Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7722

7722 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسين بن الحسن بن أيوب الطوسي نا أبو حاتم الرازي نا الشافعي هو إبراهيم بن محمد نا محمد بن عبد الرحمن التيمي أبو غرارة ح و أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا أبو عمران موسى بن هارون نا إبراهيم بن محمد بن عياش الشافعي نا أبو غرارة أخبرني أبي عن القاسم عن عائشة قالت : قال النبي صلى الله عليه و سلم : الرفق يمن و الخرق شؤم و إذا أراد الله بأهل بيت خيرا أدخل عليهم الرفق فإن الرفق لم يكن في شيء قط إلا زانه و إن الخرق لم يكن في شيء قط إلا شأنه الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و لو كان الحياء رجلا لكان رجلا صالحا و إن الفحش من الفجور و إن الفجور في النار و لو كان الفحش رجلا لكان رجلا سوءا و إن الله لم يخلقني فحاشا لفظ حديث أبي حاتم أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم بن عباد أنا عبد الرزاق

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کوحسین بن حسن بن ایوب طوسی نے ان کو ابو حاتم رازی نے ان کو شافعی نے جو کہ ابراہیم بن محمد میں نے ان کومحمد بن عبدالرحمن ٰتیمی نے ان کو ابوغرارہ نے ’’ ح ‘‘ ۔ اور زمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو طاہر محمد آبادی نے ان کو ابوعمران موسی ٰبن ہارون نے ان کو ابراہیم بن محمد بن عیاش شافعی نے ان کو ابوغرارہ نے ان کو خبر دی ان کے والد نے ان کو قاسم نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ کہتی ہیں کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ شفقت و مہربانی کرنا برکت ہے، اور جھوٹ بولنا بدشگونی ونحوست ہے ۔ جب اللہ تعالی ٰ کسی گھرانے والوں پر بھلائی چاہتے ہیں تو ان میں شفقت اور مہر بانی داخل کر دیتے ہیں جس چیز میں سچ اور شفقت داخل ہوتا ہے اس کو خوبصورت بنا دیتے ہیں ۔ اور جھوٹ جس چیز میں داخل ہوتے ہیں اس کو عیب دار کر دیتا ہے ۔ حیاء ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں لے جائے گا۔ اگر حیاء انسان ہوتا تو بڑا نیک صالح مرد ہوتا اور گالی گلوچ کرنا گناہوں میں سے ہے اور گناہ جہنم میں لے جائیں گے فحش اور برائی اگر آدمی ( کی شکل میں ) ہوتا تو انتہائی برا ہوتا۔ بے شک اللہ تعالی ٰ ٰ نے مجھے گالیاں دینے والا نہیں بنایا۔ یہ الفاظ ابو حاتم کی روایت کے ہیں ۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صفانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحاق بن ابراہیم بن عباد نے ان کو عبدالرزاق نے ۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← أَبِي ← أبو غرارة ← إبراهيم بن محمد بن عياش الشافعي ← أبو عمران موسى بن هارون ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيُّ أَبُو غِرَارَةَ، ← الشافعي هو إبراهيم بن محمد ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7722

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7723

7723 - و أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق أنا يحيى بن معين نا عبد الرزاق أنا معمر عن ثابت عن أنس : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما كان الفحش في شيء قط إلا شأنه و لا كان الحياء في شيء قط إلا زانه لفظهما سواء زاد إسحاق عن عبد الرزاق قال معمر : و بلغني أن الله عز و جل يحب الحر الحليم المتعفف و يبغض الفاحش البذيء السائل الملحف

ہمیں خبر دی ابوسعید محمد بن موسٰی نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق نے ان کو یحیی ٰبن معین نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ثابت نے ان کو انس نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ہوتی بے حیائی کسی چیز میں مگر اس کو عیب ناک کر دیتی ہے اور نہیں ہوتا کسی شئی میں حیاء مگر اس کوزینت عطا کرتا ہے۔ دونوں کے الفاظ برابر ہیں۔اسحاق نے اضافہ کیا ہے عبدالرزاق سے ان کوخبردی معمر نے مجھے خبر پہنچی ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے شریف ۔حوصلہ مند سوال سے بچنے والے انسان کو۔ اور نا پسند کرتا ہے بے حیائی کرنے والے، بیہودہ بکواس کر نے والے چیخ چیخ کر مانگنے والے انسان کو ۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7723

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7724

7724 - أخبرنا أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي أنا أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي نا داود بن الحسين البيهقي نا حميد بن زنجويه نا عثمان بن صالح نا ابن لهيعة عن أبي قبيل عن عبد الله بن عمرو : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا أبغض الله عبدا نزع منه الحياء فإذا نزع منه الحياء لم تلقه إلا بغيضا مبغضا أو نزع الله منه الأمانة فإذا نزع منه الأمانة نزع منه الرحمة فإذا نزع منه الرحمة نزع منه ربقة الإسلام و إذا نزع منه ربقة الإسلام لم تلقه إلا شيطانا مريدا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ بیہقی نے ان کو احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ان کو داؤد بن حسین بیہقی نے ان کو حمید بن زنجو یہ نے ان کو عثمان بن صالح نے ان کو بن لہیعہ نے ان کو ابوقبیل نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے یہ کہ رسول اللہ نے فرمایا: جب اللہ تعالی ٰ کسی بندے سے بغض ونفرت کرتا ہے تو اس سے حیاء چھین لیتا ہے۔ جب اس سے حیا چھین لیتا ہے تو آپ اس سے ملیں تو وہ خودبھی ناپسندیدہ ہوتا ہے اور دوسرے سے بھی نفرت کرتا ہے ۔ یا اللہ تعالی ٰ اس سے امانت چھین لیتا ہے ۔ جب اس سے امانت چھین لیتا ہے تو اس سے شفقت رحمت بھی چھین لیتا ہے۔ جب اس سے رحمت چھن جاتی ہے تو اس سے اسلام کا پٹہ اور (اس کا عہد ) چھن جاتا ہے۔ جب اسلام کا عہد چھن جاتا ہے تو آپ اس کو ملتے ہیں تو وہ محض ایک سرکش شیطان ہی کی صورت میں ملتے ہیں ۔ اعاذنا الله ثم اعاذنا الله من هذا اللعنة والوبال .

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي قَبِيلٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← أبو عبد الله بن عبد الله البيهقي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7724

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7725

7725 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي قالا : نا أبو العباس الأصم نا أبو عتبة نا بقية نا سعيد بن بشير عن قتادة عن مورق العجلي عن ابن عباس قال : الحياء و الإيمان في طلق فإذا انتزع أحدهما من العبد اتبعه الآخر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن قاضی نے ان دونوں کو ابوالعباس اصم نے ان کو ابو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ان کو سعید بن بشیر نے ان کو قتادہ نے ان کو مورق عجلی نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ حیاء اور ایمان ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں جب کسی بندے سے دونوں میں سے کوئی ایک چھن جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے پیچھے چلا جاتا ہے۔

الحياء و الإيمان في طلق فإذا انتزع أحدهما من العبد اتبعه الآخر ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7725

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7726

7726 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي قالا : أنا أبو القاسم علي بن المؤمل نا محمد بن يونس الكديمي أنا المعلي بن المفضل نا ابن المبارك عن الحسن بن مسلم بن بشير بن محل عن عكرمة عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحياء و الإيمان في قرن فإذا سلب أحدهما تبعه الآخر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور ابوعبدالرحمن ٰسلمی نے ان دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ہے ابو قاسم علی بن مؤمل نے ان کو محمد بن یونس کدیمی نے ان کو معلی ٰبن مفضل نے ان کو ابن مبارک نے ان کو حسن بن مسلم بن بشیر بن محل نے ان کو عکر مہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک حیاء اور ایمان ایک کڑے میں جڑے ہیں جب ایک چھین لیا جاتا ہے تو دوسرا اس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الحسن بن مسلم بن بشير بن محل ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← المعلي بن المفضل ← محمد بن يونس الكديمي، ← أبو القاسم علي بن المومل ← أبو عبد الله الحافظ و أبو عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7726

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7727

7727 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري املاء نا محمد بن غالب بن حرب الضبي نا أبو سلمة نا جرير بن حازم أنا يعلى بن حكيم قرنا جميعا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر : قال محمد بن غالب حدثنا به أبو سلمة في الفوائد فأسنده و حدثنا به في حديث جرير بن حازم و لم يقل فيه عن النبي صلى الله عليه و سلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و بختری نے بطور املا ء کے ان کو محمد بن غالب بن حرب ضبی نے ان کو ابوسلمہ نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو یعلی بن حکیم نے میں خیال ہے کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک دیا، اور ایمان اکٹھے جڑے ہوئے ہیں ۔ جب دونوں میں سے ایک اٹھا دیا جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا دیا جاتا ہے ۔ محمد بن غالب نے کہا کہ ہمیں اس کے ساتھ حدیث بیان کی ابوسلمہ نے الفوائد میں اور اس کو انہوں نے مسند کیا اور اس کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن حازم نے مگر اس نے اس کو یوں نہیں کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← به في حديث جرير بن حازم و لم يقل فيه ← به أبو سلمة في الفوائد فأسنده و ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← يعلى بن حكيم قرنا جميعا فإذا رفع أحدهما رفع الآخر ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← محمد بن غالب بن حرب الضبي ← أبو جعفر محمد بن عمرو بن البختري إملاء، ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7727

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7728

7728 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا يحيى بن أبي طالب أنا عبد الوهاب بن عطاء أنا عون عن الحسن : أن النبي صلى الله عليه و سلم لعابد بن المنذر : و هو الأشج إن فيك خلتين يحبهما الله عز و جل قال : ما هما ؟ قال : الحلم و الحياء قال : يا نبي الله استفدته من الإسلام أم شيء جبلت عليه قال : بل جلبت عليه قال : الحمد لله الذي جبلني على ما يحب

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس اصم نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے ان کوخبر دی عون نے ان کو حسن نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عابد بن منذ راشج سے فرمایا تھا کہ تیرے اندر دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالی ٰ پسند کرتا ہے اس نے پوچھا کہ یارسول اللہ وہ کون ہی ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم اور حیاء۔ (حوصلہ اور شرم ) اس نے پوچھایا رسول اللہ ! یہ دونوں میں نے اسلام سے حاصل کی ہیں یا یہ ایسی چیزیں ہیں جن پر میری تخلیق ہوئی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ تم اسی عادت پر پیدائشی طور پر بنائے گئے ہو۔ عابد بن منذر نے کہا۔ الحمد لله الذي جبلني على مايحب ۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ایسی فطرت بخشی ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے۔

الْحَسَنِ، ← عَوْنٌ ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7728

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7729

7729 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا ابن ناجية نا محمد بن عبد الله بن بزيع نا بشر بن المفضل نا قرة بن خالد عن أبي حمزة عن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لأشج بن عبد القيس إن فيك خصلتين يحبهما الله الحياة و الأناة و رواه الحجبي عن بشر و قال : في الحديث الحلم و الأناة قال الحليمي : و يشبه أن تكون حقيقة الحياء خوف الذم و التوقي من الاستكثار و قاله السوء لأن من استحى فإنما يترك لأجل استحيائه ما يوجب فعله له ذما إذ ما يرى أنه يجلب إليه سوءا كان الذم يقبح الفعل في نفسه و لمخالفته عادة الناس في مثله أو لأن المتوقع من فاعله كان خلافه فإما خوف العقوبة بإسلام البدن دون ثلب العرض فلا يسمى حياء و إنما يسمى خضوعا و استسلاما و نحو ذلك قال : و الحياء اسم جامع يدخل فيه الاستحياء من الله عز و جل لأن ذمه فوق كل ذم و مدحه فوق كل مدح و المذموم بالحقيقة من ذمه ربه و المحمود من حمده ربه و ذكر ما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو محمد بن عبداللہ بن بز یع نے ان کو بشر بن مفضل نے ان کو قرہ بن خالد نے ان کو ابو حمزہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اشج بن عبد القیس سے کہ بے شک تیرے اندر دو خصلتیں ہیں اللہ تعالی ٰ جنہیں محبوب رکھتا ہے وہ حیا اور علم وقار ۔ اس کو روایت کیا ہے حجبی نے بشر سے اور کہا ہے کہ حدیث میں ہے حلم ، اور انا ءۃ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ حیاء کی حقیقت یہ ہو مذمت کا خوف اور استکثار سے بچنا برائی کہنے سے ، اس لئے کہ جو شخص حیا کرتا ہے وہ یقینا ً اپنے حیاء کی وجہ سے ان چیزوں کوبھی چھوڑ دیتا ہے جوفعل اس کے لئے مذمت کا باعث بن سکتا ہو ۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ وہ کام اس کے لئے برائی لائے گا گویا کہ مذمت بذات خود فعل کو قبیح بنا دیتا ہے ۔ اور اس لئے بھی کہ عادۃ لوگ اس جیسے فعل میں مخالفت کرتے ہیں ۔ یا اس لئے کہ اس کے کرنے والے کی مخالفت ہی متوقع ہوتی ہے۔ بہر حال بدنی سزا کا خوف ہو جب کہ عزت کی ہتک کے بغیر تو اس کا نام حیا نہیں رکھا جاتا یا اس کو حیا کا نام نہیں دیا جاتا ۔ اس کا نام خضوع اور استسلام ہوتا ہے یا اس کی مثل ۔ فرمایا کہ حیا ء ایک جامع نام ہے جس میں اللہ سے حیاء اور شرم کرنا بھی داخل ہے اس لئے کہ اس کا مذمت کرنا ہر مذمت سے بڑھ کر ہے اور مدح کرنا ہر مدح سے بڑھ کر ہے۔ اور حقیقت میں مذموم وہی جس کا رب اس کی مذمت کرے اور حقیقی محمود بھی وہی ہے جس کی تعریف اس کا رب کرے۔ اور مندرجہ ذیل میں اس کا ذکر ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← ابْنُ نَاجِيَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7729

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7730

7730 - أخبرنا أبو محمد جناح بن نذير بن جناح المحاربي أنا أبو جعفر محمد بن علي بن دحيم نا أحمد بن حازم بن أبي غرزة أنا يعلى بن عبيد نا أبان بن إسحاق عن الصباح بن محمد عن مرة الهمداني عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استحيوا من الله حق الحياء قالوا : إنا نستحي من الله يا رسول الله و الحمد لله قال : ليس ذاك و لكن من استحيا من الله حق الحياء فليحفظ الرأس و ما وعى و ليحفظ البطن و ما حوى و ليذكر الموت و البلى و من أراد الآخرة ترك زينة الدنيا فمن فعل ذلك فقد استحى من الله حق الحياء و روي في ذلك عن هشام عن الحسن عن النبي صلى الله عليه و سلم مرسلا و في ذلك تأكيد لهذا المسند

ہمیں خبر دی ابومحمد جناح بن نذیر بن جناح محاربی نے ان کو ابو جعفر محمد بن علی بن دحیم نے ان کو احمد بن حازم بن ابوغرزہ نے ان کو یعلی بن عبید نے ان کو ابان بن اسحٰق نے ان کو صباح بن محمد نے ان کو مر ہ ہمدانی نے ان کو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی ٰ سے شرم وحیا ،کرنا جیسے کہ اس سے شرم کرنے کا حق ہے ۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کا شکر ہے ہم اللہ تعالی ٰ سے حیا کر تے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ جو شخص اللہ تعالی ٰ سے حیاء کرتا ہے جوحیا کر نے کا حق ہے اس کو چاہئے کہ اس کی حفاظت کرے اور اس کی جس کو سر محفوظ کرتا ہے، اور اس کو چاہئے کہ وہ پیٹ کی حفاظت کرے اور اس کی جو کچھ اس کے اندر ہے اور اس کو چاہئے کہ وہ موت کو یاد کرے اور اس کو جس کو وہ خراب کرتی ہے ۔ جو شخص آخرت کا ارادہ کرتا ہے اس کو چاہتا ہے وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دیتا ہے ۔ جو شخص یہ سارے کام کرتا ہے وہ اللہ سے حقیقی حیاء کرتا ہے جیسے اس سے حیا کر نے کا حق ہے ۔ اس بارے میں روایت کی گئی ہے ہشام سے اس نے حسن سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا روایت کی ہے اور اس میں تاکید ہے اس مسند روایت کے لئے ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، ← الصَّبَّاحِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أبان بن إسحاق ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ ← أبو محمد جناح بن نذير بن جناح المحاربي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7730

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7731

7731 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق سمعت أبا عثمان يقول : سمعت ذا النون يقول : ثلاثة من أعلام الحياء وزن الكلام قبل التفوه به و مجانبة ما يحتاج إلى الاعتذار منه و ترك إجابة السفيه حلما عنه قال : ذو النون فأما الحياء من الله عز و جل فهو ما قال الرسول صلى الله عليه و سلم : أن لا تنسى المقابر و البلى و أن تحفظ الرأس وما حوى و البطن و ما وعى و أن تترك زينة الحياة الدنيا قلت : 7731 - مكرر ـ و قد روينا عن أبي سعيد الخدري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أشد حياء من العذراء في خدرها و كان إذا كره شيئا عرفناه في وجهه أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق في آخرين قالوا : نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا هارون بن سليمان الأصبهاني نا عبد الرحمن بن مهدي عن شعبة عن قتادة قال : سمعت عبد الله بن أبي عتبة قال : سمعت أبا سعيد الخدري يقول : فذكره أخرجاه في الصحيح من حديث ابن مهدي و غيره

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ذوالنون سے وہ کہتے ہیں کہ تین چیز حیاء کی علامات میں سے ہیں: ( ۱ ) بولنے سے پہلے اس کو تولنا۔(۲) جس چیز میں معذرت کرنے کی حاجت پڑے اس سے دور رہنا ۔ ( از راه برد باری کم عقل کی بات نہ ماننا ) یا(۳) از راہ عقل مندی بے عقل کی بات نہ ماننا۔ ذوالنون مصری نے کہا بہر حال اللہ تعالی ٰ سے حیاء کرنا وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ۔ یہ کہ تم قبرستان کو نہ بھولو اور قبریں جس چیز کو بوسید ہ کرتی ہیں ان کے بوسیدہ کرنے کو نہ بھولو اور یہ کہ سر کی حفاظت کرو۔ اور پیٹ جس پرمشتمل ہے اور جس کو محفوظ کرتا ہے اور یہ کہ تم زینت دنیا کو چھوڑ دو میں نے کہا۔ ( مکرر ہے ) تحقیق ہم نے روایت کی ہے ابوسعید خدری سے وہ کہتے ہیں کہ کنواری لڑکی گھر کے کونے میں بنی ہوئی پر دہ گاہ میں رہتے ہوئے جتنا حیاء دار ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زیادہ حیاء دار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کو ناپسند کرتے تھے تو ہم اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر واضح طور پر پہچان لیتے تھے۔ ہمیں اس کے بارے میں خبر دی ابوز کر یا بن ابواسحٰق نے آخرین میں انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے۔ ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان اصفہانی نے ان کو عبدالرحمن بن مہدی نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن ابوعتبہ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے وہ یہ کہتے ہیں کہ اس کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث ابن مہدی وغیرہ سے ۔

ذَا النُّونِ، ← أَبَا عُثْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7731

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7732

7732 - أخبرنا الإمام أبو عثمان أنا أبو علي زاهر بن أحمد نا محمد بن معاذ نا الحسين بن الحسن المروزي أنا ابن المبارك نا يونس بن يزيد عن الزهري أخبرني عروة بن الزبير عن أبيه قال : قال أبو بكر الصديق و هو يخطب الناس يا معشر المسلمين استحيوا من الله فو الذي نفسي بيده إني لأظل حين أذهب إلى الغائط في الفضاء متقنعا بثوبي استحياء من الله عز و جل

ہمیں خبر دی امام ابوعثمان نے ان کو ابوعلی زاھر بن احمد نے ان کو محمد بن معاذ نے ان کو حسین بن حسن مروزی نے ان کو ابن مبارک نے ان کو یونس بن یزید نے ان کو زہری نے ان کو خبر دی عروہ بن زبیر نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا جب کہ وہ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔ اے مسلمانوں کی جماعت اللہ تعالی ٰ سے حیاء کرو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ میں جب میدان میں قضاء حاجت کرنے جاتا ہوں تو اللہ تعالی ٰ سے شرم وحیاء کے مارے گھونگھٹ نکال لیتا ہوں اور اپنے کپڑے کے ساتھ منہ چھپا لیتا ہوں۔

أَبِيهِ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو عَلِىٍّ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ ← الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7732

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7733

7733 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن يحيى بن بلال نا عبد الرحمن بن بشر نا فهر بن أسد نا شعبة حدثني منصور ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي نا إبراهيم بن الحسين نا آدم نا شعبة عن منصور بن المعتمر قال : سمعت ربعي بن خراش يحدث عن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت لفظ حديثهما سواء رواه البخاري عن آدم بن أبي إياس

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابو حامد بن یحیی بن بلال نے ان کو عبدالرحمن ٰبن بشر نے ان کو فہر بن اسد نے ان کو شعبہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے منصور نے ’’ ح“۔ اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبدالرحمن ٰبن حسن قاضی نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو آدم نے ان کو شعبہ نے ان کو منصور بن معتمر نے وہ کہتے ہیں میں نے سنا ربعی بن خراش سے وہ حدیث بیان کرتے تھے ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک نبوت اولی ٰکے کلام میں سے لوگوں نے جو بات پائی ہے وہ یہ ہے کہ جب تو حیاء نہ کرے تو پھر جو تیرا جی چاہے کر ۔ دونوں کی حدیث کے الفاظ برابر ہیں ۔ بخاری نے اس کو آدم بن ابوایاس سے روایت کیا ہے۔

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← رِبْعِيِّ بْنِ خِرَاشٍ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← فهر بن أسد ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ← أبو حامد بن يحيى بن بلال ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7733

chevron_left Previous
1…866867868…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood