Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 646

645 - أخبرنا أبو نصر عمر بن عبد العزيز بن عمر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي بمكة ثنا هشام بن عمار ثنا الوليد هو ابن مسلم ثنا الحكم بن مصعب القرشي قال : سمعت محمد بن علي بن عبد الله بن عباس يحدث عن أبيه عن جده ابن عباس رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من أكثر الاستغفار جعل الله له من كل هم فرجا و من كل ضيق مخرجا و رزقه من حيث لا يحتسب

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر عمر بن عبدالعزیز بن عمر بن قتادہ سے ، ان کو ابو عمر و بن نصر نے ، ان کو ابراہیم بن دحیم دمشقی نے مکہ مکرمہ میں ان کا ھشام بن عمار نے ، ان کو ولید نے ، وہ ابن مسلم سے ، ان کو حکم بن مصعب قرشی نے، کہتے کہ میں نے سنا محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس سے، وہ حدیث بیان کرتے تھے ان کے والد سے ، وہ ان کے دادا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من اکثر الا ستغفار جعل اللہ لہ من کل ہم فر جاً و من کل ضیق مخر جاً و رزقہ من حیث لا یحتسب جو شخص کثرت کے ساتھ استغفار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر فکر و پریشانی سے کشادگی اور ہر تنگی سے راہ نجات بناتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا کرتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا ۔

جَدِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ← الحكم بن مصعب القرشي ← الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← إبراهيم بن دحيم الدمشقي بمكة ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 646

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 647

646 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف قال ذكر سفيان عن منصور بن صفية عن أمه عن عائشة رضي الله عنها قالت : طوبى لمن وجدت في صحيفته استغفارا كثيرا هذا هو الصحيح موقوفا و روي عن النعمان بن عبد السلام عن سفيان مرفوعا و روي من حديث داود بن عبد الرحمن عن منصور بن صفية كذلك مرفوعا

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو بکر قطان نے ، ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو محمد یوسف نے ، کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا منصور بن صفیہ سے اس نے اپنی ماں صفیہ سے ، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے فرماتی ہیں کہ : طوبی لمن و جد فی صحیفتہ استغفار اً کثیر ا مبارک ہو اس شخص کو جو اپنے صحیفے میں پالے استغفار کثیر ۔ یہ صحیح ہے مگر بطور موقف ہونے کے اور نعمان بن سلام سے روایت ہے سفیان سے بطور مرفوع روایت کے اور روایت کیا گیا حدیث داؤد بن عبدالرحمٰن سے ، ان کو منصور بن صفیہ اسی طرح مرفوعاً روایت ہے ۔

مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر القطان

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 647

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 648

647 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا عبيد بن شريك ثنا عمرو بن عثمان ـ ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أحمد بن أبي عثمان الزاهد ثنا خشنام بن بشر ثنا عمرو بن عثمان بن سعيد بن كثير بن دينار الحمصي ثنا أبي ثنا محمد بن عبد الرحمن قال : سمعت عبد الله بن بسر رضي الله عنه يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى لمن وجد في كتابه استغفارا كثيرا و لم يقل سمعت

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو عبید بن شریک نے ان کو عمر و بن عثمان نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو احمد عثمان زاہد نے ، ان کو خشنام بن بشرنے ، ان کو عمر و بن عثمان نے بن سعید بن کثیر بن دینا رحمصی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہمارے والد نے ، ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا عبداللہ بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، فرماتےہیں کہ فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے : طو بیٰ لمن و جدفی صحیفتہ من الاستغفار مبارک ہو اس شخص کو جو اپنے صحیفے میں استغار کو پالیتا ہے ۔ اور ابن عبدان نے اپنی روایت میں کہا ہے : طو بیٰ لمن وجد فی کتابہ استغفار اً کثیر ا۔ مبارک بادی ہے اس شخص کےلئے جو شخص اپنے اعمال نامے میں کثیر استغفار پالیتا ہے ۔ اور انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں نے سنا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، ← خشنام بن بشر ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ الزَّاهِدُ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 648

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 649

648 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أحمد بن يحيى الحلواني ثنا عتيق بن يعقوب بن صديق بن موسى الزبيري حدثني ابنا المنذر عبد الله و محمد عن هشام بن عروة عن أبيه عن الزبير رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أحب أن تسره صحيفته فليكثر فيها من الاستغفار

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو احمد بن یحییٰ حلوانی نے ، ان کو عتیق بن یعقوب بن صدیق بن موسیٰ زیدی نے، ان کو منذور کے دونوں بیٹوں نے، یعنی عبداللہ اور محمد نے ، ان کو ھشام بن عروہ نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : من احب ان تسرہ صحیفتہ فلیکثر فیھامن الاستغفار جو شخص پسند کرتا ہے کہ اس کا اعمال نامہ اس کو اچھا لگے اور خوش کردے اسے چاہئے کہ وہ کثرت ست استغفار کر ے۔

الزُّبَيْرِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابنا المنذر عبد الله و محمد ← عتيق بن يعقوب بن صديق بن موسى الزبيري ← أَحْمَدَ بْنِ يَحْيَى الْحُلْوَانِيِّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 649

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 650

649 - أخبرنا أبو الحسين جامع بن أحمد المحمدآبادي أنا أبو طاهر محمد بن الحسن المحمد آبادي ـ ح أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق قراءة عليه و حدثنا أبو عبد الرحمن إملاء قالا : أنا أحمد بن محمد بن عبدوس الطرائفي قالا ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا الربيع بن روح الحمصي ثنا الوليد بن سلمة ثنا النضر بن عربي عن محمد بن المنكدر عن أنس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن للقلوب صدأ كصدأ النحاس و جلاؤها الاستغفار

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین جامع بن احمد محمد آبادی نے ، ان کو ابو طاہر محمد بن حسن محمد آبادی نے اور ہمیں خبر دی ہے اور زکریا بن ابی اسحٰق نے ، اس صورت میں کہ اس نے ان کو پڑھ کر سنایا اور ان کو ابو عبدالرحمٰن نے بطور املاک کروا کے کہ دونوں کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے احمد بن محمد بن عبدوس طرائفی نے ، دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی عثمان بن سعید دارمی نے ، ان کو ربیع بن روح حمصی نے ، ان کو ولید بن سلمہ نے ، ان کو نضربن عربی نے ، ان کو محمد منکدر نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان للقلوب صدء کصمداً النحاس وجلاء ھا الا ستغفار بے شک دلوں کے لئے زنگ ہوتا ہے تانبہ کے زنگ کی طرح اور اس کی صفائی استغفار کرنا ہے۔

أَنَسٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ← الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الربيع بن روح الحمصي، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو عبد الرحمن إملاء ← أبو زكريا بن أبي إسحاق قراءة عليه و ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ← أبو الحسين جامع بن أحمد المحمدآبادي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 650

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 651

650 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني بالكوفة ثنا الحسين بن الحكم حدثنا أبو حفص الأعشى ثنا سفيان الثوري قال : دخلت على جعفر بن محمد و هو في مسجده فقال ما جاء بك يا سفيان ؟ قال قلت : طلب العلم قال فقال : يا سفيان إذا ظهرت عليك نعمة فاتق الله و إذا أبطأ عنك الرزق فاستغفر الله و إذا دهمك أمر من الأمور فقل لا حول و لا قوة إلا بالله ثم قال : يا سفيان ثلاثا و أيما ثلاث

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے ، ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن عتبہ شیبانی نے کو فہ میں ، ان کو حسین بن حکم نے ، ان کو ابو حفص عشی نے ، ان کو سفیان ثوری نے ، کہتے ہیں کہ میں جعفر بن محمدکے پاس گیا ، وہ اپنی مسجد میں تھے ، بولے کیسے آئے اے سفیان ؟ کہتے ہیں کہ میں کہاکہ علم کی طلب میں آیا ہوں ۔ فرمایا کہ اے سفیان جب تیرے اوپر کوئی نعمت ظاہر ہو جائے تواللہ سے ڈر، اور جب تجھ سے رزق رک جائے تو استغفار کر اور جب تجھے کوئی بھی امرخوفزدہ کرے تو لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھ ۔ پھر کہا کہ اے سفیان ، اے سفیان ، اے سفیان تین بار کو نسی تین چیزیں ہیں ( جو یں نے بتائی ہیں یعنی ان کو لازم پکڑو )۔

قُلْتُ: طَلَبُ الْعِلْمِ ← ما جاء بك يا سفيان ← دخلت على جعفر بن محمد و هو في مسجده ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أبو حفص الأعشى ← الحسين بن الحكم ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 651

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 652

651 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار المعدل ثنا أحمد بن محمد بن نصر ثنا سعيد بن داود ثنا عبد العزيز بن أبي حازم و ابن الدراوردي قالا : إنا لجلوس عند جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنهم إذ استأذن عليه سفيان فأذن له فدخل فسلم ثم جلس فقال يا سفيان ! فقال لبيك قال : إنك رجل تطلب السلطان و أنا رجل اتقى السلطان فقم غير مطرود فقال سفيان تحدث و أقوم فقال جعفر أخبرني أبي عن جدي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أنعم الله عليه بنعمة فليحمد الله و من استبطأ الرزق فليستغفر الله و من حزبه أمر فليقل لا حول و لا قوة إلا بالله ثم قام سفيان فناداه جعفر فقال سفيان ! قال : لبيك قال : خذهن ثلاث و أي ثلاث و أشار بيده

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو عبداللہ بن دینار معدل نے ، ان کو احمد بن محمد بن نضر نے ، ان کو سعید بن داؤد نے ، ان کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے اور ابن دراوردی نے ، دونوں کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن محمد بن علی بن حسن بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے تھے ، اتنے میں سفیان ثوری تشریف لائے اور اجازت چاہی ۔ انہوں نے اجازت دی ، اندر آئے اور سلام کیا اور بیٹھ گئے حضرت جعفر نے کہا اے سفیان بولے لبیک ( میں حاضر ہوں) آپ ایسے آدمی ہیں کہ آپ بادشہ کو ڈھونڈتے ہیں اور میں بادشہ سے بچتا ہوں ۔ آپ ڈانٹ کھا کر جانے کے بغیر ہی اٹھ جائیے ۔ حضرت سفیان بولے آپ حدیث بیان کریں اور میں اٹھ جاؤں ۔ چنانچہ حضرت جعفر (صادق) کہنے لگے میرے والا نےمیرے دادا سے سن کر بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا : جس شخص پر اللہ تعالیٰ کو ئی انعام فرمائیں اسے چاہئے کہ وہ اللہ کی حمد اور شکر کرے اور جس شخص سے رزق سست ہو جائے اسے چاہئے کہ وہ اللہ سے بخشش اور استغفار کرے اور جس کو کوئی امرمشکل آکر دبائے اسے چاہئے کہ وہ لا حول و لا قوۃ الاباللہ پڑھے ۔ اس کے بعد سفیان ثوری اٹھ گئے ۔ لہذا حضرت جعفر نے ان کو آواز دی یا سفیان ، بولے لبیک (حاضر ہوں) فرمایا مظبوطی سے ان کو پکڑنا ، یہ تین ہیں ۔ کونسی تین ؟ اور اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔

لجلوس عند جعفر بن محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب ← عبد العزيز بن أبي حازم و ابن الدراوردي ← سَعِيدُ بْنُ دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمُعَدِّلُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 652

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 653

652 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الحرضي نا أبو بكر بن مقسم المقرئ أنا موسى بن الحسن بن عباد النسوي ثنا بشر بن الوضاح ثنا الحسن بن أبي جعفر عن محمد بن حجادة عن الحر بن الصياح عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسير فقال : استغفروا الله فاستغفرنا فقال : أتموها سبعين مرة قال فأتممناها فقال : ما من عبد و لا أمة استغفر الله تبارك و تعالى في يوم سبعين مرة إلا غفر الله له سبعمائة ذنب

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن حرضی نے ، ان کو ابو بکر بن مقسم مقری نے ، ان کو موسیٰ بن حسن بن عباس نسوی نے ، ان کو بشر بن وضاح نے ، ان کو حسن بن ابو جعفر نے محمد بن حجادہ سے ، ان کو حربن صباح نے ، اس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ سے استغفار کرو ۔ ہم نے استغفار طلب کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو ستر بار پورا کر و۔ ہم نے ستر بار پورا کیا ۔ آپ نے فرمایا : ایسا کوئی بندہ یا بندی نہیں ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ سے ایک دن میں ستر بار معافی مانگے اور وہ معاف نہ کرے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اس کےساتھ گناہ معاف کردیتے ہیں ۔

فأتممناها ← أتموها سبعين مرة ← استغفروا الله فاستغفرنا ← كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مسير ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ← مُحَمَّدِ بْنِ حُجَادَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَضَّاحِ ← موسى بن الحسن بن عباد النسوي ← أبو بكر بن مقسم المقري ← أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الحرضي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 653

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 654

653 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أحمد بن عبد الجبار ثنا حفص بن غياث عن ليث عن منذر الثوري عن محمد بن علي قال : إذا قال أحدكم أستغفر الله و أتوب إليه فإنه إن لم يفعل كان ذنبا و كان كذبة لكن ليقل اللهم اغفر لي و تب علي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو احمد بن عبدالجبار نے ، ان کو حفص بن غیاث نے ، ان کو لیث نے ، ان کو منذر ثوری نے ، ان کو محمد بن علی نے کہتےکہ جب تم میں سے کوئی آدمی کہے: استغفراللہ و اتوب الیہ میں اللہ سے بخشش مانگتاہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ۔ پھر اگرو ہ نہیں کرتا تو یہ گناہ ہوگا اور جھوٹ ہو گا ۔ مگر یوں کہے : اللٰھم اغفرلی وتب علی ۔ اے اللہ مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما۔

«إِذَا ← محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← لَيْثٌ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 654

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 655

654 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا الأسود بن عامر شاذان ثنا حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي عن محمد بن كعب القرظي عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : كان فيكم أمانان فمضت إحداهما و بقيت الأخرى : { و ما كان الله ليعذبهم و أنت فيهم } ـ { و ما كان الله معذبهم و هم يستغفرون } و روي مثل هذا عن أبي موسى الأشعري

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو عباس بن محمد دوری نے ، ان کو اسود بن عامر شاذان نے ، ان کو حماد بن سلمہ نے ، ان کو ابو جعفر خطمی نے ، ان کو محمد بن کعب قرظی نے ، ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ تمہارے اندر دوامان اور پناہ کی چیزیں تھیں ۔ چنانچہ ایک گزر چکی ہے اور دوسری باقی ہے : (1) وما کان اللہ لیعذبھم و انت فیھم ۔ اے پیغمبر تیرے موجود ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کو عذاب نہیں دے گا ۔ (2) وماکان اللہ معذبھم وھم یستغفرون (انفال33) ۔ اور جب وہ استغفار اور بخشش مانگ رہے ہوں اس وقت بھی ان کو عذاب نہیں دے گا۔ چنانچہ بقول حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، امان کی پہلی چیز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا موجود ہونا تھا جو کہ گذر گیا ہے۔ اورایمان کی دوسری چیز استغفار باقی ہے ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعر ی سے بھی اس کی مثل روایت ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← كان فيكم أمانان فمضت إحداهما و بقيت الأخرى و روي مثل هذا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرِ شَاذَانُ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 655

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 656

655 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا فرج بن فضالة حدثني ربيعة بن يزيد عن رجاء بن حيوة : أنه سمع قاصا في مسجد منى يقول : يا أيها الناس ثلاث خلال لا يعذبكم الله ما عملتم بهن : الشكر و الدعاء و الاستغفار ثم قال : { ما يفعل الله بعذابكم إن شكرتم وآمنتم } قال : { قل ما يعبأ بكم ربي لولا دعاؤكم } و قال : { و ما كان الله ليعذبهم و أنت فيهم و ما كان الله معذبهم و هم يستغفرون }

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نے ، ان کو نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کوسعید بن منصور نے ، ان کو فرج بن فضالہ نے، ان کو ربیعہ بن یزید نے، ان کو رجاء بن حیوٰ ۃ نے ، انہوں نےمسجد منیٰ میں ایک قصہ خواں سے سنا، کہہ رہے تھے : اے لوگو! تین خصلتیں ہیں جب تک تم ان کے ساتھ عمل کر و گے تمہیں اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دے گا ۔ (1) شکر (2) دعا(3) استغفار ۔ اس کے بعد کہا کہ : مایفعل اللہ بغذابکم ان شکر تم و امنتم ( النساء 147) اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے کر کیا کریں گے اگر تم شکر کر و اور تم ایمان لاؤ۔ اور ارشاد فرمایا : قل مایبا بکم ربی لو لا دعا ء کم (الفرقان 77)اگر تم میرے رب کو نہ پکار و تو میرے رب کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اور کہا کہ : وماکان اللہ لیعذبھم وانت فیھم و ماکان اللہ معذبھم و ھم یستغفرون (انفال33)نہیں ہے اللہ تاکہ ان کو عذاب دے ، حالنکہ تو ان میں موجود ہے اور نہیں ہے ان کو عذاب دینےوالا ، حالانکہ وہ استغفار کر رہےہوں ۔

رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 656

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 657

656 - أخبرنا أبو حازم عمر بن أحمد الحافظ ثنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا ثنا أبو سعيد محمد بن شاذان الجندفرجي ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أخبرنا المعتمر بن سليمان قال : سمعت معمرا أبا سعيد القطان يقول : سمعت الحسن البصري يقول : أكثروا الاستغفار في بيوتكم و على موائدكم و في طرقكم و في أسواقكم و في مجالسكم و أين ما كنتم فإنكم لا تدرون في أي وقت تنزل البركة

ہمیں خبر دی ہے ابو حازم عمر بن احمد حافظ نے ، ان کو ابو الحسن محمد بن احمد زکریا نے، ان کو ابو سعید محمد بن شا ذان جند فرجی نے، ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ، ان کو خبر دی معتمر بن سلیمان نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا معمر سے ، یعنی ابو سعید قطان سے ، وہ کہتے ہیں، میں نے سنا حضرت حسن بصری سے وہ کہتے ہیں اپنے گھروں میں استغفار کی کثرت کرو اور اپنے دستر خوانوں پر اور اپنے راستوں (روڈوں) پر اوراپنے بازاروں میں اور اپنی مجالس میں اور جہاد کہیں بھی تم ہوا کرو ۔ بے شک تم نہیں جانتے ہو کہ کونسے وقت برکت نازل ہو گی ۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← معمرا أبا سعيد القطان ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← أبو سعيد محمد بن شاذان الجندفرجي ← أبو الحسن محمد بن أحمد بن زكريا، ← أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 657

chevron_left Previous
1…827828829…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood