Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7818

7818 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو عثمان عمرو بن عبد الله البصري نا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا سليمان بن حرب نا حماد بن سلمة نا أبو جعفر الخطمي عن عمارة بن خزيمة بن ثابت قال : كنا مع عمرو بن العاص في حج أو عمرة فلما كنا بمر الظهران إذا امرأة في هودجها واضعة يدها على هودجها فلما نزل دخل الشعب و دخلنا معه فقال : كنا في هذه الشعب مع رسول الله صلى الله عليه و سلم و إذا غربان كثيرة فيها غراب أعصم أحمر المنقار و الرجلين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يدخل الجنة من النساء إلا كقدر هذا الغراب في هذه الغربان

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوعثمان عمرو بن عبداللہ بصری نے ان کو ابو احمد محمد بن عبدالوہاب نے ان کو سلیما بن حرب نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو جعفر خطمی نے ان کو غمارہ بن خزیمہ بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ حج وعمرے کے سفر میں حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ جب ہم مقام مرظہران میں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے اونٹ پر کجاوے میں بیٹھی تھی اس نے اپنا ہاتھ کجاوے کے اوپر رکھا ہواتھا۔ حضرت عمرو بن العاص جب اترے تو گھاٹی میں داخل ہو گئے ہم لوگ بھی ان کے ساتھ داخل ہو گئے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ اسی گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اچھانک دیکھا تو یہاں پر بہت سارے کوے جمع ہو گئے تھے ان کووں میں سفید کوا اٹھا جس کی چونچ اور پیری سرخ تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا جنت میں عورتیں داخل نہیں ہوں گی مگر ایسے کوئے کی مقدار میں ان تمام کووں میں ۔

عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتِ ← أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7818

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7819

7819 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه نا أبو علي صالح بن محمد البغدادي الحافظ عبد الرحمن بن بشر الحكم نا بهز بن أسد عن شعبة عن أبي إسحاق عن أبي الأحوص عن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : النساء عورة و إن المرأة لتخرج من بيتها بلباس يستشرفها الشيطان يقول : ما مررت بأحد إلا أعجبته و إن المرأة لتلبس ثيابها فيقال لها : أين تريدين فتقول أعود مريضا أشهد جنازة أصلي في مسجد و ما عبدت امرأة ربها بمثل أن تعبد في بيتها قال أبو علي صالح و هذا الحديث استفدناه بنيسابور

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابونضر محمد بن محمد بن یوسف فقیہ نے ان کو ابوعلی صالح بن محمد بغدادی حافظ نے ان کو عبدالرحمن ٰبن بشر الحکم نے ان کو بہز بن اسد نے ان کو شعبہ نے ان کو ابواسحاق نے ان کو ابوالاحوص نے ان کو عبداللہ نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتیں پوشیدہ رہنے کی چیز ہیں بے شک عورت جب اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے بن سنور کر تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ جس کے پاس سے بھی گذرے گی اسی کو اچھی لگے گی۔ بے شک عورت جب کپڑے پہنتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہاں جانے کا ارادہ ہے وہ کہتی ہے کہ میں بیمار کو پوچھوں گی۔ میت میں جاؤں گی مسجد میں نماز پڑھوں گی۔ حالانکہ نہیں عبادت کرتی کوئی عورت اپنے رب کی اس عبادت جیسی جو وہ اپنے گھر میں کرتی ہے ۔ابوعلی صالح نے کہا یہ حدیث ہے جس کو ہم نے نیشا پور میں حاصل کیا تھا۔

النساء عورة و ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ← أبو علي صالح بن محمد البغدادي الحافظ عبد الرحمن بن بشر الحكم ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7819

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7820

7820 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة و كتبه لي بخطه نا أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي أنا الحسن بن علي بن زياد نا ابن أبي أويس حدثني أخي عن سليمان بن بلال عن شريك بن أبي نمر عن يحيى بن جعفر بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة عن القاسم عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن تصلي المرأة في بيتها خير من أن تصلي في حجرتها و لأن تصلي في حجرتها خير من أن تصلي في الدار و أن تصلي في الدار خير من أن تصلي في المسجد

ہمیں خبر دی ابونصر بن قتادہ نے اور انہوں نے اس کولکھا ہے میرے لئے اپنے خط کے ساتھ ۔ان کو ابوالعباس محمد بن اسحاق ضبعی نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو ابن ابو اویس نے ان کو حدیث بیان کی ان کے بھائی نے ان کو سلیمان بن بلال نے ان کو شریک بن ابونمر نے ان کو یحییٰ بن جعفر بن ابو کثیر نے ان کو محمد بن عبدالرحمن ٰبن ابولیبہ نے قاسم سے اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اگر اپنی خواب گاہ میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس کے کمرے میں نماز پڑھنے سے اور اگر وہ اپنے کمرے میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر گھر میں پڑھنے سے اور اگر وہ اپنے گھر میں نماز پڑھے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ مسجد میں نماز پڑھے۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← محمد بن عبد الرحمن بن أبي لبيبة ← يَحْيَى بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الحسن بن علي بن زياد ← أبو العباس محمد بن إسحاق الضبعي ← أبو نصر بن قتادة و كتبه لي بخطه

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7820

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7821

7821 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر هاشم بن القاسم نا ابن أبي ذئب ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف نا محمد بن يوسف عن سفيان عن ابن أبي ذئب عن الحرث بن الحكم عن أبي عمرو بن حماس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس للنساء سراة الطريق يعني وسط الطريق هذا لفظ حديث الفقيه و ليس في رواية أبي عبد الله و صاحبه يعني وسط الطريق و زاد و قال أبو علي الحسن بن مكرم فصحبت أبا عبيد في طريق الجامع يوم الجمعة فقال : يا أبا عبيد ليس للنساء سراة الطريق قال : يمشين في الجنبات

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوبکر قاضی نے ان دونوں نے کہا کہ انہوں نے خبر دی ابوالعباس بن یعقوب نے ان کو حسن بن مکرم کو ابوالنضر نے ان کو ہاشم بن قاسم نے ان کو ابن ابو ذئب نے ”ح اور ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن یوسف نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو ذئب نے ان کو حرث بن حکم نے ان کو ابو عمرو بن حماس نے وہ کہتے ہیں کہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے لئے سڑک اور راستے کا پیچ نہیں ہے یعنی وسط راستہ ۔ یہ الفاظ حدیث فقیہ کے ہیں اور ابوعبداللہ کی روایت اور اس کے ساتھی کی روایت میں نہیں ہے ۔ وسط طریق کے الفاظ ۔ اور زیادہ کیا ہے ابوعلی حسن بن مکرم نے کہ میں نے جمعہ کے دن جامع مسجد کے راستے میں ابوعبید کے ساتھ ساتھ چلا۔ انہوں نے کہا اے ابوعبید ۔عورتوں کے لئے راستے کا وسط اور بیچ نہیں ہے فرمایا کہ وہ کناروں کناروں پر چلا کریں۔

أَبِي عَمْرِو بْنِ حَمَاسٍ ← الحرث بن الحكم ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7821

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7822

7822 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا أبو الجماهر سلمة و محمد بن عثمان التنوخي قالا : نا عبد العزيز بن محمد عن أبي اليمان عن شداد بن أبي عمرو بن حماس عن أبيه عن حمزة بن أبي أسيد الأنصاري عن أبيه : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : و هو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للنساء استأخرون ليس لكن أن تخفقن الطريق عليكن حافات الطريق فكانت المرأة تلصق بالجدار حتى إن ثوبها ليتعلق بالشيء يكون في الجدار من لزومها به و في رواية يعقوب حتى إن ثوبها ليتعلق بالشيء من الجدار من لصوقها به و الباقي سواء

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو ابو الجماہر سلمہ اور محمد بن عثمان تنوخی نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے عبدالعزیز بن محمد نے ان کو ابوالیمان نے ان کو شداد بن ابو عمر بن حماس نے ان کو ان کے والد نے ان کو حمز ہ بن ابورسید انصاری نے ان کو ان کے والد نے اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے جب کہ وہ مسجد سے نکل رہے تھے ۔ چنانچہ مرد عورتوں میں خلط ملط ہو گئے تھے راستے میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا عورتوں سے کہ وہ دیر کریں اور پیچھے پیچھے رہ جائیں ۔ ایسا نہ کریں کہ راستے کے بیچ میں لہرانے لگیں بلکہ راستے کے کناروں کو لازم کر لیں (اسی واقعے کے بعد ) عورتیں دیوار کے ساتھ لگ کر چلتی تھیں یہاں تک کہ ان کے کپڑے بسا اوقات الجھ جاتے تھے دیوار میں کسی چیز میں ان کے لگ کر چلنے کی وجہ سے اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے یہاں تک کہ عورت کا کپڑا البتہ اٹک جاتا تھا دیوار میں کسی چیز کے ساتھ اس کے دیوار کے ساتھ لگ کر چلنے کی وجہ سے ، اور باقی روایت برابر ہے۔

و هو خارج من المسجد فاختلط الرجال مع النساء في الطريق ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدَ الأَنْصَارِيِّ ← أَبِيهِ ← شَدَّادِ بْنِ أَبِي عَمْرِو بْنِ حِمَاسٍ ← أَبِي الْيَمَانِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أبو الجماهر سلمة و محمد بن عثمان التنوخي ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7822

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ فصل في حجاب النساء و التغليظ في سترهن ـ · حديث 7823

7823 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا علي بن سعيد نا الصلت بن مسعود نا مسلم بن خالد نا شريك بن عبد الله بن أبي نمر عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس للنساء وسط الطريق قال أبو أحمد : لا أعلم يرويه عن شريك غير مسلم بن خالد و الله سبحانه و تعالى أعلم

ہمیں خبر دی ابوسعید مالینی نے ان ابواحمد بن عدی نے ان کوعلی بن سعید نے ان کو صلت بن مسعود نے ان کو مسلم بن خالد نے ان کوشریک بن عبد اللہ بن ابونمر نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کہ عورتوں کے لئے راستے کا وسط اور بیچ نہیں ہے۔ ابواحمد نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ کوئی اس کو شریک سے روایت کرتا ہے سوائے مسلم بن خالد کے واللہ سبحانہ اعلم ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › A chapter on the veil of women and the thickening of their coverings · Hadith 7823

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7824

7824 - حدثنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن دلويه الدقاق نا محمد بن إسماعيل البخاري نا أبو الوليد هشام بن عبد الله الملك نا شعبة قال : الوليد بن عيزار أخبرني قال : سمعت أبا عمرو الشيباعي يقول : أخبرني صاحب هذه الدار و أومى بيده إلى دار عبد الله قال : قال : سألت النبي صلى الله عليه و سلم أي العمل أحب إلى الله عز و جل قال : الصلاة لوقتها قلت : ثم أي ؟ قال : بر الوالدين ثم قلت أي ؟ قال : الجهاد في سبيل الله قال و حدثني بهن و استزدته لزادني أخرجه البخاري هكذا و أخرجه مسلم من حديث غندر عن شعبة

ہمیں حدیث بیان کی سید ابوالحسن محمد بن حسین بن داؤدعلوی نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن دلویہ رقاق نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے ان کو ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے ان کو شعبہ نے انہوں نے کہا کہ ولید بن عیزار نے مجھے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عمر شیباعی سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ہے صاحب اس کے گھر والے نے اور انہوں نے اشارہ کیا اپنے ہاتھ سے عبداللہ کے گھر کی طرف کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ کونسا عمل اللہ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونساعمل؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کونساعمل؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے ان باتوں کی حدیث بیان کی اگر میں ان سے مزید پوچھا تو وہ مجھے مزید بھی بتاتے ۔اس کو بخاری نے نقل کیا ہے اسی طرح اور ہم نے ان کو نقل کیا ہے حدیث غندر سے اس نے شعبہ سے۔

شُعْبَةُ، ← أبو الوليد هشام بن عبد الله الملك ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن دلوية الدقاق ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7824

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7825

7825 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي ببغداد نا أبو العباس محمد بن أحمد النيسابوري نا محمد بن أيوب أنا محمد بن كثير أنا سفيان عن حبيب عن أبي العباس عن عبد الله بن عمرو قال : أتى رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله أجاهد قال : لك أبوان قال : نعم قال : ففيهما فجاهد رواه البخاري عن محمد بن كثير

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن محمد بن غالب خوارزمی نے بغداد میں ان کو ابوالعباس محمد بن احمد نیسا پوری نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو محمد بن کثیر نے ان کو سفیان نے ان کو حبیب نے ان کو ابوالعباس نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ یارسول اللہ! میں جہاد کروں گا حضور نے پوچھا کہ تیرے ماں باپ ہیں؟ بولا کہ جی ہاں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس تو انہیں میں جہاد کر ( یعنی ان کی خدمت کر ) بخاری نے اس کو روایت کیا محمد بن کثیر سے ۔

أتى رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ، ← حَبِيبٍ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو العباس محمد بن أحمد النيسابوري ← أبو بكر أحمد بن محمد بن غالب الخوارزمي -ببغداد-

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7825

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7826

7826 - و أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي بالكوفة نا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم الشيباني نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا محمد بن كناسه نا الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن عبد الله بن باباه عن عبد الله بن عمرو قال : أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل فقال : إني أريد الجهاد فقال : أحي والداك قال : نعم قال : ففيهما فجاهد قال : و نا أحمد بن حازم أنا جعفر بن عون و أبو نعيم و عبيد الله بن موسى عن مسعر بن كرام عن حبيب بن أبي ثابت عن أبي العباس عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله و أخرجه مسلم من حديث مسعر و أخرجه من حديث أبي إسحاق الفزاري و زايده عن الأعمش عن حبيب عن أبي العباس و هو السائب بن فروح عن عبد الله بن عمرو و يحتمل أن يكون الأعمش رواه على الوجهين جميعا و قد رواه أبو أسامة و غيره عن الأعمش كما رواه ابن كناسه

ہمیں خبر دی ابومحمد جناح بن نذیر بن جناح قاضی نے کوفہ میں ان کو ابو جعفرمحمد بن علی بن دحیم نے شیبانی نے ان کو احمد بن حازم نے ان کو ابوغرزہ نے ان کو محمد بن کناسہ نے ان کو اعمش نے ان کو حبیب بن ابو ثابت نے ان کو عبد اللہ بن باباہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی آیا اس نے کہا کہ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ کہا کہ جی ہاں زندہ ہیں ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس ان میں جا کر جہاد کر۔ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن حازم نے ان کو جعفر بن عون نے اور ابو نعیم نے اور عبیداللہ بن موسیٰ نے ان کومسعر بن کرام نے ان کو حبیب بن ابوثابت نے ان کو ابوالعباس نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مذکور کی مثل نقل کی ہے۔ اور مسلم نے اس کو نقل کیا ہے حدیث مسعر سے ۔ اور اسکو نقل کیا ہے ابواسحٰق فزاری کی حدیث سے اور اس میں اضافہ کیا ہے اعمش نے اس نے حبیب سے اس نے ابوالعباس سے ان کا نام سائب بن فروح ہیں ۔ اس نے عبداللہ بن عمرو سے اور احتمال ہے کہ اعمش نے اس کو روایت کیا ہو دونوں وجوہ پر اکٹھے۔ اور تحقیق اس کو روایت کیاابواسامہ وغیرہ نے اعمش سے جیسے اس کو ابن کناسہ نے روایت کیا ہے ۔

عبد الله بن عمرو و يحتمل ← أبي العباس و هو السائب بن فروح ← حَبِيبٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي الْعَبَّاسِ، ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← مسعر بن كرام ← جعفر بن عون و أبو نعيم و عبيد الله بن موسى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، ← و، ← ففیھما فجاھد۔ ← نَعَمْ ← أَحَيٌّ وَالِدَاكَ؟ ← إني أريدُ الجهادَ، ← أتى النبي صلى الله عليه و سلم رجل ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح القاضي ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7826

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7827

7827 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن أحمد بن محمد العنبري نا عثمان بن سعيد الدرامي نا أحمد بن صالح نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن يزيد بن أبي حبيب أن ناعما مولى أم سلمة حدثه أن عبد الله بن عمرو بن العاص قال : أقبل رجل إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقال : أبايعك على الهجرة و الجهاد و أبتغي الأجر من الله ؟ قال : فهل من والديك أحد حي ؟ قال : نعم بل كلاهما قال : تبتغي الأجر من الله ؟ قال : نعم قال : ارجع إلى والديك فأحسن صحبتهما رواه مسلم عن سعيد بن منصور عن ابن وهب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالحسن احمد بن محمد عنبری نے ان کوعثمان بن سعید دارمی نے ان کو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے کہ ناعم مولی ام سلمہ نے اس کو حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عمرو بن العاص نے انہوں نے کہا ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی! میں آپ کے ساتھ بیعت کرتا ہوں ہجرت پر اور جہاد پراور میں اللہ سے اجر مانگتا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے بتایا کہ جی ہاں ! بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اللہ سے اجر چاہتے ہو؟ اس نے عرض کی جی ہاں ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واپس چلا جا اپنے والدین کے پاس پس ان کی صحبت کو اچھا کر (یعنی ان کے ساتھ نیک سلوک کر ) اس کو مسلم نے روایت کیا سعید بن منصور سے اس نے ابن وہب سے۔

ابْنُ وَهْبٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← ارجع إلى والديك فأحسن صحبتهما رواه مسلم ← نَعَمْ ← تبتغي الأجر من الله ← نَعَمْ بَلْ کِلَاهُمَا ← ((فهل من والديك أحد حي؟))، ← أبايعك على الهجرة و الجهاد و أبتغي الأجر من الله ← أقبل رجل إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← يزيد بن أبي حبيب: أن ناعما مولى أم سلمة ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7827

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7828

7828 - أخبرنا أبو الحسن بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الربيع نا حماد نا عطاء بن السائب عن أبيه عن عبد الله بن عمرو : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله جئت أبايعك و تركت أبوي يبكيان قال : ارجع فاضحكهما كما أبكيتهما

ہمیں خبر دی ابوالحسن بن محمد مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالربیع نے ان کوحماد نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے کہ ایک آدمی حضور کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں آپ سے بیعت ہونے کے لئے آیا ہوں اور میں اپنے والدین کو روتا ہوا چھوڑ کر آیا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جا تو ان دونوں کو ہنسا جیسے تم نے ان دونوں کو رلایا ہے۔

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ،

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7828

شعب الإيمان · الخامس و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في بر الوالدين · حديث 7829

7829 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن بالويه نا بشر بن موسى الأسدي نا القاسم بن سليم الصواف قال : شهدت الواسطيين أبا بسطام شعبة بن الحجاج و أبا معاوية هشيم بن بشير يحدثان عن يعلى بن عطاء عن أبيه عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رضى الله من رضى الوالدين و سخط الله من سخط الوالدين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن بالویہ نے ان کو بشر بن موسی ٰاسدی نے ان کو قاسم بن سلیم صواف نے وہ کہتے ہیں میں واسطوں کے پاس حاضر ہوا،ابو بسطام شعبہ بن حجاج ،ابومعاویہ ہشیم بن بشیر وہ حدیث بیان کرتے ہیں یعلی بن عطاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس سے راضی ہے جو والدین کو راضی کرتا ہے اور اللہ ناراض اس سے جو والدین کو ناراض کرتا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِيهِ ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شهدت الواسطيين أبا بسطام شعبة بن الحجاج و أبا معاوية هشيم بن بشير يحدثان ← القاسِمُ بن سُلَيم {الصوَّاف} ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ ← أَبُو بكر بن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-fifth of the people of faith › And it is a door in honoring parents · Hadith 7829

chevron_left Previous
1…874875876…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood