شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2861
2861 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عثمان بن عمر الضبي ثنا ابن رجاء ثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن عبد الله بن أبي نصير عن أبي بن كعب قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبح ثم أقبل علينا بوجهه فقال أشاهد فلان و فلان و فلان حتى عد ثلاثة كل ذلك يقولون نعم قال : إن أثقل الصلاة على المنافقين صلاة العشاء و صلاة الفجر و لو يعلمون ما فيهما لأتوهما و لو حبوا و اعلموا أن الصف المقدم على مثل صف الملائكة لو علمتم فضيلته لابتدرتموه و اعلموا أن صلاة الرجل مع الرجل أزكى من صلاة الرجل وحده و إن صلاته مع الرجلين أزكى من صلاته مع الرجل و ما كثر أحب إلى الله عز و جل
ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عثمان بن عمر نصبی نے ان کو ابن رجاء نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن ابو نصیر نے ان کو ابی بن کعب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی اس کے بعد ہماری طرف منہ کر لیا اور پوچھا کہ فلاں فلاں آدمی موجود ہیں تین بندوں کے نام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شمار کیے ہر ایک یہ کہتا رہا کہ جی ہاں میں موجود ہوں اس کے بعد آپ نے فرمایا بے شک منافقوں پر ثقیل ترین نماز عشاء اور فجر کی نماز ہے اگر وہ یہ جان لیتے کہ ان دونوں میں کتنا بڑا ثواب ہے تو ضرور ان کو ادا کرنے کے لیے آتے اگرچہ وہ گھٹنوں کے بل بھی آسکتے اور جان لو کہ صف اول یعنی اگلی صف فرشتوں کی صف جیسی ہے اگر تم لوگ اسکی فضیلت جان لیتے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے جلدی کرتے اور تم جان لو کہ دو آدمیوں کی نماز زیادہ پاکیزہ ہے اکیلیے آدمی کی نماز اور آدمی کی نماز دو آدمیوں کے ساتھ زیادہ پاکیزہ ہے۔ ایک آدمی کے ساتھ اس کی نماز ے اور جتنے زیادہ ہوں گے وہ اللہ کی زیادہ محبوب ہے۔
أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نُصَيْرٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← ابْنُ رَجَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2861
