Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7866

7866 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ نا إبراهيم بن عبد الله أنا يزيد بن هارون أنا الجريري ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد بن زياد العدل أنا محمد بن إسحاق أنا إسحاق بن شاهين نا خالد عن الجريري عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا أنبئكم بأكبر الكبائر ؟ قال : قلنا بلى يا رسول الله قال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و كان متكئا فجلس فقال : ألا و قول الزور و شهادة الزور فما زال يقولها حتى قلنا : لا يسكت لفظ حديث خالد رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن شاهين و أخرجه مسلم من وجه آخر عن سعيد عن الجريري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو یزید بن ہارون نے ان کو جریر نے ’’ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومحمد بن زیا دعدل نے ان کومحمد بن اسحٰق نے ان کو اسحٰق بن شاہین نے ان کو خالد نے ان کو جریدی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیامیں تمہیں سب سے بڑےکبیرہ گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہم نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ !فرمایا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم سہارا لگائے ہوئے تھے اس کے بعد سید ھے ہو کر بیٹھ گئے اورفرمایا خبر دار اور جھوٹی بات کرنا اور جھوٹی گواہی دینا۔ آپ یہ لفظ بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کیا آپ چپ نہیں کریں گے؟ یہ الفاظ خالد کی روایت کے ہیں ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے صحیح میں اسحاق بن شاہین سے اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے طریق سعید سے اس نے جو یری سے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← إسحاق بن شاهين ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ زِيَادٍ الْعَدْلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7866

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7867

7867 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ نا الحسين بن يعقوب العدل نا الحسين بن محمد بن زياد حدثني محمد القرشي نا محمد بن جعفر نا شعبة نا عبد الله بن أبي بكر قال : سمعت أنس بن مالك قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبائر أو سئل عن الكبائر فقال : الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس ثم قال : ألا أنبئكم بأكبر الكبائر قول الزور أو قال : شهادة الزور قال شعبة : و أكثر ظني أنه قال : وشهادة الزور روياه عن محمد بن الوليد

ہمیں خبر دی ہے محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو حسین بن یعقوب عدل نے ان کو حسین بن محمد بن زیاد نے ان کو محمد قرشی نے ان کو محمد بن جعفر نے ان کو شعبہ نے ان کو عبداللہ بن ابو بکر نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا۔ یاحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ ناحق قتل کرنا۔اس کے بعد فرمایا۔ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں؟ وہ ہے جھوٹی بات کرنا ہے۔ یایہ فر مایا تھا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ کہا شعبہ نے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ فرمایا تھا کہ جھوٹی گواہی دینا۔ دونوں نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن ولید سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← وشهادة الزور روياه ← شعبة و أكثر ظني أنه ← شَهَادَةُ الزُّورِ. ← أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟، قَوْلُ الزُّورِ، أَوْ ← الكبائر فقال الإشراك بالله و عقوق الوالدين و قتل النفس ثم ← رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبائر أو سئل ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← محمد القرشي ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7867

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7868

7868 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا عمرو بن مرزوق أنا شعبة عن القاسم بن أبي برة عن أبي الطفيل قال : سئل علي رضي الله عنه هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ؟ قال : ما خصنا بشيء لم يعم به الناس كافة إلا ما كان في قراب سيفي هذا و أخرج صحيفة فإذا فيها مكتوب لعن الله من ذبح لغير الله و لعن الله من سرق منار الأرض و لعن الله من ذبح لغير الله و لعن الله من سرق منار الأرض و لعن الله من لعن والديه و لعن الله من أوى محدثا رواه مسلم في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو عمر بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو قاسم بن ابو برہ نے ان کو ابوطفیل نے وہ کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا تم لوگوں کو رسول اللہ نے کسی چیز کے ساتھ خاص کیا تھا؟ فرمایا کہ ہمیں کسی شئی کے ساتھ خاص نہیں کیا تھا جس میں تمام لوگوں کو عام نہ کیا ہوسوائے اس کے جو کچھ میری اس تلوار کے نیام میں ہے۔ پھر انہوں نے اس میں سے ایک صحیفہ نکالا۔ اس میں یہ لکھا ہوا تھا اللہ لعنت کرے اس شخص کو جس نے غیر اللہ کے لئے ذبح کیا۔ اور اللد لعنت کرے اس کو جوز مین کے نشانات چرائے۔ (جو راستوں پر قائم کئے جاتے ہیں بطور نشان) اور اللہ لعنت کرے اس شخص کو جو اپنے والدین کولعنت کرے ( یا برا کہے ) اور اللہ لعنت کرے اس کو جو بدعتی کو پناہ دے۔اس کو مسلم نے روایت کیا شعبہ کی حدیث سے ۔

سئل علي هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَرَّةَ، ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7868

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7869

7869 - أخبرنا أبو عمرو محمد بن عبد الله الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي أخبرني أبو يعلى نا عباد بن موسى الختكي حدثني إبراهيم حدثني أبي عن حميد بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه قيل : يا رسول الله و كيف يلعن والديه قال : يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه رواه البخاري عن أحمد بن يونس عن إبراهيم بن سعد

ہمیں خبر دی ابوعمر ومحمد بن عبداللہ ادیب نے ان کو ابوبکر اسماعیلی نے ان کو خبر دی ابویعلی نے ان کو عباد بن موسیٰ نے ختکی نے ان کو حدیث بیان کی ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے ان کو حمید بن عبدالرحمٰن نے ان کو عبداللہ بن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک کبیرہ گناہوں میں سے کبیرہ گناہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے والد ین کولعنت کرے ۔ کہا گیا کہ یا رسول اللہ! سے کوئی اپنے والدین کو لعنت کرے گا ؟ فرمایا کہ وہ کسی کے باپ کو گالی دے گا لہذاوہ پلٹ کر اس کے والد کو گالی دے گا۔ اور یہ کسی کی ماں کو گالی دے گا اور وہ بھی پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دے گا۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے احمد بن یونس سے اس نے ابراہیم بن سعد سے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمَ، ← عباد بن موسى الختكي ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7869

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7870

7870 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة نا سعد بن إبراهيم قال : سمعت حميد بن عبد الرحمن يقول : سمعت عبد الله بن عمرو يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن من أكبر الكبائر و الذنوب أن يسب الرجل والديه في الإسلام قيل : يا رسول الله و كيف يسب والديه ؟ قال : يسب أبا الرجل فيسب أباه و يسب أمه فيسب أمه أخرجه مسلم من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابوداؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو سعد بن ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا حمید بن عبدالرحمٰن سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا عبد اللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں بے شک اکبر الکبائر اور گناہ یہ ہیں کہ اسلام میں آنے کے بعد بھی کوئی اپنے والدین کو گالی بکے۔ کہا گیا یارسول اللہ! کیسے کوئی اپنے والدین کوگالی دے گا ؟ فرمایا کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے گا اور وہ ان کے والد کوگالی دے گا یہ کسی کی ماں کو گالی دے گا اور وہ اس کی ماں کو گالی دے گا ۔ اس کونقل کیا ہے مسلم نے حدیث شعبہ سے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7870

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7871

7871 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا يعلى بن عبيد نا محمد بن سوقه عن محمد بن عبد الله الثقفي عن وراد قال : كتب المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم و راد أنه كتب بيده قال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله تبارك و تعالى حرم ثلاثة و نهى عن ثلاثة : عقوق الأمهات و وأد البنات و لا وهات و نهى عن ثلاث : قيل و قال إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم من وجه آخر عن محمد بن سوقة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبد الوہاب فراء نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کومحمدبن سوقہ نے ان کومحمد بن عبد اللہ ثقفی نے ان کو وراد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور یہ دعویٰ کیاوراد نے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ اور تین چیزوں سے منع کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا۔ بیٹیوں کوزندہ زمین میں دفن کرنا ۔ دینے کے لئے منع کرنا اور لینے کے لئے لاؤ دے دو کہنا۔ اور تین چیزوں سے منع کیا تھا۔ مال کو ضائع کرنا ، چپک کر سوال کر نا مانگنا اور قیل قال و حجت بازی کرنا ۔اس کو مسلم نے دوسرے طریق سے نقل کیا ہے محمد بن سوقہ سے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← إضاعة المال و إلحاف السؤال أخرجه مسلم من وجه آخر ← ثلاث قيل و ← ثلاثة عقوق الأمهات و وأد البنات و لا وهات و نهى ← إن الله تبارك و تعالى حرم ثلاثة و نهى ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← إِنِّي ← بيده ← المغيرة بن شعبة إلى معاوية و زعم و راد أنه ← وَرَّادٍ ← محمد بن عبد الله الثقفي ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7871

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7872

7872 - أخبرنا أبو عمرو الأديب أنا أبو بكر الإسماعيلي نا المطرز قاسم بن زكريا نا عبيد الله عن شيبان عن منصور عن المسيب بن رافع عن وراد عن المغيرة بن شعبة : أنه كتب إلى معاوية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سلم من الصلاة قال : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير و قال : إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات و وأد البنات و منع و هات وكره لكم قيل و كثرة السؤال و إضاعة المال رواه البخاري عن سعد بن حفص عن شيبان

ہمیں خبر دی ابو عمرو ادیب نے ان کو ابو بکر اسماعیلی نے ان کو مطرز قاسم بن زکریا نے ان کو عبید اللہ نے ان کو شیبان نے ان کو منصور نے مسیب بن رافع سے اس نے وراد سے اس نے مغیرہ بن شعبہ سے کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے۔ لا اله الا الله وحده لاشريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير . اور فرمایا کہ للہ تعالیٰ نے تمہارے اوپرحرام کیا ہے ماؤں کی نافرمانی کرنا بیٹیوں کوزند و در گور کرنا۔ دینے کے لئے منع کرنا اور لینے کے لئے ہاتھ پھیلا نا اور مکروہ قرار دیا ہے تمہارے لئے حجت بازی کرنے کو، کثرت سے مانگنے کو اور مال ضائع کرنے کو۔ بخاری نے اس کو روایت کی سعد بن حفص سے اس نے شیبان سے۔

إِلَى مُعَاوِيَةَ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ ← وَرَّادٍ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← المطرز قاسم بن زكريا ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ← أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7872

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7873

7873 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا جرير بن عبد الحميد عن زياد بن أبي زياد عن مجاهد عن أبي سعيد الخدري قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : لا يدخل الجنة ولد زنا و لا مدمن خمر و لا عاق لوالديه و لا منان

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کوحسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو زیاد بن ابو زیاد نے ان کو مجاہد نے ان کو ابوسعید خدری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے ۔ جنت میں داخل نہ ہو گا ولد الزنا (حرامی ) اور دائمی شرابی اور والدین کا نافرمان ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← زياد بن أبي زياد ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7873

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7874

7874 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا محمد بن إسحاق الصفار نا أبو بكر بن أبي شيبة نا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن سالم بن أبي الجعد عن مجاهد عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة عاق و لا مدمن خمر و لا منان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کواحد بن عبید نے ان کو محمد بن اسحاق صفار نے ان کو ابوبکر بن شیبہ نے ان کو عبدالرحیم بن سلیمان نے ان کو یزید بن ابوز یاد نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو مجاہد نے انہوں نے ابوسعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت داخل نہیں ہوگا والدین کا نافرمان اور نہ ہی عادی شرابی اور نہ ہی احسان جتلانے والا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← مُجَاهِدٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7874

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7875

7875 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر نا يونس بن حبيب نا أبو داود نا شعبة أخبرني منصور قال : سمعت سالم بن أبي الجعد يحدث عن نبيط عن جابان عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة عاق و لا منان و لا ولد زنية و لا مدمن و رواه جرير عن منصور فلم يذكر في إسناده نبيطا

ہمیں خبر دی ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو شعبہ نے ان کو خبر دی منصور نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سالم بن ابوالجعد سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں نبیط سے اس نے جابان سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کہتے ہیں نہیں داخل ہوگا جنت میں والدین کا نافرمان اور نہ ہی احسان جتلانے والا اور نہ ہی زانیہ کابیٹا اور نہ ہی عادی شرابی۔اس کو روایت کی جریر نے منصور سے اس نے اس کی سند میں نبیط کا ذکر نہیں کیا۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← نُبَيْطٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7875

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7876

7876 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن المصري نا محمد بن عمرو بن خالد نا سعيد بن أسد بن موسى نا مؤمل عن سفيان الثوري زبيد اليافعي عن جابان عن عبد الله بن عمرو : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يدخل الجنة مدمن خمر و لا قاطع رحم و لا ولد زنية و لا عاق والديه و لا من أتى ذات محرم و هو إن صح فهو ولد الزنا محمول على أن من عمل عمل أبويه و الله أعلم و قد ذكرنا في كتاب السنن سائر ما قيل فيه

تمہیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ابو الحسن مصری نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو خالد نے ان کو سعید بن اسد بن موسیٰ نے ان کو مومل نے سفیان ثوری ، زبید یافعی سے ان کو جابان نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں کہ۔ جنت میں داخل نہیں ہو گا عادی شرابی ،قطع رحمی کرنے والا ، نہ ہی ولد الحرام ، نہ ہی والدین کا نافرمان ، نہ ہی وہ شخص جومحرم عورت سے برائی کرے۔ اگر یہ روایت صحیح ہوتو پھرولد زنا(حرامی) محمول ہوگااس شرط پر کہ اپنے مال والا عمل کرے۔ (یعنی زنا کی اولاد جو بھی زنا کرے نیک صالح نہ ہو ) واللہ اعلم ۔ تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے کتاب السنن میں وہ تمام روایات جو اس بارے میں مذکور ہیں۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← جابان ← سفيان الثوري زبيد اليافعي ← مُؤَمَّلٍ، ← سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7876

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في عقوق الوالدين و ما جاء فيه · حديث 7877

7877 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة قالا : أنا يحيى بن منصور القاضي نا أبو مسلم نا أبو عاصم عن عمر بن محمد عن عبد الله بن يسار عن سالم عن ابن عمر : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لا ينظر الله إليهم يوم القيامة و ثلاثة لا يدخلون الجنة فأما الثلاثة الذي لا يدخلون الجنة فالعاق لوالديه و المرأة المترجلة تشبه بالرجال و الديوث و أما الثلاثة الذين لا ينظر الله إليهم فالعاق لوالديه و مدمن خمر و المنان بما أعطى كذا جاء به أبو عاصم و تبعه فيه غيره فذكر العاق في موضعين

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن سلمی نے ان کو ابونصر بن قتادہ نے ان کو یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کو ابومسلم نے ان کو ابو عاصم نے ان کو عمر بن محمد نے ان کوعبداللہ بن یسار نے ان کو سالم نے ان کوابن عمر نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ اور تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے جو تین جنت میں نہیں جائیں گے ایک تو والدین کا نافرمان ہے اور دوسری متر جلہ عورت یعنی جومردوں جیسی بنتی ہے یعنی مردوں جیسی مشابہت بناتی ہے ۔اور دیوث ( اپنی بیوی سے برائی کروانے والا ۔ ) اور وہ تین جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظرنہیں کرے گا۔ والدین کا نافرمان، دائمی شراب پینے والا اور دے کر احسان جتلانے والا ۔ ایسی ہی ابو عامہ روایت لائے ہیں اور اس میں اس کے سوا دوسروں نے اس کا متابع نقل کیا ہے دونوں جگہ والدین کے نافرمان کا ذکر ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ ← يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أبو عبد الرحمن السلمي و أبو نصر بن قتادة

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Chapter on disobedience to parents and what is stated in it · Hadith 7877

chevron_left Previous
1…878879880…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood