Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7830

7830 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ نا أبو أحمد الفراء و الحسن بن هارون قالا : أخبرنا الحسين بن الوليد نا شعبة عن يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رضا الله في رضا الوالدين و سخط الله في سخط الوالدين

ہمیں خبر دی ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤدعلوی نے ان کو احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو ابواحمد فراء نے اور حسن بن ہارون نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے حسین بن ولید نے ان کو شعبہ نے ان کو یعلی بن عطاء نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبد اللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی رضا والدین کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناراضگی میں ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← الْحُسَيْنِ بْنِ الْوَلِيدِ ← أبو أحمد الفراء و الحسن بن هارون ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7830

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7831

7831 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا عثمان بن أحمد الدقاق نا عبد الملك بن محمد نا أبو عتاب الدلال نا شعبة : فذكره بإسناده مرفوعا غير أنه قال : رضا الرب في رضا الوالد و سخط الرب في سخط الوالد و رويناه أيضا من حديث خالد بن الحارث و أبي إسحاق الفزاري و زيد بن أبي الزرقا و غيرهم مرفوعا و رواه آدم بن أبي إياس و مسلم بن إبراهيم و جماعة عن شعبة موقوفا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عثمان بن احمد دقاق نے ان کو عبدالملک بن محمد نے اس کو ابوعتاب دلال نے ان کو شعبہ نے پس اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی سند سے مرفوع روایت کیا سوائے اس کے کہ اس نے کہا ہے کہ رب کی رضا والد کی رضا میں ہے۔ اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔ اور ہم نے بھی اس کو روایت کیا ہے خالد بن حارث کی حدیث سے اور ابواسحٰق فزاری کی حدیث سے اور زید بن ابوالزرقا وغیر ہ سے بطور مرفوع روایت کے اور اس کو روایت کیا ہے آدم بن ابوایاس نے اور مسلم بن ابراہیم اور ایک جماعت نے شعبہ سے ۔بطور موقوف روایت کے ۔

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7831

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7832

7832 - أخبرنا أبو سعيد الخليل بن أحمد القاضي البستي نا أبو العباس أحمد بن المظفر البكري أنا ابن أبي خيثمة نا عبد الرحمن بن المبارك و أخبرنا أبو حامد بن أبي خلف الصوفي المهرجاني بها أنا محمد بن يزداد بن مسعود و محمد بن أيوب أنا عبد الرحمن بن المبارك نا سفيان بن حبيب نا ابن جريج عن محمد بن طلحة عن معاوية بن جاهمه عن أبيه قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم أستشيره في الجهاد قال : ألك والدة ؟ قلت نعم قال : اذهب فأكرمها فإن الجنة عند رجليها و في رواية بن أبي خيثمة تحت رجليها كذا قال

ہمیں خبر دی ابوسعید خلیل بن احمد قاضی بستی نے ان کو ابوالعباس احمد بن مظفر بکری نے ان کو ابن ابوخثیمہ نے ان کو عبدالرحمن ٰبن مبارک نے اور ہمیں خبر دی ابوحامد بن ابو خلف صوفی مہر جانی نے ان کو خبر دی محمد بن یز داد بن مسعود ومحمود بن ایوب نے ان کو عبد الرحمن ٰبن مبارک نے ان کو سفیان بن حبیب نے ان کو ابن جریج نے ان کو محمد بن طلحہ نے ان کو معاویہ بن جاھمہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جہاد کا مشورہ کرنے کے لئے حاضر ہوا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تیری والدہ ہے؟ میں نے بتایا جی ہاں ہے۔ آپ نے فرمایا جا بس اسی کا اکرام کر بے شک جنت اس کے پیروں کے پاس۔ اور ابن خیثمہ کی ایک روایت میں ہے اس کے پیروں تلے جنت ہے۔ایسے ہی فرمایا۔

ألك والدة قلت نعم ← أتيت النبي صلى الله عليه و سلم أستشيره في الجهاد ← أَبِيهِ ← معاوية بن جاهمه ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ← محمد بن يزداد بن مسعود و محمد بن أيوب ← أبو حامد بن أبي خلف الصوفي المهرجاني بها ← عبد الرحمن بن المبارك و ← ابن أبي خيثمة ← أبو العباس أحمد بن المظفر البكري ← أبو سعيد الخليل بن أحمد القاضي البستي

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7832

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7833

7833 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو جعفر الرزاز نا أحمد بن الوليد الفحام نا حجاج قال : قال جريج : أخبرني محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبيه عن معاوية بن جاهمه قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم يعني جاهمه فقال : يا رسول الله أردت أن أغزو فجئتك أستشيرك فقال : هل لك من أم ؟ قال : نعم قال : فالزمها فإن الجنة تحت رجليها ثم ثانية ثم ثالثه في مقاعد شتى و كمثل هذا يرد عليه

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوجعفر رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو حجاج نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا کہ مجھے خبر دی ہے محمد بن طلحہ بن عبداللہ بن عبدالرحمن ٰنے ان کو ان کے والد نے ان کو معاویہ بن جاھمہ نے وہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ کے پاس آیا یعنی جاھمہ ۔اور عرض کیا یا رسول اللہ میں جہاد کا ارادہ رکھتا ہوں اور میں آپ سے مشورہ کرنے آیا ہوں آپ نے پوچھا کیا تیری والدہ زندہ ہے؟ کہا کہ زندہ ہے آپ نے فرمایا بس اسی کے ساتھ لگا رہ بے شک جنت اس کے قدموں تلے ہے۔ پھر دوسری بار پھر تیسری بار کہا متعدد مجلسوں میں۔

معاوية بن جاهمه ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7833

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7834

7834 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالري نا محمد بن الفرح الأزرق نا حجاج بن محمد : فذكره بإسناده غير أنه قال : إن جاهمه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني أردت أن أغزو فجئتك أستشيرك فقال : ألك والدة ؟ قال : نعم قال : اذهب فالزمها فإن الجنة عند رجليها و رويناه من حديث الصنعاني عن حجاج بن محمد هكذا و قال : إن جاهمه جاء إلى النبي صلى الله عليه و سلم و رواه سعيد بن يحيى عن أبيه عن ابن جريج أخبرني محمد بن طلحة عن ريحانه عن أبيه عن معاوية بن جماهمة السلمي قال النبي صلى الله عليه و سلم : و هو مما ذكره البخاري عنه في التاريخ و رواية حجاج عن ابن جريج أصح و الله أعلم و اختلف فيه على محمد بن إسحاق بن يسار فقيل عنه عن الزهري عن أبي طلحة بن عبد الله عن معاوية الأسلمي بهذا و قيل عنه عن محمد بن طلحة بن عبد الرحمن بن أبي بكر عن معاوية بن جاهمة الأسلمي أتيت النبي صلى الله عليه و سلم بهذا و الصواب رواية ابن جريج عن محمد بن طلحة بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق عن أبيه عن معاوية بن جاهمة و كذلك رواه أبو عاصم عن ابن جريج

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن محمد بن اسماعیل فقیہ نے رائے میں اس نے کہا کہ ان کو محمد بن فرح از رق نے خبر دی ہے ۔ان کو حجاج بن محمد نے ۔ پھر اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی سند کے ساتھ سوائے اس کے کہ اس نے کہا بے شک جاھمہ حضور کے پاس آیا اور کہا کہ میں جہاد کا ارادہ کر چکا ہوں اور میں آپ کے ساتھ مشورہ کرنے آیا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تیری والدہ حیات ہے؟ اس نے بتایا کہ حیات ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس اسی کو لازم کر لو یعنی خدمت کرو بے شک جنت اس کے قدموں کے پاس ہے۔ ا۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے صنعانی کی حدیث سے حجاج بن محمد سے اسی طرح اور اس نے کہا ہے کہ بے شک جاھمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا۔ ۲۔ اور اس کو روایت کیا ہے سعید بن یحییٰ نے اپنے والد سے اس نے ابن جریج سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے محمد بن طلحہ نے اس نے روایت کی ریحانہ سے اس نے اپنے والد سے اس نے معاویہ بن جاھمہ سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۳ ۔ اور وہ وہی بخاری ہے جس نے اپنی تاریخ میں اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ ۴۔ اور حجاج بن جریج کی روایت زیادہ صحیح ہے واللہ اعلم ۔ ۵۔ اور محمد بن اسحاق بن یسار پر اختلاف کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ مروی ہے اس سے اس نے زہری سے اس نے ابوطلحہ بن عبداللہ سے اس نے معاویہ اسلمی سے اسی متن کے ساتھ ۔ ۶۔ اور کہا گیا ہے کہ مروی ہے محمد بن اسحاق سے اس نے محمد بن طلحہ بن عبدالرحمن ٰبن ابو بکر سے اس نے معاویہ بن جاھمہ اسلمی سے اس نے کہا کہ میں حضور کے پاس آیا۔اس خواہش کے ساتھ۔۷۔ او ر درست جو ہے وہ روایت ہے ابن جریج کی محمد بن طلحہ بن عبد اللہ بن عبدالرحمن ٰبن ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ سے اس نے اپنے والد سے انہوں نے معاویہ بن جاھمہ سے۔۸۔اوراسی طرح اس کو روایت کیا ہے ابو عاصم نے ابن جریج سے ۔

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7834

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7835

7835 - حدثنا أبو منصور الظفر بن محمد بن أحمد بن زياد العلوي إملاء أنا أبو حامد أحمد بن الليث بن سهل بنجارا أنا أبو عبد الله بن النصر الشيباني نا إبراهيم بن الحجاج نا ميمون بن نجيح أبو الحسن نا الحسن البصري عن أنس بن مالك قال : أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني أشتهي الجهاد و إني لا أقدر عليه فقال : هل بقي أحد من والديك ؟ قال : أمي قال : فاتق الله فيها فإذا فعلت ذلك فأنت حاج و معتمر و مجاهد فإذا دعتك أمك فاتق الله و برها

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابومنصور ظفر بن محمد بن احمد بن زیاد علوی نے بطور املاء کے ان کو ابو حامد احمد بن لیث بن سہل بنجارا نے ان کو ابوعبد اللہ بن نصر شیبانی نے ان کو ابراہیم بن حجاج نے ان کو میمون بن نجیح نے ان کو ابوالحسن نے ان کو حسن بصری نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں اور میں اس پر قادر نہیں ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تیری والدہ زندہ ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں میری ماں ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ بس اللہ سے ڈر تو اس کے بارے میں جب تم ایسا کرو گے تو تم کو حج کرنے کا عمرہ کرنے کا اور جہاد کرنے کا ثواب مل جائے گا جب تجھے تیری ماں بلائے تو تو اللہ سے ڈر اور اس سے نیکی کر ۔

أُمِّي ← هل بقي أحد من والديك ← إني أشتهي الجهاد و إني لا أقدر عليه ← أتى رجل رسول الله صلى الله عليه و سلم ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← ميمون بن نجيح أبو الحسن ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← أبو عبد الله بن النصر الشيباني ← أبو حامد أحمد بن الليث بن سهل بنجارا ← أبو منصور الظفر بن محمد بن أحمد بن زياد العلوي إملاء

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7835

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7836

7836 - حدثنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء أنا أبو حامد محمد بن عبد الله الهروي نا محمد بن صالح الأشح نا عبد الله بن عبد العزيز بن أبي داود حدثني أبي عن نافع عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نومك على السرير برا بوالديك تضحكهما و يضحكانك أفضل من جهادك بالسيف في سبيل الله عز و جل عن عبد الله بن عبد العزيز هذا غير قوي و لمتنه شواهد قد مضت و الله أعلم

ہمیں حدیث بیان کی امام ابوالطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے بطور املاء کے ان کو ابو حامد محمد بن عبداللہ ہروی نے ان کو محمد بن صالح اشج نے ان کو عبد اللہ بن عبد العزیز بن ابوداؤد نے ان کو نافع نے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تیرا چارپائی پر سوتے رہنا والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے لئے جس سے تو ان کو ہنسائے اور خوش کرائے اور وہ تجھے ہنسائیں اور خوش کر یں۔ یہ افضل ہے تیرے لئے اللہ کی راہ میں تیرے تلوار کے ساتھ جہاد کرنے سے مروی ہے عبداللہ بن عبد العزیز سے یہ قوی نہیں ہے ۔البتہ اس کے متن کے لئے شواہد ہیں جو گذر چکے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِي ← عبد الله بن عبد العزيز بن أبي داود ← محمد بن صالح الأشح ← أبو حامد محمد بن عبد الله الهروي ← الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان إملاء

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7836

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7837

7837 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ نا إبراهيم بن عبد الله السعدي نا أبو بدر شجاع بن الوليد نا عبد الله بن شبرمة ح و أخبرنا أبو عبد الله و أبو بكر القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عصام بن عبد المجيد الأصبهاني بها نا إسماعيل بن عبد الملك أبو إسحاق نا محمد بن طلحة عن عبد الله بن شبرمة عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أي الناس أحق مني بحسن الصحبة ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أبوك في حديث أبي بدر قال رجل : يا رسول الله من أحق الناس مني بحسن الصحبة ؟ أخرجه مسلم من حديث محمد بن طلحة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب حافظ نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ سعدی نے ان کو ابو بدرشجاع بن ولید نے ان کو عبداللہ بن شبرمہ نے ’’ ح“۔ اور ہمیں خبر دی ابوعبداللہ اور ابوبکر قاضی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عصام بن عبدالمجید اصفہانی سے اصفہان میں ان کو اسماعیل بن عبد الملک نے ان کو ابو اسحاق نے ان کومحمد بن طلحہ نے عبداللہ بن شبرمہ، نے ان کو ابو زرعہ بن عمرو بن جریر نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! تمام لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون سب سے زیادہ مستحق ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیری امی ۔ اس نے پوچھا اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ اس کے بعد بھی تیری امی ۔ اس نے پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ تیری امی ۔اس نے پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا والد ۔اور ابو بدر کی روایت میں ہے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ کون زیادہ حق دار ہے سب لوگوں سے میرے حسن سلوک کا ؟ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حدیث محمد بن طلحہ سے ۔

رَجُلٌ: ← أبوك في حديث أبي بدر ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← ثُمَّ مَنْ ← "أُمُّكَ" ← أي الناس أحق مني بحسن الصحبة ← جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ← إسماعيل بن عبد الملك أبو إسحاق ← أحمد بن عصام بن عبد المجيد الأصبهاني بها ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله و أبو بكر القاضي ← و، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7837

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7838

7838 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه نا محمد بن أيوب نا مسلم بن إبراهيم نا وهيب بن خالد نا ابن شبرمة قال : سمعت أبا زرعة عن أبي هريرة قال : إن رجلا قال : يا نبي الله من أبر ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : أبوك أخرجه مسلم من حديث وهيب و استشهد البخاري برواية ابن شبرمة و هو عبد الله و أخرجاه من حديث عمارة عن أبي زرعة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابوانضر فقیہ نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو وہب بن خالد نے ان کو ابن شبرمہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوزرعہ سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے کہا کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی! میں کس کے ساتھ نیکی کروں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ نیکی کرو۔ اس نے پوچھا پھر کس سے کروں؟ فرمایا کہ پھر تمہاری ماں ۔اس نے پوچھا کہ پھر کون؟ پھر فرمایا تیری ماں ۔اس نے پوچھا کہ پھر کون؟ فرمایا کہ پھر تیرا باپ۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے وہیب کی حدیث سے ۔ اور بخاری اس کا شاہد لائے ہیں ابن شبرمہ کی روایت کے ساتھ وہ عبداللہ ہے اور بخاری ومسلم نے اس کونقل کیا ہے حدیث عمارہ سے انہوں نے ابوزرعہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبَا زُرْعَةَ، ← ابْنِ شُبْرُمَةَ ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7838

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7839

7839 - أخبرنا أبو منصور عبد القاهر بن طاهر الإمام من أصل كتابه و أبو نصر بن قتادة و عبد الرحمن بن علي بن حمدان قالوا أنا أبو عمرو إسماعيل بن نجيد أنا أبو مسلم ثنا الأنصاري حدثني بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال : قلت : يا رسول الله من أبر ؟ قال : أمك قال : ثم من ؟ قال : ثم أمك ثم أباك ثم الأقرب فالأقرب

ہمیں خبر دی ابومنصور عبد القاہر بن طاہر امام نے اپنی اصل کتاب سے اور ابونصر بن قتادہ اور عبدالرحمن ٰبن علی بن حمدان نے ،ان سب لوگوں نے کہا ان کو ابوعمر واسماعیل بن نجید نے ان کو ابومسلم انصاری نے حدیث بیان کی بہز بن حکیم سے اس نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں کس کے ساتھ نیکی کروں؟ فرمایا : کہ اپنی والدہ سے نیکی کرو۔ اس نے پوچھا کہ اس کے بعد کس سے؟ فرمایا اپنے ماں کے ساتھ ۔ پھر پوچھا کس کے ساتھ نیکی کروں؟ فرمایا کہ والد کے ساتھ ۔اس کے بعد جو زیادہ قرابت دار ہو درجہ بدرجہ اس سے کرو۔

قُلْتُ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبُو مُسْلِمٍ ← أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7839

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7840

7840 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر أحمد بن سلمان قال : قرئ على محمد بن مسلمة و أنا أسمع نا يزيد بن هارون أنا بهز بن حكيم عن معاوية القشيري حدثني أبي عن أبيه قال : قلت : يا رسول الله من أبر ؟ قال : أمك قلت : ثم من ؟ قال : أمك قلت : ثم من ؟ قال : أمك قلت : ثم من ؟ قال : ثم أباك ثم الأقرب فالأقرب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر احمد بن سلمان نے وہ کہتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ کے سامنے پڑھی گئی اور میں سن رہا تھا اس نے کہا ہمیں خبر دی ہے یزید بن ہارون نے ان کو خبر دی بہز بن حکیم نے معاویہ قشیری سے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ ! میں کس کے ساتھ نیکی کروں ؟ فرمایا کہ اپنی ماں کے ساتھ ۔ میں نے پوچھا کہ ماں کے بعد پھر کس سے کروں؟ فرمایا پھر بھی ماں کے ساتھ ۔ پھر میں نے پوچھا کہ ماں کے بعد کس سے کروں؟ فرمایا پھر بھی اپنی ماں کے ساتھ ۔ میں نے کہا اس کے بعد کس سے کروں؟ فرمایا کہ اس کے بعد اپنے والد کے ساتھ پھر درجہ بدرجہ قرابت داروں سے ۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← أَبِي ← معاوية القشيري ← بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أسمع ← قرئ على محمد بن مسلمة و ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7840

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7841

7841 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخلدي املاء نا إبراهيم بن علي العمري نا المعلي بن مهدي أنا أبو عوانة عن منصور عن عبيد الله بن علي بن عرقطة السلمي عن خراش أبي سلام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوصى امرءا بأمه ثلاث مرات و أوصى امرءا بأبيه مرتين أوصى امرءا بمواليه الذي يليه و إن كان عليه منه أدنى يؤديه تابعه عفان عن أبي عوانة و قال : مسدد عن أبي عوانة عن علي بن عبيد الله بن عرفطة

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابومحمد جعفر بن محمد نصیر خلدی نے بطور املاء کے ان کو ابراہیم بن علی عمری نے ان کو معلی ٰبن مہدی نے ان کو ابوعوانہ نے ان کو منصور نے ان کو عبید اللہ بن علی بن عرفط سلمی نے ان کو خراش ( ابوسلام ) سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں تین بار وصیت فرمائی تھی اور ایک آدمی کو اس کے والد کے بارے میں دو با روصیت کی تھی اور ایک آدمی کو اس کے قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت فرمائی تھی اگر چہ اس پر بہت ہی کمتر احسان ہو جس کو وہ ادا کرے عفان نے اس کا متابع بیان کیا ہے ابوعوانہ سے ۔اور کہا مسدد نے کہ روایت ہے ابوعوانہ سے اس نے علی بن عبید اللہ بن عرفطہ سے ۔

خراش أبي سلام ← عبيد الله بن علي بن عرقطة السلمي ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← الْمُعَلَّى بْنُ مَهْدِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْعُمَرِيُّ، ← أبو محمد جعفر بن محمد بن نصير الخلدي املاء ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7841

chevron_left Previous
1…875876877…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood