Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 574

573 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن سعد ثنا الحسين بن أحمد بن حفص النيسابوري ثنا محمد بن رافع ثنا أبو سفيان الحميري ثنا الضحاك بن حمرة عن يزيد بن خمير عن جابر بن عبد الله : عن النبي صلى الله عليه و سلم يرويه عن ربه تبارك و تعالى قال : من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ۔ ان کو خبر دی عبداللہ بن سعد نے ، ان کو حسین بن احمد بن حفص نیساپوری نے ، ان کو محمد بن رافع نے ، ان کو ابو سفیان حمیری نے ، ان ضحاک بن حمروہ نے ، ان کویزید بن خمیر نے حضرت جابر بن عبداللہ سے ، انہوں نےنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر ما یا : جس شخص کو میرا ذکر مجھ سے ما نگنے اور طلب کرنے سے مشغول و مصروف کردے میں اسے مانگنے والوں سے بہتر اور افضل عطا کرتا ہوں۔

مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين ← مَنْ شَغَلَهُ ذِكْرِي ← ربه تبارك و تعالى ← النبي صلى الله عليه و سلم يرويه ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ حُمْرَةَ، ← أَبُو سُفْيَانَ الْحِمْيَرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← الحسين بن أحمد بن حفص النيسابوري ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 574

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 575

574 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان البردعي أنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا خلف بن هشام ثنا أبو الأحوص عن منصور عن مالك بن الحارث قال : يقول الله تبارك و تعالى : من شغله ذكري عن مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين

ہمیں خبر دی ابو الحسن بن بشران ، ان کو حسین بن صفوان بردعی نے ، ان کو عبداللہ بن ابی الدنیا نے ، ان کو خلف بن ھشام نے ، ان کو ابوالاحوص نے ، ان کو منصور نے ان کو مالک بن حارث نے ، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں جس شخص کو میرا ذکر مجھ سے سوال کرنےسےمصروف کردے ، میں اس کومانگنے والوں سے بہتر عطا کر وں گا یا بہتر عطا کرتاہوں ۔

مسألتي أعطيته أفضل ما أعطي السائلين ← الله تبارك و تعالى من شغله ذكري ← مَالِکِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← خلف بن هشام، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ الْبَرْدَعِيُّ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 575

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 576

575 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا الحسن بن محمد الفسوي ثنا يعقوب بن سفيان ثنا الحسين بن الحسن المروزي و كان جاور بمكة حتى مات قال : سألت سفيان بن عيينة عن تفسير قول النبي صلى الله عليه و سلم : أكثر دعائي و دعاء الأنبياء قبلي بعرفة : لا إله إلا الله وحده لا شريك له الملك و له الحمد و هو على كل شيء قدير و إنما هو ذكر ليس فيه دعاء قال سفيان سمعت حديث منصور عن مالك بن الحارث ؟ قلت نعم قال : ذاك تفسير هذا ثم قال أتدري ما قال أمية بن أبي الصلت حين أتى ابن جدعان يطلب نائله و معروفه ؟ قلت : لا قال : لما أتاه قال : ( أأذكر حاجتي أم قد كفاني حباؤك أن شيمتك الحباء ) ( إذا أثنى عليك المرء يوما كفاه من تعرضك الثناء ) قال سفيان فهذا مخلوق حين ينسب إلى الجود قيل يكفينا من تعرضك الثناء عليك حتى تأتي على حاجتنا فكيف بالخالق ؟ قال الحليمي رحمه الله : و الذي يشد هذا كله ما روي عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أكثر ذكر الله برئ من النفاق و عن معاذ بن جبل قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم أي الإيمان أفضل ؟ قال : أن تعمل لسانك في ذكر الله

ہمیں خبر دی ابو علی روذباری نے ، ان کو حسن بن محمد فسوی نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے ، ان کو حسین بن حسن مروزی نے ، وہ مکہ میں قیام پذیر ہوگئے تھے اور وہیں ان کا انتقال ہو گیا ۔ کہتے ہیں کہ میں سفیان بن عیینہ سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کی تشریح و تفسیر پوچھی کہ زیادہ تر میری اور دیگر انبیاء کی عرفہ میں دعایہ رہی : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہت اسی کی تعریف ہے ، وہ ہر چیز پر قادرہے ۔ (سفیان بن عیینہ نے جواب دیا ) کہ یہ ذکر ہے اس میں دعا نہیں ہے ۔ سفیان نے فرمایا کہ تم نے حدیث منصور مالک بن حارت سے سنی ہے ؟ میں کہا ، جی ہاں ۔ فرمایا کہ وہی اس کی تفسیر ہے ۔ پھر کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ کیا کہا تھا امیہ بن صلت نے ؟ جب وہ ابن جد عان کے پاس آئے اپنا عطیہ و مشاہرہ مانگ رہے تھے ۔ میں نے کہا کہ نہیں جانتا ۔ فرمایا کہ جب وہ ان کے پاس آئے تو یہ کہا تھا : میں اپنی حاجت ذکر کروں یا نہ کروں مجھے آپ کی بخشش کافی ہے ۔ ( اس لئے کہ) عطیہ اور بخشش آپ ک کی فطری عادت ہے ۔ جس وقت کسی دن کوئی آدمی تیری تعریف کرتے تیری توجہ اور نظر کرم کے لئے تعریف کرنا اس کے لئے کافی ہے ۔ سفیان نے کہا کہ یہ تو مخلوق کا حال ہے کہ جب وہ جود و سخاء کی طرف نسبت دے جاتے ہیں تو کہا جا تا ہے کہ ہمیں آپ کی توجہ فرمانی کے لئے آپ کی تعریف ہی کافی ہے ۔ یہاں تک کہ آپ ہماری حاجت پوری فرمادیتے ہیں ۔ پھر کیا خیال ہے آپ کا خالق حقیقی کے بارے میں ؟ (یعنی جب مالک حقیقی کی تعر یف کی جائے تو کیا وہ ہماری حاجت سے واقف ہونے کے باجود پوری نہیں فرمائیں گے بلکہ وہ تو بطریق اولیٰ حاجت پوری فرمادیں گے ۔ سوال کرنے اور مانگنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی )۔ یہ مطلب ہے اس حدیث کا کہ جو شخص میرے ذکر میں مشغول ہوکر سوال نہیں کرتا میں اس کو مانگنے والے سے بہتر دیتا ہوں ۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جو چیز اس سب کچھ کو تقویت دیتی ہے وہ ہے جو روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ذکر اللہ کی کثرت کرتا ہے وہ نفاق سے بری ہو جاتا ہے ۔ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایمان کونسا افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب ارشاد فرمایا وہ یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں استعمال کریں ۔

الحسين بن الحسن المروزي و كان جاور بمكة حتى مات ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← الحسن بن محمد الفسوي ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 576

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 577

576 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا حميد بن عياش الرملي ـ ثقة ـ ثنا المؤمل بن إسماعيل ثنا حماد بن سلمة أنا سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله اصطفى من الكلام سبحان الله و الحمد لله و لا إله إلا الله و الله أكبر من قال سبحان الله كتب له عشرون حسنة و محي عنه عشرون سيئة و من قال : الحمد لله فهي ثناء الله كتب له ثلاثون حسنة و حط عنه ثلاثون سيئة ومن قرأ عشر آيات من كتاب الله عز و جل في ليلة لم يكتب من الغافلين و من قرأ مائة آية في ليلة كتب من القانتين قال سهيل و أخبرني أخي عن أبي عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله و زاد فيه : و من أكثر ذكر الله فقد برئ من النفاق

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو بکر احمد بن حسین نے ، دونوں کو خبر دی ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو حمید بن عیاش املی نے (یہ ثقہ ہے ) ان کو مؤمل بن اسماعیل نے ، ان کو حماد بن سلمہ نے ، ان کو سہیل بن ابو صالح نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ نے کلام میں سے سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، لا الٰہ الاللہ و اللہ اکبر کو چن لیا ہے ۔ پسند فرمایا ہے منتخب کر لیا ہے ۔ جو شخص پڑھے سبحان اللہ اس کے لئے بیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کی بیس غلطیاں مٹادی جاتی ہیں اور جو شخص یہ پڑھے الحمد اللہ ۔۔۔۔۔۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے ۔ اس کے لئے تیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس سے تیس غلطیاں مٹادی جاتی ہیں اور جو شخص رات کتاب اللہ کی دس آیات پڑھ لیا کرے ، غافلوں میں سے نہیں لکھا جائے اور جو شخص رات ایک سو آیات پڑھ لیا کر ے فرمانبرداری کرنے والوں کو لکھا جائے گا ۔ سہیل نے فرمایا کہ مجھے میرے بھائی نے خبر دی ہے میرے والد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی مذکورہ حدیث کی مثل مگر اس نے یہ الفاظ زیادہ کہے ہیں : جو شخص اللہ کے ذکر کی کثرت کرے وہ منافقت سے بری ہو جا تا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← حميد بن عياش الرملي ثقة ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 577

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 578

577 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران ثنا الحسين بن صفوان أنا ابن أبي الدنيا ثنا علي بن الجعد حدثني حماد بن سلمة عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن كعب قال : من أكثر ذكر الله برئ من النفاق قيل عن حماد عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي السليل عن كعب و هو أصح من رواية مؤمل و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ، ان کو حسین بن صفوان نے ، ان کو ابن ابی الدنیا نے ، ان کو عطا بن جعد نے ، ان کو حماد بن سلمہ نے ، ان کو سہیل بن ابو صالح نے ، ان کو ان کے والد نے ، ان کو کعب نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کا ذکر زیادہ کرے وہ نفاق سے پاک ہو جا تا ہے ۔ کہا کگیا کہ روایت کی گئی ہے حماد سے سہیل بن ابو صالح سے ان کے والد سے ابی السلیل سے ، کعب سے اور وہ زیادہ صحیح ے مؤ مل کی روایت سے ۔ و اللہ ا علم۔

كعب و هو أصح من رواية مؤمل و الله أعلم ← أَبِي السَّلِيلِ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادٌ، ← الله برئ من النفاق قيل ← مَنْ أَكْثَرَ ← کَعْبٍ ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 578

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 579

578 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا هشام بن علي ثنا عبد الله بن رجاء ثنا سعيد حدثني موسى قال : سمعت من حدثني عن أياس الجهني أنه كان يقول : قال معاذ بن جبل يا نبي الله أي الإيمان أفضل ؟ قال : تحب لله و تبغض لله و تعمل لسانك بذكر الله قال : و ماذا مع ذلك يا نبي الله ؟ قال : تحب للناس ما تحب لنفسك و تكره للناس ما تكره لنفسك و تقول خيرا أو لتصمت فإنما يكب في نار جهنم من يكب فيها بلسانه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے ، ان کو ھشام بن علی نے ، ان کو عبداللہ بن رجاء نے ، ان کو سعید نے ، ان کو موسیٰ نے ، کہتے ہیں کہ میں نے سنا اس آدمی سے جس نے مجھ س حدیث بیان کی ایاس جھنی سے ، وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ن سا ایمان افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : تو اللہ کے لئے پسند کر اور اللہ کے لئے نا پسند کر اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں استعمال کر ۔ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے نبی اس کے ساتھ اور کیا کیاکروں؟ فرمایا تو لوگوں کے لئے وہی پسند کر جو اپنے لئے تو پسند کرتا ہے اور لوگوں کے لئے تو وہی ناپسند کر جو اپنے لئے تو نا پسند کرتا ہے اور خیر کی اور اچھی بات کہہ یا تو خاموش رہ سوائے اس کے نہیں کہ جہنم میں اوندھا ڈالا جائے گا۔ جو شخص دنیا میں روندھا کیا گیا اپنی زبان کے ساتھ (یعنی جس نے زبان کو غلط اور بے جا استعمال کیا )۔

و ماذا مع ذلك يا نبي الله ← تحب لله و تبغض لله و تعمل لسانك بذكر الله ← معاذ بن جبل يا نبي الله أي الإيمان أفضل ← أياس الجهني أنه كان ← مَنْ ← مُوسَى ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 579

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 580

579 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي أنا أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ثنا داود بن الحسين البيهقي ثنا حميد بن زنجويه ثنا أبو الأسود ثنا ابن لهيعة عن زبان بن فائد عن سهيل بن معاذ بن أنس عن أبيه : أن معاذ بن جبل سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أفضل الإيمان قال : أن تحب لله و تبغض له و تعمل للناس ما تحب لنفسك و تكره لهم ما تكره لنفسك و أن تقول خيرا أو لتصمت

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ بیہقی نے ، ان کو ابو حامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ، ان کو حمید بن زنجویہ نے ، ان کو ابو لاسود نے ، ان کو ابن لھیعہ نے ، ان کو زبان بن فائد نے ، ان کو سہیل بن معاذ بن انس نے ، ان کو ان کے والد نے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا افضل ایمان کے بارےمیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کہ تو محبت کرے تو اللہ کے لئے ، بغض کرے تو اللہ کے لئے اور لوگوں کے لئے وہی کام کر جو اپنے لئے پسند کرے اور ان کے لئے اسی کا م کو نا پسند کر جو اپنے لئے ناپسند کر ے اور یہ کہ خیر کی بات کہہ ورنہ چپ رہ۔

أَبِيهِ ← سُهَيْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَبُو الْأَسْوَدِ، ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أبو حامد أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَيْهَقِيُّ،

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 580

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 581

580 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا سعيد بن أبي مريم عن ابن لهيعة حدثني الحارث بن يزيد عن علي بن رباح عن عقبة بن عامر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لرجل يقال له ذو البجادين : إنه أواه و ذلك أنه كان يكثر ذكر الله بالقرآن و الدعاء

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحٰق نے ، ان کو سعید بن ابو مریم نے ، ان کو ابو لھیعہ نے ، ان کو حارث بن یزید نے ، ان کو علی بن رباح نے عقبہ بن عامر سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی سے کہا جسے ذوالجبادین کہتے تھے ۔ بے شک وہ نرم دل بہت دعا کرنے و آہ و زار ری کرنے والا ہے ۔ یہ اس لئے کہ وہ قرآن اور دعا کے ساتھ ذکر اللہ کی کثرت کرتا تھا ۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَلِیِّ بْنِ رَبَاحٍ، ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 581

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 582

581 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا أبو أحمد محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا هشام بن سعد عن زيد بن أسلم قال : قال ابن الأدرع : كنت أحرس رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة فخرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخذ بيدي فانطلقت معه فمر في المسجد برجل يصلي رافعا صوته فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عسى أن يكون هذا مرائيا قال : قلت يا رسول الله رجل يصلي قال : أنكم لن تدركوا هذا الأمر بالمغالبة ثم خرج ليلة أخرى فوجدني أحرس فأخذ بيدي فانطلقت معه فمر برجل في المسجد يصلي رافعا صوته قال : قلت يا رسول الله عسى أن يكون هذا مرائيا قال : و لكنه أواه قال : فذهبت بعد ذلك أنظر من هو فإذا هم عبد الله ذو النجادين ـ بالنون ـ قال : أبو أحمد إنما هو البجادين قال البيهقي رحمه الله هو كما قال : و إنما سمي بذلك لأنه لما أسلم نزع ثيابه فأعطته أمه بجادا من شعر فشقه باثنين فاتزر بأحدهما و ارتدى بالآخر و إسناد هذا الحديث مرسل

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابی اسحٰق نے ، ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، ان کو ابو احمد بن عبدالوھاب نے ، ان کو جعفر بن عون نے ، ان کو ھشام بن سعد نے ، ان کو زید بن اسلم نے ، کہتے ہیں کہ ابن ادرع نے کہا: میں رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محافظ کے فرائض انجام دیتا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم با ہر تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑا میں آپ کے ساتھ چل دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف لائے ، ایک آدمی کے پاس سے گذر ے جو نماز پڑھ رہا تھا مگر اونچی آواز کے ساتھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دکھاوا کر نے والا ہو۔ ابن اردھ کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازی آدمی ہے ، نماز پڑھ رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ نہیں جان سکتے غالباً کہنے کے ساتھ اس معاملے کو ۔ پھر آپ دوسری رات باہرآئے ۔ مجھے حفاظت کرتے پایا ۔ میرا ہاتھ پکڑا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دوسرے آدمی کے ساتھ گذرے جو اونچی آواز میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ ابن ادرع کہتے ہیں کہ میں نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب ہے کہ یہ آدمی ریاکار ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ یہ نرم دل اللہ کے آگے عاجزی کرنے والا ہے ۔ ابن ادرع کہتا ہے کہ اس کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ کون آدمی ہے ۔ تو معلوم ہوا وہ عبداللہ ذوالنجادین ہے ۔ (نون کے ساتھ) ابو احمد نے کہا کہ وہ ذوالبجادین تھا ۔

زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 582

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 583

582 - و قد أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا محمد بن غالب ثنا عمر بن عبد الوهاب الرياحي ثنا طلحة بن يحيى عن هشام بن سعد عن زيد بن أسلم عن سلمة بن الأكوع قال : كنت أحرس رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة فذكر معناه و قال في آخره فإذا هو عبد الله بن النجادين قال البيهقي رحمه الله : و هذا ليس بشيء و الصحيح رواية جعفر بن عون

اور تحقیق ہمیں اسی کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کومحمد بن غالب نے ، ان کو عمر بن عبدالوھاب ریاحی نے ، ان کو طلحہ بن یحییٰ نے ، ان کو ھشام بن سعد نے ، ان کو زید بن اسلم نے ، ان کو سلمہ بن اکوح نے ، کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کرتا تھا ۔ ایک رات۔۔۔ پھر اسی حدیث کا مفہوم ذکرکیا اور اس حدیث کے آخر میں ہے ۔ ۔۔۔۔ پس یکا یک وہ عبداللہ ذونجادین تھا ۔

في آخره فإذا هو عبد الله بن النجادين ← معناه و ← كنت أحرس رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الرِّيَاحِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و قد

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 583

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 584

583 - أخبرنا عبد الخالق بن علي المؤذن أنا أبو بكر بن خنب ثنا محمد الله إسماعيل الترمذي حدثني أيوب بن سليمان حدثني أبو بكر بن أبي أويس عن سليمان بن بلال عن أبي عبد العزيز الربذي عن سعيد بن أبي سعيد عن الأدرع الأسلمي قال : جئت ليلة أحرس رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أنا بعبد الله ذي البجادين يقرأ في المسجد عالية قراءته قال : فخرج علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت يا رسول الله بأبي أنت و أمي أمراء هذا ؟ قال : معاذ الله هذا عبد الله ذو البجادين قال : ثم توفي بالمدينة فلما رفع نعشه قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارفقوا به رفق الله عليه ثم حضر حفرته فقال : وسعوا له وسع الله عليه قال بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم له : أحزنت به يا رسول الله ؟ قال : أنه يحب الله و رسوله

ہمیں خبر دی ہے عبدالخالق بن 3علی مؤذن نے ، ان کو ابوبکر بن خنب نے ، ان کو محمد بن اسماعیل ترمذی نے ، ان کو ایوب بن سلیمان نے ، ان کو ابو بکر بن ابی اویس نے ، ان کو سلیمان بن بلال نے ، ان کو ابو عبدالعزیز رندی نے ، ان کو سعید بن ابو سعید نے ، ان کو ادرع اسلمی نے ، کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کے لئے آیا ۔ پس یکا یک عبداللہ ذوالبجادین (پر نظر پڑی) مسجد میں اونچی آواز کے ساتھ قرآت کر رہا تھا ۔ مجھ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکل کر باہر آئے ۔ میں نے کہا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوپر قربان ، کیا یہ شخص دکھاوا کرتا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ ، یہ تو عبداللہ ذوالبجادین ہے ۔ اب ادرع کہتے ہیں کہ پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا ۔ جب اس کی میت اٹھائی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نرمی کرو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اس پر نرمی فرمائے ۔ پھر اس کی قبر کھودی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ا س کی قبر کشادہ کرو، اللہ تعالیٰ اس پر کشادگی فرمائے ۔ بعض اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کی ، یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ غمگین ہوئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ اللہ او اللہ کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔

فخرج علي رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت ← بعبد الله ذي البجادين يقرأ في المسجد عالية قراءته ← جئت ليلة أحرس رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا ← الأدرع الأسلمي ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← أبي عبد العزيز الربذي ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← محمد الله إسماعيل الترمذي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَنْبٍ ← عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ عَلِيٍّ الْمُؤَذِّنُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 584

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 585

584 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن علي بن دحيم الشيباني أنا أحمد بن حازم بن أبي غرزة ثنا الفضل بن دكين ـ ح قال : و ثنا أبو عبد الرحمن أنا أبو الحسن الكارزي أنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا محمد بن مسلم عن عمرو بن دينار قال : أخبرني جابر بن عبد الله رضي الله عنه ـ قال : رأى ناس نارا في المقبرة فأتوها فإذا رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقبرة و إذا هو يقول : ناولوني صاحبكم و إذا هو الرجل الأواه الذي كان يرفع صوته بالذكر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو محمد بن علی بن دحیم شیبانی نے ، ان کو احمد بن حازم نے ، ان کو ابو غرزہ نے ، ان کو فضل بن دکین نے ، کہتے ہیں اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبدالرحمٰن نے ، ان کو ابو بکر حسن کا رزی نے ، ان کو علی بن عبدالعزیز نے ، ان کو ابو نعیم نے ، ان کو محمد بن مسلم نے ، ان کو عمر بن دینار نے وہ کہتے ہیں مجھے خبر دی ہے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، فرماتے ہیں کہ ابو عبداللہ کی روایت میں ہے ہمیں حدیث بیان کی ہے عمر و بن دینار نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے قبرستان میں آگ دیکھی (روشنی) قبر ستان میں آئے تو کیا دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبرستان میں موجود ہیں اور فرمارہے ہیں : مجھے پکڑاؤ مجھے دو اپنے ساتھی کو ، کیونکہ یہ نرم دل ، دعا میں آہ زاری کرنے والا انسان تھا ۔ جو کہ ذکر کرتے ہوئے اپنی آواز اونچی کر لیا کرتا تھا ۔

الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ← محمد بن علي بن دحيم الشيباني، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 585

chevron_left Previous
1…821822823…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood