شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 494
493 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني محمد بن أحمد بن محمد بن حماد القرشي حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن جعفر الطبري أملاه من حفظه قال : سمعت محمد بن هارون الفقيه يقول : سمعت السختياني يقول : و يتمثل بقول إسماعيل بن القاسم أبي العتاهية : ـ ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه هذا محال في القياس بديع ) ( لو كان حبك خالصا لأطعته إن المحب لمن يحب مطيع )
ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو محمد بن احمد بن محمد بن حماد قرشی نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن جعفر طبری نے ان کو اپنے حافظہ سے لکھ رہا تھا فرمایا کہ میں نے سنا تھا محمد بن ہارون فقیہ سے کہتے تھے کہ میں نے سنا سختیانی سے وہ کہتے تھے اسماعیل بن قاسم ابوا لعتاھیہ کے قول کے ساتھ تمثیل پیش کرتے تھے۔ " تعصی الا الٰہ وانت تظھر حبہ ، ھذا محال فی القیاس بدیع" تو معبود کی نافرمانی کرتا ہے اور تو اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے یہ محال ہے اور عقل میں عجیب ہے۔ " لوکان حبک صادقا ً، ان المحب لمن یحب مطیع" اگر تیری محبت صادق ہوتی تو اس کی اطاعت کرتا محب اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔
السِّخْتِيَانِيُّ، ← محمد بن هارون الفقيه ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن جعفر الطبري أملاه من حفظه ← محمد بن أحمد بن محمد بن حماد القرشي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ
Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 494
