Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11265

11265 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج ثنا مطين ثنا حسن بن عبد الأول ثنا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل بن أبي خالد عن عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الخير كثير و من يعمل به قليل

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن سراج نے ان کو مطین نے ان کو حسن بن عبدالاول نے ان کو ابو خالد احمر نے اسماعیل بن ابو خالد سے اس نے عطاء بن سائب سے اس نے اپنے والد سے اس نے عبداللہ بن عمر و سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تو کثیر ہے اور اس کے ساتھ جو عمل کرتے ہیں وہ قلیل ہیں۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← حسن بن عبد الأول ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11265

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11266

11266 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أبو القاسم الطبراني ثنا عمرو بن ثور الحداني ثنا الفريابي ثنا سفيان عن عبيد بن نسطاس عن سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أخبركم بخياركم قلنا : بلى قال : من يرجى خيره و يؤمن شره ألا أخبركم بأشراركم قلنا بلى قال : من لا يرجى خيره و لا يؤمن شره

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو ابو القاسم طبرانی نے ان کو عمرو بن ثور حدانی نے ان کو فریابی نے ان کو سفیان نے عبید بن نسطاس سے اس نے سعید مقبری سے اس نے ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر دوں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں ؟ ہم نے جواب دیا کہ کیوں نہیں ۔فرمایا کہ وہ شخص جس کی خیر کی امید رکھی جائے اور جس کے شر سے محفوظ رہا جائے۔ کیا میں تمہیں خبر دوں تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں؟ ہم نے کہا کہ کیوں نہیں فرمایا کہ وہ شخص کہ جس کی نہ تو خیر کی امید رکھی جائے اور نہ ہی اس کے شر سے محفوظ رہا جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عبيد بن نسطاس ← سُفْيَانَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عمرو بن ثور الحداني ← أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11266

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11267

11267 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو سهل بشر بن أبي يحيى المهرجاني ثنا عبد الله بن محمد بن ناجية ثنا نضر بن علي ثنا أبو أحمد الزبيري عن عبيد بن نسطاس عن المقبري أن أباه ذكره عن أبي هريرة يرفعه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ألا أخبركم بخياركم من شراركم خياركم من يؤمن شره و يرجى خيره و شراركم الذي لا يؤمن شره و لا يرجى خيره

ہمیں حدیث بیان کی امام ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان سے ان کو ابو سہل بشر بن ابو یحییٰ مہر جانی نے ان کو عبد اللہ بن محمد بن ناجیہ نے ان کو نضر بن علی نے ان کو ابو احمد زبیری نے ان کو عبید بن نسطاس نے مقبری سے یہ کہ ان کے والد نے اس کو ذکر کیا ہے ابوہریرہ سے وہ اس کو مرفوع کرتے ہیں یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں خبر دوں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں تمہارے شریر لوگوں میں سے۔ تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے شر سے محفوظ رہا جائے اور اس کی خیر کی امید رکھی جائے اور تمہارے اشرار وہ ہیں کہ نہ تو ان کے شر سے محفوظ رہا جا سکے اور نہ ہی ان کی خیر کی توقع کی جاسکے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ يَرْفَعُهُ ← المقبري أن أباه ذكره ← عبيد بن نسطاس ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← نَضْرِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ← أبو سهل بشر بن أبي يحيى المهرجاني ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11267

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11268

11268 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ثنا أبو خليفة الفضل بن حباب ثنا القعنبي عن عبد العزيز عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم : وقف على رأس قوم جلوس فقال : ألا أخبركم بخيركم من شركم قال : فسكتوا قال : ذلك ثلاث مرات قال : رجل يا رسول الله أخبرنا من شرنا قال : خيركم من يرجى خيره و يؤمن شره و شركم من لا يرجى خيره و لا يؤمن شره و روى ذلك أيضا عن أنس بن مالك مرفوعا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن حسن بن اسماعیل سراج نے ان کو ابو خلیفہ فضل بن حباب نے ان کو قعنبی نے ان کو عبد العزیز نے ان کو علاء نے اپنے والد سے اس نے ابوہریرہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے سر پر آن کھڑے ہوئے جو بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں تمہارے بھلے لوگوں کے بارے میں بتاؤں؟ تمہارے برے لوگوں کی نسبت ۔کہتے ہیں کہ وہ لوگ خاموش ہو گئے۔ لہٰذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہی بات دہرائی ۔تو ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ آپ ہمیں بتا دیجئے کہ کون ہم میں سے شر ہے؟ فرمایا کہ تم میں سے بھلا انسان وہ ہے جن کی بھلائی کی امید قائم کی جائے اور اس کے شر سے محفوظ رہا جائے ۔ اور تم میں سے برا وہ ہے جس خیر کی توقع نہ کی جائے اور جس کے شر سے محفوظ نہ رہا جائے اور یہ بھی روایت کی گئی ہے انس بن مالک سے بطور مرفوع حدیث۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أبو خليفة الفضل بن حباب ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11268

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في إنظار المعسر و التجاوز عنه و الرفق بالموسر و الوضع عنه · حديث 11269

11269 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا محمد بن أيوب الرازي أنا محمد بن كثير أنا سفيان عن سهيل بن أبي صالح عن عبد الله بن دينار عن أبي صالح عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الإيمان بضع و ستون أو بضع و سبعون شعبة أفضلها لا إله إلا الله و أدناها إماطة الأذى عن الطريق و الحياء شعبة من الإيمان أخرجه مسلم في الصحيح كما ذكرناه في أول الكتاب و أخرجه البخاري من وجه آخر عن عبد الله بن دينار

11269ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب رازی نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو سہیل بن ابو صالح نے ان کو عبد اللہ بن دینار نے ان کو ابو صالح نے ابوہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ الايمان بضع وستون أو بضع وسبعون شبعة افضلها لا اله الا الله وادنا ها اماطة الأذى عن الطريق والحياء شعبة من الأيمان۔ کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں یا فرمایا تھا کہ ستر سے کچھ او پر شاخیں ہیں ایمان کی افضل ترین شاخ لالہ الا اللہ ( توحید باری تعالی ٰہے ) اور سب سے کم رتبے والی شاخ راستے سے ایذاء پہنچانے والی چیز کو ہٹا دینا ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا شعبہ ہے ایمان کی شاخ ہے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں جیسے ہم نے اس کو ذکر کیا ہے اسی کتاب کے آغاز میں اور بخاری نے اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے عبد اللہ بن دینار سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عبد الله بن دينار ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter in the gaze of insolvent and overtaking him and being kind to the affluent and the situation on his behalf · Hadith 11269

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9543

9544 - حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن فورك رحمه الله قال : أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني قال : نا يونس بن حبيب قال : نا أبو داود قال : أنا شعبة عن أبي عمران عن طلحة بن عبد الله عن عائشة أنها قالت : يا رسول الله إن لي جارين فإلى أيهما أهدي ؟ قال : إلى أقربهما منك بابا رواه البخاري في الصحيح عن الحجاج بن المنهال عن شعبة

ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر محمد بن حسن بن فورک رحمہ اللہ نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ کہا یونس بن حبیب نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو عمران نے ان کو طلحہ بن عبداللہ نے انکو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ میرے دو پڑوسی ہیں میں دونوں میں سے کس کو ہدیہ بھیجوں فرمایا جو تجھ سے زیادہ قریب ہے یعنی دروازے کے اعتبار سے۔ اس کو بخاری نےروایت کیا صحیح بن حجاج بن منہال سے اس نے شعبہ سے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي عِمْرَانَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9543

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9544

9545 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا مسدد قال : نا عبد الواحد بن زياد قال : نا الأعمش قال : نا أبو يحيى مولى جعدة قال : سمعت أبا هريرة قال : قيل للنبي صلى الله عليه و سلم إن فلانة تقوم الليل و تصوم النهار و تفعل و تصدق و تؤذي جيرانها بلسانها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا خير فيها هي من أهل النار قيل و فلانة تصلي المكتوبة و تصدق بالأثوار و لا تؤذي أحدا ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هي من أهل الجنة

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو مسدد نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو اعمش نے ان کو ابو یحییٰ مولیٰ جعدہ نے انہوں نے سنا ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے کہا گیا کہ فلاں عورت رات کو تہجد پڑھتی ہے دن کو روزہ رکھتی ہے اور اچھے کام کرتی ہے اور صدقہ کرتی ہے مگر زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف پہنچاتی ہے رسول اللہ نے فرمایا کہ اس میں کوئی خیرو بھلائی نہیں ہے یہ جہنی ہے ۔اور کہا گیا کہ فلاں عورت صرف فرض نماز پڑھتی ہے اور کبھی کبھی صدقہ کرتی ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا یہ عورت اہل جنت میں سے ہے ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدٌ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9544

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9545

9546 - و أخبرنا أبو علي الروذباري قال : أنا أبو بكر أحمد بن سليمان بن إسحاق العباداني قال : نا علي بن حرب ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا أبو العباس بن يعقوب قال : نا أحمد بن عبد الجبار العطاردي قالا : نا أبو معاوية قال : نا الأعمش و في رواية العطاردي عن الأعمش عن أبي يحيى مولى جعدة بن هبيرة عن أبي هريرة قال : قالوا يا رسول الله فلانة تصوم النهار و تقوم الليل و تؤذي جيرانها قال : هي من أهل النار قال : قالوا يا رسول الله فلانة تصلي المكتوبات و تتصدق بالأثوار من الأقط و لا تؤذي جيرانها قال : هي من أهل الجنة

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر احمد بن سلیمان بن اسحاق عبادانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی علی بن حرب نے ح اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار عطاری نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو معاویہ نے ان کو اعمش نے اور عطاردی کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے روایت کیا اعمش سے اس نے ابو یحییٰ مولیٰ جعدہ بن ہیرہ سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ فلاں عورت دن میں روزے رکھتی ہے رات کو تہجد پڑھتی ہے مگر اپنے پڑوسی کو تکلیف پہنچاتی ہے فرمایا کہ جہنی ہے ۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ فلاں عورت صرف فرض نماز پڑھتی ہے اور پنیر یاچھا چھ وغیرہ کا صدقہ کرتی ہے مگر اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتی فرمایا کہ جنتی ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أبي يحيى مولى جعدة بن هبيرة ← الْاَعْمَشِ ← الأعمش و في رواية العطاردي ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ← أبو بكر أحمد بن سليمان بن إسحاق العباداني ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9545

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9546

9547 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : نا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب القاضي قال : نا نصر بن علي قال : نا صفوان بن عيسى عن ابن عجلان عن أبيه عن أبي هريرة : أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اصبر ثم أتاه الثانية يشكو فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اصبر ثم أتاه يشكو فقال له : اصبر ثم أتاه الرابعة يشكوه فقال : اذهب فأخرج متاعك فضعه على ظهر الطريق فجعل لا يمر به أحد إلا قال له : شكوت جاري إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : اذهب فأخرج متاعك فضعه على ظهر الطريق فجعل لا يمر به أحد إلا قال : اللهم العنه اللهم أخره قال : فأتاه فقال : يا فلان ارجع إلى منزلك فوالله لا أؤذيك أبدا و له شاهد من حديث أبي عمر البجلي عن أبي جحيفة

ہمیں خبر دی علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو نصر بن علی نے ان کو صفوان بن عیسیٰ نے ان کو ابن عجلان نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ نے کہ ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر آیا حضور ﷺ نے اسے فرمایا کہ صبر کر پھر دوبارہ آیا تو فرمایا کہصبر کر پھر تیسری بار شکایت کی تو فرمایا صبر کر پھر چوتھی مرتبہ آئے جب شکایت کی تو فرمایا کہ اپنا سامان نکال کر بیچ راستے میں رکھ دو۔ اب تو جو بھی گذرے وہی پوچھے کہ ایسا کیوں کیا وہ بتا دے اس کو کہ میں نے حضور ﷺ کو اپنے پڑوسی کی شکایت کی تھی ۔ لہٰذا حضؤر ﷺ نے حکم دیا کہ سامان راستے میں رکھ دو۔ ابتو جو بھی گذرتا وہ اس کے پڑوسی کو لعنت کرتا اللہ س کو لعنت فرما اللہ اس کو رسوا کر ۔ چنانچہ وہ پڑوسی آکر اس سے کہنے لگا میاں تم اپنے گھر میدں آجاؤ میں تجھے کبھی اذیت نہیں دوں گا۔ اس حدیث کے شواہد میں ابو عمر بجلی کی حدیث سے اس نے ابو جیفہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9546

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9547

9548 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة قال : أنا أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج قال : نا عبد الله بن عثام بن حفص بن غياث بن حكم الأودي قال : أنا شريك عن أبي عمر عن أبي جحيفة قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : اطرح متاعك على الطريق أو في الطريق فطرحه فجعل الناس يمرون عليه يلعنونه فجاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما لقيت من الناس قال : و ما لقيت منهم ؟ قال : يلعنوني قال : فقد لعنك الله عز و جل قبل الناس قال : فإني لا أعود أبدا يا رسول الله قال : فجاء الذي شكى إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال له النبي صلى الله عليه و سلم : ارفع متاعك فقد أمنت أو كفيت و قال : غيره عن علي بن حكيم أن لعنة الله فوق لعنتهم

ہمیں خبر دی ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن قتادہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسن بن اسماعیل سراج نے اس نے کہا کہ ہمیں خبر دی عبداللہ بن عثام بن حفص بن غیاث سے اس نے علی بن حکیم اودی سے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی شریک نے انکو ابو عمر نے ابو جیفہ سے وہ کہتے ہیں ایک ادمی حضور ﷺ سے اپنے پڑوسی کی شکایت کرنے آیا تو حضور ﷺ نے اس کو حکم دا کہ اپنا سامان راستے پر رکھ دو یا یوں فرمایا راستے میں رکھ دو لوگ گذرتے ہوئے اس کے پڑوسی کو لعنت کرنے لگے جب بھی گذرتے ۔ چنانچہ وہ پڑوسی خود حضور ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ لوگ مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں۔ فرمایا کیا تکلیف دیتے ہیں؟ عرض کیا کہ لوگ مجھ کو لعنت دیتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تہیں لوگوں سے پہلے ہی لعنت کر چکا ہے ۔ چنانچہ اس شخص ن ے کہا کہ میں کبھی بھی دوبارہ تکلیف نہیں پہنچاؤں گا یا رسول اللہ لہٰذا جب شکایت کرنے والا حضور ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : اب تو سامان راستے سے اٹھا لے اب تو محفوظ ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا کہ مروی ہے علی بن حکیم سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت سب لوگوں کی لعنت کے علاوہ ہے ۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم يشكو جاره ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← أَبِي عُمَرَ، ← شَرِيکٍ ← عبد الله بن عثام بن حفص بن غياث بن حكم الأودي ← أبو الحسن محمد بن الحسن بن إسماعيل السراج ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9547

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9548

9549 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أحمد بن محمد العنبري قال : نا عثمان بن سعيد الدارمي قال : نا مسلم بن إبراهيم قال : نا الأسود بن شيبان السدوسي عن يزيد بن عبد الله بن الشخير أبي العلاء عن مطرف بن عبد الله قال : كان يبلغني عن أبي ذر حديث و كنت أشتهي لقاءه فلقيته فقلت له : يا أبا ذر كان يبلغني عنك حديث و كنت أشتهي لقاءك قال : لله أبوك فلقد لقيتني قال : قلت : حديث بلغني أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثك قال : إن الله يحب ثلاثة و يبغض ثلاثة قال : فلا أخالني أكذب على خليلي فلا أخالني أكذب على خليلي فلا أخالني أكذب خليلي قال : قلت من هؤلاء الذين يحبهم الله عز و جل ؟ قال : رجل غزا في سبيل الله صابرا محتسبا مجاهدا فلقي العدو فقاتل حتى قتل و أنتم تجدونه عندكم في كتاب الله المنزل ثم قرأ هذه الآية { إن الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كأنهم بنيان مرصوص } قلت و من ؟ قال : رجل له جار سوء يؤذيه فيصبر على أذاه حتى يكفيه الله إما بحياة و إما بموت قلت : و من قال : رجل سافر مع قوم فأدلجوا حتى إذا كان من آخر الليل وقع عليهم الكرى و هو النعاس فضربوا رؤوسهم ثم قام فتطهر رهبة لله و رغبة فيما عنده قلت : فمن الثلاثة الذين يبغضهم الله ؟ قال : المختال الفخور و انتم تجدونه في كتاب الله { إن الله لا يحب كل مختال فخور } قال و من ؟ قال : البخيل المنان قال و من ؟ قال : التاجر الحلاف أو البائع الحلاف

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی احمد بن محمد عنبری نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی عثمان بن سعید دارمی نے ان کو خبر دی مسلم بن ابراہیم نے ان کو اسود بن شیبان سدوسی نے ان کو یزید بنعبداللہ بن شخیر نے ان کو ابو العلاء نے انکو مطرف بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابو ذر سے کوئی نہ کوئی حدیث پہنچتی رہتی تھی اور میں ان سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتا تھا ۔ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے والدکو نیکی آپ کی ملاقات مجھ سے ہو ہی گئی ہے ۔ وہ کہتے ہیں میں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہآپ کو رسول اللہﷺ نے کوئی حدیث بیان فرمائی تھی انہوں نے فرمایا کہ ہاں آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ تین شخصوں سے محبت کرتے ہیں اور تین سے نفرت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے مہلت نہدے کہ میں اپنے خلیل پر جھوٹ بولوں ۔ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق ہی نہ دے کہ میں اپنے محبوب پر جھوٹ باندھوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے ہمت ہی نہدے کہ یں اپنے دوست پر جھوٹ بولوں۔ میں نے پوچدھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ محبوب رکھتا ہے فرمایا کہ ایک تو وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں ج ہاد کرے صبر کرنے الا۔ اجر و ثواب کی امید کرنےو الا پھر دشمن سے ٹکرائے قتال کرتے کرتے شہید ہو جائے ت لوگ اس بات کو کتاب اللہ بھی پاتے ہو اپنے پاس جو اللہ نے تم پر اتاری ہے اس کےبعد انہوں نے یہ آیت پڑھی۔بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف باندھ کر قتال کرتے ہیں جیسے کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ میں نے پوچدھا کہ اور کون ہے ؟ فرمایا وہ آدمی جس کا پڑوسی برا ہوا سے تکلیف دیتا ہو اور وہ اس پر صبر کرتا رہے یہاں تک کہ اللہ اس کی طرف سے اس برے سے نمٹ لے خواہ اس کو زندہ رکھ کر یا س کو موت دےکر۔ پھر میں نے پوچھا کہ اور کون آدمی ہے ؟ فرمایا کہ وہ آدمی جو کچھ لوگوں کے ساتھ سفر کر رہا ہو وہ رات بھر اندھیری رات میں سفر کرتے رہیں جب رات کا آخر ہو جائے ان پر نیند اور اونگھ غالب آجائے اور وہ سو جائیں۔ پھر وہ کھڑا ہو جائے اور وضو کر کے اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اجر و ثواب کی امید کرتے ہوئے جو اس کے پاس ہے ۔ میں نے پوچھا۔ کہ وہ تین لوگ کون کون ہیں اللہ تعالیٰ جن سے نفرت کرتا ہے ؟ فرمایا کہ مغرور متکبر تم لوگ اس مسئلے کو قرآن میں بھی پاتے ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : اس نے پوچھا کہ اور کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ بخیل آدمی جو احسان جتلانے والا ہو۔ پھر اس نے پوچھا کہ اور کون ہے ۔ فرمایا کہ قسمیں کھانے والا تاجر۔ یا یوں فرمایا کہ قسمیں بیچنے والا۔

مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يزيد بن عبد الله بن الشخير أبي العلاء ← الأسود بن شيبان السدوسي ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9548

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9549

9550 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني قال : نا إسحاق الدبري قال : نا عبد الرزاق عن معمر عن ابن المنكدر أن عمر رضي الله عنه قال : ثلاثة هن فواقد جار سوء في دار مقامه و زوجة سوء إن دخلت عليها آذتك و إن غبت عنها لم تأمنها و سلطان إن أحسنت لم يقبل منك و إن أسأت لم يقلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی اسحاق و بری نے ان کو عبدالرزاق نے معمر سے اس نے ابن منکدر سے کہ حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تین شخص بہت برے ہیں برا پڑوسی شہر میں ۔ بری بیوی ایسی کہ آپ جب اس کے پاس آئی ں تو آپ کو اذیت دے اور اگر آپ اس کو چھوڑ کر چلے جائیں تو تمہیں اس پر اعتماد نہ ہو ۔ اور بادشاہ کہ جس کے ستاھ آپ نیکی کر بیٹھے اور وہ تم سے اس کو قبول نہ کرے اور اگر آپ برائی کریں تو وہ تجھے نہ چھوڑے۔

ابن المنكدر أن عمر ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ الدَّبْرِيُّ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9549

chevron_left Previous
1…901902903…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood