا نتكلف للضيف ما ليس عندنا و أن نقدم ما حضر قاله محمد بن يحيى : أو قال : محمد أبو يحيى مصحح

ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحاق اصفہانی نے ان کو ابو احمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل نے وہ کہتے ہیں کہ حسین بن ریاش نے سنا عبدالرحمٰن بن مسعود سے اس نے سنا سلمان سے کہ فرماتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا کہ ہم لوگ مہمان کی ضیافت کرنے کے لئے اس قدر تکلف بازی نہ کریں جو چیز ہمارے پاس موجود ہی نہ ہو بلکہ فرمایا کہ ہم حضر پیش کر دیں۔ محمد بن یحییٰ نے بھی اس کو فرمایا ہے یا کہا ہے کہ محمد ابو یحییٰ صحیح کرنے والے ہیں۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← حسين الرياشي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9600

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9601

9602 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن إسماعيل بن أبي كثير أبي هاشم عن عاصم بن لقيط بن صبرة عن أبيه : أنه نزل بالنبي صلى الله عليه و سلم فذبح شاة و قال : لا تحسبن و ما قال : لا تحسبن أنا فعلنا هذا لهذا و لكن لنا غنم مائة فإذا زادت على مائة ذبحنا شاة قلت : هذا يدل على ترك التصنع مع الناس و على استعمال الصدق معهم في الضيافة و غيرها خلاف ما عليه بعض الناس من التصنع بالكذب و إعداد ذلك من جملة العشرة و بالله التوفيق و العصمة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا اسماعیل بن ابو کثیر ابو ہاشم سے اس نے عاسم بن لقیط ابن صبرہ سے اس نے اپنے والد سے کلہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے پاس اترنے کے لئے کہا یعنی مہمان بنا کر ٹھہرایا۔ اور بکری ذبح کی ۔ اور کہا کہیہ خیال نہ کرنا۔ اور کہا کہ آپ یہ گمان نہ کرنا کہ ہم نے یہ اسی لئے کیا کہ ہم نے مہمان ٹھہرائے ہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ ہمارے ایک سو بکریاں ہیں جب ایک سو سے ایک بکریاوپر ہو جاتی ہے تو ہم ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ دلیل ہے لوگوں کے ساتھ ترک تصبع کی اور ان کے ساتھ ضیافت وغیرہ میں استعمال صدق کی بخلاف اس کے جو بعض لوگوں میں تصنع ہے جھوٹ کے ساتھ اور اس کو منجلملہ دس چیزوں میں سے شمار کرتے ہیں ہر تو فیق اور حفاظت الللہ کی طرف سے ہوتی ہے ۔

لا تحسبن ← لا تحسبن و ما ← أبيه أنه نزل بالنبي صلى الله عليه و سلم فذبح شاة و ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إسماعيل بن أبي كثير أبي هاشم ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9601

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9602

9603 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عثمان بن أحمد السماك نا أبو الأحوص محمد بن الهيثم القاضي حدثني ابن عفير حدثني سليمان يعني ابن بلال عن يحيى بن سعيد عن حميد عن أنس بن مالك قال : أكلت لرسول الله صلى الله عليه و سلم وليمة ليس فيها خبز و لا لحم قال : قلت أي شيء هو يا أبا حمزة قال : تمر و سويق رواه البخاري عن إسماعيل بن أبي أويس عن أخيه عن سليمان بن بلال

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو عچمان بن احمد سماک نے ان کو ابو الا حوض محمد ہثیم قاضی نے ان کو ابن عفیر نے ان کو سلیمان یعنی ابن بلال نے یحییٰ بن سعید سے اس نے حمید سے اس نےا نس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاں ولیمے کا کھانا کھایا تھا۔ نہ تو اس میں روتی تھی اور نہ ہی گوشت تھا۔ پھر میں نے کہا پھر وہ کیا چیز تھی اے ابو حمزہ ؟ فرمایا کہ کھجوریں تھیں اور ستو تھا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے اسماعیل بن ابو اویس سے اس نے اپنے بھائی سے اس نے سلیمان بن بلال سے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ← ابْنُ عُفَيْرٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَاضِي، ← عثمان بن أحمد السماك ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9602

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9603

9604 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين أحمد بن محمد بن جعفر الجوزي نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا حدثني محمد بن الحسين نا عمرو بن محمد العنقري عن سفيان قال : قال الأحنف بن قيس : ثلاث ليس فيهن انتظار الجنازة إذا وجدت من يحملها و الأيم إذا أصيبت لها كفؤا و الضيف إذا نزل به لم ينتظر به الكلفة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین احمد بن محمد بن جعفر جوزی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الد نیان نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو عمرو بن محمد عنقری نے ان کو سفیان نے وہ کہتے ہیں کہ کہا احنف بن قیس نے تین چیزیں جن میں انتظار نہیں ہے جنازہ جب اس کو اٹھانے والے مل جائیں اور عورت بغیر نکاح والی جب اس کے لئے ہم سر رشتہ مل جائےا ور مہمان جب آجائے تو اس کے لئے بھی تکلف کا انتظار نہ کیا جائے ۔

سُفْيَانَ، ← عمرو بن محمد العنقري ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9603

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9604

9605 - قال : و حدثني محمد بن الحسين نا أبو الجنيد الضرير أنا سالم أبو عتاب الضبعي سمعت بكر بن عبد الله المزني يقول : إذا أتاك ضيف فلا تنتظر به ما ليس عندك و تمنعه ما عندك قدم إليه ما حضر و انتظر به بعد ذلك ما تريد من إكرامه

فرمایا اور مجھے حدیث بیان کی ہے محمد بن حسین نے ان کو ابنو الجنید ضریر نے ان کو سالم بن عتاب ضبعی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بکر بن عبداللہ مزنی سے وہ کہتے ہیں کہ جب تیرے پاس کوئی مہمان آجائے تو آپ اس چیز کا انتظار نہ کریں جو چیز تیرے پاس موجود نہیں ہے ۔ اور آپ جب کہ مہمان سے وہ چیز روک کر بیٹھیں جو آپ کے پاس موجود ہے ۔ جو چیز موجود ہو اس کو آگے پیش کر دیں۔ اس کے بعد پھر اس چیز کا انتظار کریں جس کے ساتھ مزید اس کا آپ انتظار کرنا چاہتے ہیں۔

بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← سالم أبو عتاب الضبعي ← أبو الجنيد الضرير ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9604

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9605

9606 - قال : و حدثني محمد بن الحسين نا أبو عمر الضرير نا فضالة الشحام قال : كان الحسن إذا دخل عليه إخوانه أتاهم بما يكون عنده و ربما قال : لبعضهم أخرج السلة من تحت السرير فنخرجها فإذا فيها رطب فيقول : إنما دخرتها لكم

کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی محمد بن حسین نے ان کو ابو عمر و ضریر نے ان کو فضالہ شحام نے وہ کہتے ہیں کہ جناب حسن ایسے تھے کہ جب ان کے بھائی ان کے پاس آت تو ان کے پاس وہ چیز پیش کر دیتے جو ان کے پاس موجود ہوتی ۔ کہتے ہیں کہوہ آنے والے بعض لوگوں سے کہتے ہیں کہ چار پائی کے نیچے سے ٹوکری نکالیں ہم لوگ نکال کر دیتے تو ہم کیا دیکھتے کہ اس میں تازہ کھجوریں ہوتی تھیں وہ فرماتے تھے کہ میں نے یہ تمہارے لئے جمع کر رکھی تھیں۔

إنما دخرتها لكم ← لبعضهم أخرج السلة من تحت السرير فنخرجها فإذا فيها رطب ← كان الحسن إذا دخل عليه إخوانه أتاهم بما يكون عنده و ربما ← فضالة الشحام ← اَبُوْ عُمَرَ الضَّرِیْرُ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9605

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9606

9607 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو بكر محمد بن أحمد بن النضر نا أبو خالد يزيد بن عبد الرحمن بن محمد المحاربي عند عبد الواحد بن أيمن عن أبيه قال : نزل بجابر ضيف فجاءهم بخبز و خل فقال : كلوا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : نعم الإدام الخل هلاك بالقوم أن يحتقروا ما قدم إليهم و هلاك بالرجل أن يحتقر ما في بيته يقدمه إلى أصحابه

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے ان کو حسین بن محمد بنا اسحٰق نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن نضر نے ان کو ابو خالد یزید بن عبدالرحمٰن بن محمد محاربی نے ان کو عبدالواحد بن ایمن نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ہاں کچھ مہمان آئے انہوں نے ان کو گندم کی روتی اور سرکہپیش کیا اور کہا کہ کھائیے میں نے رسول اللہﷺ سے سنا تھا فرماتے تھے ۔ سرکہ اچھا سالن ہے ۔ ان لوگوں کے لئے ہلاکت ہے جو اس کھانے کو حقیر سمجھیں جو ان کو پیش کیا جائے اور اس شخص کے لئے بھی ہلاکت ہے جو اپنے احباب کے لئے اس کو حقیر سمجھے جو کچھ اس کے گھر میں موجود ہو۔

كُلوا، فإنِّي ← نزل بجابر ضيف فجاءهم بخبز و خل ← أَبِيهِ ← أبو خالد يزيد بن عبد الرحمن بن محمد المحاربي عند عبد الواحد بن أيمن ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9606

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9607

9608 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن أبي الدنيا نا عبد الرحمن بن واقد نا حمزة بن ربيعة عن رجاء بن أبي سلمة عن ابن عون قال : ربما دخلنا على الحسن فقدم إلينا مرقا و ليس فيه لحم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الدنیا نے ان کو عبدالرحمٰن بن واقد نے ان کو حمزہ بن ربیعہ نے ان کو رجاء بن ابو سلمہ نے ان کو ابن عون نے وہ کہتے ہیں کہ اکثر ہم لوگ حضرت حسن کے پاس جاتے تھے وہ ہمارے آگے شور باپیش کرتے تھے جس میں گوشت نہیں ہوتا تھا۔

ربما دخلنا على الحسن فقدم إلينا مرقا و ليس فيه لحم ← ابْنِ عَوْنٍ ← رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ← حمزة بن ربيعة ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9607

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9608

9609 - أخبرنا ابن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن عبد الدنيا نا المفضل بن غسان عن الأصمعي عن إسحاق بن إبراهيم ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا يحيى هو ابن معين نا الأصمعي أخبرني إسحاق بن إبراهيم قال : دخلنا على كهمس العابد فقدم إلينا إحدى عشرة بسرة حمراء و قال : هذا الجهد من أخيكم و الله المستعان

ہمیں خبر دی ابن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الد نیا نے ان کو مفضل بن فسان نے ان کو اصمعی نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو اصمعی نے ان کو خبر دی اسحاق بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ ہم داخل ہوئے کھمس عابد پر انہوں نے گیارہ عد سرخ ہمیانیاں ہمیں پیش کیں اور کہا کہ یہ سعی کی کئی تمہاری بھائی کی ہے اللہ تعالیٰ مستعان ہے۔

هذا الجهد من أخيكم و الله المستعان ← دخلنا على كهمس العابد فقدم إلينا إحدى عشرة بسرة حمراء و ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← يحيى هو ابن معين ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ، ← ابن عبد الدنيا ← أبو الحسين الجوزي، ← ابن بشران،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9608

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9609

9610 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين الجوزي نا ابن أبي الدنيا نا داود بن رشيد نا أبو المليح قال : ميمون بن مهران إذا نزل بك ضيف فلا تكلف له ما لا تطيق و أطعمه من طعام أهلك و القه بوجه طلق فإنك إن تكلفت له ما لا تطيق أوشك أن تلقاه بوجه يكرهه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین جوزی نے ان کو ابن ابو الد نیان نے ان کو داود بن رشید نے ان کو ابو الملیح نے وہ کہتے ہیں میمون بن عبران نے کہا کہ جب تیرے پاس کوئی مہمان آجائے تو اس کے لئے اتنا تکلف نہ کر جو تیرے اختیار میں نہ ہو بلکہ اس کو اپنے گھر والوں کے کھانے میں سے کھلائیے اور اس کے ساتھ چمکتے اور خوش خوش چیرے کے ساتھ پیش آئیے کیونکہ آپ اگر اس کے لئے تکلف کریں گے جس کی آپ کو استطاعت نہیں ہے تو عین ممکن ہے کہ آپ اس کے ساتھ مسکراتے چہرے کے ساتھ پیش نہ آسکیں بلکہ کسی قدر چہرے پر ناگواری آجائے ۔

أَبُو الْمَلِيحِ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أبو الحسين الجوزي، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9609

chevron_left Previous
1…906907908…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood