Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 494

493 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أخبرني محمد بن أحمد بن محمد بن حماد القرشي حدثني أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن جعفر الطبري أملاه من حفظه قال : سمعت محمد بن هارون الفقيه يقول : سمعت السختياني يقول : و يتمثل بقول إسماعيل بن القاسم أبي العتاهية : ـ ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه هذا محال في القياس بديع ) ( لو كان حبك خالصا لأطعته إن المحب لمن يحب مطيع )

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو محمد بن احمد بن محمد بن حماد قرشی نے ان کو ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن جعفر طبری نے ان کو اپنے حافظہ سے لکھ رہا تھا فرمایا کہ میں نے سنا تھا محمد بن ہارون فقیہ سے کہتے تھے کہ میں نے سنا سختیانی سے وہ کہتے تھے اسماعیل بن قاسم ابوا لعتاھیہ کے قول کے ساتھ تمثیل پیش کرتے تھے۔ " تعصی الا الٰہ وانت تظھر حبہ ، ھذا محال فی القیاس بدیع" تو معبود کی نافرمانی کرتا ہے اور تو اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے یہ محال ہے اور عقل میں عجیب ہے۔ " لوکان حبک صادقا ً، ان المحب لمن یحب مطیع" اگر تیری محبت صادق ہوتی تو اس کی اطاعت کرتا محب اپنے محبوب کا فرمانبردار ہوتا ہے۔

السِّخْتِيَانِيُّ، ← محمد بن هارون الفقيه ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن جعفر الطبري أملاه من حفظه ← محمد بن أحمد بن محمد بن حماد القرشي ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 494

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 495

494 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبو عبد الله محمد بن محمد بن عبد الله الجرجاني الواعظ يقول أنشدنا العبد الصالح أبو عمر بن سعيد الجرجاني لنفسه : ـ ( و حبان في قلبي محال كلاهما محبة فردوس و دار غرور ) ( و من يرج مولاه و يرجو جواره يسابق في الخيرات غير فتور ) ( و من صادق من يدعي حب ربه و أمسى عن اللذات غير صبور ) ( أو يسألوا عن الدنيا وعن كل شهوة و عن كل ما يودي بوصل سرور )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے انہوں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن محمد بن عبداللہ جرجانی واعظ سے کہتے ہیں کہ ہمیں نیک بندے ابو عمر بن سعید جرجانی نے اپنے اشعار سنائے۔ "وحبان فی قلبی محال کلاھما، محبۃ فردوس و دار غرور " میرے دل میں بیک وقت دو محبتیں موجود ہونا محال ہے (دومحبتیں) جنت الفردوس کی اور دھوکہ والے گھر (یعنی دنیا) کی ہیں۔ " ومن یرج مولاہ ویرجو جوارہ ، یسابق فی الخیرات غیر فتور " جو شخص اپنے مولیٰ کے ملنے کی اور اس کی ہمسائگی کی امید کرتا ہے بغیر کسی رکنے کے مسلسل نیکیوں میں مسابقت کرتا ہے۔ "ومن صادق من یدعی حب ربہ ، وامسی عن اللذات غیر صبور" اور جو شخص اپنے رب کی محبت کا ادعا (جھوٹا دعویٰ) کرتا ہے ہمیشہ لذات کے لئے بے صبر رہتا ہے۔ اویسئلو عن الدنیا وعن کل شھوۃ ، وعن کل مایو دی یوصل سرور" یا دنیا کا سوال کرتے ہیں اور ہر شہوت و لذت طلب کرتے ہیں اعراض کرتے ہیں اس چیز سے جو وصل و سرور تک پہنچا دے۔

أبو عبد الله محمد بن محمد بن عبد الله الجرجاني الواعظ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 495

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 496

495 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ثنا أبو بكر بن أبي الدنيا القرشي ثنا العباس بن الفرج ثنا الأصمعي عن سلام بن مسكين قال : دخل السجن مالك بن المنذر بن الجارود فإذا فيه الفرزدق فقال : أما آن لك أن تقصر من قذف المحصنات ؟ فقال : و الله لله أحب إلي من عيني التي أبصر بهما أفتراه يعذبني

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن حمدان صیرنی نے مرو میں ان کو ابو بکر بن ابو الدنیا قرشی نے ان کو عباس بن فرج نے ان کو اصمعی نے سلام بن مسکین سے فرمایا کہ مالک بن منذر بن جار ود جیل میں گیا تو فرزوق شاعر بیٹھا تھا۔ منذر بن جارود نے اس سے کہا کہ کیا ابھی تک تیرے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تو پاک دامن عورتوں کو برائی کی تہمت لگانے سے باز آ جائے؟ وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ مجھے میری دونوں آنکھوں سے جن کے ساتھ میں دیکھتا ہوں زیادہ محبوب ہے کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ وہ مجھے عذاب دے گا۔

أما آن لك أن تقصر من قذف المحصنات ← دخل السجن مالك بن المنذر بن الجارود فإذا فيه الفرزدق ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← الْأَصْمَعِيُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا الْقُرَشِيُّ، ← محمد بن حمدان الصيرفي بمرو ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 496

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 497

496 - أخبرنا أبو عبد الله قال : سمعت أبا عبد الله بن محمد بن العباس العصمي يقول : سمعت أبا بكر بن أبي عثمان يقول : سمعت أبي يقول و قام في مجلسه رجل من أهل بغداد فقال : يا أبا عثمان متى يكون الرجل صادقا في حب مولاه ؟ قال : إذا خلا من خلافه كان صادقا في حبه قال : فوضع الرجل التراب على رأسه و صاح و قال : كيف ادعى حبه و لم أخل طرفة عين من خلافه ؟ قال : فبكى أبو عثمان و أهل المجلس قال : فجعل يبكي أبو عثمان و يقول في بكائه صادق في حبه مقصر في حقه قال البيهقي رحمه الله : و هذا الذي قاله أبو عثمان من صدق حبه و إن كان مقصرا في حياته يشهد له :

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبداللہ محمد بن عباس عصمی سے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر بن ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد ۔ ابو عثمان سے سنا تھا کہ فرماتے تھے کہ میری مجلس میں ایک رومی اہل بغداد میں سے کھڑا ہوا ور کہنے لگا اے ابو عثمان یہ بتائیے کہ بندہ اپنے مولیٰ کی محبت میں کب سچا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جس وقت بندہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے خالی ہو جائے اس وقت اس کی محبت میں سچا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اتنے میں اس نے اپنے سر میں مٹی ڈال لی اور چیخ چیخ کر رونے لگا اور بولا کہ میں کیسے اللہ کی محبت کا دعویٰ کر سکتا ہوں جب کہ میں آنکھ جھپکنے کی دیر بھی اللہ کے حکم کی خلاف ورزی سے خالی نہیں رہا کہتے ہیں ، اس پر حضرت ابو عثمان اور اہل مجلس رو پڑے۔ کہتے ہیں کہ ابو عثمان رونے لگے اور اپنے رونے کے دوران کہا کہ یہ شخص اللہ کی محبت میں سچا ہے، مگر اللہ کے حق میں کوتاہی کرنے والا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یہ بات جو ابو عثمان نے اس کے بارے میں فرمائی اس شخص کی محبت کی سچائی کی اگرچہ عمل زندگی میں اس میں کوتاہی کرتا تھا۔ یہ بات کہنا کہ حق میں (بہت بڑے عالم کی ) شہادت ہے۔

في بكائه صادق في حبه مقصر في حقه ← فجعل يبكي أبو عثمان و ← فبكى أبو عثمان و أهل المجلس ← كيف ادعى حبه و لم أخل طرفة عين من خلافه ← فوضع الرجل التراب على رأسه و صاح و ← إذا خلا من خلافه كان صادقا في حبه ← يا أبا عثمان متى يكون الرجل صادقا في حب مولاه ← و قام في مجلسه رجل من أهل بغداد ← أَبِي ← أبا بكر بن أبي عثمان ← أبا عبد الله بن محمد بن العباس العصمي ← أَبُو عَبْد اللَّهِ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 497

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 498

497 - ما أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن كناسة ثنا الأعمش عن شقيق عن أبي موسى قال : قلت يا رسول الله الرجل يحب القوم و لما يلحق بهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المرء مع من أحب أخرجاه في الصحيح من حديث الأعمش و قيل فيه عن الأعمش عن شقيق عن عبد الله بن مسعود و قد أخرجاه أيضا في الصحيح

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محمد بن کناسہ نے ان کو اعمش نے ان کو شقیق نے ابو موسیٰ سے انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ۔ ایک آدمی قوم (مسلم) سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک ان کے ساتھ لاحق نہیں ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ المرء مع من حب۔ آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرے۔ بخاری مسلم نے اس کو صحیح میں نقل کیا ہے اعمش کی حدیث سے۔ اور اس کی سند میں یہ بھی کہا گیا ہے ۔ کہ اعمش سے اس نے شقیق سے اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے اور دونوں نے اس کو بھی صحیح میں نقل کیا ہے۔

قُلْتُ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ كُنَاسَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← مَا

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 498

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4391

4391 - أخبرنا عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا عبد الله بن شبيب المدني نا يعقوب بن محمد الزهري حدثني سليمان بن سالم مولى آل جحش عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن أبيه عن جده قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم بعثا من الأنصار و قال : إن سلمهم الله و غنمهم فإن لله علي في ذلك شكرا قال : فلم يلبثوا أن غنموا و سلموا فقال بعض أصحابه : سمعناك تقول : إن سلمهم الله و غنمهم فإن لله علي في ذلك شكرا قال : قد فعلت قلت اللهم لك الحمد شكرا و لك المن فضلا و روى من وجه آخر عن حفصة بنت سيرين عن عمر بن الخطاب و هو في مسند أحمد بن عبيد

ہمیں خبر دی ہے ابوعبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو عبداللہ بن شبیب مدنی نے۔ ان کو یعقوب بن محمد زہری نے ان کو سلیمان بن سالم مولیٰ آل جحش نے ان کو سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کا ایک لشکر بھیجا اور فرمایا کہ اگر اللہ ان کو صحیح سلامت لے آیا اور ان کو غنیمت بھی عطا کی تو۔ بیشک اللہ کے لئے میرے ذمے اس بارے میں شکر لازم ہوگا۔ کہتے ہیں کہ کچھ زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ وہ لوگ سلامتی کے ساتھ اور مال غنیمت کے ساتھ واپس آ گئے۔ لہذا آپ کے بعض اصحاب نے کہا کہ ہم نے سنا تھا آپ فرما رہے تھے کہ اگر ان کو اللہ سلامتی اور غنیمت کے ساتھ واپس لے آیا تو آپ کے اوپر اللہ کا شکر لازم ہے کہتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے وہ شکر ادا کر لیا ہے۔ میں نے یوں کہا ہے۔ اللهم لك الحمد شكراً ولك المن فضلاً. اے اللہ تیری تعریف ہے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔اور تیرا احسان ہے بطور تیرے فضل کے۔ ایک دوسرے طریق سے مروی حفصہ بنت سرین سے اس نے عمر بن خطاب سے اور وہ روایت مسند احمد بن عبید میں ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← سليمان بن سالم مولى آل جحش ← يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ الْمَدَنِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4391

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4392

4392 - و أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد أنا عبد الله نا سوار بن عبد الله نا محمد بن مسعر قال : قال جعفر بن محمد : فقد أبي بغلته فقال : إن ردها الله علي لأحمدنه بمحامد يرضاها فما لبث أن أتى بسرجها و لجامها فركبها فلما استوى عليها و ضم إليه ثيابه رفع رأسه إلى السماء فقال : الحمد لله لم يزد عليها فقيل له في ذلك فقال : و هل تركت شيئا أو بقيت شيئا جعلت الحمد كله لله عز و جل

اور ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو سوار بن عبداللہ نے ان کو محمد بن مسعر نے وہ کہتے ہیں کہ کہا جعفر بن محمد نے حالانکہ اس کے خچر نہیں مل رہا تھا لہذا انہوں نے کہا اگر اس کو اللہ تعالیٰ میرے پاس واپس لوٹا دے تو میں اس کی ایسی تعریفیں کروں گا جیسے وہ پسند کرے گا۔ کچھ دیر نہیں گذری تھی کہ خچر اپنے زین اور لگام سمیت آ گیا وہ اس پر سوار ہو گئے۔ جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے تو اپنے کپڑے سمیٹتے ہوئے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور بولے۔الحمدللّٰہ۔اللہ کا شکر ہے۔ بس اتنا ہی کہا اور آگے کچھ بھی نہیں کہا۔لوگوں نے اس بارے میں ان سے بات کی تو وہ کہنے لگے کہ کیا میں نے کچھ چھوڑا ہے یا یہ کہا کہ کیا باقی کچھ رہ گیا ہے میں نے سارا شگر ہی اللہ کے لئے کر دیا ہے۔

جعفر بن محمد فقد أبي بغلته ← محمد بن مسعر ← سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← و،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4392

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4393

4393 - أخبرنا عبد الرحمن أنا أحمد نا عبد الله حدثني عبد الرحمن بن صالح حدثني يحيى بن آدم عن مفضل عن منصور عن إبراهيم قال : يقال : إن الحمد لله أكثر الكلام تضعيفا

ہمیں خبر دی ابوعبدالرحمٰن نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن صالح نے ان کو یحییٰ بن آدم نے ان کو فضل نے ان کو منصور نے ان کو ابراہیم نے وہ کہتے ہیں کہا جاتا ہے کہ الحمداللہ کی شکر اللہ ہی کے لئے ہے یا ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یہ کلام کثیر الاضافہ ہے۔

يقال إن الحمد لله أكثر الكلام تضعيفا ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← مُفَضَّلٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عبد الرحمن بن صالح ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4393

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4394

4394 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن إسحاق الفقيه أنا الحسن بن علي بن زياد نا عبد العزيز بن عبد الله الأوسي نا عبد الرحمن بن أبي الرجال نا سهيل بن صالح عن أبيه عن أبي هريرة : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كبر واحدة كتب له عشرون و محيت عنه عشرون و من سبح واحدة كتب له عشرون و محيت عنه عشرون و من حمد واحدة كتبت له ثلاثون و محيت عنه ثلاثون

ہمیں خبر دی عبداللہ نے ان کو ابوبکر بن اسحٰق فقیہ نے ان کو حسن بن علی بن زیاد نے ان کو عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوالرجال نے ان کو سہیل بن ابوصالح نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایک مرتبہ تکبیر کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس سے بیس خطائیں مٹائی جاتی ہیں اور جو شخص ایک مرتبہ سبحان اللہ کہے اس کے لئے بیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور بیس گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ اور جو شخص ایک مرتبہ الحمدللہ کہے اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اور تیس گناہ مٹائے جاتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سهيل بن صالح ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، ← عبد العزيز بن عبد الله الأوسي ← الحسن بن علي بن زياد ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4394

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4395

4395 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن قتادة أن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد رأس الشكر ما شكر الله عبد لا يحمده

ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ الحمد شکر کا سر ہے۔اور اس کی اصل ہے اللہ تعالیٰ اس بندے کا شکر قبول نہیں کرتے جو اس کی حمد نہیں کرتا۔

قتادة أن عبد الله بن عمرو ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4395

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4396

4396 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي نا أحمد بن محمد بن عنبسة ثنا سليمان بن سلمة و أحمد بن محمد بن المغيرة و محمد بن عوف نا سليم بن عثمان نا محمد بن زياد قال : سمعت أبا أمامة يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قال الحمد لله مائة مرة كانت له مثل فرس ملجومة في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی نے ان کو احمد بن محمد بن عنبسہ نے ان کو سلیمان بن سلمہ نے اور احمد بن محمد بن مغیرہ اور محمد بن عوف نے ان کو سلیم بن عثمان نے ان کو محمد بن زیاد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا۔ جو شخص ایک سو مرتبہ الحمدللہ کہتا ہے اس کے لئے نیکی ہوگی مثل سو گھوڑے کے جو اللہ کی راہ میں لگام چڑھا ہوئے ہوں۔

أَبَا أُمَامَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمُ بْنُ عُثْمَانَ، ← سليمان بن سلمة و أحمد بن محمد بن المغيرة و محمد بن عوف ← أحمد بن محمد بن عنبسة ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4396

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4397

4397 - و بإسناده قال : من قال سبحان الله و بحمده مائة مرة كانت له مثل مائة بدنة تنحر في مكة

اور اسی اسناد کے ساتھ کہا ہے کہ جو شخص سبحان اللّٰہ و بحمدہ ایک سو مرتبہ کہے اس کے ثواب ہو مثل ایک سو اونٹ کے جو مکے میں ذبح کئے جائیں۔

مَنْ ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4397

chevron_left Previous
1…812813814…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood