Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1031

1030 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكاذي ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل ثنا أبي ثنا هاشم بن القاسم ثنا أبو سعيد يعني المؤدب ثنا مالك بن مغول عن معاوية بن قرة : أنه جلس و رجل من التابعين يتذاكران فقال أحدهما : إني لأرجو و أخاف و قال الآخر : إنه من رجا شيئا طلبة و إنه من خاف من شيء هرب منه و ما حسب امرئ يرجو شيئا يطلبه و ما حسب امرئ يرجو شيئا لا يهرب منه ؟

ہمیں خبر دی ابو احسین بن بشران نے ان کو ابو الحسین اسحٰق بن احمد کاذی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو ابو سعید ادیب نے ان کو مالک بن مغول نے ان کو معاویہ بن قرۃ نے وہ کہتے ہیں کہ تابعین میں سے دو آدمی باہم مذاکرہ کر رہے تھے ایک نے کہا میں امید بھی رکھتا ہوں اور خوف بھی ۔ دوسرے نے کہا بات یہ ہے کہ جو شخص کسی شئ کی امید کرتا ہے اس کو طلب بھی کرتا ہے اور یہ بات بھی ہے کہ جو شخص کسی شئی سے ڈرتا ہے اس سے بھاگتابھی ہے ۔ کسی آدمی کے لئے صرف اتنی بات کافی نہیں ہے کہ وہ کسی شئی کی محض امید رکھے یا امید کرے اور اس کو طلب نہ کرے اور کسی آدمی کے لئے یہ بات بھی کافی نہیں ہے کہ وہ کسی شئی سے ڈرے تو سہی مگر اس سے بھاگے نہیں۔

أحدهما إني لأرجو و أخاف و ← معاوية بن قرة أنه جلس و رجل من التابعين يتذاكران ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ، ← هاشم بن القاسم ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو الحسين بن بشران أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكاذي

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1031

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1032

1031 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا الفضل محمد بن أحمد الكرابيسي يقول : سمعت أبا عثمان سعيد بن إسماعيل ينشد : ( ما بال دينك ترضى أن تدنسه و أن ثوبك مغسول من الدنس ) ( ترجو النجاة و لم تسلك مسالكها إن السفينة لا تجري على اليبس )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الفضل محمد بن کرابیسی نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید بن اسماعیل سے سنا وہ شعر کہتے تھے: "ماہال ینک ترضی ان تدنسہ، وان ثوبک مغسول من الدنس" کیا حال ہے تیرے دین کا کہ تو اس کو ( شرک سے یا گناہوں سے) آلودہ کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے جب کہ تیرے کپڑے تو میل سے دھلے ہوئے ہیں۔ "ترجو النجاۃ ولم تسلک مسالکھا، ان السفینۃ لا تجری علی الیبس" نجات کی امید تو تو کرتا ہے مگر نجات کے راستے پر نہیں چلتا۔ بے شک کشتی نہیں چل سکتی خشکی پر۔

أبا الفضل محمد بن أحمد الكرابيسي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1032

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1033

1032 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت فارس بن عيسى يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : ذا النون يقول : وجدت حجرا فإذا عليه مكتوب : كل مطيع مستأنس و كل عاص مستوحش و كل راج طالب و كل خائف هارب و كل محب ذليل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہتے ہیں کہ انہوں نے فارس بن عیسٰی سے سنا انہوں نے یوسف بن حسین سے سنا وہ بتاتے ہیں کہ ذوالنون مصری رحمۃاللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک پتھر پایا جس پر یہ لکھا ہوا تھا۔ "کل مطیع مستانس وکل عاص متوحش وکل راج طالب ، وکل خائف ھارب وکل محب ذلیل"۔ ہر اطاعت شعار مانوس ہوتا ہے اور ہر گنہگار وحشت کرنے والا ہوتا ہے ہر امید وار طالب ہو تا ہے اور ہر خائف بھاگتا ہے اور ہر محبت کرنے والا عاجزی کرتا ہے ۔ یا ہر عاشق ذلیل ہوتا ہے ۔

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← فارس بن عيسى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1033

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1034

1033 - أخبرنا أبو عبد الله الرحمن السلمي قال : سمعت منصور بن عبد الله يقول : سمعت الحسن بن علويه يقول : سمعت علي بن عكرمة يقول : سمعت يحيى بن معاذ الرازي يقول : الإيمان ثلاثة : الخوف و الرجاء و المحبة و في جوف الخوف ترك الذنوب و فيه النجاة من النار و في جوف الرجاء الطاعة و فيه وجوب الجنة و في جوف المحبة احتمال المكروهات و به جد رضا الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ان کو منصور بن عبداللہ نے انہوں نے سنا حسن بن علویہ سے انہوں نے سنا علی بن عکرمہ سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ رازی سے وہ کہتے ہیں یحییٰ بن معاذ رازی کا قول یہ ہے ایمان تین طرح سے ہے ۔ خوف اور محبت اور امید اور خوف کے پیٹ میں گناہوں کو ترک کرنا ہے۔ اور گناہوں کو ترک کرنے میں جہنم سے نجات ہے ۔ اور امید کے پیٹ میں اطاعت ہے اور اطاعت کے لئے جنت لازم ہے ۔ اور محبت کے پیٹ میں مکروہات کا احتمال ہے اور محبت اللہ سے ہو تو آپ اللہ کی رضا پائیں گے ۔

يحيى بن معاذ الرازي ← علي بن عكرمة ← الْحَسَنُ بْنُ عُلُّوِيَةَ، ← مَنْصُورَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← أبو عبد الله الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1034

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1035

1034 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت محمد بن عبد الله يقول : سمعت الحسن بن سليمان يقول : سمعت أبا بكر محمد بن إبراهيم الرازي يقول : سمعت يحيى بن معاذ يقول : كيف أخافك و أنت كريم ؟ و كيف لا أرجوك و أنت عزيز ؟ فأنا بين خوف يقطعني و رجاء يوصلني فلا رجائي يدعني فأموت خوفا و لا خوفي يتركني فأحيى فرحا

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا محمد بن عبداللہ سے انہوں نے سنا حسن بن سلیمان سے انہوں نے سنا ابو بکر محمد بن ابراہیم رازی سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ فرماتے ہیں۔ میں آپ سے کیسے ڈروں حالانکہ آپ تو کریم ہیں ؟ میں آپ سے کیسے امیدیں وابستہ نہ کروں حالانکہ آپ تو عزیز اور غالب ہیں ؟ میں ایسے خوف کے درمیان ہوں جو مجھے کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ اور ایسی امید کے مابین ہوں جو مجھے ملا دیتی ہے ، میری امید ایسی نہیں ہے جو مجھے چھوڑ دے لٰہذا میں خوف سے مر جاؤں اور نہ ہی میرا خوف ایسا ہے جو مجھے چھوڑ دے کہ میں خوش فہمی میں زندہ رہوں۔

كيف أخافك و أنت كريم و كيف لا أرجوك و أنت عزيز ← يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← أبا بكر محمد بن إبراهيم الرازي ← الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1035

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1036

1035 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله بن غانم يقول : سمعت محمد بن الرومي يقول سمعت يحيى بن معاذ يقول : يستقى الخوف من بحر عدله و يستقى الرجاء من بحر فضله و قد سبق القضاء أن رحمته سبقت غضبه

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن نے انہوں نے سنا عبداللہ بن غانم سے انہوں نے محمد بن رومی سے انہوں نے سنا یحییٰ بن معاذ سے وہ فرماتے ہیں کہ خوف اللہ کے انصاف کے سمندر سے پانی طلب کرتا ہے اور امید اللہ کے فضل کے سمندر سے پانی طلب کرتی ہے اور تحقیق قضا سبقت کر گئی تھی کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کر گئی ہے ۔

يَحْيَى بْنَ مُعَاذٍ ← محمد بن الرومي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَانِمٍ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1036

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1037

1036 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو الحسن علي بن الحسين بن بندار الأزدي قال : سمعت أبا بكر الشهرزوري قال : كنت في مجلس أبي القاسم و ابن عطاء حاضر و رجل في المجلس قد غلبته شدة الخوف و هو و يرجف فقال له أبو القاسم الجنيد : لا ترع فما هو إلا أن تبدو عين من عيون الرحمة فإذا بالمسيء قد لحق بالمحسن قال ابن عطاء : حتى تبدو قال : فغضب الجنيد و قال : أما و الله أنها لبادية أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يقول الله عز و جل سبقت رحمتي غضبي قال : فسكت ابن عطاء

ہمیں خبر دی ابو سعید مالینی نے ان کو الحسین علی بن حسین بن بندارازدی نے انہوں نے سنا ابو بکر شہر زوری سے وہ کہتے ہیں میں ابوالقاسم جنید کی مجلس میں موجود تھا۔ اور حضرت ابن عطاء بھی موجود تھے ۔ ایک آدمی پر مجلس میں شدت خوف غالب آگئی۔ اور اس پر کپکپی طاری ہو گئی۔ ابو القاسم جنید نے اس سے کہا آپ نہ ڈریں وہ تو محض رحمت کی آنکھوں اور رحمت کی نگاہوں میں سے ایک نگاہ ہے ( جو ظاہر ہو چکی ہے) یا ظاہر ہو گی ۔ لٰہذا ایک گناہگار ہو جو ایک محسن سے مل جائے گا۔ ابن عطاء نے تو کہا: یہاں تک کہ ظاہر ہو جائے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت جنید ناراض ہو گئے اور فرمایا: خبردار اللہ کی قسم بے شک وہ آنکھ وہ نگاہ ظاہر ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت کر گئی ہے ۔ چنانچہ ابن عطاء خاموش ہو گئے۔

أَبَا بَكْرٍ الشَّهْرَزُورِيَّ، ← أبو الحسن علي بن الحسين بن بندار الأزدي ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1037

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1038

1037 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه أنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو الزناد عن الأعرج عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : سبقت رحمتي غضبي مخرج في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر احمد بن اسحاق نے ان کو بشیر بن موسیٰ نے ان کو حمید ی نے ان کو سفیان نے ان کو ابو الزناد نے ان کو اعرج نے ان کو ابوہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ "قال اللہ تعالیٰ سبقت رحمتی غضبی"۔ میری رحمت میرے غضب سے آگے بڑھ گئی ہے ۔ یہ بخاری میں درج ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1038

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1039

1038 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي أنا الحسن بن محمد الصباح الزعفراني ثنا معاذ بن معاذ عن سليمان التيمي عن أبي عثمان النهدي عن سلمان الفارسي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله عز و جل خلق مائة رحمة منها رحمة يتراحم بها الخلق و تسع و تسعون ليوم القيامة رواه مسلم عن الحكم بن موسى عن معاذ بن معاذ

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد الصباح زعفرانی نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو سلیمان تیمی نے ان کو ابو عثمان نہدی نے ان کو سلمان فارسی نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "ان اللہ خلق مائۃ رحمۃ منھا رحمۃ یتواحم بھا الخلق وتسع وتسعون لیوم القیٰمۃ"۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کی تھیں ایک رحمت کے ساتھ تمام مخلوق پر رحم کرتا ہے ۔ اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے رکھ دی ہیں۔ اس کو مسلم نے حکم بن موسیٰ سے انہوں نے حضرت معاذ بن معاذ سے روایت کیا ہے ۔

سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ← أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← الحسن بن محمد الصباح الزعفراني ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1039

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1040

1039 - أخبرنا عبد الخالق بن علي بن عبد الخالق المؤذن أنا أبو الحسن علي بن الحسن الصالحي بالبصرة ثنا أبو الحسن مسبح بن حاتم العلكي ثنا الحسن بن علي الواسطي ثنا معاذ بن معاذ ثنا أبي عن عوف الأعرابي عن خلاس عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله تعالى مائة رحمة قسم منها رحمة في دار الدنيا فمن ثم يعطف الرجل على ولده و الطير على فراخه فإذا كان يوم القيامة صيرها مائة رحمة فعاد بها على الخلق 1039 - مكرر قال أيوب السختياني : إن رحمة قسمها في دار الدنيا و أصابني منها الإسلام و أني لأرجو من تسعة و تسعين رحمة ما هو أكثر من ذلك

ہمیں خبر دی عبدالخالق بن علی بن عبدالخالق مؤذن نے ان کو ابو الحسن علی بن حسن صالح نے بصرہ میں ان کو ابو الحسن مسبح بن حاتم علکی نے ان کو حسن بن علی واسطی نے ان کو معاذ بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے ان کو عوف اعرابی نے ان کو خلاص نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں ۔ ایک رحمت کو اس نے دنیا والوں پر تقسیم کر دیا ہے اسی کے اثر سے ایک باپ اپنی اولاد پر شفقت کرتا ہے ۔ اور پرندہ اپنے بچے پر کرتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا اس کو پوری ایک سو کر دے گا پھر اس کو اپنی مخلوق پر دوبارہ تقسیم کرے گا۔ یہ مکرر ہے ۔ ایوب سختیانی نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو دنیا میں تقسیم کر دیا ہے ۔ اور مجھے اس سے اسلام پہنچا اور بے شک میں امید کرتا ہوں کہ باقی ننانوے رحمتیں اس سے زیادہ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← خِلَاسٍ، ← عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ ← أبو الحسن مسبح بن حاتم العلكي ← أبو الحسن علي بن الحسن الصالحي بالبصرة ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْمُؤَذِّنُ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1040

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1041

1040 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد جعفر بن محمد الخلدي ثنا أحمد بن علي الخراز حدثنا علي بن الحسين بن خالد السكري ثنا العلاء بن زيد قال : دخلت على مالك بن دينار في مرضه فرأيت عنده شهر بن حوشب فلما خرجنا من عنده قلت لشهر : يرحمك الله ! زودني زودك الله ! فقال نعم حدثتني أم الدرداء عن أبي الدرداء عن نبي الله صلى الله عليه و سلم عن جبريل عليه السلام عن ربه تبارك و تعالى قال : قال ربكم عبدي ما عبدتني و رجوتني و لم تشرك بي شيئا غفرت لك على ما كان منك و لو استقبلتني بملأ الأرض خطايا و ذنوبا استقبلتك بملئها مغفرة اغفر لك و لا أبالي

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو محمد جعفر بن محمد خلدی نے ان کو احمد بن علی خزاز نے ان کو علی بن حسین بن خالد سکری نے ان کو علاء بن زید نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت مالک بن دینار کے پاس ان کی بیماری کے دروان گیا ۔ میں نے ان کے پاس حضرت شہر بن حوشب کو بیٹھے دیکھا۔ جب ہم اس کے ہاں سے نکلے تو میں نے شہر بن حوشب سے کہا اللہ تعالیٰ آپ کے اوپر رحم فرمائے مجھے سفر کا سامان عطا کیجئے اللہ آپ کو سفر کی تیاری کروائے۔ اس نے کہا اچھی بات ہے ، مجھے حدیث بیان کی تھی ام درداء نے اپنے شوہر حضرت ابو درداء سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے انہوں نے حضرت جبرائیل سے وہ اللہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندے آپ نے میری عبادت کی اور مجھ سے امید قائم کر لی اور اپ نے میرے ساتھ شرک نہیں کیا۔ میں نے تیرے گناہ کے باوجود تجھے بخش دیا ہے اگر آپ زمین بھر کے بھی گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملتے تو میں اسی قدر مغفرت کے ساتھ آپ سے ملتا میں تجھے بخش دیتا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوتی۔

الْعَلاَءِ بْنِ زَيْدٍ ← علي بن الحسين بن خالد السكري ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَرَّازُ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَلْدِىُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1041

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1042

1041 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو محمد الربيع بن سليمان ثنا أسد بن موسى ـ ح و أخبرنا أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الشاهد بهمدان ثنا أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي ثنا أبو خليفة ثنا أبو الوليد الطيالسي قالا : ثنا الحميد بن بهرام ثنا شهر بن حوشب عن عبد الرحمن بن غنم أن أبا ذر حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تعالى يقول : يا عبدي ما عبدتني و رجوتني فإني غافر لك ما فيك و يا عبدي إن لقيتني بقراب الأرض خطيئة لم تشرك بي لقيتك بقرابها مغفرة قال البيهقي رحمه الله : و آخر هذا الحديث يدل على أن المراد بالعبادة التي يتقرب بها الرجاء في أول الحديث أن لا تشرك بالله شيئا و قد ذكرنا في كتاب البعث من رواية أبي ذر و أبي الدرداء و غيرهما ما يدل على صحة ذلك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو محمد ربیع بن سلیمان نے ان کو اسد بن موسیٰ نے اور ہمیں خبر دی ہے ۔ ابو سعید عبدالرحمٰن بن محمد بن شبانہ زاہد نے ہمدان میں ۔ ان کو ابو العباس فضل بن فضل کندی نے ان کو خلیفہ نے ان کو ابو الولید طیالسی نے ان کو عبدالحمید بن بہرام نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو عبدالرحمٰن بن غنم نے ان کو ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے بندے تو نے میری عبادت کی اور مجھ سے امید رکھی میں تجھے بخشنے والا ہوں جو کچھ گناہ کہ تجھ میں ہیں اے میرے بندے اگر تو گناہوں سے زمین بھر کر مجھے ملتا لیکن میرے ساتھ شرک نہیں کرتا ہے تو میں تجھے زمین بھر کر مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔

عبد الرحمن بن غنم أن أبا ذر ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← الحميد بن بهرام ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ، ← أبو العباس الفضل بن الفضل الكندي ← أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن شبانة الشاهد بهمدان ← و، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أبو محمد الربيع بن سليمان ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1042

chevron_left Previous
1…8910…939
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood