Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2861

2861 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا ابن رجاء ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي نصير عن أبي بن كعب قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبح ثم أقبل علينا بوجهه فقال أشاهد فلان و فلان و فلان حتى عد ثلاثة كل ذلك يقولون نعم قال : إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء و صلاة الفجر و لو يعلمون ما فيهما لأتوهما و لو حبوا و اعلموا أن الصف المقدم على مثل صف الملائكة لو علمتم فضيلته لابتدرتموه و اعلموا أن صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاة الرجل وحده و إن صلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل و ما كثر أحب إلى الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر نصبی نے ان کو ابن رجاء نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن ابو نصیر نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اس کے بعد ہماری طرف منہ کر لیا اور پوچھا کہ فلاں فلاں آدمی موجود ہیں تین بندوں کے نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شمار کیے ہر ایک یہ کہتا رہا کہ جی ہاں میں موجود ہوں اس کے بعد آپ نے فرمایا بے شک منافقوں پر ثقیل ترین نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے اگر وہ یہ جان لیتے کہ ان دونوں میں کتنا بڑا ثواب ہے تو ضرور ان کو ادا کرنے کے لیے آتے اگرچہ وہ گھٹنوں کے بل بھی آسکتے اور جان لو کہ صف اول یعنی اگلی صف فرشتوں کی صف جیسی ہے اگر تم لوگ اسکی فضیلت جان لیتے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے جلدی کرتے اور تم جان لو کہ دو آدمیوں کی نماز زیادہ پاکیزہ ہے اکیلیے آدمی کی نماز اور آدمی کی نماز دو آدمیوں کے ساتھ زیادہ پاکیزہ ہے۔ ایک آدمی کے ساتھ اس کی نماز ے اور جتنے زیادہ ہوں گے وہ اللہ کی زیادہ محبوب ہے۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نُصَيْرٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابْنُ رَجَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2861

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2862

2862 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا إسماعيل بن إسحاق ثنا سليمان بن حرب ثنا شعبة عن إبراهيم بن المهاجر عن أبي الشعثاء قال : كنت مع أبي هريرة في مسجد الكوفة فأذن المؤذن فقام رجل فخرج فقال : أما هذا فقد عمي أبا القاسم صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن اسحٰق نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو ابراہیم بن مہاجر نے ان کو ابو المشعثاء نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا کوفے کی مسجد میں اتنے میں مؤذن نے اذان دی اور ایک آدمی اٹھ کر باہر چلا گیا ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ شخص اندھا ہو گیا ہے ابو القاسم سے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے آنکھیں اس نے بند کر لی ہیں اذان سن کر بغیر نماز پڑھے چلا گیا ہے)۔

كنت مع أبي هريرة في مسجد الكوفة فأذن المؤذن فقام رجل فخرج ← أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2862

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2863

2863 - و أخبرنا علي ثنا أحمد ثنا إسماعيل ثنا يحيى ثنا شريك عن الأشعث بن أبي الشعثاء المحاربي عن أبيه قال : كنا قعودا عند أبي هريرة فأذن المؤذن فخرج رجل من المسجد فقال أبو هريرة أما هذا فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أذن المؤذن فلا يخرج أحد حتى يصلي

ہمیں خبر دی ہے علی نے ان کو احمد نے ان کو اسماعیل نے ان کو یحییٰ نے ان کو شریک نے ان کو اشعث بن ابی المشعثاء محاربی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بیٹھے تھے اتنے میں موذن نے اذان پڑھی اور ایک آدمی مسجد سے باہر نکل گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا بہر حال یہ شخص اس نے ابو القاسم کی نافرمانی کی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب مؤذن اذان کہہ دے تو پھر کوئی بھی مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے۔

كنا قعودا عند أبي هريرة فأذن المؤذن فخرج رجل من المسجد ← أَبِيهِ ← الأشعث بن أبي الشعثاء المحاربي ← شَرِيکٍ ← يَحْيَى ← إِسْمَاعِيلُ ← أَحْمَدُ، ← عَلِيٍّ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2863

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2864

2864 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو بكر بن داود حدثني محمد بن الحسين بن مكرم الحافظ ثنا شريج بن يونس ثنا أبو حفص الأبار عن محمد بن جحادة عن أبي صالح قال : رأى أبو هريرة رجلا يخرج من المسجد حين أذن المؤذن و حين أخذ في الإقامة فقال : أما هذا فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن داؤد نے ان کو محمد بن حسین مکرم حافظ نے ان کو شریج بن یونس نے ان کو ابو حفص ایاز نے ان کو محمد بن جحادہ نے ان کو ابو صالح نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ جب موذن نے اذان کہی وہ مسجد سے نکل رہا تھا جب وہ اقامت کے لیے شروع ہو رہا تھا انہوں نے فرمایا بہر حال اس شخص نے ابو القاسم کی نافرمانی کی ہے۔

اَبِیْ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← شريج بن يونس ← محمد بن الحسين بن مكرم الحافظ ← أبو بكر بن داود ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2864

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2865

2865 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن علي بن دحيم ثنا أحمد بن حازم ثنا الفضل بن دكين ثنا أبو العميس عن علي بن الأقمر عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : من سره أن يلقى الله غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات حيث ينادى بهن فإن الله عز و جل شرع لنبيكم سنن الهدى و إنهن من سنن الهدى و لو أنكم صليتم في بيوتكم كما يصلي هذا المتخلف في بيته لتركتم سنة نبيكم و لو تركتم سنة نبيكم صلى الله عليه و سلم لضللتم و ما من رجل يتطهر فيحسن الطهور ثم يعمد إلى مسجد من هذه المساجد إلا كتب الله له بكل خطوة يخطوها حسنة و رفع له بها درجة و حط عنه بها خطيئة و لقد رأيتنا و ما يتخلف عنها إلا منافق قد علم نفاقه و لقد كان الرجل يهادي بين الرجلين حتى يقام في الصف رواه مسلم عن أبي بكر بن أبي شيبة عن أبي نعيم

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن علی بن وجیم نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو فضل بن دکین نے ان کو ابوالعمیس نے ان کو علی بن اقمر نے ان کو ابوا لاحوص نے ان کو عبداللہ نے اس نے کہا کہ جس کو یہ بات اچھی لگے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحالت مسلمان ملے اسے چاہیے کہ ان پانچ نمازوں کی حفاظت کرے جہاں یا جب بھی انکی اذان کہی جائے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لئے ہدایت کی سنتیں یا ہدایت کے راستے اور طریقے مقرر کر دئیے ہیں اور یہ نمازیں ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اور اگر تم لوگ اپنے گھر میں نمازیں پڑھ لیا کرو جیسے فلاں پیچھے رہ جانے والا اپنے گھر میں پڑھ لیتا ہے تو تم لوگ اپنے نبی کی سنت اور طریقے چھوڑ دو گے اور اگر تم اپنے نبی کے طریقے کو اور سنت کو چھوڑ دو گے تو تم گمراہ ہوجاؤ گے جو بھی آدمی وضو کرتا ہے اور وضو کو اچھے طریقے سے کرتا ہے اس کے بعد ان مساجد میں سے مسجد کی راہ لیتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے میں جو بھی وہ قدم اٹھاتا ہے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور اس کی ایک غلطی مٹا دی جاتی ہے اور البتہ تحقیق تم نے ہم لوگوں کو دیکھا ہے (کہ ہم لوگ کس طرح باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہیں) اور باجماعت نماز سے پیچھے کوئی نہیں رہتا صرف منافق ہی پیچھے رہتا ہے جس کا نفاق جانا پہچانا ہو اور البتہ تحقیق ہوتا تھا ایک آدمی گھسیٹا جاتا تھا یعنی چلایا جاتا تھے درمیان دو آدمیوں کے یہاں تک کہ اس صف میں لاکھڑا کیا جاتا ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے ابو بکر بن ابو شیبہ سے اس نے ابو نعیم سے۔

«مَنْ سَرَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ ← أَبُو الْعُمَيْسِ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2865

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2866

2866 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن علي بن عفان ثنا حسين بن علي عن زائدة عن إبراهيم الهجري قال : سمعت أبا الأحوص يحدث عن عبد الله بن مسعود قال : من سره أن يلقى الله عز و جل غدا مسلما فليحافظ على هؤلاء الصلوات المكتوبات حيث ينادى بهن و ذكر الحديث نحوه و زاد في آخره حتى إن كنا لنقارب بين الخطى

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو حسین بن علی نے ان کو زائدہ نے ان کو ابراہیم ہجری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو الاحوص سے وہ حدیث بیان کرتے تھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انہوں نے فرمایا۔ جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو فرمانبردار کی حیثیت سے ملے اسے چاہیے کہ وہ ان فرض نمازوں کی حفاظت کرے جس وقت ان کی طرف سے پکار ا جائے (یعنی اذان ہو) اور راوی نے آگے اسی کے مثل حدیث ذکر کی ہے اور اس کے آخر میں اس نے یہ اضافہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ بے شک تھے ہم لوگ البتہ ہم قدم ایک دوسرے کے قریب کرتے تھے (یعنی سف میں مل مل کر کھڑے ہوتے تھے)۔ یا دوسری تعبیر یہ ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے قدم رکھ رکھ کر مسجد میں باجماعت نماز کے لئے جاتے تھے تاکہ کثرت خطی کا اور زیادہ قدموں کا ثواب لکھا جائے۔

«مَنْ سَرَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← إبراهيم الهجري ← زَائِدَۃَ، ← حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2866

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2867

2867 - أخبرنا أبو علي الحسن بن إبراهيم بن شاذان ببغداد ثنا حمره بن محمد بن العباس ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا عبيد الله بن موسى أنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله قال : امشوا إلى الصلاة فقد مشى إليها من هو خير منكم أبو بكر و عمر و المهاجرين و الأنصار قاربوا بين الخطى و أكثروا ذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ہے ابو علی حسن بن ابراہیم بن شاذان نے بغداد میں ان کو حمرہ بن محمد بن عباس نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ابو اسحٰق سے اس نے ابو الاحوص سے اس نے عبداللہ سے اس نے کہا کہ نماز کے لئے چلو وہ چلے گئے وہ جو تم سے بہتر تھے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مہاجرین اور انصار قدموں کے درمیان قریب کرو اور اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرو۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حمره بن محمد بن العباس ← أبو علي الحسن بن إبراهيم بن شاذان

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2867

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2868

2868 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا محمد بن ثابت عن ثابت قال : مشينا مع أنس فجعل يقارب بين الخطى فقال يا ثابت لم لا تسألني لم أفعل بك هذا قال : و لم تفعله ؟ قال : إني مشيت مع زيد بن ثابت ففعل بي مثل هذا ثم قال : لم لا تسألني لم أفعل قال : أردت أن تكثر خطاي للمسجد رواه الضحاك بن نبراس عن ثابت عن أنس عن زيد بن ثابت عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه فعل ذلك بزيد بن ثابت

ہمیں خبر دے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو داؤد نے ان کو محمد بن ثابت نے ان کو ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےساتھ چلے وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے چل رہے تھے فرمانے لگے ثابت تم مجھ سے یہ نہیں پوچھتے کہ میں ایسے کیوں چل رہا ہوں؟ میں نے پوچھا کیوں ایسے چل رہے ہیں؟ فرمایا کہ میں زید بن ثابت کے ساتھ چل رہا تھا انہوں نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا تھا پھر انہوں نے مجھے یہی جملہ کہا تھا کہ تم مجھ سے نہیں پوچھتے کہ میں ایسے کیوں چل رہا ہوں؟ اور فرمایا ااس لئے کہ میں چاہتا ہوں کہ مسجد کی طرف میرے قدم زیادہ زیادہ ہوں (اور زیادہ زیادہ ثواب حاصل ہو)۔ اس کو ضحاک بن نبراس نے روایت کیا ہے ثابت سے اس نے حضرت انس سے اس نے زید بن ثابت سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أردت أن تكثر خطاي للمسجد رواه الضحاك بن نبراس ← لم لا تسألني لم أفعل ← إني مشيت مع زيد بن ثابت ففعل بي مثل هذا ثم ← و لم تفعله ← يا ثابت لم لا تسألني لم أفعل بك هذا ← مشينا مع أنس فجعل يقارب بين الخطى ← ثَابِتٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2868

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2869

2869 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا أبو سهل بن زياد القطان ثنا إسحاق ابن الحسن ثنا عفان ثنا حماد بن سلمة ثنا ثابت البناني قال : كنت أمشي مع أنس ابن مالك و قد أقيمت الصلاة فجعل يقرب خطاه فقال ألا تسألني لم أفعل هذا ؟ فقال : و لم تفعله ؟ فقال : هذا فعل بي ذلك ليكون أكثر لخطانا

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو اسحٰق بن حسن نے ان کو عفان نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت البنانی نے فرمانے لگے کہ میں انس بن مالک کے ساتھ چل رہا تھا اور تحقیق نماز قائم ہو چکی تھی وہ قریب پیر رکھنے لگے اور فرمایا تم مجھ سے نہیں پوچھ رہے ہو کہ میں نے ایسے ایسے کیوں کیا ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیوں کیا ہے۔ پس فرمایا : یہ اس لیے کیا ہے تاکہ ہمارے قدم زیادہ زیادہ ہوں۔

ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← إسحاق ابن الحسن ← أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2869

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2870

2870 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان ثنا الفضل بن العباس و أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو العباس الضبعي ثنا الحسن بن علي بن زياد قالا : ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا عبد الله بن وهب بن مسلم البصري عن توان بن مسعود عمن حدثه عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا عثمان بن مظعون من صلى صلاة الفجر في جماعة ثم جلس يذكر الله حتى تطلع الشمس كان له في الفردوس سبعون درجة بعد كل درجتين كحضر الفرس الجواد المضمر سبعين سنة و من صلى صلاة الظهر في جماعة كان له في جنات عدن خمسون درجة بعد ما بين كل درجتين كحضر الفرس الجواد المضمر خمسين سنة و من صلى العصر في جماعة كان له كأجر ثمانية من ولد إسماعيل كلهم رب بيت يعتقهم و من صلى العشاء في جماعة كان له كقيام ليلة القدر و روى بكر بن خنيس عن ضرار بن عمرو عن ثابت عن أنس ببعض معناه

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو فضل بن عباس نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو العباس ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے اسماعیل بن ابو اویس نے ان کو عبداللہ بن وہب بن مسلم بصری نے ان کو تو ان بن مسعود نے اس سے حسن نے اس کو حدیث بیان کی تھی اس نے انس بن مالک سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے عثمان بن مظعون جو شخص فجر کی نماز با جماعت پڑھے اس کے بعد بیٹھ جائے اللہ کا ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اس کےلیے جنت الفردوس میں ستر درجے ہوں گے۔ ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہو گا کہ اس کو طے کرنے کے لئے خالص نسل کا وہ گھوڑا جو مشق و تربیت کر کے پتلا مگر تیز رفتار ہو چکا ہو ستر سال تک دوڑتا رہے تیزی سے اور جس نے ظہر کی نماز با جماعت سے پڑھی اس کے لئے جنت عدن کے اندر پچاس درجات ہوں گے ہردو درجوں کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہو گا کہ اعلیٰ نسل کا مشق میں پتلا ہو جانے والا تیز گھوڑا پچاس سال میں طے کر سکے گا اور جس نے عصر کی نماز با جماعت ادا کی اس کے لئے اتنا اجر ہو گا جیسے اولاد اسماعیل علیہ السلام کے آٹھ افراد کے لئے ہو ان میں سے ہر ایک ایسے گھر کا مالک ہو جس نے ان کو آزاد کیا ہو۔ (یعنی اولاد اسماء کے آٹھ افراد کو آزاد کرنے والے کے اجر کے برابر) اور جس نے عشاء کی نماز با جماعت ادا کی اس کے لئے لیلۃ القدر کا قیام کرنے کے برابر اجر و ثواب ہو گا۔ اس کو روایت کیا ہے بکر بن خنیس نے ضرار بن عمرو سے اس نے ثابت سے اس نے انس سے اس کے بعض مفہوم کے ساتھ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← توان بن مسعود عمن ← عبد الله بن وهب بن مسلم البصري ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو الْعَبَّاسِ الضُّبَعِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ← الفضل بن العباس و ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2870

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2871

2871 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا محمد بن أبي حميد عن أبي عبد الله القراظ عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحافظ المنافق أربعين ليلة على صلاة العشاء يعني في جماعة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نےا ن کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو محمد بن ابو حمید نے ان کو ابو عبداللہ قراظ نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ منافق آدمی چایس رات تک عشاء کی نماز با جماعت پڑھنے کی حفاظت نہیں کر سکتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظِ ← محمد بن أبي حميد ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2871

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2872

2872 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن علي بن يحيى التميمي ثنا أبو العباس محمد بن إسحاق ثنا عقبة بن مكرم العمي ثنا سالم بن قتيبة عن طعمة بن عمرو عن حبيب عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم : من صلى في جماعة أربعين يوما لا تفوته التكبيرة الأولى كتب الله له براءة من النار و براءة من النفاق قال البيهقي : رحمه الله : في كتابي حبيب بن أبي ثابت و هو خطأ إنما هو حبيب بن أبي الحذاء أبو عمير

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبدالرحمٰن محمد بن علی بن یحییٰ تمیمی نے ان کو ابو العباس محمد بن اسحٰق نے ان کو عقبہ بن مکرم عمی نے ان کو سلام بن قتبہ نے ان کو طعمہ بن عمرو نے ان کو حبیب نے ان کو انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو برات نامہ آگ سے دوسرا منافقت سے۔ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ میری کتاب میں (یعنی میرے مسودے اور بیاض میں) حبیب بن ابو ثابت ہے مگر یہ غلطی ہے بلکہ وہ حبیب بن ابو الخداء ابو عمیر ہے۔

أَنَسٍ، ← حَبِيبٍ ← طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو ← سَالِمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ1 ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أبو عبد الرحمن محمد بن علي بن يحيى التميمي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2872

chevron_left Previous
1…888990…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood