Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7734

7734 - و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا عثمان بن سعيد الدرامي نا القعنبي ح قال : و نا أبو المثنى نا القنبعي نا شعبة عن منصور عن ربعي بن خراش عن أبي مسعود : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت لفظ أبي المثنى قال الحليمي : و في معنى هذا قولان أحدهما أن المراد به الدلالة على أن عدم الحياء يدعو إلى الاسترسال الذي لا يؤمن أن يسوء عاقبته و إن أعظم الموانع من القبائح عند العقلاء الذم و هو فرق عقوبة البدن فمن طاب نفسا بالذم و لم يخشه فلم يردعه عن قبيح ما هو رادع فلا يلبث شيئا حتى يرى نفسه مهتوك الستر مثلوب العرض ذاهب ماء الوجه لا وزن له و لا قدر قد ألحقه الناس بالبهائم و أدخلوه في عداها بل صار عندهم أسوا حالا منها فنبه بهذا القول على ما في ترك الاستحياء من الضرر لينتهي عنه و يستشعر من الحياء ما يردع عن إتيان القبيح فيؤمن مغبته و الآخر أن معناه إذا لم يفعل ما يستحى عن مثله فلا حرج بعد ذلك عليك فاصنع ما شئت و كلاهما حسن و حق و الله بما أراد و رسول الله صلى الله عليه و سلم أعلم

ہمیں خبر دی ابوعلی روذباری نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو قعنبی نے ’’ ح“ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابوالمشنی نے ان کو قعنبی نے ان کو شعبہ نے منصور سے اس نے ربعی بن خراش سے اس نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے شک پہلی نبوتوں کے کلام میں سے ہے کہ جب تو شرم و حیا نہ کرے جو چاہے سوکر ۔ الفاظ ابوالمثنی ٰکے ہیں ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ اس مذکور ہ قول کے معنی ومفہوم کے بارے میں دو قول ہیں ۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد اس بات پر دلالت ہے کہ عدم حیا ء ایسے آزاد رویے کی دعوت دیتا ہے جو آدمی کو اس کے برے انجام سے نہیں بچا سکتا۔ بے شک عقلاء کے نزدیک برائیوں سے قبائح میں جو چیز سب سے بڑی رکاوٹ کر سکتی وہ مذمت ہے جو کہ جسمانی سزا سے بھی بڑھ کر ہے ۔ لہذا جو شخص مذمت کو خوش دلی سے قبول کرے اور اس کا خوف بھی نہ کرے وہ اس کو کسی قبیح فعل سے نہیں روک سکتی جن سے رکاوٹ بنتی تھی ۔ وہ کسی شئی سے باز نہیں آتا بلکہ ہر جگہ وہ اپنے آپ کو بے آبرو بے عزت سمجھتا ہے جس کے چہرے پر رونق بے عزت ہونے کی وجہ سے باقی نہ رہی ہو جس کا نہ کوئی وزن ہو نہ اس کی کوئی قدروقیمت ہو جسے لوگ جانوروں کے ساتھ لاحق کر چکے ہوں اور اسے ان کی گنتی میں شمار کر چکے ہوں بلکہ وہ ان کے نزدیک اس سے بدتر حالت میں ہو چکا ہو ۔ پس گویا کہ اس قول کے ساتھ اس بات پر متنبہ کیا کہ ترک حیاء میں یہ نقصان ہے، تا کہ انسان ترک حیاء سے بچے اور اجتناب کرے۔اور حیاء کرنے سے دل میں ایک خوف پیدا ہوتا جو انسان کو فعل قبیح سے ڈراتا ہے اور روکتا ہے لہذا وہ فعل قبیح کے نقصان سے بچ جاتا ہے ۔ اور دوسرا قول یہ کہ بے شک قول مذکور کا معنی ہے کہ جب تو کوئی ایسا کام نہیں کرتا ہے جس کے مثل فعل کرنے سے حیاء کی جاتی ہے تو اس کے بعد تیرے اوپر کوئی حرج نہیں ہے پھر جو جو تو چاہے سوکر دونوں مطلب اچھے ہیں اور حق ہیں ۔ اللہ نے اور اس کے رسول نے کیا مراد لی ہے؟ اللہ بہتر جانتا ہے۔

أَبِي مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← القنبعي ← أَبُو الْمُثَنَّى ← و، ← الْقَعْنَبِيُّ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7734

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7735

7735 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا عمرو بن محمد بن منصور نا جعفر بن محمد بن سوار قال : سمعت بشر بن الحكم يقول : قوله : إذا لم تستحي فاصنع ما شئت ليس هذا على عمل الفجور و لكن إذا صحت نية الرجل فأراد أن يصلي عند الناس فلم يستح منهم و قد أراد وجه الله هذا إذا لم يستح من الناس و عمل لله

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو عمر و بن محمد بن منصور نے ان کو جعفر بن محمد بن سوار نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر بن حکم سے وہ کہتے ہیں جب تم حیا نہیں کرتے تو پھر آپ جو چاہیں سو کریں۔ یعنی یہ گناہ کے عمل میں سے نہیں ہے بلکہ جب آدمی کی نیت صحیح ہو اور لوگوں کے سامنے نماز پڑھنے کا ارادہ کرے اس نے ان سے شرم نہیں کی بلکہ اس نے ارادہ کیا ہے اللہ کا رضا کا یہ اس وقت ہے جب اس نے لوگوں سے شرم نہیں کی اور اللہ کے لئے عمل کرلیا۔

بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ ← عمرو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7735

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7736

7736 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو جعفر محمد بن حاتم نا فتح بن عمرو نا أبو أسامة أنا المفضل بن مهلهل عن منصور عن ربعي بن خراش عن أبي مسعود الأنصاري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن آخر ما يبقى من النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت قال أبو أسامة : يقول استكثر من الخير ما استطعت قال أحمد : و قرأن في كتاب العرنيين في معنى هذا الحديث قال : هذا أمر معناه الخبر كأنه قال : من لم يستح صنع ما شاء و مثله قوله : فليتبوأ مقعده من النار قال : و قال ثعلبة : هذا على الوعيد معناه إذا لم تستح فاصنع ما شئت فإن الله مجازيك و مثله قوله تعالى : { فمن شاء فليؤمن و من شاء فليكفر } قال أبو سليمان الخطابي : معنى قوله النبوة الأولى إن الحياء لم يزل ممدوحا على ألسن الأنبياء و المرسلين و مأمورا به لم ينسخ فيما نسخ من الشرائع فالأولون و الآخرون فيه على منهاج واحد و قوله : إذا لم تستح لفظه لفظ أمر و معناه الخبر تقول : إذا لم يكن لك حياء يمنعك من القبيح صنعت ما شئت يريد ما تأمرك به النفس و تحملك عليه مما لا يحمد عاقبته و حقيقته من لم يستح صنع ما شاء و فيه وجه آخر هو أن يكون أراد به افعل ما شئت من شيء لا يستحيا منه فلا يفعله و فيه ثالث و هو أن يكون معناه الوعيد كقوله عز و جل : { اعملوا ما شئتم } قلت و هذه الأقوال التي حكيناها متفقة في المعنى و إن كانت مختلفة في اللفظ و قال الحليمي رحمه الله : و إذا حافظ على الجماعة استحيا من الناس فهي على وجهين أحدهما أن يخاف ذم الجيران إياه فلا يفارق المسجد ليحمدوه و يثنوا عليه خيرا فهذا رياء و ليس بمحمود و الآخر أن يكون حياؤه من الله عز و جل بالحقيقة فيخشى أنه إن فارق الجماعة كان من عاجل عقوبة الله إياه أن يبسط المسلمون فيه ألسنتهم بالذم و إن كان معها كان من عاجل ما يثنيه الله تعالى به أن يطلق المسلمون ألسنتهم فيه بالمدح فيكون خوفه ذم الناس و حبه مدحهم متعلقا بالله عز و جل لا بغيره فهذا محمود و يستحي الولد من الوالد و المرأة من زوجها و الجاهل من العالم و الصغير من الكبير و الواحد من الجماعة فيريد الأدون أن يعمل على غير الأكمل عملا من حقوق الناس يحق مثله للأكمل فيخاف أن يقع منه على وجه يذمه فيدعه فذلك استحياؤه و هذا أيضا محمود لأن فيه مراعاة الناقص حق الكامل و إذعانه لهم لأجل الفضل الذي يعلمه له على نفسه

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو جعفر محمد بن حاتم نے ان کو فتح بن عمرو نے ان کو ابواسامہ نے ان کو مفضل بن مہلہل نے ان کو منصور نے ان کو ربعی بن خراش نے ان کو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک آخری بات جو باقی رہ گئی نبوت اولی ٰمیں سے وہ یہ ہے کہ جب تم شرم نہیں کرتے تو چاہیں سو کریں۔ ابواسامہ نے کہا ۔ کہ کہتے ہیں ۔ کہ مطلب یہ ہے جس قد راستطاعت ہو زیادہ سے زیادہ خیر و بھلائی کا کام کیجئے ۔ امام احمد نے فرمایا۔ کہ یہ عرئیین کی کتاب میں اس حدیث کے معنی ومطلب کے بارے میں پڑھا تھا کہ یہ امر بمعنی خبر کے ہے۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:جو حیاء نہیں کرتا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے یا جس نے حیا نہیں کی اس نے وہی کیا ہے جو اس نے چاہا ہے ۔اور اسی کی مثل ہے یہ قول: فليتبوء مقعده من النار اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے۔ یعنی یہاں بھی امر بمعنی خبر ۔ مطلب ہے کہ اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ثعلبہ نے کہا کہ یہ قول وعید پر مبنی ہے اس کا معنی ہے کہ جب تم نے حیا نہیں کی تو جو چاہو کرو بے شک اللہ تعالی ٰ آپ کو بدلہ دیں گے اور اسی کی مثل ہے قول باری تعالی ٰ: فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر جو چاہے پس وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے کہ کفر کرے۔ یعنی جو چاہیں آپ کریں اللہ تعالی ٰ آپ کو بدلہ دینے والا ہے جیسا کروگے ویسی جز اپاؤ گے۔ ابو سلیمان خطابی نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے مراد کہ نبوت اولیٰ۔ یہ مراد ہے کہ حیا ء ہمیشہ ممدوح و مستحسن رہا ہے انبیاء ورسل کی زبان پر اور ماموربہ رہا ہے جو منسوخ نہیں ہوا ان شریعتوں میں جو منسوخ ہوئی تھیں پس پہلے لوگ اور بعد والے لوگ اس بارے میں ایک ہی منہاج پر اور ایک ہی راستے پر ہیں ۔اور آپ کا یہ فرمان اذا لم تستحى فاصنع لفظ تو اس کے امر والے ہیں اور معنی اس کے خبر کے ہیں ۔ گویا کہ تم یہ کہہ رہے ہو کہ جب تیرے پاس حیاء نہ ہو جو آپ کو فعل قبیح سے روکے تو آپ نے وہی کیا ہے جو آپ نے چاہا ہے ۔ مراد ہے کہ نفس نے جس چیز کا تجھے حکم دیا ہے اور تجھے جس بات پر ابھارا ہے اس قبیل سے جس کے انجام کی تعریف نہیں کی جاسکتی ۔اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ جس نے حیا نہیں کی اس نے وہی کچھ کیا ہے جو اس نے چاہا۔ اس میں ایک وجہ اور ہے۔ آپ نے اس سے یہ مراد لی ہے۔ افعل ماشئت۔ یعنی آپ وہ کیجئے جو آپ چاہیں۔ کوئی بھی چیز جس سے حیا نہیں کی جاتی ۔ یعنی جس چیز پر حیا کرتا ہے اس کو نہیں کرتا ہے۔ اور اس میں ایک تیسری تو جیہ بھی ہے وہ ہے کہ اس کا معنی وعید ہو جیسے اللہ تعالی ٰ کا قول : اعملوا ما شئتم ۔تم جو چاہو سو عمل کرو ۔ یعنی میں تم سے نمٹ لوں گا۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سارے اقوال اگر چہ الفاظ میں مختلف ہیں مگر معنی میں متفق ہیں۔ اور شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ جس وقت کوئی شخص با جماعت نماز کی حفاظت کرتا ہے لوگوں سے شرم کرنے کی وجہ سے تو یہ دو صورتوں پر ہے دونوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو اس بات کا خوف ہو کہ اس کے پڑوسی اس کی برائی کر یں گے لہذا وہ مسجد سے الگ نہیں ہوتا تاکہ وہ اچھائی کریں اور اس کی تعریف کریں تو یہ صورت ریا کاری ہے دیکھاوا ہے یہ صورت غیر پسندیدہ ہے۔ حفاظت جماعت کی دوسری صورت یہ ہے کہ اس کا حیاء کرنا درحقیقت اللہ تعالی ٰ سے ہو اور وہ اس بات سے ڈرے کہ اگر اس نے جماعت چھوڑی تو دنیا میں اس کو اللہ تعالی یہ سزا دیں گے کہ مسلمان اس کے خلاف اس کی مذمت میں اپنی زبانیں دراز کردیں گے اور اگر وہ جماعت کے ساتھ وابستہ رہے گا تو دنیا میں اللہ تعالی ٰ لوگوں کے دلوں میں ڈال دیں گے وہ اس کی تعریف کریں گے اور اس کی تعریف میں اپنی زبانیں کھول دیں گے تو اس صورت میں اس کے دل میں لوگوں کی طرف سے اس کی برائی کرنے کا خوف ۔ اور اس کا یہ پسند کرنا کہ لوگ اس کی تعریف کریں دونوں کا تعلق اللہ عز ویل کے ساتھ ہے اس کے ماسوا کے ساتھ نہیں ہے تو یہ پسندیدہ ہے (ایک اور صورت حیاء کرنے کی یہ ہے۔ ) کہ جیسے ایک بیٹا باپ سے ،عورت اپنے شوہر سے ، جاہل عالم سے ، شاگرد استاد سے، چھوٹا بڑے سے ، یا ایک فردا یک جماعت سے شرم و حیاءکرتا ہے ۔لہذا کمتر یہ نہ ارادہ کرتا ہے کہ کوئی عمل غیر اکمل طریقے پر کرے ،لوگوں کے حقوق میں سے کسی حق کے ساتھ جو وہ اکمل کا حق ہے لہذا حیاء کر تے ہوئے یہ خوف کرتا ہے کہ کوئی فعل اس سے بائیں صورت واقع ہو جائے گا کہ وہ ( مذکور ہ لوگوں میں سے کوئی ) اس کی مذمت کرے گا اور اس کو چھوڑ دے گا یا کسی آدمی کی طرف سے اس طرح کا حیاء کرنا بھی محمود ہے اور پسندیدہ ہے۔اس لئے کہ اس صورت میں ناقص کی طرف کامل کے حق کی رعایت کی گئی ہے ( کمتر کی طرف سے برتر کے حق کا خیال کیا جارہا ہے۔ ) اور یہ اس کی طرف سے اس کا بات یقین واذعان ہے ان کامل و برتر کے لئے اس بات کا کہ وہ صاحب فضل ہیں اور صاحب فضیلت ہیں اس کے مقابلے میں اس کی ذات سے ۔

أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورٌ، ← الْمُفَضَّلِ بْنِ مُهَلْهَلٍ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← فتح بن عمرو ← أبو جعفر محمد بن حاتم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7736

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7737

7737 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب أنا أبو حاتم الرازي نا أبو الأسود نا ابن لهيعة عن أسامة بن زيد الليثي أن أبا داود مولى بني محمد الزهري حدثه أنه سمع أبا هريرة يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : فضلت المرأة على الرجل بتسعة و تسعين جزءا من اللذة و لكن الله عز و جل ألقى عليهن الحياء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبداللہ حسین بن حسن بن ایوب نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو ابوالاسود نے ان کو ابن لہیعہ نے ان کو اسامہ بن زید لیثی نے یہ کہ ابوداؤ د مولی ٰبنی محمد زہری نے اس کو حدیث بیان کی ہے کہ اس نے سنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ عورت مرد پر لذت کے اعتبار سے ننانوے حصے زیادہ ہے مگر اللہ تعالی ٰ نے ان پر حیاء اور شرم ڈال دیا ہے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أسامة بن زيد الليثي أن أبا داود مولى بني محمد الزهري ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7737

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7738

7738 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي املاء أنا عبد الله بن محمد بن موسى نا محمد بن غالب أنا أبو الوليد نا ليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير سمع سعيد بن زيد : أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه و سلم : أوصني قال : أوصيك بتقوى الله أن تستحي من الله كما تستحي رجلا صالحا من قومك كذا قال عن يزيد بن أبي حبيب عن سعيد بن يزيد الأزدي عن ابن عم له قال : قلت : يا رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و روى هذا عن جعفر بن الزبير و هو ضعيف عن القاسم عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے بطور املاء کے ان کو عبداللہ بن محمد بن موسی ٰنے ان کو محمد بن غالب نے ان کو ابوالولید نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یزید بن ابو حبیب نے ان کو ابوالخیر نے انہوں نے مناسعید بن زید سے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ مجھے وصیت کیجئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں آپ کو وصیت کرتا ہوں اللہ سے ڈرنے کی کہ تم اللہ سے حیا کرنا جیسے تم اپنی قوم کے کسی نیک صالح آدمی سے شرم وحیاء کر تے ہو ۔ اسی طرح کہا سعید بن زید نے ۔اور اس کے علاوہ دیگر نے کہا کہ سعید بن یزید از دی روایت کرتے ہیں اپنے چچا زاد سے ۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یارسول اللہ ۔ پھر راوی نے مذکور ہ حد یث کو روایت کیا ہے ۔اور یہ روایت کی گئی ہے جعفر بن زبیر سے اور وہ ضعیف ہے وہ روایت کرتا ہے قاسم سے وہ ابوامامہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7738

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7739

7739 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا هلال بن العلاء الرقي نا أبو همام نا المعارك بن عباد البصري عن أبي عباد عن جده أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليستحي أحدكم من ملكيه اللذين معه كما يستحي من رجلين صالحين من صالح جيرانه و هما معه بالليل و النهار إسناده ضعيف و له شاهد ضعيف 7739 - مكرر ـ أخبرناه أبو الحسين بن بشران أنا أبو سهل بن زياد القطان نا أحمد بن علي الأبار نا سليمان بن النعمان نا الحسن بن أبي جعفر نا ليث عن محمد بن عمرو عن أبيه عن زيد بن ثابت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألم انهكم عن التعري إن معكم من لا يفارقكم في نوم و لا يقظة إلا حين يأتي أحدكم أهله أو حين يأتي خلاءه ألا فاستحيوها ألا فأكرموها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو ہلال بن علا ء رتی نے ان کو ابو ہمام نے ان کو معارک بن عباداللہ بصری نے ان کو ابو عباد نے ان کو ان کے دادا ابوسعید مقبری نے ان کو ابوہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا البتہ شرم کرے ایک انسان تم میں سے اپنے دو فرشتوں سے جو اس کے ساتھ ہیں جیسی وہ اپنے پڑوس کے دو نیک آدمیوں سے حیا کرتا ہے حالانکہ وہ دونوں دن رات اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اس کی سند ضعیف ہے۔ اور اس کے لئے ایک شاہد ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ ( مکرر ہے ) ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو خبر دی ابو سہل بن زیاد قطان نے ان کو احمد بن علی آبار نے ان کو سلیمان بن نعمان نے ان کو حسن بن ابو جعفر نے ان کو لیث نے ان کو محمد بن عمرو نے ان کو ان کے والد نے ان کو زید بن ثابت نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں منع نہ کروں برہنہ ہونے سے بے شک تمہارے ساتھ وہ لوگ میں جو تم سے جدانہیں ہو تے نیند میں ہو یا بے داری میں ہاں مگر ایک وقت ایسا ہے جب وہ تم سے علیحدہ ہوتے ہیں جب کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے یا وہ جب بیت الخلا میں جاتا ہے خبردار ان سے شرم کیا کرو خبردار ان کا اکرام کیا کرو ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي عَبَّادٍ، ← المعارك بن عباد البصري ← أَبُو هَمَّامٍ، ← هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7739

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7740

7740 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسن علي بن محمد المصري نا يحيى بن عثمان بن صالح نا أبي نا بكر بن مضر عن عمرو بن الحارث عن جميل الحذاء عن أبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : اللهم لا تدركني أو لا أدرك زمان قوم لا يتبعون العليم و لا يستحيون من الحليم قوم قلوبهم قلوب الأعاجم و ألسنتهم ألسنة العرب قال أبي : الأعجم الدواب و تفسير ذلك قول رسول الله صلى الله عليه و سلم : العجماء جرحها جبار

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ان کو یحییٰ بن عثمان بن صالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو بکر بن مضر نے ان کو عمر و بن حارث نے ان کو جمیل خداء نے ان کو ابو ہریرہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے اللہ نہ پالیں مجھے (یافرمایا تھا۔ کہ ) میں نہ پاؤں اس قوم کا زمانہ جو علیم کی اتباع نہ کریں اور حلیم سے حیا نہ کریں ( مراد اللہ تعالی ٰ ہے ) وہ ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل عجمیوں جیسے ہوں گے اور زبانیں عربوں جیسی ہوں گی۔ میرے والد نے کہا کہ اعجم چو پائے ہیں ۔اور اس کی تفسیر یہ قول رسول ہے کہ : العجماء جرها جبار ’’ نجات کے اسباب ۔صدق ملجاء ۔ صدق تقوی ۔ مراعات و فا ۔ تحقیق حیا ء ‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جميل الحذاء ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← أَبِي ← يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7740

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7741

7741 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت محمد بن الحسن بن خالد المخرمي يقول : سمعت محمد بن عبد الله الفرعاني قال : كان الجنيد جالسا مع رويم و الجريري و ابن عطاء فقال الجنيد : ما نجا من نجا إلا بصدق الملجأ قال الله عز و جل : { و على الثلاثة الذين خلفوا حتى إذا ضاقت عليهم الأرض بما رحبت و ضاقت عليهم أنفسهم و ظنوا أن لا ملجأ من الله إلا إليه } الآية و قال رويم : ما نجا من نجا إلا بصدق التقى قال الله تعالى : { وينجي الله الذين اتقوا بمفازتهم } الآية و قال الجريري : ما نجا من نجا إلا بمراعاة الوفاء قال الله عز و جل : { الذين يوفون بعهد الله ولا ينقضون الميثاق } و قال ابن عطاء : ما نجا من نجا إلا بتحقيق الحياء قال الله عز و جل { ألم يعلم بأن الله يرى } 7741 - مكرر ـ سمعت أبا سعيد بن الملك بن أبي عثمان الزاهد سمعت علي بن جهضم بمكة سمعت أبا عبد الله الفارسي يقول : سئل جنيد عن الحياء فقال رؤية الآلاء و رؤية التقصير فيولد من بين هذين الحالين حالة تسمى الحياء

ہمیں خبر دی ابوعبد الرحمن ٰسلمی نے اس نے سنا محمد بن حسن بن خالد مخرمی سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا محمد بن عبداللہ فرغانی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جنید رویم، جریری اور ابن عطاء کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جنید نے کہانہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر جائے پناہ کی سچائی کے ساتھ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے ۔ وعلى الثلاثة الذين خلفوا حتى اذا ضاقت عليهم الارض بما رحبت وضاقت عليهم انفسهم وظنوا ان لا ملجاء من الله الا اليه۔ اور ان تین آدمیوں پر جو جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے یہاں تک کہ جب ان پر زمین اپنی فراخی کے باوجود تنگ ہوگئی اور ان کے دل خودان پر تنگ ہو گئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔ رویم نے کہا ۔نہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر تقوی ٰکی سچائی کے ساتھ کیونکہ ارشاد باری تعالی ٰہے: وینجی الله الذين اتقوا بمفازتهم ۔ عذاب سے بچنے کے لئے اللہ تعالی ٰ ان لوگوں کو نجات دیتا ہے جو تقوی ٰاختیار کر تے ہیں ۔ جریری نے کہا نہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر وفا کی رعایت کے ساتھ اللہ تعالی ٰ کا ارشاد ہے۔ الذين يؤمون بعهد الله ولا ينقضون الميثاق ۔ اہل جنت وہ لوگ ہیں جواللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور میثاق کو نہیں توڑتے ۔ اور ابن عطاء نے فرمایا نہیں نجات پائی جس نے بھی نجات پائی مگر حیا ء ثابت ہو جانے کے بعد ۔ اللہ تعالی ٰ فرماتے ہیں: الم يعلم بان الله يرى کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے ۔ ( پیچھے تقوی ٰکی بات مذکور ہے۔ ) ( مکرر ہے ) میں نے سنا ابوسعید بن عبد الملک بن ابوعثمان زاہد سے اس نے سناعلی بن جہضم سے مکہ مکرمہ میں اس نے سنا ابو عبداللہ فارسی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت جنید بغدادی سے حیاء کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے فرمایا :نعمتوں کو دیکھنا اور کوتاہی کو دیکھنا۔ لہذا ان دونوں حالتوں کے درمیان ایک حالت پیدا ہوتی ہے جس کو حیاء کہتے ہیں ۔

الحياء ← سئل جنيد ← أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْفَارِسِيَّ، ← عَلِيَّ بْنَ جَهْضَمٍ ← أبا سعيد بن الملك بن أبي عثمان الزاهد ← الله عز و جل مكرر ← ابن عطاء ما نجا من نجا إلا بتحقيق الحياء ← الله عز و جل و ← الجريري ما نجا من نجا إلا بمراعاة الوفاء ← الله تعالى الآية و ← رويم ما نجا من نجا إلا بصدق التقى ← الله عز و جل الآية و ← الجنيد ما نجا من نجا إلا بصدق الملجأ ← كان الجنيد جالسا مع رويم و الجريري و ابن عطاء ← محمد بن عبد الله الفرعاني ← محمد بن الحسن بن خالد المخرمي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7741

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7742

7742 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن إسحاق سمعت سعيد بن عثمان الحناط سمعت ذا النون يقول : اعلموا أن الذي أهاج الحياء من الله عز و جل معرفتهم بإحسان الله إليهم و علمهم بتضييع ما افترض بالله عليهم من شكره و ليس لشكره نهاية كما ليس لعظمته نهاية

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے انہوں نے سنا سعید بن عثمان حفاظ سے اس نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے تھے۔ جس چیز نے اللہ سے حیا کرنے کو ابھارا وہ یہ بات ہے لوگوں کو اس بات کی معرفت حاصل ہو جائے کہ ان کی طرف اللہ کے احسانات کیا کیا ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ ان کو اس بات کا علم ہو کہ اللہ نے ان پر جو اپنا شکر کرنا فرض کیا ہے اس کو وہ لوگ کیسے ضائع کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اس کے شکر کی کوئی انتہا نہیں ہے جیسے اس کی عظمت کی انتہا نہیں ہے۔

ذَا النُّونِ، ← سعيد بن عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7742

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7743

7743 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت عبد الواحد بن بكر يقول : سمعت محمد بن أحمد بن يعقوب حدثني محمد بن عبد الملك يقول : سمعت ذا النون يقول : الحياء وجود الهيبة في القلب مع خشية ما سبق منك إلى ربك

ہمیں خبر دی ہے ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے اس نے سنا عبدالواحد بن بکر سے انہوں نے سنا محمد بن احمد بن یعقوب سے ان کو حدیث بیان کی ہے محمد بن عبدالملک نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناذ والنون سے وہ کہتے تھے حیاء نام ہے ہیبت اور رعب کا جو دل میں ہو اس خوف کے ساتھ جو تجھ سے تیرے رب کے بارے میں پہلے نافرمانی ہو چکی ہے۔

الحياء وجود الهيبة في القلب مع خشية ما سبق منك إلى ربك ← ذَا النُّونِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ بَكْرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7743

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7744

7744 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت عبد الله بن محمد الرازي سمعت محمد بن الفضل يقول : الحياء يتولد من النظر إلى الإحسان المحسن ثم من النظر إلى جفاءك إلى المحسن فإذا كنت كذلك رزقت الحياء إن شاء الله

ہمیں خبر دی ابوعبد الرحمن ٰسلمی نے انہوں نے سنا عبداللہ بن محمد رازی سے اس نے سنا محمد بن فضل سے وہ کہتے ہیں کہ حیاء پیدا ہوتا ہے محسن کے احسانات پر نظر رکھنے سے اس کے بعد محسن کے ساتھ اپنی جفاؤں پر نظر کر نے سے آپ جب ایسے بن جائیں تو انشاءاللہ آپ کو حیا ء عطا ہو جائے گا۔

مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7744

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7745

7745 - أخبرنا محمد بن الحسين السلمي سمعت نصر بن محمد بن أحمد بن يعقوب العطار يقول : سمعت أبا محمد البلاذري يقول : سمعت يوسف بن الحسين يقول : سمعت ذا النون يقول : لله عباد تركوا الذنب استحياء من كرمه بعد أن تركوه خوفا من عقوبته و لو قال لك : اعمل ما شئت فلست آخذك بذنب كان ينبغي لك أن يزيدك كرمه استحياء منه و تركا لمعصيته إن كنت حرا كريما عبدا شكورا فكيف و قد حذرك

ہمیں خبر دی محمد بن حسین سلمی نے اس نے سنانصر بن محمد بن احمد بن یعقوب عطار سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ابومحمد بلاذری سے انہوں نے سنا یوسف بن حسین سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ذوالنون مصری سے وہ کہتے ہیں۔ اللہ تعالی ٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہوں نے گناہ کرنا چھوڑ دیا ہے اللہ کے کرم سے حیاء اور شرم کرتے ہوئے اس کے بعد کہ پہلے انہوں نے اس کی سزا اور اس کی پکڑ کے ڈر سے چھوڑ دیئے تھے اگر اللہ تعالی ٰ تجھے یہ کہہ دے کہ تم جو چاہو عمل کرو میں تمہیں نہیں پکڑوں گا تیرے گناہ کی وجہ سے تو تیرے لئے یہ مناسب ہے کہ تو اس کے کرم کی وجہ سے اور زیادہ شرم و حیا کر ۔ اگر تو آزاد اور شریف ہے اور شکر گزار بندہ ہے، وہ کیسے اضافہ نہیں کرے گا حالانکہ اس نے تجھے بچایا ہے ۔ (معصیت وغیر سے۔)

ذَا النُّونِ، ← يُوسُفُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبا محمد البلاذري ← نَصْرَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يَعْقُوبَ الْعَطَّارَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7745

chevron_left Previous
1…867868869…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood