Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7842

7842 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا عمر بن مدرك القاضي نا مكي بن إبراهيم نا السري بن إسماعيل عن الشعبي عن مسروق عن عبد الله بن مسعود قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال : يا رسول الله إني رجل من أهل البادية و إني موسر و إن لي أما و أبا و أختا و أخا و عما و عمة و خالا و خالة فأيهم أولى بصلتي فقال رسول الله : أمك و أباك و أختك و أخاك و أدناك أدناك

ان کو خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عمر بن مدرک قاضی نے ان کو مکی بن ابراہیم نے ان کوسری بن اسماعیل نے ان کو شعبی نے ان کو مسروق نے ان کو عبد اللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا یارسول اللہ ! میں دیہاتی آدمی ہوں اور میں آسودہ حال ہوں۔ میری ماں باپ ہیں اور بہن بھائی ہیں ۔ چچا ہیں پھوپھی ہیں ماموں ہیں خالہ ہیں ،ان سب میں سے میرے صلہ رحمی کرنے کا ان میں کون زیادہ حق دار ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اور باپ تیری بہن تیرا بھائی اور قریبی رشتہ دار ۔

أتى النبي صلى الله عليه و سلم أعرابي فقال ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← السري بن اسماعيل ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عمر بن مدرك القاضي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7842

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7843

7843 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل أنا إسماعيل الصفار نا عمر بن مدرك نا حرمي بن حفص نا زياد بن عبد الرحمن عن عاصم بن بهدلة عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود : قال رجل : يا رسول الله إن لي أما و أبا و أخا و أختا و عما و عمة و خالا و خالة فأيهم أولى إلي بصلتي فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أمك و أباك و أختك و أخاك و أدناك أدناك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو عمر بن مدرک نے ان کوحرمی بن حفص نے ان کو زیاد بن عبدالرحمن ٰنے ان کو عاصم بن بہدلہ نے ان کو ابو وائل نے ان کو عبداللہ بن مسعود نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ میں بہن بھائی ہیں چچا پھو پھی ہیں ماموں خالہ ہیں ان میں سے کون میرے صلے کا زیادہ حق دار ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری والد ہ پھر تیرا والد پھر تیری بہن پھر تیرا بھائی اس کے بعد زیادہ قریبی پھر قر یبی۔

رَجُلٌ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← زِيَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ ← عُمَرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7843

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7844

7844 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا هشام بن علي نا عبد الله بن رجاء نا السعودي عن أياد بن لقيط عن أبي رمثة يعني التيمي ثم الرباب قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم و هو يخطب و هو يقول : يد المعطي العليا أمك و أباك و أختك و أخاك ثم أدناك أدناك ثم جاء ناس من بني يربوع حتى دخلوا المسجد فقال رجل من الأنصار : يا رسول الله مولاء يربوع قتلت فلانا قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجني نفس على أخرى

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو عبد اللہ بن رجاء نے ان کو سعودی نے ان کو ایا د بن لقیط نے ان کو ابور مثہ تیمی نے پھر رباب نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ خطبہ دے رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اوپر والا ہاتھ دینے والا ہے جو دے اپنی ماں کو پھر باپ کو پھر بہن کو پھر بھائی کو پھر قریبی رشتہ دار کو پھر اس کے بعد قریبی کو اس کے بعد کچھ لوگ آ گئے بنی یربوع سے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو گئے ۔ایک آدمی نے کہا انصار میں سے یا رسول اللہ ! مولا ء یربوع نے فلاں کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ کوئی نفس دوسرے نفس کے خلاف جنایت نہیں کیا جاتا۔ (گناہ)

أبي رمثة يعني التيمي ثم الرباب ← اِیادِ بْنِ لَقِیطٍ ← السعودي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7844

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7845

7845 - أخبرنا أبو القاسم الحرفي ببغداد نا أحمد بن سلمان نا هلال بن العلا نا أبي نا بقيه حدثني بحير بن سعيد عن خالد بن معدان عن المقدام بن معدي كرب : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله عز و جل يوصيكم بأمهاتكم ثم يوصيكم بآبائكم ثم يوصيكم بالأقرب فالأقرب

ہمیں خبر دی ابوالقاسم حرفی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان نے ان کو ہلال بن علاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو بقیہ نے ان کو بحیر بن سعید نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو مقدام بن معدی کرب نے کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے تھے ۔اللہ تعالی ٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری ماؤں کے بارے میں پھر وصیت کرتا ہے تمہارے باپوں کے بارے میں پھر وصیت کرتا ہے تمہیں سب سے زیادہ قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ( درجہ بدرجہ ۔ )

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَنَّهُ ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← بحير بن سعيد ← بَقِيَّةُ ← أَبِي ← هلال بن العلا ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أبو القاسم الحرفي ببغداد

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7845

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7846

7846 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا حاجب بن أحمد نا عبد الرحيم بن منيب نا جرير بن عبد الحميد أنا سهيل بن أبي مالح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس المحبوبي نا سعيد بن مسعود أنا عبيد الله بن موسى نا سفيان عن سهيل عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يجزي الولد والده إلا أن يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه و في رواية جرير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجزي ولد والده فذكره أخرجه مسلم من أوجه عن سفيان و عن زهير و غيره عن جرير

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو حاجب بن احمد نے ان کو عبدالرحیم بن منیب نے ان کو جریر بن عبدالحمید نے ان کو سہیل بن ابو مالح نے ، اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محبوبی نے ان کو سعید بن مسعود نے ان کو عبید اللہ بن موسٰی نے ان کو سفیان نے ان کو سہیل نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کہتے ہیں نہیں بدلہ دے گا بیٹا اپنے باپ کا مگر یہ کہ اس کو غلام پائے تو اس کوخرید کر آزاد کر دے۔ اور ایک دوسری روایت میں جریر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کوئی بیٹا اپنے والد کا بدلہ نہیں دے گا۔ نقل کیا ہے اسکو مسلم نے کئی طریقوں سے سفیان سے اس نے زبیر وغیرہ سے اس نے جریر سے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سهيل بن أبي مالح و ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7846

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7847

7847 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن شيبان نا سفيان ابن عيينة عن عطاء و أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر نا الفضل بن موفق نا مسعر بن كدام عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن عن أبي الدرداء قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الوالد باب من أبواب الجنة أو أوسط أبواب الجنة احفظ ذلك أو ضيعه و في رواية سفيان إن الوالد أوسط أبواب الجنة فاحفظ ذلك الباب أو دعه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن شبیان نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عطاء نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو کبر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالا زھر نے ان کوفضل بن موفق نے ان کومسعر بن کدام نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابوعبدالرحمن ٰنے ان کو ابو درداء نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔ کہ والد ایک درواز وں ہے جنت کے دروازوں میں سے یا جنت کے درمیان والے دروازوں میں سے ۔ اس کی حفاظت کریں یا اس کو ضائع کریں ۔ اور سفیان کی ایک روایت میں ہے کہ بے شک والد جنت کا درمیان والا دروازہ ہے پس تو حفاظت کر اس دروازے کی یا اس کو چھوڑ دے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوَفِّقٍ ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← عَطَاءِ، وَ ← سفيان ابن عيينة ← أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7847

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7848

7848 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا جعفر بن عون عن مسعر عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن السلمي : أن رجلا أمرته أمه أن يتزوج ثم أمرته بطلاقها فسأل أبا الدرداء فقال : لا آمرك بطلاق امرأتك و لا آمرك أن تعق أمك و قال أبو الدرداء : سأحدثك سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الوالد أوسط أبواب الجنة فإن شئت فاحفظ و إن شئت فضيع قال : لا بل أحفظ فطلقها

ہمیں خبر دی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے ان کو احمد بن حازم بن ابی غرز ہ نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو مسعر نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے کہ ایک آدمی کو اس کی ماں نے حکم دیا کہ وہ شادی کر لے اس کے بعد اس کو حکم دے دیا کہ اس کو طلاق دے دے ۔اس نے حضرت ابو درداء سے مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا کہ میں نہ تو تمہیں بیوی کو طلاق دینے کا کہوں گا اور نہ ماں کی نافرمانی کرنے کا۔ ابودرداء نے کہا میں ابھی تمہیں حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی وہ فرماتے تھے کہ والد جنت کا بیچ والا دروازہ ہے تو اس کی حفاظت کر ۔ اور چاہے تو اس کو ضائع کر ۔اس آدمی نے کہا بلکہ میں اس کی حفاظت کروں گا ۔ لہذا اس نے بیوی کو طلاق دے دی۔

أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← مِسْعَرٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7848

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7849

7849 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني نا يونس بن حبيب نا أبو الدرداء الطيالسي نا ابن أبي ذئب عن الحارث بن عبد الرحمن عن حمزة بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال : كانت لي امرأة كنت أحبها وكان أبي يكرهها فقال لي : طلقها فأتيت بأبي رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : طلقها فطلقها

ہمیں خبر دی استاذ ابوبکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابودردا ،طیالسی نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو حارث بن عبد الرحمن ٰنے ان کو حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ۔ میری ایک بیوی تھی جسے میں چاہتا تھا اور میرے والد اس کو نا پسند کرتے تھے (اس کی عادات کی وجہ سے )۔ والد نے مجھے کہا کہ اس کو طلاق دے میں اپنے والد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور میں نے یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم طلاق دے دو ۔ لہذا اس نے طلاق دے دی ۔

أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أبو الدرداء الطيالسي ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7849

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7850

7850 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن داود الرزاز أنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي نا محمد بن إسماعيل السلمي أنا أيوب بن سليمان نا أبو بكر يعني ابن أبي أويس عن سليمان بن بلال قال : قال محمد و موسى بن عقبة : نا ابن شهاب نا سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني أراني في الجنة فبينما أنا فيها سمعت صوت رجل بالقرآن فقلت : من هذا ؟ قالوا : حارثة بن النعمان كذلك البر كذلك البر كذا قال محمد بن أبي عتيق و موسى بن عقبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن احمد بن محمد بن داؤ ورزاز نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو محمد بن اسماعیل سلمی نے ان کو ایوب بن سلیمان نے ان کو ابو بکر یعنی ابن ابواویس نے ان کو سلیمان بن بلال نے وہ کہتے ہیں کہ کہا محمد نے اور موسی ٰبن عقبہ نے ان کو ابن شہاب نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے جنت میں دیکھایا گیا تھا ، میں جنت میں چل رہا تھا کہ یکایک ایک آدمی کی قرآن مجید پڑھنے کی آواز سنائی دی میں نے پو چھا کہ یہ کون ہے؟ فرشتوں نے بتایا یہ حارثہ بن نعمان کی آواز ہے ۔ ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ۔ اسی طرح کہا ہے محمد بن ابوعتیق او رموسیٰ بن عقبہ نے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← محمد و موسى بن عقبة ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أبو بكر يعني ابن أبي أويس ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7850

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7851

7851 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو بكر محمد بن الحسين بن الحسن بن الخليل القطان نا أحمد بن يوسف السلمي نا عبد الرزاق أخبرنا معمر بن راشد عن الزهري عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نمت فرأيتني في الجنة فسمعت صوت قارئ يقرأ فقلت من هذا ؟ قالوا : حارثة بن النعمان فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كذاك البر كذاك البر كذاك البر و كان أبر الناس بأمه

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکرمحمد بن حسین بن حسن خلیل قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر بن راشد نے ان کو زہری نے ان کو عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سورہاتھا میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا میں نے ایک قاری کی آواز سنی جو قرأت کر رہا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا حارثہ بن نعمان ہے ۔ لہذارسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہے نیکی ایسی ہوتی ہےاور حارثہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکی اور حسن سلوک کرتا تھا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو بكر محمد بن الحسين بن الحسن بن الخليل القطان ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7851

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7852

7852 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد حدثني أبي عن صالح بن كيسان نا نافع أن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بينما ثلاثة رهط يتماشون أخذهم المطر فأووا إلى غار في جبل فبينما هم فيه حطت صخرة من الجبل فأطبقت عليهم فقال بعضهم لبعض : انظروا أعمالا عملتموها لله سبحانه و اسألوه بها لعله يفرج بها عنكم فقال : أحدهم اللهم إنه كان لي والدان كبيران و كانت لي امرأة وولد صغار و كنت أرعى غنمي عليهم فإذا رحت غنمي عليهم بدأت بأبوي فسقيتهما فنأى بي يوما الشجر فلم آت حتى نام أبواي فطيبت الإناء ثم حلبت فيه ثم قمت بحلابي عند رأس أبواي و الصبية يتضاغون عند رجلي أكره أن أبدأ بهما قبل أبواي و أكره أن أوقظهما من نومهما فلم أزل كذلك حتى أضاء الفجر اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا فرجة نرى منها السماء ففرج لهم فرجة فرأوا منها السماء وقال الآخر اللهم إنها كانت لي ابنة عم فأحببتها حتى كانت أحب الناس إلي فسألتها نفسها فقالت : لا حتى تأتيني بمائة دينار فسعيت حتى جمعت مائة دينار فأتيتها بها فلما كنت بين رجليها قالت : اتق الله و لا تفتح الخاتم إلا بحقه فقمت عنها اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج لنا فرجة ففرج لهم فيها فرجة فقال الثالث اللهم إني كنت استأجرت أجيرا بفرق ذرة فلما قضى عمله عرضت عليه فأبى أن يأخذه و رغب عنه فلم أزل أعمل به حتى جمعت منه بقرا و رعاها فجاءني فقال : اتق الله و أعطني حقي و لا تظلمني فقلت له : اذهب إلى تلك البقر و ارعها فخذها فقال اتق الله و لا تهزأ بي فقلت إني لا أهزأ بك فاذهب إلى تلك البقر و ارعها فخذها فاستاقها اللهم إن كنت تعلم أني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا ما بقي منا ففرج الله عنهم فخرجوا يتماشون رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و غيره عن يعقوب بن إبراهيم و أخرجاه من وجه آخر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی میرے والد نے صالح بن کیسان سے ان کو نافع نے یہ کہ حضرت عبداللہ بن نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تین آدمی پیدل سفر کر رہے تھے انہیں بارش نے گھیر لیا لہذا انہوں نے پہاڑ کی ایک غار میں پناہ لے لی اور ابھی اسی میں بیٹھے ہی تھے کہ پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر گرا جس نے غار کے دہانے کو بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے اعمال کو یاد کرو جوتم نے خالص اللہ کی رضا کے لئے کئے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ سے اسی خالص عمل کے ساتھ اور اسی کے ذریعے اوروسیلے سے اللہ سے دعا کروشاید وہ تم سے اسی مشکل کوکھول دے۔لہذا ان میں سے ایک نے کہا اے اللہ ! میرے بوڑھے والدین تھے ۔ اور میری بیوی بچے بھی تھے، بچے چھوٹے چھوٹے تھے، میں بکریاں چرایا کرتا تھا جب شام کو میں بکریاں واپس لے کر آتا تو سب سے پہلے میں اپنے والدین کو ان کا دودھ پلاتا تھا ایک دن میں درختوں کی تلاش میں دور نکل گیا واپسی دیر سے ہوئی جب میں بکریاں لے کر آیا تو میرے والدین سو چکے تھے۔ میں نے برتن دھو یا اور اس میں دودھ نکالا اور وہ دودھ لے کر والدین کے سرھانے ان کے جاگنے کا انتظار کرنے کھڑا ہو گیا بچے میرے پیروں میں بلبلا رہے تھے میں نے اس بات کوناپسند کیا کہ میں پہلے ان کو پلا دوں اور والدین کو جگانا بھی ناپسند کیا میں رات بھر اسی حالت میں رہاحتیٰ کہ فجر طلوع ہوگئی اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام محض تیری رضا کے لئے کیا تھا تو ہم سے اتنی اس چٹان کو ہٹادے جس سے ہم آسمان کو دیکھ سکیں چنانچہ چٹان اس قدرہٹ گئی کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے۔ اتنے میں دوسرے نے کہا اے اللہ ! میرے چچا کی لڑکی تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور وہ مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے اس سے گناہ کرنے کی بات کہی تو اس نے کہا کہ میں اس وقت مانوں گی جب تم مجھے ایک سود ینار دو گے لہذا میں نے کوشش کر کے سود مینار جمع کئے اور لے کر اس کے پاس پہنچ گیا اور اسے دے دیا۔ جب میں اس کے پیروں کی طرف بیٹھا تو اس نے کہا کہ تو اللہ سے ڈر اور گو اس مہر کو نہ کھول مگرحق کے ساتھ ۔ لہذا میں اس کے پاس سے اٹھ گیا۔ اللہ اگرتو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل محض تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو ہماری اس مصیبت کو دور کر دے اور ہماری مشکل کشائی کر ۔ اللہ نے ان کے لئے اس سوراخ میں اور اضافہ کر دیا۔اب تیسرے نے کہا اے اللہ ! میں اجرت پر لوگوں سے کام کرواتا تھا ان کومز دوری میں ایک فرق مکئی غلہ دیتا تھا۔ ایک مزدور نے جب کام پورا کر لیا تو میں نے اس کو مزدوری دی اس نے اس کو کم سمجھا اور لینے سے انکار کر دیا ناراض ہوکر چلا گیا۔ میں نے اس کی مزدوری کو بڑھانا شروع کر دیا حتیٰ کہ میں نے اس کے ساتھ گائے اور ان کا چرواہا جمع کر لہے ایک عرصے بعد وہ واپس آیا اور کہنے لگا۔ اللہ سے ڈراور مجھے میرا حق دے دے میں نے اسے کہا جا لے جایہ گائے اور ان کو چرانے والا یہ سب تیرے ہیں ۔اس شخص نے کہا اللہ سے ڈرمیرے ساتھ مذاق نہ کر ۔ میں نے کہا کہ میں نے مذاق نہیں کیا یہ سب تیرا ہے لے جالہند او ہ ان کو با نک کر لے گیا اے اللہ! اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے کیا تھا تو جانتا ہی ہے تو اس پتھر کو ہم سے ہٹادے باقی جورہ گیا ہے ۔ لہذا اللہ نے ان سے وہ پتھر ہٹادیا اوروہ نکل کر پیدل چلتے ہوئےچلے گئے ۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب وغیرہ سے انہوں نے یعقوب بن ابراہیم سے اور بخاری ومسلم نے دوسرے طریق سےبھی اس کونقل کیا ہے ۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7852

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7853

7853 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا مطين نا علي بن حكيم نا شريك عن الأعمش عن مغراء عن ابن عمر قال : مر رجل على أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم رجل له حشم خلقا فقالوا لو كان هذا في سبيل وجاء النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا : لو كان هذا في سبيل الله فقال : لعله يكد على أبوين شيخين كبيرين فهو في سبيل الله لعله يكد على صبية صغار فهو في سبيل الله لعله يكد على نفسه ليغنيها عن الناس فهو في سبيل الله

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن محمد بن حسن سراج نے ان کو مطین نے ان کوعلی بن حکیم نے ان کو شریک نے ان کو اعمش نے ان کو مغراء نے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گذرا۔ پرانے بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس تھا صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا کاش میں اس طرح جہاد فی سبیل اللہ میں ہوتا ۔ اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے صحابہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ کاش کہ یہ آدمی اللہ کی راہ میں ہوتا ۔اور ایسا ہو جا تا ۔حضور نے فرمایا کہ شاید یہ والدین کی خدمت کی مشقت اٹھارہا ہوتو بھی یہ اللہ کی راہ میں ہوگا یہ شخص اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی مشقت برداری کر رہا ہو تو بھی یہ فی سبیل اللہ ہوگا یایہ اپنے نفس کی مشقت اٹھار باہوتا کہ اس کولوگوں سے مستغنی کر دے تو بھی یہ فی سبیل اللہ ہوگا۔

ابْنِ عُمَرَ ← مَغْرَاءَ، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ← مطين ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7853

chevron_left Previous
1…876877878…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood