Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9550

9551 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : انا عبد الرزاق قال : أنا معمر عن الزهري قال : حدثني من لا أتهم من الأنصار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا توضأ أو تنخم ليبتدروا نخامته يمسحوا بها وجوههم و جلودهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم تفعلون هذا ؟ قالوا نلتمس به البركة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يحبه الله و رسوله فليصدق الحديث و ليؤد الأمانة و لا يؤذي جاره

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے انصار میں سے اس شخص نے حدیث بیان کی ہے میں جس کو جھوٹ کی تہمت نہیں لگا سکتا یہ کہ رسول اللہﷺ جس وقت وضو کرتے تھے یا تھوکتے تھے تو مسلمان ( وضو کے پانی کو اور) آپ کے تھوک و بلغم کو جلدی جلدی اپنے ہاتھوں پر لے لیتے تھے اور اس کو اپنے چہروں پر اور وجو پر مل لیتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم ان میں بھی برکت تلاش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرے اس کو چاہیے کہ وہ سچی بات کرے ۔ اور امانت میں خیانت نہ کرے ۔ اور پڑوسی کو تکلیف نہ دے۔

من لا أتهم من الأنصار ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9550

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9551

9552 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة قال : أنا أبو الفضل بن حميرويه قال : أنا أحمد بن نجدة قال : نا سعيد بن منصور قال : نا محمد بن فضيل قال : نا محمد بن سعد الأنصاري قال : سمعت أبا ظبية يقول : سمعت المقداد بن الأسود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يزني الرجل بعشرة نسوة خير عليه من أن يزني بامرأة جاره و لأن يسرق الرجل من عشرة أبيات أيسر عليه من أن يسرق من بيت جاره

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو الفضل بن حمیر ویہ نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو محمد بن سعید انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ مین نے سنا ابو ظبیہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا مقداد بن اسود سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پڑوسی کی عورت کے ساتھ زنا کرنا دیگر دس عورتوں کے ساتھ زنا کرنے سے بڑا گناہ ہے ۔ اور پڑوسی کے گھر سے چوری کرنا دس گھروں سے چوری کرنے سے بڑا گناہ ہے ۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، ← أبا ظبية ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9551

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9552

9553 - أخبرنا علي بن محمد بن علي المقري قال : نا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر و نصر بن علي قالا : نا صفوان بن عيسى عن محمد بن عجلان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : تعوذوا بالله من جار السوء في دار المقامة فإن الجار البادي يتحول و قال : محمد يتحول عنك

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر اور نصر بن علی نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے محمد بن عجلان سے اس نے سعید مقبری سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دارالمقامہ میں برے پڑوسی کے بارے میں اللہ سے پناہ مانگیں۔ کیونکہ دیہات کا پڑوسی ہٹ جاتا ہے ۔ اور محمد نے یوں کہا کہ وہ ہٹ جاتا ہے تم سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← محمد بن أبي بكر و نصر بن علي ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9552

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9553

9554 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس محمد بن يعقوب قال : نا العباس بن محمد قال : نا مسلم بن إبراهيم قال : نا الأشعث بن نزار الهجمي قال : نا علي بن زيد عن عمارة بن قيس مولى ابن الزبير عن أبي هريرة قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم تعوذوا بالله من ثلاث فواقر تعوذوا بالله من مجاورة جار سوء إن رأى خيرا كتمه و إن رأى شرأ أذاعه و تعوذوا بالله من زوجة سوء إن دخلت عليها السنتك كذا قال : و إن غبت عنها خانتك و تعوذوا بالله من إمام سوء إن أحسنته لم يقبل و أن أسأت لم يغفر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو اشعت بن نزارہجمی نے ان کو علی بن زید نے ان کو عمارہ بن قیس مولی بن زبیر نے ان کو ابو ریرہ نے نے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگو تین پریشان کرنے والے لوگوں سے۔ برے پڑوسی کے پڑوس سے کہ اگر وہ خیر اور اچھا دیکھے تو اس کو چھپا دے اور عیب برائی دیکھے تو اس کو پھیلا دے اور اللہ کی پناہ مانگو بری بیوی سے کہ اگر آپ اس کے پاس آئیں تو وہ تم سے زبان چلائے اور اس کو پیچھے چھوڑ کر جائیں تو تیری خیانت کرے ۔ اور اللہ کی پناہ مانگو بری بیوی سے کہ اگر آپ اس کے پاس آئیں تو وہ تم سے زبان چلائے اور اس کو پیچھے چھوڑ کر جائیں تو تیری خیانت کرے ۔ اور اللہ کی پناہ مانگو برے امام اور حاکم سے کہ اگر آپ اس پر احسان کریں تو اسکو وہ قبول نہ کرے اور اگر آپ غلطی کریں تو وہ معاف نہ کرے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عمارة بن قيس مولى ابن الزبير ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← الأشعث بن نزار الهجمي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9553

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9554

9555 - أخبرنا أبو بكر القاضي قال : أنا حاجب بن أحمد قال : نا محمد بن حماد قال : نا محمد بن الفضيل عن عمران بن سليمان التيمي قال : بلغني أن لقمان قال لابنه : يا بني قد حملت الحجارة و الحديد و الحمل الثقيل فلم أجد شيئا قط أثقل من جار السوء يا بني قد ذقت المركله فلم أذق شيئا قط أمر من الفقر

ہمیں خبر دی ابو بکر قاضی نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو محمد بن حماد نے ان کو محمد بن فضیل نے ان کو عمران بن سلیمان تیمی نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اے بیٹے میں نے پتھر بھی اٹھائے ہیں اور لوہا بھی اور بڑے بھاری بوجھ بھی مگر میں نے برے پڑوس سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ اے بیٹے میں نے ہر کڑوی چیز چھکی ہے مگر میں نے فقیر و محتاجی سے زیادہ کڑوی چیز کوئی نہیں چھکی۔

بلغني أن لقمان ← عمران بن سليمان التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9554

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9555

9556 - أخبرنا أبو الحسن المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا محمد بن أبي بكر قال : نا يحيى بن سعيد عن وائل عن داود قال : سمعت محمد بن سعد يحدث عن أبيه و قال : أربع من السعادة و أربع من الشقاء فأما الشقاء فالزوجة السوء و الجار السوء و المركب السوء و ضيق المسكن

ہمیں خبر دی ابو الحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو محمد بن ابو بکر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو وائل نے ان کو داؤد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن سعیدسے وہ حدیث بیان کرتے ہیں اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ چار چیزیں نیک بختی میں سے ہیں اور چار چیزیں بدبختی میں سے ۔ بۃر حال بد نصیبی میں سے چار چیزیں یہ ہیں بری بیوی۔ برا پڑوسی بری سواری اور گھر کا تنگ ہونا۔

أَبِيهِ، [وَ] ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← دَاوُدُ، ← وَائِلٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9555

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9556

9557 - قال : و نا محمد بن أبي بكر قال : نا عمر بن علي عن محمد بن أبي حميد عن إسماعيل بن محمد عن أبيه عن سعد : عن النبي صلى الله عليه و سلم بمثله

کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی محمد بن ابو بکر نے ان کو عمر بن علی نے ان کو محمد بن ابو حمید نے اس نے اسماعیل بن محمد سے اس نے اپنے والد سے اس نے سعد سے اس نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ روایت کی مثل روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بمثله ← سَعْدٍ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← محمد بن أبي حميد ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9556

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9557

9558 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو العباس هو الأصم نا العباس هو الدوري نا محمد بن عبيد و أخبرنا أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد المهلبي البستي أنا أبو العباس أحمد بن المظفر البكري نا ابن أبي خيثمة نا أبو نعيم قالا : نا سفيان عن حبيب بن أبي ثابت عن جميل مولى نافع بن عبد الحارث عن نافع بن عبد الحارث و قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن من سعادة المسلم المسكن الواسع و الجار الصالح و المركب الهنيء لفظ حديث أبي عبد الله و ليس في رواية اليسنى مولى نافع بن عبد الحارث و قال : من سعادة المرء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو عباس دوری نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو خبر دی ابو سعید خلیل بن احمد بن محمد مہلبی البستی نے ان کو ابو العباس احمد بن مظفر بکری نے ان کو ابن ابو خثیمہ نے ان کو ابو نعیم نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب بن ثابت نے ان کو جمیل بن مظفر مولیٰ نافع بن عبدالحارث نے نفع بن عبدالحارث سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا بے شک مسلمان کی سعادت میں سے ہے گھر کا وسیع ہونا۔ پڑوسی کا نیک ہونا سواری کا اچھا ہونا یہ ابو عبداللہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور البستی کی روایت میں مولیٰ نافع بن عبدالحارث نہیں ہے ۔ اور کہا ہے کہآدمی کی سعادت میں سے ہے یہ بات۔

نافع بن عبد الحارث و ← جميل مولى نافع بن عبد الحارث ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← ابن أبي خيثمة ← أبو العباس أحمد بن المظفر البكري ← أبو سعيد الخليل بن أحمد بن محمد المهلبي البستي ← محمد بن عبيد و ← الْعَبَّاسُ هُوَ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9557

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9558

9559 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه قال : أنا أبو حامد بن بلال قال : نا محمد بن إسماعيل قال : نا وكيع عن حماد بن زيد ح و أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو عمرو بن السماك قال : نا حنبل بن إسحاق قال : نا عفان بن مسلم قال : نا حماد بن زيد نا محمد بن واسع قال : قال مسلم بن يسار قال : ما غبطت رجلا بشيء من الدنيا فأغبطته بثلاث بزوجة صالحة و بجار صالح و بمسكن واسع و في رواية وكيع عن حماد عن محمد بن واسع عن مسلم بن يسار قال : ما غبطت أحدا بشيء من الدنيا إلا جار صالح و مسكن واسع أو زوجة صالحة

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن ہلال نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کو وکیع ن ے ان کو حماد بن زید نے ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو عمرو بن سماک نے ان کو حنل بن اسحاق نے ان کو عفان بن مسلم نے ان کو حمد بن زید نے ان کو محمد بن واسع نے وہ کہتے ہیں کہا مسلم بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی آدمی کے ساتھ اس کی دنیا پر رشک نہیں کیا ہاں تین چیزوں پر مجھے رشک ہوتا ہے نیک بیوی اور نیک پڑوسی اور وسیع مکان کے بارے میں رشک کرتا ہوں۔ اور وکیع کی حماد سے ایک روایت میں محمد بن واسع سے مسلم بن یسار سے ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں کبھی کسی شئی پر کسی کے ساتھ رشک نہیں کیا دنیا میں سے مگر نیک پڑوسی ۔ وسیع مکان اور نیک بیوی پر کیا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ← حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9558

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9559

9560 - أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني قال : أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ قال : نا أبو قصي الدمشقي قال : نا سليمان بن عبد الرحمن قال : نا سويد بن عبد العزيز قال : نا عثمان بن عطاء الخراساني عن أبيه عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أغلق بابه دون جاره مخافة على أهله و ماله فليس ذاك بمؤمن و ليس بمؤمن من لم يأمن جاره بوائقه أتدري ما حق الجار إذا استعانك أعنته و إذا استقرضك أقرضته و إذا افتقر عدت عليه و إذا مرض عدته و إذا أصابه خير هنأته و إذا أصابته مصيبة عزيته و إذا مات اتبعت جنازته و لا تستطيل عليه بالبناء تحجب عنه الريح إلا بإذنه و لا تؤذيه بقتار قدرك إلا أن تغرف له منها و إن اشتريت فاكهة فاهد له فإن لم تفعل فأدخلها سرا و لا يخرج بها ولدك ليغيظ بها ولده أتدرون ما حق الجار و الذي نفسي بيده ما يبلغ حق الجار إلا قليلا ممن رحم الله فما زال يوصيهم بالجار حتى ظنوا أنه سيورثه ثم قال : رسول الله صلى الله عليه و سلم : الجيران ثلاثة فمنهم من له ثلاثة حقوق و منهم من له حقان و منهم من له حق فأما الذي له ثلاثة حقوق فالجار المسلم القريب له حق الجار و حق الإسلام و حق القرابة و أما الذي له حقان فالجار المسلم له حق الجوار و حق الإسلام و أما الذي له حق واحد فالجار الكافر له حق الجوار قلنا يا رسول الله نطعمهم من نسكنا ؟ قال لا تطعموا المشركين شيئا من النسك سويد بن عبد العزيز و عثمان بن عطاء و أبوه ضعفاء غير أنهم غير متهمين بالوضع و قد روى بعض هذه الألفاظ من وجه آخر ضعيف

ہمیں خبر دی ابو سعد احمد بن محمد مالینی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو احمد بن عدی حافظ نے وہ کہتے ہیں کہا ابو قصی دمشقی نے وہ کہتے ہیں کہا سلیمان بن عبدالرحمٰن نے ان کو سوید بن عبدالعزیز نے ان کو عثمان بن عطاء خراسانی نے ان کو ان کے والد نے ان کو عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اس نے دادا سے یہ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا۔ جس شخص کے اپنی عزت پر اور مال پر ڈر کی وکہ سے کوئی اپنے پڑوسی اے اپنا دروازہ بند کر کے رکھتا ہے ۔ وہ مؤمن نہیں ہے ( جس سے خوف ہے ) اور وہ بھی مؤمن نہیں ہے جس کا پڑوسی اس کی تباہ کاریوں کی وجہ سے محفوظ نہ ہو ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہوتا ہے ؟ جس وقت وہ آپ سے مدد مانگے آپ اس کی مدد کریں اور وہ جب آپ سے قرض مانگے آپ اس کو قرض بھی دیں۔ اور وہ جب فقیر و غریب ہو جائے تو آپ اس کو ضرور پوچھیں اور اس کا خیال کریں اور وہ جب بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کریں اور اس کو جب اس کو کوئی خیر پہنچے آپ اس کو مبارک بادی دیں۔ اور اس کو جب کوئی مصیبت پہنچے تو آپ اس کو صبر دلائیں اور افسوس کریں اور جب اس کا انتقال ہو جائے تو ان کے جنازے کے ساتھ جائیں اور ا سکے سامنے اتنی اونچائی نہ بنائیں جس س اس کی ہوا رک جائے ہاں مگر اس کی اجازت کے ساتھ ۔ اور اس کو اپنی ہنڈیاں کی خوشبو سے ایذاء نہ دیں بلکہ اس میں سے اس کے لئے بھی کچھ حصہ نکالیں اور اگر آپ کوئی پھل خرید کریں تو اسکو بھی ہدیہ دیں۔ اور اگر کسی وجہ سے ایسا نہ کر سکیں تو اس سے چھپا کر استعمال کریں۔ بلکہ تیرا بچہ اس کو لے کر باہر نہ نکلے شاید اس کو دیکھ کر اس کے بیٹے کا دل بھی اس کا تقاضا کرے۔ کیا تم جانتے ہو کہ پڑوسی کا حق کیا ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے پڑوسی کا حق کو کوئی پورا نہیں کرتا مگر کم لوگ ان میں سے جن پر اللہ رحم کرتا ہے ہمیشہ مجھے وصیت کرتے رہے پڑوسی کے بارے میں حتیٰ کہ سب نے گمان کیا کہ عنقریب اس کو وارث بنا دیں۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض وہ ہیں جن کا ایک ہی حق ہوتا ہے بہر حال جن کے تین حقوق ہوتے ہیں وہ پڑوسی ہیں جو مسلمان ہو اور قرابت دار ہو اس کا ایک حق تو پڑوسی ہونے کا ہوتا ہے ۔ دوسرا حق اسلام کا اور تیسرا حق قرابت داری کا۔ اور جن کے دو حقوق ہوتے ہیں وہ وہ پڑوی ہوتے ہیں جو مسلمان ہو۔ اس کا ایک حق پڑوسی ہونے کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اسلام کا اور وہ جس کا صرف ایک حق ہوتا ہے وہ کافر پڑوی ہوتا ہے اس کے لئے صرف پڑوسی کا حق ہوتا ہے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ کیا ہم ان سب کو اپنی قربانیوں میں سے کھانے کو دیں؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی میں سے مشرکوں کو کچھ بھی کھانے کے لئے نہ دیں۔ سوید بن عبدالعزیز اور عثمان بن عطاء اور ان کا والد سب ضعیف ہیں ہاں مگر حدیث وضع کرنے کی تہمت ان پر نہیں ہے اور اس روایت کے بعض الفاظ ایک دوسرے ضعیف طریقے سے بھی مروی ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أَبِيهِ ← عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو قصي الدمشقي ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9559

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9560

9561 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن درستويه الفارسي قال : نا عتبة الحمصي قال : نا إسماعيل و هو ابن عياش عن أبي بكر الهذلي عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قلت يا رسول الله و ما حق جاري علي ؟ قال : إن مرض عدته و إن مات شيعته و إن استقرضك أقرضته و إن عرى سترته و إن أصابه خير هنأته و إن أصابته مصيبة عزيته و لا ترفع بناءك فوق بنائه فتسد عليه الريح و لا تؤذه بريح قدرك و لا تغرف له منها

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن جعفر بن درستویہ فارسی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عتبہ حمصی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی اسماعیل نے ابو بکر ہزلی سے اس نے بہنر بن حکیم سے اس نے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر وہ بیمار ہو جائے تو آپ اس کی عیادت کریں۔ اور اگر وہ مر جائے تو آپ اس کو دفن کرنے کے لئے ساتھ جائیں۔ اور اگر وہ آپ سے ادھار مانگے تو اس کو ادھار دیں اور اگ وہ کوئی عیب غلطی کرے تو آپ اس پر پردہ ڈالیں اور اگر اس کو کوئی بھلائی ملے تو اس کو مبارک بادی دیں اور اگر اسکو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کریں اور اپنی عمارت کو اس کی عمارت سے اونچا نہ کریں کہ اس کی ہوارک جائے اور اپنی ہنڈیا کی خوشبو سے اس کو ایذاء نہ دو کہ اس میں سے اس کو سالن ہی نہ دو۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، ← إسماعيل و هو ابن عياش ← عتبة الحمصي ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9560

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9561

9562 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه قال : نا بشر بن موسى قال : نا الحميدي قال : نا سفيان قال : نا بشير بن سليمان أبو إسماعيل عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو : أنه كان له جار يهودي و كان إذا ذبح الشاة قال : احملوا إلى جارنا منها فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو بشربن موسیٰ نے ان کو حمیدی نے ان کو سفیان نے ان کو بشربن سلیمان ابو اسماعیل نے مجاہد سے ا س نے عبداللہ بن عمرو سے کہ ان کا ایک یہودی پڑوسی تھا۔ وہ جب بکری ذبح کرتے تھے تو فرماتے تھے کہ ہمارے پڑوی کا حصہ اس میں سے نکال کر دو بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے ۔ جبرائیل بار بار مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کر لیا کہ عنقریب وہ اس کو وارث بھی ٹھہرادیں گے۔

مُجَاهِدٍ ← بشير بن سليمان أبو إسماعيل ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9561

chevron_left Previous
1…902903904…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood