شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ حديث جرير العابد في فضل حفظ قلب الأم · حديث 7878
7878 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هاني نا السري بن خزيمة نا موسى بن إسماعيل نا سليمان بن المغيرة ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحسن بن علي الحافظ أنا أبو يعلى نا هدبه و شيبان قالا : نا سليمان بن المغيرة نا حميد بن هلال عن أبي رافع عن أبي هريرة قال : كان جريج يتعيد في صومعته فجاءته أمه فقالت : يا جريج أنا أمك كلمني قال أبو هريرة : جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم يصف لنا صفتها حين قالت هكذا و وضع يده اليمنى على جبينه هكذا و قال موسى في حديثه و وضع سليمان يده اليمنى على حاجبه الأيمن و أما شيبان فقال في حديثه و وصف لنا أبو رافع صفة أبي هريرة يصف رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه حيث دعته كيف جعلت كفها فوق حاجبها ثم رفعت رأسها تدعوه فقالت : يا جريج أنا أمك فكلمني فصادفته يصلي قال : اللهم أمي و صلاتي فاختار صلاته فرجعت ثم أتته الثانية فقالت : يا جريج أنا أمك فكلمني قال : فصادفته يصلي قال : اللهم أمي و صلاتي فاختار صلاته ثم أتته الثالثة فقالت : يا جريج أنا أمك فكلمني فصادفته يصلي قال : اللهم أمي و صلاتي فاختار صلاته فقالت : اللهم إن هذا جريج و إنه ابني و إني قد كلمته فأبى أن يكلمني اللهم فلا تمته حتى تريه المومسات قال : و لو دعت عليه أن يفتن لفتن قال : و كان راعي ضأن يأوي إلى ديره فخرجت امرأة من القرية فوقع عليها فحملت فولدت غلاما فقيل لها : ممن هذا ؟ قالت : من صاحب هذه الصومعة و قال موسى : من صاحب هذا الدير فأقبلوا عليه قال : فجاءوا بفؤسهم و مساحيهم فنادوه و صادفوه يصلي فلم يكلمهم فأخذوا يهدمون ديره فلما رأى نزل إليهم فقالوا له : سل هذه فمسح رأس الصبي و في حديث فتبسم ثم مسح رأس الصبي و قال : من أبوك قال : أبي راعي الضأن فلما سمعوا ذلك منه و رأوا ما رأوا قالوا : نحن نبني ما هدمنا من ديرك بالذهب و الفضة قال : لا و لكن أعيدوه ترابا كما كان زاد شيبان في حديثه قال : ثم علاه رواه مسلم عن شيبان
ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو سری بن خزیمہ نے ان کوموسیٰ بن اسماعیل نے ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ’’ح“ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حسن بن علی حافظ نے ان کو ابویعلی نے ان کو ہد بہ اور شیبان نے دونوں نے کہا ان کو سلیمان بن مغیرہ نے ان کو حمید بن ہلال نے ان کو ابورافع نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ جریج نامی شخص اپنے گر جے میں عبادت کرتا رہتا تھا۔ اس کی ماں اس کے پاس آئی اور بولی اے جریج ! میں تیری ماں ہوں مجھ سے کلام کر ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کرنے لگے کہ اس عورت نے ایسے کیا اتنے میں حضور نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے ماتھے پر ایسے رکھ لیا۔ اور موسی ٰنے کہا ہے اپنی حدیث میں کہ سلیمان نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں بھنویں پر رکھ لیا۔ بہر حال شیبان نے اس نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ ہمارے سامنے ابورافع نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صفت بیان فرمائی جو کہ رسول اللہ کی صفت بیان کر رہے تھے ۔ بے شک شان یہ ہے کہ جہاں ماں نے اس کو بلایا اس نے اپنی ہتھیلی اپنے بھنوں کے اوپر رکھ لی۔ پھر اپنا سر اٹھایا وہ اس کو بلا رہی تھی اور بولی اے جریج ! میں تیری ماں ہوں مجھ سے کلام کر ۔ مگر اس عورت نے ایسے وقت میں اس کو پکارا جب اتفاق سے وہ نماز پڑھ رہاتھا۔ اس نے دل میں کہا اے اللہ ! میری امی بھی بلا رہی ہے اور میں نماز بھی پڑھ رہا ہوں ( رب میں کیا کروں ماں کو دیکھوں یا نماز کو۔ ) چنانچہ اس نے نماز کوترجیح دی اور نماز کو پسند کیا ( مگر ماں نے ناراض ہو کر بد دعا دے دی ) پھر وہ چلی گئی ۔ پھر آ گئی۔ دوسری مرتبہ اس نے کہا اے جریج میں تیری ماں ہوں ۔ مجھ سے بات کر لے۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ اپنی نماز میں مصروف رہا۔ پھر تیسری مرتبہ بھی آئی اور مذکورہ الفاظ کہے۔ اس نے پھر اپنا مذکور ہ عمل ( نماز ) کو جاری رکھا تو ماں نے ناراض ہوکر بددعا دی اے اللہ ! یہ جریج میرا بیٹا ہے اور میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی ہے اس نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اے اللہ اس کو موت نہ دینا یہاں تک کہ آپ اس کو بد کار عورتیں دیکھا دینا۔ فرمایا کہ اگر وہ بددعا دے دیتی کہ وہ گناہ میں مبتلا ہو جائے تو وہ ہو جا تا۔اتفاق سے اس کے عبادت خانے کے قریب ایک بھیٹروں کا چرواہا آ کر پنا ہ لیتا تھا۔ چنانچہ ایک عورت بستی سے نکلی اور اس چرواہے کے ہتھے چڑھ گئی اس نے اس عورت کے ساتھ برائی کر لی جس سے وہ حاملہ ہوگئی اور اس کا لڑ کا پیدا ہوا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ کہاں سے لائی ہو؟ یہ کس کا ہے؟ اس عورت نے چرواہے کوتو چھپالیا اور اس عابد جریج کا نام لگا دیا اور کہا کہ اس گھر ہے میں جور بتا ہے یہ اس کا ہے ۔ اور موسی ٰنے کہا کہ اس جھونپڑی کا مالک کون ہے؟ لوگ اس کے پاس آئے اور اپنے کلہاڑے اور کدال ساتھ لائے انہوں نے اس کو بلا یا اتفاق سے اس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہا تھا اس نے ان کے ساتھ بات نہیں کی ۔لہذا انہوں نے اس کے عبادت خانے کو ڈھانا شروع کیا اس نے جب یہ حال دیکھا تو ان کے پاس اتر آیا لوگوں نے اس سے کہا کہ اس بچے سے پوچھ لو چنانچہ اس نے اس بچے کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ بچہ مسکرایا۔ اس عابد نے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے اس بچے نے بتایا کہ بھیٹروں کا چرواہا میرا باپ ہے۔ جب انہوں نے اس کی یہ کرامت دیکھی تو بولے ہم نے جو کچھ تیرا عبادت خانہ تو ڑا ہے ہم وہ سونے چاندی سے بنوا دیتے ہیں ۔ اس نے کہا نہیں بلکہ تم لوگ اس کو دو بار ومٹی کا ہی بنا دو۔ جیسے پہلے تھا۔ شیبان نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ اس نے کہا پھر وہ اس پر چڑھ گیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا شبیان سے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هدبه و شيبان ← أَبُو يَعْلَى ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › Jarir Al-Abed hadith about the merit of preserving the mother's heart · Hadith 7878
