شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ الصلوات الخمس في الجماعة ـ و ما في ترك الجماعة بغير عذر من الكراهية ـ و ما في تركهن من العقوبة سوى ما مضى · حديث 2849
2849 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو بكر بن إسحاق أنا أبو المثنى و محمد بن أيوب قالا : ثنا عبيد الله بن محمد القرشي ثنا عبد الواحد بن زياد عن عثمان بن حكيم ثنا عبد الرحمن بن أبي عمره قال : صليت المغرب ثم دخلنا المسجد فإذا عثمان بن عفان جالس وحده فجئت حتى جلست إليه فقال : من أنت فقلت : عبد الرحمن بن أبي عمره فقال : يا ابن أخي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من صلى العشاء في جماعة فكأنما قام شطر الليل و من صلى الصبح في جماعة فكأنما صلى الليل كله أخرجه مسلم في الصحيح من حديث عبد الواحد بن زياد و اختلف في لفظه على سفيان الثوري عن عثمان بن حكيم فقيل عنه و قيل عنه كما
ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن اسحٰق نے ان کو المثنی نے اور محمد بن ایوب نے دونوں کو عبیداللہ بن محمد قرشی نے ان کو عبدالواحد بن زیاد نے ان کو عثمان بن حکیم نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابو عمرہ نے انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کی نماز پڑھی پھر ہم لوگ مسجد میں داخل ہوئے۔ دیکھا تو وہاں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکیلے بیٹھے ہوئے ہیں میں بھی آکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو۔ میں نے جواب دیا عبدالرحمٰن بن ابو عمر ہوں۔ انہوں نے فرمایا اے بھتیجے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ فرما رہے تھے جس نے عشاء کی نماز با جماعت پڑھی پس گویا کہ اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت اد ا کی وہ ایسے ہے جیسے کہ اس نے پوری رات عبادت کی۔ اس کو مسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے عبدالوحد بن زیاد کی روایت سے اوار اس کے الفاظ ذرا مختلف ہو گئے ہیں سفیان ثوری پر عثمان بن حکیم سے ان سے اسی طرح کے الفاظ میں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسی طرح ہیں جیسے آنے والی روایت میں ہیں۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ ← أبو المثنى و محمد بن أيوب ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter - the five daily prayers in congregation - and the hatred for leaving the congregation without an excuse - and the punishment for neglecting them except for what was past · Hadith 2849
