Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9586

9587 - أخبرنا أبو أحمد عبد الله بن محمد بن الحسن المهرجاني أنا أبو بكر محمد بن جعفر المزكي نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم البوشنجي نا ابن بكير نا مالك بن أنس عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي شريح الكعبي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوم و ليلة و الضيافة ثلاثة أيام فما كان بعد ذلك فهو صدقة و لا يحل له أن يثوى عنده حتى يحرجه أخرجه البخاري في الصحيح من حديث مالك قال : أبو سليمان الخطابي رحمه الله قوله : جائزته يوم و ليلة معناه أنه يتكلف له إذا نزل به الضيف يوما و ليلة فيتحفه و يزيده في البر على ما يحضره في سائر الأيام و في اليومين الأخريين يقدم له ما حضر فإذا مضى الثلاث فقد مضى حقه فإن زاد عليها استوجب به أجر الصدقة

ہمیں خبر دی ابو احمد عبداللہ بن محمد بن حسن مہر جانی نے ان کو ابو بکر محمد بن جعفر مزکی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بو شجخی نے ان کو ابن بکیر نے ان کو مالک بن انس نے سعید بن ابو سعید مقبری سے انہوں نے ابو شریح کعبی سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے ۔ اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام ایک دن رات بطور انعام و احسان کے اور مہمانی تین دن رات ہوتی ہے اس کے بعد جو کچھ ہے وہ صدقہ ہے او رمہمان کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اس کے پاس اتنی دیر ٹھہرے کہ وہ اس کو نکال دے۔ اس کو بخاری نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث مالک سے اور ابو سلیمان خطابی نے کہا کہ حضور ﷺ کا یہ قول کا مطلب یہ ہے کہ صاحب خانہ ایک رات دن اس کی مہمان داری کا خاص اہتمام کرے اور تکلف اور کوشش سے کھالا کھلائے جب مہمان آئے عام دنوں کے مقابل میں اس کے ساتھ نیکی کرنے میں مبالغہ کرے اور آخری دو دونوں میں وہ چیز اس کو پیش کرے جو اس کو میسر ہو یا موجود ہو جب تین دن اسی طرح گزر جائیں تو اسکا حق پورا ہو چکا اگر اس پر بھی زیادہ کرے گا تو اس کے ساتھ صدقہ کرنے کا اجر و اجب ہوتا رہے گا۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مالک بن أنس ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ← أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9586

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9587

9588 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش أنا الحسن بن سفيان نا محمد بن رمح نا ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب أن أبا الخير أخبره أنه سمع عقبة بن عامر يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا خير فيمن لا يضيف و بإسناده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بئس القوم قوم لا ينزلون الضيف كذا رواه عن ابن لهيعة و الصحيح بهذا الإسناد ما

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو محمد بن عبداللہ نے محمد بن قریش سے اس نے حسن بن سفیان سے اس نے محمد بن رمح سے اس نے ابن لجیعہ سے اس نے یزید بن ابو حبیب سے یہ کہ ابو الخیر نے اس کو خبر دی ہے کہ اس نے سنا عقبہ بن عامر سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہے جو ضیافت نہ کرے اور اسی اسناد کے ساتھ فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بدترین لوگوں میں سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو مہمان کو اپنے ہاں نہیں لاتے تھے ۔ اسی طرح۔ اس کو روایت کیا ہے ابن لمہیعہ نے اور اس اسناد کے ساتھ اگلی روایت ہے ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← محمد بن عبد الله بن محمد بن قريش ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9587

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9588

9589 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الفضل بن إبراهيم نا أحمد بن سلمة نا قتيبة بن سعيد نا الليث عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن عقبة بن عامر قال : قلنا يا رسول الله إنك تبعثنا فننزل بقوم فلا يقروننا فما ترى ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن نزلتم قوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا و إن لم يفعلوا فخذوا منهم حق الضيافة الذي ينبغي لهم رواه البخاري و مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل بن ابراہیم نے ان کو احمد بن سلمہ نے ان کو قتبیہ بن سعید نے اس کو لیث نے یزید بن ابو حبیب سے اس نے ابو الخیر سے اس نے عقبہ بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا یا رسول اللہ آپ ہمیں بھتیجے ہیں ہم ایسے لوگوں کے پاس بھی مہمان بنتے ہیں جو ہمیں کھانا نہیں کھلاتے پھر آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ کسی قوم کے پاس مہمان بنو اور وہ لوگ تمہارا اس طرح خیال کریں جس طرح مہمان کا خیال کیا جاتا ہے تو تم لوگ بھی قبول کرلو اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو تم ان سے حق ضیافت لے لو جو ان کے ذمہ لازم ہے ۔ اس کو بخاری نے روایت کی اہے اور مسلم نے قتبیہ سے/

قُلْنَا ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9588

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9589

9590 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا أبو نعيم و قبيصة قالا : نا سفيان عن منصور ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو الحسين أحمد بن محمد بن جعفر الجوزي نا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا أنا خلف بن هشام نا أبو عوانة عن منصور عن الشعبي عن أبي كريمة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليلة الضيف حق على مسلم فإن أصبح فهو عليه دين فإن شاء اقتضى و إن شاء ترك لفظ حديث ابن بشران و في رواية القطان فإن شاء اقتضاه و إن شاء تركه

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فجل قطان نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو نعیم نے اور قبصہ نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو سفیان نے منصور سے ح ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین احمد بن محمد بن جعفر جوزی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو الدنیا نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو ابو عوانہ نے ان کو منصور نے ان کو شعبی نے ان کو ابو کریمہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ مہمان کی رات کی مہمان حق ہوتا ہے مسلمان پر اگر بغیر ضیافت کے صبح کر لے تو وہ ا س پر قرض ہو جاتا ہے اگر چاہے تو وہ اس کا تقاضا و مطالبہ کر دے اگر چاہے تو معاف کر دے ۔ یہ الفاظ ابن بشران کی روایت کے ہیں اور قطان کی ایک روایت میں ہے کہ اگر چاہیے تو اپنے حق کا وہ شخص تقاضا کر لے ۔ یعنی اپنے حق وصول کر لے اگر چاہے تو معاف کر دے۔

أَبِي كَرِيمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أبو نعيم و قبيصة ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9589

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9590

9591 - و قال : عن المقداد قال : أبو نعيم أبو كريمة الشامي ثم أردفه يعقوب بن سفيان برواية شيبان و شعبة عن منصور عن الشعبي عن المقدام أبي كريمة قال : و هو الصحيح

اور کہا ہے کہ حضرت مقداد سے مروی ہے کہ ابو نعیم ابو کریمہ شامی نے کہا پھر ان کو پیچھے لایا یعقوب بن سفیان نے ساتھ روایت شیبان کے اور شعبہ نے منصور سے اس نے شعبی سے اس نے مقدام ابو کریمہ سے وہ کہتے ہیں وہی صحیح ہے ۔

الْمِقْدَادِ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9590

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9591

9592 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا يحيى بن جعفر نا الضحاك ابن مخلد ح و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إبراهيم بن عبد الله نا أبو عاصم نا يزيد بن أبي عبيد عن سلمة بن الأكوع قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا صلى الصبح قال : يذهب كل رجل بطائفة فيذهب الرجل بالرجلين و الثلاثة و يذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم بما بقي لفظ حديث ابن بشران و في رواية ابن عبدان يصلي بأصحابه و يذهب رسول الله صلى الله عليه و سلم بالباقين

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو یحییٰ بن جعفر نے ان کو ضحاک بن مخلد نے ح اور ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو ابو عاصم نے ان کو یزید بن ابو عبید نے سلمہ بن اکوع سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تھے تو فرماتے تھے کہ ہر آدمی اپنے گروپ کو ساتھ لے کر جائے لہٰذا ایک آدمی دودو آدمیوں کو یا تین تین کو لے جاتا اور باقی جو رہتا اس کو رسول اللہﷺ لے جاتے ۔ یہ الفاظ ابن بشران کی روایت کے ہیں ۔ اور ابن عبدان کی ایک روایت میں ہے حضور ﷺ اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتے اور باقی رہ جانے والوں کو ساتھ لے جاتے تھے۔

كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى الصبح ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و، ← الضحاك ابن مخلد ← يَحْيَی بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9591

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9592

9593 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن العيزار بن حديث : أن ابن عباس أتاه الأعراب فقالوا إنا نقيم الصلاة و نؤتي الزكاة و نحج البيت و نصوم رمضان و إن أناسا من المهاجرين يقولون إنا لسنا على شيء فال ابن عباس من أقام الصلاة و آتى الزكاة و حج البيت و صام رمضان و قرى الضيف دخل الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عیزاربن حدیث نے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ دیہاتی لوگ آئے ان لوگوں نے کہا کہ ہم لوگ نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور بیت اللہ کا حج کرتے ہیں اور ہم رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور جب کہ مہاجرین میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کسی شئی پر نہیں ہیں حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جو شخص نماز قائم کرے اور زکوٰۃ کرے اور بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور مہمان کو کھالا کھلائے وہ جنت میں داخل ہوگا۔

العيزار بن حديث أن ابن عباس أتاه الأعراب ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9592

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9593

9594 - و رواه إبراهيم بن إسحاق الضبي عن حبيب بن خبيب عن أبي إسحاق : بإسناده و معناه غير أنه قال : فقال ابن عباس قال نبي الله صلى الله عليه و سلم فذكره مرفوعا أخبرناه أبو عبد الله السوسي و أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالوا نا أبو العباس الأصم نا جعفر بن محمد بن هشام الأحمدي نا إبراهيم فذكره

اور روایت کیا ہے اس کو ابراہیم بن اسحاق ضبی نے ان کو حبیب بن خبیر نے ان کو ابو اسحٰق نے انہی اسناد کے ساتھ او اس کے مفہوم کےساتھ علاوہ ازیں وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا۔ پھر انہوں نے بطور مرفوع روایت کے اس کو ذکر کیا ہے ۔ ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ سوسی نے اور ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو العباس اصم نے ان کو جعفر بن محمد بن ہشام احمدی نے ان کو ابراہیم نے پھر انہوں نے بھی اسی حدیث کو ذکر کیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9593

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9594

9595 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا محمد بن أحمد بن أحمد الرياحي نا روح نا حبيب بن شهاب بن مدلج العنبري سمعت أبي يقول : أتيت ابن عباس أنا و صاحب لي فذكر الحديث إلى أن قال : فسمعنا ابن عباس يحدث قال : خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم تبوك فقال : ما من الناس رجل آخذ بعنان فرسه فيجاهد في سبيل الله و يجتنب شرور الناس و مثل رجل بادي في غنمه يقري ضيفه و يؤدي حقه قال : قلت أقالها ؟ قال : قالها قال : قلت : أقالها ؟ قال : قالها قال : قلت أقالها ؟ قال : قالها فكبرت الله و حمدته و سكت

اور ہمیں خبر دیا بو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر رزاز نے ان کو محمد بن احمد ریاحی نے ان کو روح نے ان کو حبیب بنب شہاب نے بن مدلج عنبری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ کہتے تھے کہ میں حضرت ابن عباس کے پاس گیا میں بھی اور میرا ایک دوست بھی انہوں نے حدیث ذکر کی۔ یہاں تک کہ کہا کہ ہم نے حضرت ابن عباس سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ تبوک کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو بھی آدمی لوگوں میں سے اپنئ گھوڑے کی باگ پکڑ کر چل پڑتا ہے اور وہ جہاد فی سبیل اللہ کرتا ہے اور لوگوں کے شرور سے اجتناب کرتا ہے اور اس آدمی کی مثال جو اپنی بکریوں کے ساتھ جنگل میں چلا جاتا ہے وہ اپنے مہمان کو کھالا کھلاتا ہے اور اس کا حق ادا کرتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کیا واقعی حضت ابن عباس نے یہ کہا تھا؟ واقعی انہوں نے یہ کہا تھا کیا واقعی انہوں نے یہ کہا تھا؟ انہوں نے ہر دفعہ یہی کہا کہ جی ہاں کہا تھا۔ لہٰذا میں نے سن کر اللہ کی بڑائی بیان کی اور اس کی تعریف کی یعنی اللہ اکبر۔ الحمدللہ کہا۔ اور وہ یہ سن کر خاموش رہے ۔

الحديث إلى ← و صاحب لي ← أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ← أَبِي ← حبيب بن شهاب بن مدلج العنبري ← رَوْحٌ، ← محمد بن أحمد بن أحمد الرياحي ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9594

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9595

9596 - و أخبرنا أبو عبد الله بن أبي طاهر الدقاق أنا علي بن محمد الخرقي نا أبو قلابة نا يحيى بن كثير نا حبيب بن شهاب العنبري سمعت أبي يحدث عن ابن عباس : عن خطبة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يوشك أن يكون خير الناس رجل آخذ بعنان فرسه يجاهد في سبيل الله و يعتزل سرور الناس و رجل بادي في نعم له يؤدي حقها و يقري الضيف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ بن ابو طاہر دقاق نے ان کو علی بن محمد خرقی نے ان کو ابو قلابہ نے ان کو یحییٰ بن کثیر نے ان کو یحییٰ بن شہاب عنبری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا اپنے والد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ابن عباس سے رسول اللہﷺ کے خطبے کے بارے میں کہ انہوں نے فرمایا تھا۔ قریب ہے کہ سب لوگوں سے بہتر وہی آدمی ہوگا جو اپنے گھوڑے کی رسی پکڑے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے نکل جائے اور لوگوں کے شرور سے دور ہو جائے اور دوسرا وہ آدمی جو اپنے مویشیوں کو لے کر جنگل میں نکل جائے ۔ ان کے حق ادا کرے اور مہمان کی مہمانی کرے۔

خطبة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ← حبيب بن شهاب العنبري ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← أَبُو قِلَابَةَ ← علي بن محمد الخرقي ← أبو عبد الله بن أبي طاهر الدقاق ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9595

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9596

9597 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق أنا سفيان بن عيينة عن عمرو بن دينار قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم برجل ذي عدة من الإبل و هي ستون أو سبعون أو تسعون إلى المائة من إبل و بقر و غنم فلم ينزله و لم يضفه و مر على امرأة لها شويهات فأنزلته و ذبحت له فقال النبي صلى الله عليه و سلم : انظروا إلى هذا الذي له عكر من الإبل و البقر و الغنم مررنا به فلم ينزلنا و لم يضفنا و انظروا إلى هذه المرأة إنما لها شويهات أنزلتنا و ذبحت لنا إنما هذه الأخلاق بيد الله فمن شاء أن يمنحه منها خلقا حسنا منحه قال : و قال : عمرو سمعت طاوسا يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو على المنبر : إنما يهدي إلى أحسن الأخلاق الله و إنما يصرف عن أسوائها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو سفیان بن عییہ نے ان کو عمرو بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ ایک آدمی کے ہاں سے گزرے جس کے پاس ساٹھ یا ستر یا نوے یا سو کے قریب اونٹ گاٹے بیل اور بکریاں تھیں۔ مگر اس نے نہ تو حضور ﷺ کو اپنے ہاں ٹھہرایا اور نہ ہی آپ کی ضیافت کی ۔ اور پھر ان کا ایک ایسی عورت کے ہاں سے گزر ہوا جس کے پاس چند ایک بکریاں تھیں اس نے حضور کو اپنے ٹھہرایا اور ان کے لئے بکری ذبح کی ۔ حضؤر ﷺ کے ہاں گزر ہوا جس کے پاس چند ایک بکریاں تھیں اس نے حضور کو اپنے پاس ٹھہرایا اور ان کے لئے بکری ذبح کی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس شخص کو دیکھو جس کے پاس اونٹوں گائے بیل اور بکریوں کے ریوڑوں کے ریوڑ ہیں ہم اس کے پاس گئے تو اس نے نہ ہمیں ٹھہرایا نہ ہی ہماری ضیافت کی اور اس عورت کو بھی دیکھو اس کے پاس تو چند ایک بکریاں ہیں اس نے ہمیں ٹھہرایا اور ہمارے لئے بکری ذبح کی حقیقت ہے کہ یہ اچھے اخلاق اللہ کے اختیار میں ہیں جو شخص چاہتا ہے اللہ اس کو اچھے اخلاق عطا کرے وہ اسی کو عطا کرتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا میں نے طاؤس سے سنا وہ کہتے تھے کہ حضور ﷺ نے جب یہ فرمایا تو آپ ممبر کے اوپر تشریف فرما تھے۔ اور فرما رہے تھے ۔ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ سے احسن اخلاق کی طرف اسی کو راہ ٹمائی ملتی ہے جو اس کا طالب ہوتا وہی بر اخلاق سے بچتا بھی ہے ۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9596

شعب الإيمان · الثامن و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الضيف · حديث 9597

9598 - أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة أنا علي بن عبد الله الحليمي العطار ببغداد نا العباس بن محمد الدوري نا الحسين بن محمد المروزي ح و أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن الحسين السلمي أنا عبد الله بن محمد بن زياد نا محمد بن إسحاق بن خزيمة نا إبراهيم بن سعيد نا حسن بن محمد نا سليمان بن قدم عن الأعمش عن شقيق قال : دخلت أنا و صاحب لي على سلمان فقرب إلينا خبزا و ملحا فقال : لولا أن النبي صلى الله عليه و سلم نهانا عن التكلف تكلفنا لكم فقال صاحبي لو كان ملحنا فيه سعتر فبعث بمطهرته إلى البقال فرهنها و جاء بسعتر فألقاه فيه فلما أكلنا قال لصاحبي الحمد لله الذي قنعنا بما رزقنا فقال سلمان لو قنعت بما رزقت لم تكن مطهرتي مرهونة

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے بطور اجازت کے ان کو خبر دی علی بن عبداللہ حلیمی عطار نے بغداد میں ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو حسین بن محمد مروزی نے ح اور ہمیں خبر د ی ابو عبدالرحمٰن محمد بن حسین سلمی نے ان کو عبداللہ بن محمد بن زیاد نے ان کو محمد بن اسحاق بن خزیمہ نے ان کو ابراہیم بن سعید نے ان کو حسن بن محمد نے ان کو سلیمان بن قدم ن اعمش سے اس نے شقیق سے وہ کہتے ہی کہ میں اور میرے ایک دوست حضرت سلیمان کے پاس گئے انہوں نے کھانے کے لئے ہمارے لئے روٹی اور نمک پیش کیا اور فرمایا کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ حضور ﷺ نے ہمیں تکلف کرنے سے منع فرمایا تھا تو ہم تمہارے لئے تکلف کرتے چنانچہ میرے دوست نہ کہا اگر ہم پودینے میں نمک ملا لیتے تو اچھا ہوتا حضرت سلمان نے مہمان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے پانی بھرنے والا لوٹا سبزی فروش کے پاس بھیج کر رہن دکوا دیا اور پودے منگوا دیا اس میں نمک ملا کر ہم نے کھایا۔ جب فارغ ہو چکے تو میرے دوست نے ۔ اللہ کا شکر ہے جس نے اس رزق پر ہمیں قناعت کرنے کی توفیق دی جو کچھ اس نے ہمیں رزق دیا تھا۔ حضرت سلمان نے سنا تو فرمایا کہ اگر آپ اسی رزق پر قناعت کرتے تو میرا لوٹا رہن رکھا ہوا نہ ہوتا۔

و صاحب لي على سلمان فقرب إلينا خبزا و ملحا فقال لولا ← دَخَلْتُ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سليمان بن قدم ← حسن بن محمد ← إِبْرَاھِیمُ بْنُ سَعِیدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ ← و، ← الحسين بن محمد المروزي ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← علي بن عبد الله الحليمي العطار ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً،

Shuab ul Iman · Sixty-eighth people of faith › And it is a door in honoring the guest · Hadith 9597

chevron_left Previous
1…905906907…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood