Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1043

1042 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا معاذ بن المثنى ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء ثنا مهدي بن ميمون ثنا غيلان بن جرير ثنا شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر : عن النبي صلى الله عليه و سلم يرويه عن ربه عز و جل قال : يا ابن آدم ما دعوتني و رجوتني غفرت لك على ما كان فيك يا ابن آدم ! إنك إن تذنب حتى تبلغ ذنوبك عنان السماء ثم تستغفرني غفرت لك و لا أبالي و هكذا رواه عامر الأحول و المعلى بن زياد عن شهر بن حوشب عن معدي كرب عن أبي ذر و قوله : دعوتني يريد ـ و الله أعلم ـ دعاءه إياه وحده لا يدعه معه إلها آخر و قد أخرج مسلم حديث أبي ذر من وجه آخر كما :

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو معاذ بن مثنیٰ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن السماء نے ان کو مہدی بن میمون نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کو شہر بن حوشب نے ان کو معد یکرب نے ان کو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ اپنے رب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم کے بیٹے جو کچھ کہ تم نے مجھے پکارا ہے اور مجھ سے امید قائم کی ہے میں نے تجھے معاف کر دیا ہے ان گناہوں کے باوجود جو تجھ میں تھے۔ اے آدم کے بیٹے ! اگر تو مجھ سے گناہوں سے بھری ہوئی زمین کے ساتھ ملتا ، ان کے بعد کہ تو میرے ساتھ شرک نہ کرتا تو میں تجھ سے اسی قدر مغفرت سے بھری ہوئی زمین کے ساتھ تجھ سے ملتا۔ اے آدم کے بیٹے اگر تو اتنے گناہ کرتا کہ تیرے گناہ آسمان کے بلندی کو چھو لیتے پھر تو مجھ سے بخشش مانگتا تو میں تجھے بخش دیتا ۔ اور میں کوئی پرواہ نہ کرتا ۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو احول اور معلیٰ بن زیاد نے شہر بن حوشب سے اس نے معدیکرب سے اس نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قوم دعوتنی آپ نے مجھ کو پکارا۔ اس سے مراد خاص اسی کو اکیلے پکارنا ہے اس کے ساتھ کسی دوسرے اللہ کو نہ پکارا ہو۔ یعنی توحید والی پکار اور توحید والی دعاء مراد ہے ۔ اور مسلم نے ایک اور طریقہ سے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی حدیث نقل کی ہے ۔

ربه عز و جل ← اَبِیْ ذَرٍّ ← مَعْدِي كَرِبَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1043

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1044

1043 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا ابن نمير عن الأعمش عن المعرور بن سويد عن أبي ذر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يعني بقول الله عز و جل : من عمل حسنة فجزاءه عشر أمثالها أو أزيد و من عمل سيئة فجزاؤه مثلها أو أغفر له و من تقرب إلي شبرا تقربت منه ذراعا و من تقرب إلى ذراعا تقربت منه باعا و من أتاني يمشي أتيته هرولة و من لقيني بقراب الأرض خطايا لم يشرك بي شيئا جعلت له مثلها مغفرة أخرجه مسلم من حديث وكيع و أبي معاوية عن الأعمش و قال : و في رواية وكيع : فله عشر أمثالها و أزيد و قال : في رواية أبي معاوية أو أزيد

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسین بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو معرور بن سوید نے ان کو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص نیکی کا کوئی عمل کرتا ہے اس کی جزا اس سے دس گناہ زیادہ ہے یا میں اس سے بھی زیادہ کردوں گا۔ اور جو کوئی شخص برائی کا کوئی عمل کرتا ہے اس کی جزا اسی بدی کے برابر ہوتی ہے یا میں اس کو بھی معاف کردوں گا۔ جو شخص ایک بالشت برابر میری طرف قریب ہوتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور جو شخص میری طرف ایک ہاتھ کے برابر قریب ہوتا ہے میں ایک قدم اس کی طرف قریب ہو جاتا ہوں اور جو شخص میرے پاس چل کر آتا ہے میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں اور جو شخص مجھ سے زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ ملتا ہے مگر وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا میں اس کے لئے اس کی مثل اور اس کے برابر مغفرت سے بنا دیتا ہوں ۔ اس کو مسلم نے حدیث وکیع اور ابو معاویہ سے انہوں نے اعمش سے نقل کیا ہے اور مسلم نے کہا ہے کہ وکیع کی ایک روایت میں ہے کہ اس کے لئے اس کی نیکی کی دس مثل میں یعنی دس گناہیں۔ اور ابو معاویہ کی روایت میں ہے یا میں زیادہ کروں گا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1044

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1045

1044 - و قد أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا إسماعيل بن محمد الصفار أنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة قال : سئل ابن عمر عن لا إله إلا الله هل يضر معها عمل كما لا ينفع مع تركها عمل قال : ابن عمر : ـ و ذكر كلمة ـ عش لا تغتر قال البيهقي رحمه الله : و هذا لأنه قد يكون المراد بهذه المغفرة في المعاقبة و قد يغفر لمن يشاء العظيم و يعذب من يشاء على اليسير و قد يغفرهما لمن يشاء و قد يعذب عليهما من يشاء ثم يعفو و يغفر و لا ينبغي لمسلم أن يكون رجاؤه رحمة الله خاليا عن خوفة عذاب الله ليكون بخوفه منتهيا عن معصية الله و برجائه راغبا في طاعة الله و قد حكينا عن لقمان الحكيم في حد كل واحد منهما ما فيه كفاية كما :

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو اھمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ لا الٰہ الا اللہ کے ساتھ کیا کوئی عمل نقصان دے سکتا ہے جیسے لا الٰہ الا اللہ چھوڑ دینے سے کوئی عمل فائدہ نہیں دیتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لا الٰہ الا اللہ کہہ کر زندہ رہ مگر دھوکہ میں نہ رہ یا غرہ نہ ہو۔

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و قد

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1045

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1046

1045 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا أبو علي الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن محمد القرشي أخبرني عبد المنعم عن أبيه : عن وهب بن منبه قال : قال لقمان لابنه : يا بني أرج الله رجاء لا يجرئك على معصيته و خف الله خوفا لا يؤيسك من رحمته

ہمیں خبر دی ہے حسین بن بشران نے ان کو ابو علی حسین بن صفوان نے ان کو عبداللہ بن محمد قرشی نے ان کو عبدالمنعم نے ان کو ان کے والد نے ان کو وہب بن منبہ نے وہ فرماتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا اے بیٹے تو اللہ سے امید رکھ مگر ایسی امید نہ ہو جو تجھے اس کی نافرمانی کرنے پر جری کردے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہ مگر ایسا خوف نہ ہو جو تجھے اللہ کی رحمت سے مایوس کردے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم ← عبد الله بن محمد القرشي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1046

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1047

1046 - أخبرنا أبو محمد الحسن بن علي بن المؤمل ثنا أبو عثمان البصري ـ ح و حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن يعقوب العدل قالا : ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون ثنا المسعودي عن عون بن عبد الله بن عبد الله قال : قال لقمان لابنه : يا بني أرج الله رجاء لا تأمن فيه مكره و خف الله مخافة لا تيأس فيها من رحمته قال : يا أبتاه و كيف أستطيع ذلك ؟ و إنما لي قلب واحد قال : المؤمن كذا له قلبان : قلب يرجو به و قلب يخاف به و روي عن الفرات بن السائب عن ميمون بن مهران عن ابن عباس مرفوعا في القلبين معنى هذا و هو ضعيف بمرة

ہمیں خبر دی ابو محمد حسن بن علی بن مؤمل نے ان کو ابوعثمان بصری نے اور ہمیں بات بیان کی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن یعقوب عدل نے دونوں کو محمد بن عبدالوہاب فراء نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعودی نے ان کو عون بن عبداللہ نے کہتے ہیں کہ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے اللہ تعالیٰ سے امید رکھ مگر ایسی امید نہ ہو جس میں تو اللہ کی تدبیر سےبے باک ہو جائے اور اللہ سے ڈر مگر ایسا ڈر نہیں جو تجھے اس کی رحمت سے مایوس کر دے۔ لقمان حکیم کے بیٹے نے باپ سے کہا : اے ابا جان میں کیسے اس کی طاقت رکھوں گا۔ جب کہ میرا تو ایک ہی دل ہے لقمان حکیم نے کہا کہ مؤمن ایسے ہی ہوتا ہے اس کے دو دل ہوتے ہیں ایک دل کے ساتھ وہ اللہ سے امید کرتا ہے تو دوسرے دل کے ساتھ اس سے ڈرتا بھی ہے ۔ اور فرات بن سائب سے روایت ہے انہوں نے میمون بن مہران سے اس نے عباس سے مرفوعاً دو دل ہونے کے بارے میں روایت کی ہے یعنی اس کا مفہوم ہے اور وہ کئی اعتبار سے ضعیف ہے ۔

عون بن عبد الله بن عبد الله ← الْمَسْعُودِيِّ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1047

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1048

1047 - أخبرنا علي بن محمد بن عبد الله بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر قال : قال لي الزهري : لأحدثنك بحديثين عجيبين أخبرني حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت أوصى بنيه فقال إذا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم ذروني في الريح في البحر فو الله لئن يقدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ففعلوا به فقال الله عز و جل للأرض أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال : ما حملك على ما فعلت ؟ قال : خشيتك يا رب ـ أو قال مخافتك ـ فغفر له قال : و حدثني حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : دخلت امرأة في هرة ربطتها فلا هي أطعمتها و لا هي أرسلتها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت قال الزهري : هي لئلا يتكل أحد و إلا ييأس أحد و رواه مسلم عن محمد بن رافع و عبد بن حميد عن عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ہے علی بن محمد بن عبداللہ بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے کہتے ہیں مجھے امام زہری نے کہا: میں تمہیں ضرور دو عجیب حدیثیں بتاؤں گا ۔ مجھے خبر دی ہے محمد بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے اپنے نفس پر اسراف اور زیادتی کی جب اس کو موت آئی تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو مجھے جلا دینا پھر میری راکھ کو پیس دینا پھر میری راکھ کو سمندر میں جا کر ہوا میں اڑا دینا۔ اللہ کی قسم اگر میرا رب مجھ پر عذاب دینے پر قادر ہو گیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو بھی نہیں دیا ہوگا۔ چنانچہ اس کے مرنے کے بعد بیٹوں نے اس کی وصیت پوری کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔ لٰہذا اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ تو نے اس کی راکھ کے جتنے اجزا لئے ہیں وہ واپس لوٹا دے لٰہذا اللہ کی قدرت سے وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا ایسا کرنے کی جسارت تم نے کیوں کی تھی ؟ بولا اے میرے رب یہ سب کچھ میں نے تیرے ڈر سے کیا تھا یا کہا مخافتک۔ تیرے خوف سے کیا تھا۔ لٰہذا اللہ نے اس کو بخش دیا۔ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی حمید بن عبدالرحمٰن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت جہنم میں داخل کر دی گئی ایک بلی کے معاملے میں جس کو اس نے باندھ دیا تھا نہ اس نے اسے خود کچھ کھانے کو دیا۔ اور نہ ہی اسے چھوڑا تاکہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے حتیٰ کہ وہ مر گئی تھی۔ امام زہری کہتے ہیں کہ یہ اس لئے فرمایا تا کہ نہ تو کوئی ناامید ہو اور نہ ہی کوئی آسرا کرکے بیٹھے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے محمد بن رافع سے اور عبداللہ بن حمید سے اور عبدالرزاق سے۔

مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← علي بن محمد بن عبد الله بن بشران،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1048

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1049

1048 - أخبرنا أبو بكر بن فورك ثنا عبد الله بن جعفر أنا أبو بشر يونس بن حبيب ثنا أبو داود الطيالسي ثنا عبد الله بن المبارك عن يحيى بن أيوب عن عبيد الله بن زحر عن خالد بن أبي عمران عن ابن عباس عن معاذ بن جبل قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن شئتم أنبأتكم بأول ما يقول الله للمؤمن يوم القيامة و بأول ما يقولون ؟ قالوا : نعم يا رسول الله قال : يقول للمؤمنين : هل أحببتم لقائي ؟ قال : فيقولون : نعم يا ربنا فيقول : لم ؟ فيقولون : رجونا عفوك و رحمتك فيقول : إني قد أوجبت لكم رحمتي

ہمیں خبر دی ہے ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو ابو بشر یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کو عبداللہ بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ایوب نے ان کو عبید بن زحر نے ان کو خالد بن ابو عمران نے ان کو حضرت ابن عباس نے ان کو حضرت معاذ بن جبل نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت کے دن مؤمنوں سے پہلے سوال اور مؤمنوں کے پہلے جواب کے بارے میں بتلاؤں کہ وہ کیا کہیں گے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم! فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے فرمائیں گے کیا تم میری ملاقات کو محبوب رکھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کہیں گے جی ہاں! اے ہمارے رب۔ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ میری ملاقات کو کیوں پسند کرتے تھے ؟ وہ جواب دیں گے ہم تیری رحمت اور تیرے عفو و در گذر کرنے کی امید رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ۔ بے شک میں نے اپنی رحمت تمہارے لئے واجب کر دی ہے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أبو بشر يونس بن حبيب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1049

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1050

1049 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس هو الأصم ثنا عبد الملك بن عبد الحميد الميموني ثنا روح بن عبادة ثنا ابن عون عن عمير بن إسحاق : قال : كان من أدركت من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أكبر ممن سبقني فما رأيت قوما أهون سيرة و لا أقل تشديدا منهم و قد جاء عن عبد الله بن مسعود و غيره في التشديد في الأمن من مكر الله و اليأس من رحمة الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں فرماتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابو العباس رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو عبدالملک بن عبدالحمید میمونی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو ابن عون نے ان کو عمیر بن اسحاق نے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سے جس کو بھی پایا وہ میرے پیش روؤں میں بڑے تھے (عمر میں بھی مرتبے اور مقام میں بھی مگر) میں نے ایسی قوم اور ایسے لوگ نہیں دیکھے جو سیرت کے اعتبار سے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آسان تر اور نرم تر ہوں اور شدت و سختی کے اعتبار سے قلیل اور کمتر ہوں۔

عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْمَيْمُونِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1050

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1051

1050 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق أنا معمر عن أبي إسحاق عن وبرة عن أبي الطفيل عن ابن مسعود أنه قال : الكبائر : الإشراك بالله عز و جل و الأمن من مكر الله و القنوط من رحمة الله و اليأس من روح الله

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصورنے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو وبرہ نے ان کو ابو الطفیل نے ان کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں: ۔(1) ۔۔۔ اللہ کے ساتھ شریک بنانا۔ (2) ۔۔۔ اللہ کی تدبیر سے بے خوفو بے باک ہونا۔ (3) ۔۔۔ اللہ کی رحمت سے ناامید ہونا۔ (4)۔۔۔ اللہ کی مہربانی سے مایوس ہونا۔

ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← وَبَرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1051

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1052

1051 - و بهذا الإسناد أخبرنا معمر عن عبد الله بن عثمان بن خيثم عن ابن أبي مليكة : أن عبيد بن عمير دخل على عائشة رضي الله عنها فقالت : من هذا ؟ فقالوا : عبيد بن عمير فقالت عمير بن قتادة ؟ قالوا : نعم قالت أحدث أنك تجلس و يجلس إليك قال : بلى يا أم المؤمنين فقالت فإياك و إملال الناس و تقنيطهم

اسی اسناد کے ساتھ ہمیں معمر نے خبر دی ہے ان کو عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے ان کو ابن ابی ملیکہ نے کہ عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے پوچھا کہ یہ کون آئے ہیں ؟ (اس لئے کہ پردے کے پیچھے تھے) بتایا گیا کہ عبید بن عمیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ عبید بن عمیر بن قتادہ ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں وہی ہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا کہ میں آپ کو حدیث بتاؤں گی کیا آپ مجلس اور حلقہ لگاتے ہیں لوگ آپ کے پاس بیٹھتے ہیں ؟ عبید بن عمیر نے عرض کیا جی ہاں اے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم بچانا اپنے آپ کو لوگوںکی اکتاہٹ میں ڈالنے سے ، اور ان کو ناامید اور مایوس کرنے سے۔

فإياك و إملال الناس و تقنيطهم ← بَلَى يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ← أحدث أنك تجلس و يجلس إليك ← نَعَمْ ← «عُمَيْرُ بْنُ قَتَادَةَ؟» ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← «مَنْ هَذَا؟» ← ابن أبي مليكة أن عبيد بن عمير دخل على عائشة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خيثم ← مَعْمَرٌ، ← و بهذا الإسناد

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1052

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1053

1052 - و بهذا الإسناد أخبرنا معمر عن زيد بن أسلم : أن رجلا كان في الأمم مجتهدا في العبادة و يشدد على نفسه و يقنط الناس من رحمة الله تعالى ثم مات فقال أي رب ما لي عندك ؟ قال : أي رب فأين عبادتي و اجتهادي ؟ قال فيقول : إنك كنت تقنط الناس من رحمتي في الدنيا فأنا أقنطك اليوم من رحمتي قال البيهقي رحمه الله : و لعل هذا الرجل كان يرى النجاة في عبادته و يعتمد عليها و لا يذكر مغفرة الله عز و جل الذنوب لمن يشاء من عباده بل كان يستبعدها

اسی اسناد کے ساتھ ہمیں معمر نے خبر دی ہے ، ان کو زید بن اسلم نے کہ امم سابقہ میں ایک آدمی جو کہ عبادت کرنے میں سخت جدوجہد کرتا تھا۔ اور اپنے نفس پر (عبادت کے معاملے میں) شدت اور سختی کرتا تھا۔ اور لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید اور مایوس کردیتا تھا۔ اس کے بعد وہ انتقال کر گیا۔ اس نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے رب آپ کے پاس میرے لئے کیا کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کہ تمہارے لئے میرے ہاں جہنم ہے ۔ بولا اے میرے رب پھر میری عبادت کہاں گئی اور میری سخت جدوجہد کہا گئی؟ زید بن اسلم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو لوگوں کو میری رحمت سے ناامید اور مایوس کرتا تھا دنیا میں ۔ میں آج تجھے رحمت سے مایوس اور نا امید کرتا ہوں۔

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1053

شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ باب في الرجاء من الله تعالى و فيه فصول ـ · حديث 1054

1053 - أخبرنا أبو محمد المؤملي ثنا أبو عثمان البصري ثنا أبو أحمد الفراء أنا يعلى ثنا الأعمش عن أبي سعد عن أبي الكنود قال : مر عبد الله يعني ابن مسعود على قاص و هو يذكر فقال : يا مذكر لا تقنط الناس ثم قرأ : { يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله إن الله يغفر الذنوب جميعا إنه هو الغفور الرحيم }

ہمیں خبر دی ابو محمد موملی نے ان کو ابو عثمان بصری نے ان کو ابو الدرداء نے ان کو یعلی نے ان کو اعمش نے ان کو ابو سعید نے ابوالکنود نےکہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک واعظ اور تقریر کرنے والے نصیحت کرنے والے کے پاس سے گذرے جو لوگوں کو وعظ اور نصیحت کر رہے تھے آپ نے فرمایا: اے مذکر اے نصیحت گر آپ لوگوں کو مایوس نہ کیجئے ا س کے بعد نے یہ آیت پڑھی۔ "قل یاعبادی الذی اسر فوا علی انفسھم لا تقنطوامن رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمعاً"(الزمر53)۔ اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں بے شک اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتا ہے ۔

مر عبد الله يعني ابن مسعود على قاص و هو يذكر ← أَبِي الْكَنُودِ ← أَبِي سَعْدٍ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى ← أَبُو أَحْمَدَ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُؤَمِّلِيُّ،

Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters · Hadith 1054

chevron_left Previous
1…91011…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood