شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7866
7866 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ نا إبراهيم بن عبد الله أنا يزيد بن هارون أنا الجريري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد العدل أنا محمد بن إسحاق أنا إسحاق بن شاهين نا خالد عن الجريري عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ؟ قال : قلنا بلى يا رسول الله قال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و كان متكئا فجلس فقال : ألا و قول الزور و شهادة الزور فما زال يقولها حتى قلنا : لا يسكت لفظ حديث خالد رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن شاهين و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سعيد عن الجريري
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو جریر نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومحمد بن زیا دعدل نے ان کومحمد بن اسحٰق نے ان کو اسحٰق بن شاہین نے ان کو خالد نے ان کو جریدی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیامیں تمہیں سب سے بڑےکبیرہ گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہم نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ !فرمایا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سہارا لگائے ہوئے تھے اس کے بعد سید ھے ہو کر بیٹھ گئے اورفرمایا خبر دار اور جھوٹی بات کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ آپ یہ لفظ بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کیا آپ چپ نہیں کریں گے؟ یہ الفاظ خالد کی روایت کے ہیں ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن شاہین سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے طریق سعید سے اس نے جو یری سے۔
أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← إسحاق بن شاهين ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7866
