Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7854

7854 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا أصبع نا ابن وهب نا يحيى بن أيوب زبان بن فائد عن سهل بن معاذ عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من بر بوالديه زاد الله في عمره و قد ذكرنا في باب صلة الرحم ما قيل في زيادة العمر

ہمیں خبروی بوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن عبدوس نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو اصبع نے ان کو ابن وہب نے ان کو یحییٰ بن ایوب زبان بن فائد نے ان کوسہل بن معاذ نے ان کو ان کے والد نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ کر دیتا ہے اور تحقیق ہم نے ذکر کیا ہے باب صلۃ الرحم میں جو کچھ روایات آئی ہیں عمر کی زیادتی کےبارے میں ۔

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← يحيى بن أيوب زبان بن فائد ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أصبع ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أحمد بن عبدوس ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7854

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7855

7855 - أخبرنا أبو الفتح هلال بن محمد الحفار ببغداد أنا الحسين بن يحيى بن عياش القطان نا أبو الأشعث نا حزم ابن أبي حزم نا ميمون بن سياه عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب أن يمد الله في عمره و يزيد في رزقه فليبر والديه و ليصل رحمه

ہمیں خبر دی ابوالفتح ہلال بن محمد حفار نے بغداد میں ان کو حسین بن یحیی ٰبن عیاش قطان نے ان کو ابو الاشعث نے ان کو حزم بن ابوحزم نے ان کو میمون بن سیارہ نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جوشخص پسند کرتا ہے کہ اللہ اس کودرازی عمر عطاء کرے اور ان کے رزق میں اضافہ کرے ان کو چاہئے کہ وہ والدین کے ساتھ نیکی کرے اور صلہ رحمی بھی کرے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ ← حزم ابن أبي حزم ← أَبُو الْأَشْعَثِ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ← أبو الفتح هلال بن محمد الحفار ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7855

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7856

7856 - أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني و أبو الحسن علي بن عبد الله البيهقي قالا : نا أبو بكر الإسماعيلي نا أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء نا محمد بن حميد نا زافر بن سليمان نا المستسلم بن سعيد عن الحكم ابن أبان عن عكرمة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما من ولد بار ينظر نظرة رحمة إلا كتب الله بكل نظرة حجة مبرورة قالوا و إن نظر كل يوم مائة مرة ؟ قال : نعم الله أكبر و أطيب

ہمیں خبر دی ابومنصور احمد بن علی دامغانی نے اور ابوالحسن علی بن عبداللہ بیہقی دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابو بکر اسماعیلی نے ان کوابو جعفر احمد بن حسین حذاء نے ان کو محمد بن حمید نے ان کوز افر بن سلیمان نے ان کومستسلم بن سعید نے ان کو حکم بن ابان نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کوئی بیٹا جو نیکی کرنے والا ہے جو نظر شفقت سے دیکھتا ہے مگر اس کے لئے ہرایک نظر کے بدلے میں ایک حج مقبول لکھ دیا جاتا ہے۔ لوگوں نے پوچھا کہ اگر وہ ہر روز سومر تبہ بھی نظر اٹھا کر دیکھے؟ فرمایا کہ جی ہاں اللہ بہت بڑا ہےاور زیادہ پاکیزہ ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ ابن أَبَانٍ، ← الْمُسْتَسْلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← أبو جعفر أحمد بن الحسين الحذاء ← أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7856

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7857

7857 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عبد الله بن إسحاق البغوي نا محمد بن إسماعيل السلمي نا أبو صالح نا الليث نا إبراهيم بن أعين البصري من بني عجل عن الحكم بن أبان عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا نظر الوالد إلى ولده ـ يعني فسر به ـ كان للولد عتق نسمة قال : قيل يا رسول الله و إن نظر ستين و ثلثمائة نظرة ؟ قال : الله أكبر من ذلك

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوعبداللہ بن اسحاق بغوی نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو ابو صالح نے ان کولیث بن ابراہیم بن اعین بصری جو قبیلہ بنی عجل سے ہیں ان کو حکم بن ابان نے ان کو عکر مہ نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی والد اپنے بیٹے کی طرف دیکھتا ہے اور اس کو خوشی ہوتی ہے اس بیٹے کے لئے ایک جان کی آزادی کی طرح ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہا کیا یارسول اللہ اگر وہ تین سو ساٹھ بار دیکھے؟ فرمایا اللہ بہت بڑا ہے اس سے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← إبراهيم بن أعين البصري من بني عجل ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7857

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7858

7858 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا عثمان بن أحمد بن السماك نا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشر بن الحارث يقول : الولد بالقرب من أمه حيث سمع نفسه أفضل من الذي يضرب بسيفه في سبيل الله عز و جل و النظر إليها أفضل من كل شيء

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنابشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں۔ کہ بیٹا اپنی ماں کے قریب تر ہو ایسی جگہ جہاں اس کا نفس سن سکے یہ افضل ہے اسی شخص سے جواللہ کی راہ میں تلوار چلا تاہے ۔ اور ماں کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا افضل ہے ہر چیز سے ۔

الولد بالقرب من أمه حيث ← بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7858

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7859

7859 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا محمد بن حامد حدثني مكي بن عبدان نا الحسن بن هارون نا منصور بن جعفر نا نهشل بن سعيد عن الضحاك عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من ولد بار ينظر إلى والدته نظرة رحمة إلا كان له بكل نظرة حجة مبرورة قالوا و إن نظر إليها كل يوم مائة مرة ؟ قال : نعم الله أكبر و أطيب منصور بن جعفر هو والد الحسين بن منصور السلمي النيسابوري

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو محمد بن حامد نے خبر دی ان کو حدیث بیان کی مکی بن عبدان نے ان کو حسن بن ہارون نے ان کومنصور بن جعفر نے ان کو نہشل بن سعید نے ان کوضحاک نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا نہیں کوئی بیٹا نیکی کرنے والا جواپنی والدہ کی طرف نظر شفقت سے دیکھتا ہے مگر اس کو ہر نظر کے بدلے میں حج مقبول کا اجر ملتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کیا اگر چہ وہ ایک دن میں سوبار بھی دیکھے فرمایا کہ اللہ اس سے بہت بڑا ہے اور زیادہ پاکیزہ ہے سند میں منصور بن جعفریہ والد ہے حسین بن منصور سلمی نیشاپوری کا ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← نهشل بن سعيد ← منصور بن جعفر ← الْحَسَنُ بْنُ هَارُونَ، ← مَكِّيُّ بْنُ عَبْدَانَ، ← محمد بن حامد ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7859

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7860

7860 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو علي الحافظ أنا أبو يعلى أحمد بن علي الموصلي نا أبو ياسر عمار المستملي نا سعيد بن زيد عن محمد بن جحادة عن طلحة بن مصرف عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال : النظر إلى الوالد عبادة و النظر إلى الكعبة عبادة و النظر في المصحف عبادة و النظر إلى أخيك حبا له في الله عبادة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے ابوعلی حافظ نے ان کو ابویعلی احمد بن علی موصلی نے ان کو ابو سرعمار مستملی نے ان کو سعید بن زید نے ان کو محمد بن حجادہ نے ان کو طلحہ بن مصرف نے ان کو ابراہیم نے ان کو علقمہ نے ان کو عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ والد کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور کعبے کی طرف دیکھنا عبادت ہے قرآن کی طرف دیکھنا عبادت ہے اپنے بھائی کی طرف شفقت سے دیکھنا عبادت ہے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أبو ياسر عمار المستملي ← أبو يعلى أحمد بن علي الموصلي ← أَبُو عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7860

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7861

7861 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو عمرو سعيد بن عبد الله بن أبي عثمان الجدي أنا عبد الله بن محمد الشرقي نا محمد بن عقيل أبو صالح العبدي نا أبو مقاتل عن عبد العزيز بن أبي رواد عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من قبل بين عيني أمه كان له سترا من النار إسناده غير قوي و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعمر وسعید بن عبد اللہ بن ابو عثمان جدی نے ان کو عبداللہ بن محمد شرقی نے ان کومحمد بن عقیل ابو صالح عبدی نے ان کو ابو مقاتل عبد العزیز بن ابو رواد نے ان کو عبد اللہ بن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص اپنی ماں کی پیشانی چوم لے اس کے لئے جہنم کی آگ سے پردہ ہوگا۔ اس کی سند غیر قوی نہیں ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← أَبُو مُقَاتِلٍ ← محمد بن عقيل أبو صالح العبدي ← عبد الله بن محمد الشرقي ← أبو عمرو سعيد بن عبد الله بن أبي عثمان الجدي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7861

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7862

7862 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا عثمان بن أحمد بن السماك نا محمد بن علي بن بحر البراز حدثني محمد بن إبراهيم البرحلاني عن أبيه قال : سألت بشرا يعني ابن الحارث عن رجل له أب بالثغر و له أم ببغداد و أمه تنهاه أن يأتي أباه و أبوه يريد أن يأتيه و يكون عنده أيضا قال : بشر سألت عبد الله بن داود هذا عن هذا فقال : يقيم عند أمه و لا يأتي أباه إلا أن تأذن له أمه قلت لبشر : فإن يزيد نا عن هشام عن الحسن قال : للأم ثلثا البر و للأب الثلث قال بشر سمعت فضيل بن عياض يذكر عن هشام عن الحسن هذا الحديث فقلت له فحدثت به بهز بن حكيم فقال : لهذا في العطية و قال بشر : أرى الأب يأخذ من مال ابنه إذا كان يحتاج ما يكفيه و الأم أيضا تأخذ بقدر ما تحتاج و قال : للأب و الأم في هذا سواء و أما في الإقامة فأنا إلى الأم أميل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد بن سماک نے ان کو محمد بن علی بن بحر البراز نے ان کو محمد بن ابراہیم بر جلانی نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھابشر بن الحارث سے ایک آدمی کے بارے میں جس کے والد ثغر میں تھے اور ماں بغداد میں ۔اور اس کی ماں اس کو منع کرتی ہے کہ وہ اپنے والد کے پاس نہ جائے جب کہ باپ چاہتا ہے کہ وہ اس کے پاس آئے ۔اور اس کے پاس ہی رہے۔بشر نے کہا کہ میں نے پوچھا تھا عبداللہ بن داؤد سے یہ سوال اسی بارے میں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی ماں کے پاس رہے اپنے والد کے پاس نہ جائے مگر ماں کی اجازت سے۔ میں نے بشر سے کہا کہ بے شک یزید نے ہمیں خبر دی ہے جس سے انہوں نے فرمایا تھا کہ ماں کا حق تین چیز یں میں یعنی تین بار نیکی کرنے کا حکم ہے ۔ اور باپ کے لئے تہائی ہے۔ بشر نے کہا میں نے سنا تھا فضیل بن عیاض سے وہ ذکر کرتے تھے ہشام سے وہ حسن سے اس حدیث کو میں نے ان سے کہا آپ نے یہ حدیث بہنر بن حکم کو بیان کی تھی انہوں نے کہا کہ اسی لئے عطیہ ہے۔ اور بشر نے کہا میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ باپ بیٹے کے مال میں سے بغیر اجازت لے سکتا ہے جب اس کو اس کی ضرورت ہو بقد رضرورت اور ماں بھی بقدر حاجت لے سکتی ہے ۔ اور فرمایا کہ اس مسئلے میں ماں اور باپ برابر ہیں ۔بہر حال اقامت و ذمہ داری اور کفایت میں ۔ بہر حال میں ماں کی طرف مائل ہوں ۔

رجل له أب بالثغر و له أم ببغداد و أمه تنهاه ← سألت بشرا يعني ابن الحارث ← أَبِيهِ ← محمد بن إبراهيم البرحلاني ← محمد بن علي بن بحر البراز ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7862

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7863

7863 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عثمان الحناط قال : قال ذو النون : ثلاثة من أعلام البر : بر الوالدين بحسن الطاعة لهما و لين الجناح و بذل المال و بر الوالد بحسن التأديب لهم و الدلالة على الخير و بر جميع الناس بطلاقة الوجه و حسن المعاشرة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان حناط نے وہ کہتے ہیں کہ کہا ذوالنون نے کہ تین چیز نیکی کی نشانیاں ہیں ۔ والدین کے ساتھ نیکی کرنا ان دونوں کی حسن اطاعت کے ساتھ ۔ اور بازو نرم رکھنا ۔ اور مال خرچ کرنا۔ اور والد کی نیکی ( اولاد کے ساتھ )ان کو ادب سکھانا ہے اور خیر کی رہنمائی کرنا اور جمیع لوگوں کے ساتھ نیکی کرنا خوش چہرے کے ساتھ اور حسن معاشرہ کے ساتھ ۔

أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7863

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7864

7864 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن السراج نا مطين نا عبد الله بن عمر و محمد بن العلا قالا : نا أبو معاوية ح و أخبرنا أبو عبد الله بن الفضل بن نظيف المصري بمكة نا القاضي أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله بن نصر الذهلي إملاء نا أبو بكر القاسم بن زكريا المطرز نا أبو كريب محمد بن العلا و محمد بن إسماعيل بن سمرة قالا : نا أبو معاوية عن محمد بن سوقة عن أبي بكر بن حفص عن ابن عمر قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني أذنبت ذنبا عظيما فهل لي من توبة ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألك والدة و في رواية ابن قتادة أما لك والدان ؟ قال : لا قال : ألك خالة ؟ قال : نعم قال : فبرها و في رواية ابن قتادة فبرها إذا

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن السراج نے ان کو مطین نے ان کو عبداللہ بن عمر اور محمد بن علاء نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو معاویہ نے ”ح‘‘اور ہمیں خبر دی عبداللہ بن فضل نظیف مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو قاضی ابو طاہر محمد بن احمد بن عبداللہ بن نصر ذہلی نے بطور املا ء کے ان کو ابو بکر قاسم بن زکریا مطرز نے ان کو ابو کر یب محمد بن علاء اور محمد بن اسماعیل بن سمرہ نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبردی معاویہ نے محمد بن سوقہ سے اس نے ابو بکر بن حفص سے اس نے ابن عمر سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک بہت بڑا گناہ کر لیا ہے کیا میرے لئے تو بہ ہے؟ حضور نے پوچھا کہ کیا تیری ماں زندہ ہے؟ اور ابن قتاہ کی روایت میں ہے کہ کیا تیرے والد ین ہیں؟ اس نے کہا کہ نہیں ہیں ۔فرمایا کہ تیری خالہ ہے؟ کہا کہ جی ہاں ہے۔ فرمایا جا اس کے ساتھ حسن سلوک کرے ۔اور ا بن قتادہ کی ایک روایت میں ہے کہ پھر اس کے ساتھ نیکی کر ۔

جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو كريب محمد بن العلا و محمد بن إسماعيل بن سمرة ← أَبُو بَكْرٍ الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرِّزُ ← القاضي أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله بن نصر الذهلي ← أبو عبد الله بن الفضل بن نظيف المصري ← و، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← عبد الله بن عمر و محمد بن العلا ← مطين ← أبو الحسن السراج، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7864

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7865

7865 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا بحر بن نصر نا بشر بن بكر نا سعيد بن عبد العزيز عن أم أيمن : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أوصى بعض أهل بيته فقال : لا تشرك بالله عز و جل و إن عذبت و إن حرقت و أطع ربك و والديك و إن أمرك أن تخرج من كل شيء لك فأخرج ولا تترك الصلاة متعمدا فإن من ترك الصلاة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله إياك و الخمر فإنها مفتاح كل شر إياك و المعصية فإنها تسخط الله لا تنازعن الأمر أهله و إن رأيت أن لك لا مفر من الزحف إن أصاب الناس موت و أنت فيهم فأثبت و أنفق على أهلك من طولك و لا ترفع عصاك عنهم و أخفهم في الله عز و جل و رواه معمر عن إسماعيل بن أمية عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا ببعض معناه و رواه راشد أبو محمد عن شهر بن حوشب عن أم الدرداء عن أبي الدرداء قال : أوصاني رسول الله صلى الله عليه و سلم بسبع فذكرهن و روى عن أمية مولاة النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر قاضی دونوں نے کہا ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو بحر بن نصر نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو سعید بن عبدالعزیز نے ان کوام ایمن نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض اہل بیت کو وصیت فرمائی تھی ۔ کہ اللہ کے ساتھ شریک نہ کر نا اگر چہ تمہیں عذاب دیا جائے اور تم جلا دیئے جاؤ اور اپنے رب کی اطاعت کرنا اور اپنے والدین کی اطاعت کرنا اگر چہ وہ تجھے حکم دیں کہ تم اپنی ہرشی سے نکل جاؤ۔ اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا، جوشخص جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہو جائے گا اور بچا ناتم اپنے آپ کو شراب سے بے شک وہ ہر شر کی چابی ہے اور بچانا تم اپنے آپ کو معصیت سے بے شک وہ اللہ کو ناراض کرتی ہے۔اور کوئی معاملہ ان کے اہل سے نہ چھیننا۔ اور اگر تم دیکھو کہ تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اگر لوگ مر جائیں اور تم ان میں ہو تو ثابت قدم رہو ۔اور تم اپنے اہل خانہ پر خرچ کرواپنی استطاعت کے مطابق ۔ اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھانا اور ان کو اللہ سے ڈراتے رہنا۔ اس کو روایت کیا ہے معمر نے اسماعیل بن امیہ سے اس نے نبی کریم سے بطور مرسل کے ۔ اس کے بعض مفہوم کے ساتھ اور اس کو روایت کیا ہے راشد ابومحمد نے شہر بن حوشب سے اس نے ام درداء سے اس نے ابودرداء سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی سات باتوں کی اس نے ان کو ذکر کیا ہے اور روایت کی گئی ہے امیر مولاۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔

أُمِّ أَيْمَنَ ← سَعِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ ← بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ ← بحر بن نصر ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7865

chevron_left Previous
1…877878879…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood