Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7674

7674 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن ابن طاوس عن أبيه قال : جاء بحير بن ريسان إلى ابن عباس يستعين به على ابن الزبير و كان عاملا له فقال ابن عباس أنت امرؤ ظلوم لا يحل لأحد أن يشفع فيك و لا يدفع عنك

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو ابن طاؤس نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ بحیر بن ریسان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ ان سے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف مدد چاہتے تھے وہ بحیران کے حامل بھی تھے۔ حضرت ابن عباس نے اس سے کہا کہ تم بڑے ظالم آدمی ہو کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ تیرے بارے میں سفارش کرے یا تیرا دفاع کرے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7674

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7675

7675 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو إسماعيل الترمذي حدثني إسحاق بن إبراهيم حدثني عمرو بن الحارث نا عبد الله بن سالم نا الزبير بن محمد بن الوليد نا عامر نا عياش بن مؤنس : أن أبا الحسن نمران الرحبي حدثه أن أوس بن شرحبيل أحد بني المجمع حدثه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من مشى مع ظالم يقويه و هو يعلم أنه ظالم فقد خرج من الإسلام لم يثبت شيخنا اسناده و هو كما كتبته صحيحا لا شك فيه و قال جرير بن عثمان مرة شرحبيل بن أوس 7675 - مكرر أخبرنا أبو سعد الماليني ثنا أبو أحمد بن عدي ثنا ابن ناجية نا ابن المثنى و الحسن بن خالد قالا نا زياد بن الربيع اليحمدي أبو خراش نا عباد بن كثير الشامي من أهل فلسطين عن امرأة منهم يقال له فسيلة أنها سمعت أباها قال : يقول : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله : أمن العصبية أن يحب الرجل قومه قال : لا و لكن من العصبية أن يعين الرجل قومه على الظلم قال أبو موسى و هو محمد بن المثنى : فسيلة هذه يقال إنها بنت واثلة بن الأسقع

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابواسماعیل ترمذی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عمرو بن حارث نے ان کو عبداللہ بن سالم نے ان کوزبیر بن محمد بن ولید نے ان کو عامر نے ان کو عیاش بن مؤنس نے یہ کہ ابوالحسن نمران رحبی نے اس کو حدیث بیان کی ہے یہ کہ اوس بن شرجیل بنی مجمع میں سے ہیں اس نے اس کو حدیث بیان کی کہ اس نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے ۔ جو شخص ظالم کے ساتھ چل کر اس کو تقویت دے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ ظالم ہے وہ اسلام سے نکل جاتا ہے۔ ہمارے شیخ نے اس کی سند کو ثابت نہیں کیا۔ اوروہ اسے صحیح ہے جیسے میں نے اس کو لکھا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے اور جریر بن عثمان کبھی کہتے ہیں کہ شرجیل بن اوس ۔ ( مکرر ہے ) ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو ابن ناجیہ نے ان کو ابن مثنی نے اور حسن بن خالد نے ان دونوں کو زیاد بن ربیع یحمدی ابو خراش نے ان کو عباد بن کثیر شامی جولسطینی ہیں فلسطین کی ایک عورت سے جسے فسیلہ کہتے تھے اس نے سنا تھا اپنے والد سے انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا بات عصبیت میں سے ہے کوئی آدمی اپنی قوم سے محبت کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ بلکہ عصبیت یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنی قوم کی ظلم پر اعانت کر ے ۔ کہا ابو موسیٰ نے یعنی محمد بن مثنی نے کہا جاتا تھا کہ فسیلہ ، واثلہ بن اسقع کی بیٹی ہے۔

عياش بن مؤنس ← عَامِرٍ، ← الزبير بن محمد بن الوليد ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7675

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7676

7676 - أخبرنا أبو الحسن علي بن عبد الله بن إبراهيم الهاشمي نا عثمان بن أحمد بن السماك نا أبو قلابة عبد الملك بن محمد نا يحيى بن حماد نا رجاء أبو يحيى صاحب السقط قال : سمعت يحيى بن أبي كثير يحدث عن أيوب السختياني عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من مشى من قوم يرى منهم أنه شاهد و ليس بشاهد فهو شاهد زور و من أعان على خصومة بغير علم كان في سخط الله حتى ينزع و قتال المؤمن كفر و سبابه فسوق

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن عبداللہ بن ابراہیم ہاشمی نے ان کوعثمان بن احمد بن سماک نے ان کو ابو قلا بہ عبدالملک بن محمد نے ان کو یحییٰ بن حماد نے آپ کو رجاء کو ابویحییٰ صاحب سقط نے اس نے سنا یحییٰ بن ابو کثیر سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں ایوب سختیانی سے اس نے ابوسلمہ سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص کسی قوم کے ساتھ یہ دیکھانے کے لئے چلتا ہے کہ وہ ان کے لئے گواہ ہے حالانکہ وہ گواہ نہیں ہے تو وہ جھوٹا گواہ ہوگا ۔ اور جو شخص بغیر علم کے یعنی بغیر جانے کسی جھگڑے میں امداد کرے وہ اللہ کی ناراضگی میں ہوتا ہے یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے اور ( مسلمان ) مؤمن سے قتال کرنا کفر ہے اور اس کو گالیاں دینا فسق ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← رَجَاءٌ أَبُو يَحْيَى، صَاحِبُ السِّقْطِ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7676

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7677

7677 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو محمد عبد الله بن إسحاق نا إبراهيم بن الخراساني نا الحسن بن سلام نا عبيد الله بن موسى نا إسرائيل عن سماك عن عبد الرحمن بن عبد الله عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أعان قوما على ظلم فهو كالبعير المتردي فهو ينزع بذنبه

ہمیں خبر دی ابوزکریا بن اسحٰق نے ان کو عبداللہ بن اسحٰق نے ان کو براہیم بن خراسانی نے ان کو حسن بن سلام نے ان کو عبید اللہ بن موسیٰ نے ان کو اسرائیل نے ان کو سماک نے ان کوعبد الرحمن ٰبن عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی قوم کی ظلم پر امداد کرے وہ بلندی سے گر کر ہلاک ہونے والے اونٹ کی طرح ہے جب اس کی دم سے کھینچا جائے ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← إبراهيم بن الخراساني ← أبو محمد عبد الله بن إسحاق ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7677

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7678

7678 - أخبرنا أبو الحسن المقري علي بن أبي علي الاسفرايني نا محمد بن أحمد بن يوسف نا محمد بن أحمد بن يوسف نا محمد بن غالب بن حرب نا أحمد بن جميل نا عمارة بن محمد عن محمد أظنه ابن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الأعمال أفضل ؟ قال : أن تدخل على أخيك المسلم سرورا أو تقضي عنه دينا أو تطعمه خبزا و كذلك رواه الوليد بن شجاع عن عمار بن محمد عن محمد بن عمرو و عمار بن محمد فيه نظر و هذا الحديث شاهد مرسل

ہمیں خبر دی ابوالحسن مقری علی بن ابوعلی اسفرائنی نے ان کو محمد بن احمد بن یوسف نے ان کو محمد بن غالب بن حرب نے ان کو احمد بن جمیل نے ان کو عمار ہ بن محمد نے ان کو محمد نے میں اس کو گمان کرتا ہوں ابن عمرو نے ابوسلمہ سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون ساعمل افضل ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے مسلمان بھائی کے پاس جاؤ تو خوش ہوکر یا اس سے اس کا قرض ادا کرو یا اس کو روٹی کھلاؤ۔ اسی طرح اس کو روایت کیا ہے ولید بن شجاع نے عمار بن محمد سے اس نے محمد بن عمرو اور عمار بن محمد سے یہ حدیث قابل غور ہے اور یہ حدیث مرسل ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← محمد أظنه ابن عمرو ← عمارة بن محمد ← أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ ← محمد بن أحمد بن يوسف ← محمد بن أحمد بن يوسف ← أبو الحسن المقري علي بن أبي علي الاسفرايني

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7678

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7679

7679 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا الحسين بن علي الجعفي عن سفيان بن عيينة عن ابن المنكدر : يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أفضل العمل إدخال السرور على المؤمن يقضي عنه دينا يقضي له حاجة ينفس عنه كربة قال سفيان و قيل لابن المنكدر ما بقي مما يستلذ قال الإفضال على الإخوان

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر قاضی نے ان کوابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو حسین بن علی جعفی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ابن منکدر نے وہ اس کو مرفوع روایت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ افضل اعمال میں سے ہے مؤمن کو خوشی دینا۔ اس کا قرض ادا کرنا۔ اس کی حاجت پوری کرنا ۔ اس کی پریشانی دور کرنا ۔ سفیان کہتے ہیں کہ ابن منکدر سے کہا گیا۔ باقی کیا رہ گیا ہے جس کو اور زیاد ہ شمار کیا جائے ۔ فرمایا بھائیوں پر عنایات کرنا اور زیادہ عطا کرنا ۔

ابن المنكدر يرفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بَكْر القاضي

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7679

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7680

7680 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبيد بن شريك نا نعيم بن حماد نا عبد الله بن المبارك نا عبد الله بن موهب عن مالك بن محمد بن حارثة الأنصاري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يغش حقا بلسانه جرى له أجره حتى يأتي يوم القيامة هو فيه ثوابه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبید بن شریک نے ان کو نعیم بن حماد نے ان کو عبد اللہ بن مبارک نے ان کو عبد اللہ بن موہب نے ان کو مالک بن محمد بن حارثہ انصاری نے ان کو انس بن مالک نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص حق ادا کر لیتا ہے بوجہ اپنی زبان کے ۔ اس کے لئے اس کا اجر جاری کر دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ قیامت میں آئے تو اس کو اس کا ثواب ملے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مالك بن محمد بن حارثة الأنصاري ← عبد الله بن موهب ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7680

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7681

7681 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ في التاريخ أنا محمد بن صالح نا أبو حامد أحمد بن عبد الله الناشكي نا الحسن بن عيسى نا ابن المبارك نا عبد الله بن موهب عن مالك بن محمد بن حارثة الأنصاري عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من رجل يغش بلسانه حقا يعمل به أجري عليه أجره إلى يوم القيامة ثم يراه الله ثوابه يوم القيامة قلت في كتاب عبد الله بن موهب و الصواب عبيد الله بن موهب و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے تاریخ میں ان کو محمد بن صالح نے ان کو ابو حامد احمد بن عبداللہ ناشکی نے ان کوحسن بن عیسی ٰنے ان کو ابن مبارک نے ان کو عبد اللہ بن موهب نے ان کو مالک بن محمد بن حارثہ انصاری نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں کوئی آدمی جو اپنی زبان کے حق کو گھیر لیتا ہے مگر اس پر اس کے لئے اجر جاری کیا جائے گا قیامت تک پھر اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اس کا ثواب دیکھائے گا۔ میں نے کہا کہ عبداللہ بن موہب کی کتاب میں عبیداللہ بن موہب ہے،ثقہ ہے ۔ واللہ اعلم ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مالك بن محمد بن حارثة الأنصاري ← عبد الله بن موهب ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی ← أبو حامد أحمد بن عبد الله الناشكي ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ← أبو عبد الله الحافظ في التاريخ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7681

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7682

7682 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا خلف بن محمد البخاري نا صالح بن محمد الحافظ نا مروان بن جعفر السمري من ولد سمرة بن جندب بالكوفة نا المستلم بن سعيد نا منصور بن زاذان عن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة صدقة اللسان قالوا يا رسول الله و ما صدقة اللسان ؟ قال : الشفاعة يفك بها الأسير و يحقن بها الدم و يجر بها المعروف و الإحسان إلى الأخ الكريم المسلم و كذلك روي عن محمد بن يحيى الذهلي عن مروان بن جعفر و قد

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خلف بن محمد بخاری نے ان کو صالح بن محمد حافظ نے ان کو مروان بن جعفر سمری نے ( یہ سمرہ بن جندب کے اولاد میں ہے کوفے میں ) ان کو مستلم بن سعید نے ان کومنصور بن زاذان نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا افصل صدقہ زبان کا صدقہ ہے ۔لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ زبان کا صدقہ کیا ہے؟ فرمایا کہ سفارش کرنا جس کے ذریعے قیدی چھڑایا جائے جس کے ذریعے خون محفوظ ہو جائے ۔ جس کے ذریعے اچھائی واحسان اپنے مسلم بھائی تک پہنچایا جائے اور اسی طرح روایت کی گئی ہے محمد بن یحییٰ دھلی سے اس نے مروان بن جعفر سے ۔

سَمُرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مروان بن جعفر السمري من ولد سمرة بن جندب بالكوفة ← صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ ← خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7682

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7683

7683 - أخبرنا أبو القاسم مجالد بن عبد الله بن مجالد البجلي بالكوفة نا مسلم بن محمد بن أحمد بن مسلم التميمي نا الحضرمي نا مروان بن جعفر نا محمد بن هانئ الطائي عن محمد بن يزيد عن المستلم بن سعيد عن أبي بكر عن الحسن عن سمرة بن جندب : فذكره مرفوعا و قال إلى أخيك المسلم و زاد و يدفع عنه الكريهة 7683 - مكرر ـ و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا هشام بن علي نا أبو الربيع نا إسماعيل بن جعفر عن أبي بكر الهذلي عن الحسن عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفضل الصدقة الشفاعة بها يفك الأسير

ہمیں خبر دی ابوالقاسم مجاہد بن عبداللہ بن مجالد بجلی نے کوفے میں ان کو مسلم بن محمد بن احمد بن مسلم تمیمی نے ان کو حضرمی نے ان کو مروان بن جعفر نے ان کو محمد بن ھانی طائی نے ان کو محمد بن یزید نے ان کو مستلم بن سعید نے ان کو ابو بکر نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ بن جندب نے اس نے اس کو بطور مرفوع روایت کیا ہے ۔اور اس نے کہا ہے ۔ تیرے مسلم بھائی تک ۔ اور اس نے یہ لفظ بھی زیادہ کیا ہے ۔ ( کہ وہ سفارش ) دفع کرے گا وہ ناپسندیدہ امر کو ۔ ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو ہشام بن علی نے ان کو ابوالربیع نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے ان کو ابوبکر ہذلی نے ان کو حسن نے ان کو سمرہ بن جندب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افضل صدقہ وہ شفاعت ہے جس کے ذریعے قیدی چھڑایا جائے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← إلى أخيك المسلم و زاد و يدفع عنه الكريهة مكرر و ← سمرة بن جندب فذكره مرفوعا و ← الْحَسَنِ، ← أَبِي بَكْرٍ، ← الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ← محمد بن هانئ الطائي ← مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← الْحَضْرَمِيِّ ← مسلم بن محمد بن أحمد بن مسلم التميمي، ← أبو القاسم مجالد بن عبد الله بن مجالد البجلي بالكوفة،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7683

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7684

7684 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ نا محمد بن محمد بن سليمان الواسطي نا أبو همام يعني ابن أبي بدر نا المغيرة بن سقلاب عن معقل بن عبيد الله عن عمرو عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من صدقة أفضل من قول قال أبو علي معقل بن عبيد الله لم يتابع عليه و لا أعلم عنه روى عنه غير المغيرة بن سقلاب و هو حراني لا بأس به و روى إبراهيم بن يزيد عن عمرو بن دينار عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مرسلا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوعلی حسین بن علی حافظ نے ان کو محمد بن محمد بن سلیمان واسطی نے ان کوابو ہمام نے یعنی ابن ابو بدر نے ان کو مغیرہ بن سقلاب نے ان کو معقل بن عبید اللہ نے ان کو عمرو نے ان کو جابر رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بات سے بہتر کوئی صدقہ نہیں ہے ۔ ابوعلی معقل بن عبید اللہ نے کہا کہ اس روایت کا متابع نہیں آیا ہے ۔ اور میں نہیں جانتا کہ اس سے کسی اور نے روایت کی ہو سوائے مغیرہ بن سقلاب کے اور وہی حرانی ہے اس سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کو روایت کیا ہے ابراہیم بن یزید نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور مرسل کے ۔

جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← مَعْقِلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← المغيرة بن سقلاب ← أبو همام يعني ابن أبي بدر ← محمد بن محمد بن سليمان الواسطي، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7684

شعب الإيمان · الثالث و الخمسون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في التعاون على البر و التقوى · حديث 7685

7685 - و أخبرنا أبو عبد الله أنا أبو علي نا علي بن إسماعيل بن يونس الصفار البغدادي نا سعدان بن نصر نا فهر بن زياد نا إبراهيم بن يزيد عن عمرو بن دينار عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ما من صدقة أحب إلى الله عز و جل من قول الحق و قيل عن إبراهيم عن عمرو بن دينار عن طاوس عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال أبو علي و ليس بمحفوظ

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ نے ان کو ابوعلی نے ان کوعلی بن اسماعیل بن یونس صفار بغدادی نے ان کو سعدان بن نصر نے ان کو فہر بن زیاد نے ان کو ابراہیم بن یزید نے ان کو عمرو بن دینار نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سچ کی بات سے بڑھ کر کوئی صدقہ اللہ کوزیادہ محبوب نہیں ہے اور کہا گیا کہ یہ مروی ہے ابراہیم سے اس نے عمرو بن دینار سے اس نے طاؤس سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ابوعلی نے کہا مگر وہ غیر محفوظ ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ← فهر بن زياد ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← علي بن إسماعيل بن يونس الصفار البغدادي ← أَبُو عَلِيٍّ ← أَبُو عَبْد اللَّهِ ← و،

Shuab ul Iman · Fifty-third of the people of faith › And it is a door to cooperation in righteousness and piety · Hadith 7685

chevron_left Previous
1…862863864…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood