شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9550
9551 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : انا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن الزهري قال : حدثني من لا أتهم من الأنصار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا توضأ أو تنخم ليبتدروا نخامته يمسحوا بها وجوههم و جلودهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم تفعلون هذا ؟ قالوا نلتمس به البركة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يحبه الله و رسوله فليصدق الحديث و ليؤد الأمانة و لا يؤذي جاره
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے انصار میں سے اس شخص نے حدیث بیان کی ہے میں جس کو جھوٹ کی تہمت نہیں لگا سکتا یہ کہ رسول اللہﷺ جس وقت وضو کرتے تھے یا تھوکتے تھے تو مسلمان ( وضو کے پانی کو اور) آپ کے تھوک و بلغم کو جلدی جلدی اپنے ہاتھوں پر لے لیتے تھے اور اس کو اپنے چہروں پر اور وجو پر مل لیتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم ان میں بھی برکت تلاش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرے اس کو چاہیے کہ وہ سچی بات کرے ۔ اور امانت میں خیانت نہ کرے ۔ اور پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔
من لا أتهم من الأنصار ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9550
