شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في إحسان قضاء الدين · حديث 11229
11229 - أخبرنا أبو بكر بن الحسن القاضي أنا محمد بن أحمد الميداني عن محمد بن يحيى الذهلي ثنا بشر بن عمر حدثني إسماعيل بن إبراهيم بن عبد الله بن أبي ربيعة عن أبيه عن جده قال : استقرض مني رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعين ألفا فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم بمال فقال : ادعو لي ابن أبي ربيعة فقال : هذا مالك فبارك الله لك في مالك إنما جزاء السلف الوفاء و الحمد
ہمیں خبر دی ابو بکر بن حسن قاضی نے ان کو محمد بن احمد میدانی نے ان کو محمد بن یحییٰ ذہلی نے ان کو بشر بن عمر نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن عبد اللہ بن ابو ربیعہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے قرض لیا چالیس ہزار۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آ گیا۔ آپ نے فرمایا ابوربیعہ کو میرے پاس بلا لاؤ ( میں آ گیا تو ) آپ نے فرمایا یہ لیجئے آپ کا مال ہے اللہ تعالیٰ آپ کے لئے آپ کے مال میں برکت دے۔ یقینی بات ہے کہ پہلے دینے کا بدلہ پوری پوری ادائیگی کر دینا ہے اور شکریہ ادا کرنا ہے۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَيْدَانِيُّ، ← أبو بكر بن الحسن القاضي
Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › Chapter - in charity to spend the debt · Hadith 11229
