شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7734
7734 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا عثمان بن سعيد الدرامي نا القعنبي ح قال : و نا أبو المثنى نا القنبعي نا شعبة عن منصور عن ربعي بن خراش عن أبي مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت لفظ أبي المثنى قال الحليمي : و في معنى هذا قولان أحدهما أن المراد به الدلالة على أن عدم الحياء يدعو إلى الاسترسال الذي لا يؤمن أن يسوء عاقبته و إن أعظم الموانع من القبائح عند العقلاء الذم و هو فرق عقوبة البدن فمن طاب نفسا بالذم و لم يخشه فلم يردعه عن قبيح ما هو رادع فلا يلبث شيئا حتى يرى نفسه مهتوك الستر مثلوب العرض ذاهب ماء الوجه لا وزن له و لا قدر قد ألحقه الناس بالبهائم و أدخلوه في عداها بل صار عندهم أسوا حالا منها فنبه بهذا القول على ما في ترك الاستحياء من الضرر لينتهي عنه و يستشعر من الحياء ما يردع عن إتيان القبيح فيؤمن مغبته و الآخر أن معناه إذا لم يفعل ما يستحى عن مثله فلا حرج بعد ذلك عليك فاصنع ما شئت و كلاهما حسن و حق و الله بما أراد و رسول الله صلى الله عليه و سلم أعلم
ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے ’’ ح“ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوالمشنی نے ان کو قعنبی نے ان کو شعبہ نے منصور سے اس نے ربعی بن خراش سے اس نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے شک پہلی نبوتوں کے کلام میں سے ہے کہ جب تو شرم و حیا نہ کرے جو چاہے سوکر ۔ الفاظ ابوالمثنی ٰکے ہیں ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اس مذکور ہ قول کے معنی ومفہوم کے بارے میں دو قول ہیں ۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد اس بات پر دلالت ہے کہ عدم حیا ء ایسے آزاد رویے کی دعوت دیتا ہے جو آدمی کو اس کے برے انجام سے نہیں بچا سکتا۔ بے شک عقلاء کے نزدیک برائیوں سے قبائح میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ کر سکتی وہ مذمت ہے جو کہ جسمانی سزا سے بھی بڑھ کر ہے ۔ لہذا جو شخص مذمت کو خوش دلی سے قبول کرے اور اس کا خوف بھی نہ کرے وہ اس کو کسی قبیح فعل سے نہیں روک سکتی جن سے رکاوٹ بنتی تھی ۔ وہ کسی شئی سے باز نہیں آتا بلکہ ہر جگہ وہ اپنے آپ کو بے آبرو بے عزت سمجھتا ہے جس کے چہرے پر رونق بے عزت ہونے کی وجہ سے باقی نہ رہی ہو جس کا نہ کوئی وزن ہو نہ اس کی کوئی قدروقیمت ہو جسے لوگ جانوروں کے ساتھ لاحق کر چکے ہوں اور اسے ان کی گنتی میں شمار کر چکے ہوں بلکہ وہ ان کے نزدیک اس سے بدتر حالت میں ہو چکا ہو ۔ پس گویا کہ اس قول کے ساتھ اس بات پر متنبہ کیا کہ ترک حیاء میں یہ نقصان ہے، تا کہ انسان ترک حیاء سے بچے اور اجتناب کرے۔اور حیاء کرنے سے دل میں ایک خوف پیدا ہوتا جو انسان کو فعل قبیح سے ڈراتا ہے اور روکتا ہے لہذا وہ فعل قبیح کے نقصان سے بچ جاتا ہے ۔ اور دوسرا قول یہ کہ بے شک قول مذکور کا معنی ہے کہ جب تو کوئی ایسا کام نہیں کرتا ہے جس کے مثل فعل کرنے سے حیاء کی جاتی ہے تو اس کے بعد تیرے اوپر کوئی حرج نہیں ہے پھر جو جو تو چاہے سوکر دونوں مطلب اچھے ہیں اور حق ہیں ۔ اللہ نے اور اس کے رسول نے کیا مراد لی ہے؟ اللہ بہتر جانتا ہے۔
أَبِي مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← القنبعي ← أَبُو الْمُثَنَّى ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،
Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7734
