Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7710

7710 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا مسبح بن حاتم العلكي نا عبد الجبار بن عبد الله قال : خطب المأمون و ذكر الحياء فمدحه و أكثر في مدحه ثم قال : نا هشيم عن منصور عن الحسن عن عمران بن حصين و أبي بكرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحياء من الإيمان و الإيمان في الجنة و البذاء من الجفاء و الجفاء في النار

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو مسبح بن حاتم عکلی نے ان کو عبدالجبار بن عبداللہ نے وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ مامون رشید نے خطبہ دیا اس میں اس نے حیاء کا ذکر کیا اور اس کی بہت زیادہ تعریف کی اس کے بعد فرمایا۔ ہمیں خبر دی ھشیم نے منصور سے اس نے حسن سے اس نے عمران بن حصین سے اور ابوبکرہ سے دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حیا ایمان میں سے اور ایمان جنت میں لے جائے گا اور بیہودہ بکواس کرناظلم میں سے ہے اور ظلم جہنم میں لے جائے گا ۔

عمران بن حصين و أبي بكرة ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← الحياء فمدحه و أكثر في مدحه ثم ← خطب المأمون و ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مسبح بن حاتم العلكي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7710

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7711

7711 - أخبرنا أبو علي بن شاذان أنا عبد الله بن جعفر نا يعقوب بن سفيان نا محمد بن أبي السري ح و أخبرنا أبو الحسن المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا الحسن بن سفيان نا محمد بن المتوكل نا أبو بشر بكر بن بشر نا عبد الحميد بن سوار حدثني إياس بن معاوية بن قرة قال : كنا عند عمر بن عبد العزيز فذكر عنده الحياء فقال : الحياء من الإيمان فقال عمر : بل هو الدين كله فقال : إياس حدثني أبي عن جدي قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم فذكر عنده الحياء فقالوا : يا رسول الله الحياء من الدين ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : بل هو الدين كله ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الحياء و العفاف و العي عن اللسان لا عن القلب و العمل من الإيمان و إنهن يزدن في الآخرة و ينقصن من الدنيا و ما يزدن في الآخرة أكثر مما ينقصن من الدنيا و إن الشح و الفحش و البذاء من النفاق و إنهن يزدن في الدنيا و ينقصن من الآخرة و ما ينقصن من الدنيا أكثر مما يزدن في الدنيا قال : أياس أمرني عمر بن عبد العزيز فأمليتها عليه فكتبها بخطه ثم صلى بنا الظهر و العصر و هي في كمه ما يضعها لفظ حديث الحسن و في رواية يعقوب حدثني بكير بن بشر السلمي و قال : عن أبيه عن جده قرة المزني ثم قال في آخره قال إياس : فحدثت به عمر بن عبد العزيز فأمرني فأمليتها عليه ثم كتبه بخطه ثم صلى بنا الظهر و العصر و إنها لفي كفه ما يضعها

ہمیں خبر دی ہے ابواالحسن مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو محمد بن متوکل نے ان کو ابو بشر بکر بن بشر نے ان کو عبدالحمید بن سوار نے ان کو حدیث بیان کی ہے ایاس بن معاویہ بن قرہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھے تھے ان کے سامنے حیاء کا ذکر آ گیا۔تو انہوں نے فرمایا کہ حیا ایمان میں سے ہے۔ پھر عمر نے کہا بلکہ وہ کل کا کل دین ہے ۔ کہا ایاس نے مجھے حدیث بیان کی ہے میرے والد سے انہوں نے میرے دادا سے اس نے کہا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ان کے سامنے حیاء کا ذکر آ گیا تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ! کیا حیا بھی دین میں سے ہے (دین کا حصہ ہے؟ ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ وہ پورا کا پورا دین ہے ۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک حیاء، اور پاک دامنی ۔ اور کم گوئی کرنا زبان سے نہ کہ دل سے اور عمل کرنا یہ باتیں ایمان میں سے ہیں۔ بے شک یہ چیزیں آخرت میں اضافہ کرتی ہیں اور دنیا میں کمی کرتی ہیں اور آخرت کے بارے میں جو اضافہ کرتی ہیں وہ اس کمی سے بہت زیادہ ہے جو وہ دنیامیں کرتی ہیں ۔ بے شک بخل ( تیزی نفس ) بے حیائی (برے کام کرنا ) بیہودہ گوئی ( گالم گلوچ و بری باتیں کرنا ) منافقت میں سے ہیں یہ چیزیں دنیا میں اضافہ کرتی ہیں ۔اور آخرت میں کمی کرتی ہیں ۔اور وہ دنیا میں جو کمی کرتی ہیں وہ بہت زیادہ ہے اس سے جودنیا میں اضافہ کرتی ہیں ۔ ایاس نے کہا۔ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے حکم دیا تو میں نے یہ حدیث ان کو لکھوائی انہوں نے اس کو اپنے قلم سے خود لکھا اس کے بعد انہوں نے ہمیں ظہر وعصر کی نماز پڑھائی اور وہ حدیث لکھی ہوئی تھی ان کی آستین میں یا جیب میں رکھی ہوئی تھی ۔ انہوں نے اس کو رکھا نہیں تھا۔ یہ الفاظ حسن کی حدیث کے ہیں ۔ اور یعقوب کی ایک روایت میں ہے کہ مجھے حدیث بیان کی ہے بکبیر بن بشر سلمی نے اور وہ کہتے ہیں انہوں نے روایت کی ہے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا قر ہ مزنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کے آخر میں کہا کہ ایاس نے کہا ہے کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی انہوں نے کہا کہ یہ مجھ کو لکھواؤ میں نے ان کو لکھوائی اس کے بعد انہوں نے اس کو اپنے قلم سے خود لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی پھر عصر کی پڑھائی اور و ہ تحریر ان کی آستین میں یا ہتھیلی میں تھی انہوں نے ابھی تک اس کو نیچے نہیں رکھا تھا۔

عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، ← كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم ← جَدِّي، ← أَبِي ← إِيَاسٍ ← عُمَرُ: «بَلْ هُوَ الدِّينُ كُلُّهُ»، ← الحياء من الإيمان ← عِنْدَهُ الْحَيَاءُ، ← كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، ← عبد الحميد بن سوار ← أبو بشر بكر بن بشر ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ← و، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أبو علي بن شاذان

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7711

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7712

7712 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو طاهر المحمد أباذي نا حامد بن محمود نا إسحاق بن سليمان الرازي نا مالك ح و أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا القعنبي فيما قرأ على مالك عن سلمة بن صفوان عن يزيد بن طلحة بن ركانة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل دين خلق و خلق الإسلام الحياء و في رواية إسحاق و إن خلق الإيمان الحياء هذا مرسل

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان کو ابوطاہر محمد آبادی نے ان کو حامد بن محمود نے ان کو اسحٰق بن سلیمان رازی نے ان کو مالک نے ’’ ح ‘‘ اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو قعنبی نے اس میں جو اس نے پڑھی مالک پر مسلمہ بن صفوان سے اس نے یزید بن طلحہ بن رکانہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر دین کا ایک خلق یعنی عادت وفطرت ہوتی ہے اسلام کی فطرت حیاء ہے ۔اور اسحاق کی ایک روایت میں ہے کہ بے شک ایمان کی فطرت حیا ء ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔

يَزِيدَ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ رُكَانَةَ ← سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ ← الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← و، ← مَالِكٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← حَامِدُ بْنُ مَحْمُودٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدْ أَبَاذِيُّ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7712

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7713

7713 - حدثنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو عمرو بن مطر نا محمد بن عبد السلام نا الحسين بن علي بن يزيد الهمداني نا أبي عن مالك فذكره و قال عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكل دين خلق و رواه أيضا علي بن الحسن الصفار عن وكيع عن مالك عن سلمة بن صفوان عن يزيد بن ركانة عن أبيه قال يحيى بن معين : حديث ركانة هذا مرسل ليس فيه عن أبيه و روي من وجه آخر ضعيف مسندا

ہمیں حدیث بیان کی ابوعبدالرحمن سلمی نے ان کو ابوعمرو بن مطر نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو حسین بن علی بن یزید ہمدانی نے ان کو ان کے والد نے ان کو مالک نے پھر انہوں نے مذکورہ حدیث نقل کیا ہے اور کہا کہ مروی ہے ان کے والد سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دین کی ایک فطرت ہوتی ہے۔ اور اس کو روایت کیا ہے علی بن حسن صفار نے ان کو وکیع نے ان کو مالک نے ان کو سلمہ بن صفوان نے ان کو یزید بن رکانہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو یحییٰ بن معین نے ، حدیث رکانہ مرسل ہے۔مگر اس میں عن ابیہ کے الفاظ نہیں ہیں ۔اور ایک اور ضعیف طریق سے بھی مروی ہے بطور مسند ۔

أَبِيهِ ← مالك فذكره و ← أَبِي ← الحسين بن علي بن يزيد الهمداني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7713

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7714

7714 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا أبو إسماعيل الترمذي نا محمد بن وهب نا بقية عن معاوية بن يحيى عن عمر بن عبد العزيز عن الزهري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لكن دين خلق و إن خلق الإسلام الحياء كذا روي عن بقية عن معاوية بن يحيى و رواه عيسى بن يونس عن معاوية بن يحيى عن الزهري دون ذكر عمر بن عبد العزيز فيه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ابواسماعیل ترمذی نے ان کومحمد بن وہب نے ان کو بقیہ نے ان کو معاویہ بن یحییٰ نے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے ان کو زہری نے ان کوانس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دین کی ایک فطرت ہوتی ہے اور اسلام کی فطرت حیاء ہے۔ اسی طرح مروی ہے بقیہ سے اس نے معاویہ بن یحییٰ سے اور اس کو روایت کیا ہے عیسی ٰبن یونس نے ان کو معاویہ بن یحییٰ نے ان کو زہری نے مگر اس نے عمر بن عبدالعزیز کا ذکرنہیں ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ← بَقِيَّةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7714

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7715

7715 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان انا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن الفضل البلخي نا هشام بن عمار نا عيسى بن يونس : فذكره و روي من وجه آخر عن عمر بن عبد العزيز أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو علي الحسين بن محمد نا محمد بن مخلد بن حفص نا علي بن زهير

ہمیں اس کی خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل بلخی نے ان کو ہشام بن عمار نے ان کو عیسی ٰبن یونس نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اور ایک اور طریق سے مروی ہے عمر بن عبدالعزیز سے ۔ ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے ابوعلی حسین بن محمد سے ان کو محمد بن مخلد بن حفص نے ان کو علی بن زہیر نے۔

علي بن زهير ← مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدِ بْنِ حَفْصٍ ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عيسى بن يونس فذكره و روي من وجه آخر ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إسماعيل بن الفضل البلخي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7715

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7716

7716 - و أخبرنا أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الحرضي أنا أبو بكر محمد بن حميد بن سهل الموصلي ببغداد نا صالح بن أحمد بن أبي مقاتل نا علي بن زهير الشيباني نا علي بن عياش حدثني أبو مطيع الاطرابلسي نا عباد بن كثير عن عمر بن عبد إبراهيم العزيز عن الزهري عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن لكل دين خلقا و خلق الإسلام الحياء و رواها أيضا صالح بن حسان عن محمد بن كعب عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه و سلم أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن هاشم نا حميد بن الربيع نا سعيد بن محمد الوراق نا صالح بن حسان فذكره و هذا أيضا ضعيف

اور ہمیں خبر دی ابومحمد عبد اللہ بن عبد الرحمن حرضی نے ان کو ابوبکرمحمد بن حمید بن سہل موصلی نے بغداد میں ان کو صالح بن احمد بن ابو مقاتل نے ان کو علی بن زہیر شیبانی نے ان کو علی بن عیاش نے ۔ ان کو حدیث بیان کی ابومطیع طرابلسی نے ان کو عباد بن کثیر نے ان کو عمر بن عبدالعزیز نے ان کو زہری نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ہر دین کی ایک فطرت ہوتی ہے اور اسلام کی فطرت حیاء کرنا ۔ اور اس کو روایت کیا صالح بن حسان نے بھی محمد بن کعب سے اس نے ابن عباس سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن محمد بن یحییٰ نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن ہاشم نے ان کو حمید بن ربیع نے ان کو سعید بن محمد وراق نے ان کو صالح بن حسان نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے ۔اور یہ بھی ضعیف ہے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عمر بن عبد إبراهيم العزيز ← عباد بن كثير ← أبو مطيع الاطرابلسي ← عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ← علي بن زهير الشيباني ← صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي مُقَاتِلٍ ← أبو بكر محمد بن حميد بن سهل الموصلي ببغداد ← أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الحرضي ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7716

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7717

7717 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن القاضي نا أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم بن الضحاك المصري بمكة نا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ بمكة نا بشر بن عيسى نا محمد بن إسماعيل عن عمرو بن محمد الأسلمي عن فليح بن عبد الله الخطمي عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خمس من سنن المرسلين الحياء و الحلم و الحجامة و السواك و التعطر و هذا قد ذكرناه البخاري في التاريخ عن عبد الرحمن بن عبد الملك عن ابن أبي فديك و هو محمد بن إسماعيل عن عمر بن محمد الأسلمي فعمر ينفرد به و روي من وجه آخر كما

ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن قاضی نے ان کو ابوعبدالله احمد بن ابراہیم بن ضحاک مصری نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوعبداللہ محمد بن علی بن زید صائغ نے مکہ مکرمہ میں انکوبشر بن عیسیٰ نے ان کو محمد بن اسماعیل نے ان کوعمرو بن محمد اسلمی نے ان کو فلیح بن عبداللہ خطمی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں رسولوں کی سنتوں میں سے ہیں ۔ حیاء، حوصلہ، جونکیں لگوانا ، مسواک کرنا ، عطر لگانا۔ اس کو بخاری نے ذکر کیا ہے تاریخ میں عبدالرحمن ٰبن عبدالملک نے ان کو ابن ابوفد یک نے ۔ وہ محمد بن اسماعیل میں انہوں نے عمر بن محمد اسلمی سے ۔ پس عمر اس کو روایت کرنے میں منفرد ہیں اور ایک اور طریق سے بھی مروی ہے جیسے ذیل میں ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← فليح بن عبد الله الخطمي ← عمرو بن محمد الأسلمي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بشر بن عيسى ← أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغ بمكة ← أبو عبد الله أحمد بن إبراهيم بن الضحاك المصري بمكة ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7717

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7718

7718 - أخبرنا أبو الحسن العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ نا أبو أحمد الفرانا قدامة بن محمد نا إسماعيل بن شيبة عن ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من سنن المرسلين الحلم و الحياء و الحجامة و السواك و التعطر و كثر الأزواج تفرد به قدامة بن محمد الحضرمي عن إسماعيل و ليسا بالقويين و أصح ما روي فيه ما

ہمیں خبر دی ابواالحسن علوی نے ان کو احمد بن محمد بن حسن حافظ نے ان کو ابو حامد فرا نے ان کو قد امہ بن محمد نے ان کو اسماعیل بن شیبہ نے ان کو ابن جریج نے ان کو عطاء نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رسولوں کی سنتوں میں سے ہے۔ حلم ۔ حیاء۔ پچھنے لگوانا ۔ مسواک کرنا۔ عطر لگانا۔ زیادہ بیویاں کرنا۔ اس روایت میں قدامہ منفرد ہیں ۔ قدامہ بن محمد حضرمی ہے وہ روایت کرتا ہے اسماعیل سے ۔ جب کہ دونوں راوی قوی نہیں ہیں ۔اس بارے میں صحیح ترین روایت مندرجہ ذیل ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ شَيْبَةَ، ← أبو أحمد الفرانا قدامة بن محمد ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ← أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7718

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7719

7719 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس الأصم نا محمد بن إسحاق الصغاني نا سعيد بن سليمان نا عباد بن العوام عن حجاج عن مكحول عن أبي الشمال عن أبي أيوب الأنصاري : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أربع من سنن المرسلين التعطر و النكاح و السواك و الحياء و كذلك رواه حفص بن غياث عن حجاج بن أرطاة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو سعید بن سلیمان نے ان کو عباد بن عوام نے ان کو حجاج نے ان کو مکحول نے ان کو ابوشمال نے ان کو ابو ایوب انصاری نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ چار چیزیں رسولوں کی سنتوں میں سے ہیں۔ عطر لگا نا ۔۔ نکاح کرنا ۔مسواک کرنا۔ حیاء کرنا۔ اسی طرح روایت کیا ہے اس کو حفص بن غیاث نے ان کو حجاج بن ارطات نے ۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أبي الشمال، ← مَكْحُولٌ ← حجاج، ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7719

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7720

7720 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا جعفر بن الحجاج نا أيوب بن محمد الوزان نا الوليد نا ثابت بن يزيد عن الأوزاعي عن الزهري عن عروة سمعت عائشة : تقول كان نبي الله صلى الله عليه و سلم يقول في مكارم الأخلاق : عشرة تكون في الرجل و لا تكون في ابنه و تكون في الابن و لا تكون في أبيه و تكون في العبد و لا تكون في سيده يقسمها الله لمن أراد به السعادة صدق الحديث و صدق الناس و هو أن لا يشبع و جاره و صاحبه جائعان و أعطاه السائل و المكافأة بالصنائع و حفظ الأمانة و صلة الرحم و التذمم للجار و التذمم للصاحب و أقراء الضيف و رأسهن الحياء

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو جعفر بن حجاج نے ان کو ایوب بن محمد وزان نے ان کو ولید نے ان کو ثابت بن یزید نے ان کو اوزاعی نے ان کو زہری نے ان کو عروہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے وہ فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکارم اخلاق کے بارے میں فرماتے تھے۔ دس باتیں ایسی ہیں جو کہ کسی آدمی میں ہوتی ہیں مگر اس کے بیٹے میں نہیں ہوتیں ۔ اگر بیٹے میں ہوتی ہیں تو اس کے باپ میں نہیں ہوتیں ۔ غلام میں ہوتی ہیں مگر اس کے آقامیں نہیں ہوتیں اللہ انہیں تقسیم کرتا ہے اس شخص کے لئے جس کے ساتھ سعادت کا ارادہ کرتا ہے: ( ۱ ) بات میں سچائی۔(۲) لوگوں کے ساتھ سچائی وہ یہ ہے کہ وہ پیٹ نہیں بھرتا جب کہ اس کا پڑوسی اور دوست بھوکے ہوں ۔(۳) سائل کو دینا۔(۴) نیکیوں کا بدلہ دینا۔ ( ۵) امانت کی حفاظت کرنا۔(۶) صلہ رحمی کرنا۔ (۷ ) پڑوسی کے لئے اور دوست کے لئے ۔ (۸) عاجزی کرنا۔ (۹) مہمان کو کھانا کھلانا اور(۱۰) ان تمام صفات کی اصل اور سر دارصفت حیاء کرنا ہے۔

عائشة تقول كان نبي الله صلى الله عليه و سلم ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ ← الْوَلِیْدُ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← جَعْفَرُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7720

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ الرابع و الخمسون من شعب الإيمان و هو باب الحياء بفصوله · حديث 7721

7721 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان نا يوسف بن موسى المروروذي نا أيوب بن محمد الوزان : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال عن عائشة كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : و لم يذكر قوله و هو أن لا يشبع و جاره و صاحبه جائعان قال أبو عبد الله : ثابت بن يزيد الذي أدخله الوليد بن مسلم بينه و بين الأوزاعي مجهول و ينبغي أن يكون الحمل فيه عليه قلت و قد روي ذلك بإسناد آخر ضعيف موقوفا على عائشة و هو به أشبه 7721 - مكرر ـ أخبرناه أبو الحسن علي بن محمد المقري أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا أبو عمران التستري نا محمد بن خليد نا فضيل أنا إسماعيل بن عياش عن الأفريقي عن يزيد بن أبي منصور قال : قالت عائشة أخلاق المكارم عشر صدق الحديث و صدق الناس و أداء الأمانة و صلة الرحم و التذمم للجار و التذمم للصاحب و المكافأة للصنائع و أقراء الضيف و إعطاء السائل و رأس ذلك الحياء

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکرمحمد بن داؤد بن سلیمان نے ان کو یوسف بن موسی ٰمرازی نے ان کو ایوب محمد وزان نے اس نے اس کو ذکر کیا ہے اپنی سند کے ساتھ مذکور ہ حدیث کی مثل ۔ علاوہ ازیں اس نے کہا ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے ۔ مگر اس نے یہ الفاظ ذکر نہیں کئے کہ وہ پیٹ نہیں بھرتا جب کہ اس کا پڑوسی اور دوست بھوکے ہوں ۔ ابوعبداللہ نے کہا ہے ثابت بن یزید وہ ہے ۔ جس کو ولید بن مسلم اور اوزاعی کے درمیان ہے جو کہ مجہول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ یہ اسی پر محمول ہو ۔ میں نے کہا کہ یہ دوسری سند کے ساتھ بھی مروی ہے جو کہ ضعیف ہے اور وہ جو موقوف ہے عائشہ رضی اللہ عنہا پر اور وہ زیادہ بہتر ہے۔ مکرر ہے ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ان کو حسین بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعمران تستری نے ان کومحمد بن خلید نے ان کو فضیل نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے ان کو افریقی نے ان کو یزید بن ابومنصور نے وہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا مکارم اخلاق دس ہیں۔(۱) بات میں سچائی۔(۲) لوگوں کے ساتھ سچائی۔(۳) ادا امانت ۔(۴) صلہ رحمی کرنا۔(۵) پڑوسی کے لئے عاجزی و خیر خواہی کرنا۔(۶) دوست کے لئے عاجزی و خیر خواہی کرنا ۔(۷ ) اچھے کاموں کا بدلہ دینا ۔(۸) مہمان نوازی کرنا۔(۹) سائل کو دینا اور(۱۰) ان سب کا سردار با حیا ہونا ہے۔

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › The fifty-fourth of the people of faith, which is the chapter on modesty, with its chapters · Hadith 7721

chevron_left Previous
1…865866867…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood