Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 490

489 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا نصر الطوسي يقول : سمعت جعفرا الخلدي يقول سمعت الجنيد يقول : قال رجل للسري السقطي كيف أنت فأنشأ يقول : ( من لم يبت و الحب حشو فؤاده لم يدر كيف تفتت الأكباد )

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو نصر موسیٰ سے کہتے تھے کہ میں نے سنا جعفر خلدی سے انہوں نے سنا جنید بغدادی سے کہتے ہیں کہ کسی آدمی نے سری سقطی سے کہا آپ کیسے ہیں؟ پھ اس نے شعر کہا: "من لم یبت والحب حشو فوادہ ، لم بدر کیف تفتت الاکباد " جس شخص کی رات اس حالت میں نہیں گزرتی کہ اس دل کے اندر محبت بھر ہوئی ہو وہ یہ کیسے جانے کہ عاشقوں کے جگر کیسے پھٹتے ہیں؟

من لم يبت و الحب حشو فؤاده لم يدر كيف تفتت الأكباد ← رجل للسري السقطي كيف أنت فأنشأ ← الجنيد ← جعفرا الخلدي ← أبا نصر الطوسي ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 490

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4383

4383 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا سعيد بن عبد الجبار البصري من كتابه أخبرني رفاعة بن يحيى بن عبد الله بن رفاعة بن رافع الزرقي أبو زيد إمام المسجد قال : سمعت معاذ بن رفاعة بن رافع الأنصاري يحدث عن أبيه رفاعة أنه صلى مع رسول الله صلى الله عليه و سلم المغرب فعطس رفاعة فقال : الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه مباركا عليه كما يحب ربنا و يرضى فلما صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أين المتكلم في الصلاة ؟ قال رفاعة وددت أني عدمت عدة من مالي و لم أشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم تلك الصلاة حين قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أين المتكلم في الصلاة ؟ فقلت : أنا يا رسول الله قال : كيف قلت ؟ قال : قلت الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه كما يحب ربنا و يرضى فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : و الذي نفسي بيده لقد ابتدرها بضعة و ثلاثون ملكا أيهم يصعد بها زادني الأول مباركا عليه و لم يقل في الإعادة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو سعید بن عبدالجبار بصری نے اپنی کتاب سے ان کو رفاعہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن رفاعہ بن رافع زرقی ابوزید امام مسجد نے انہوں نے کہا کہ میں نے معاذ بن رفاعہ بن رافع انصاری سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں۔ اپنے والد رفاعہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اور رفاعہ کو چھینک آ گئی۔انہوں نے فورا ًنماز میں ہی یہ پڑھا الحمدللّٰه حمدا كثيراً طيبا مباركاً فيه مباركاً عليه كما يحب ربنا و يرضی. جب حضور نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا کہ کہاں ہے نماز میں کلام کرنے والا؟ رفاعہ کہتے ہیں کہ (میں ڈر گیا) اور میں نے چاہا کہ میں نہ ہوتا یا یہ کہ میرا اتنا اتنا مال نقصان ہو جاتا مگر میں اس نماز میں رسول اللہ کے ساتھ حاضر نہ ہوتا جب انہوں نے فرمایا کہ کہاں ہے؟ نماز میں باتیں کرنے والا۔ بہر حال میں نے بتایا کہ یا رسول اللہ میں تھا۔ آپ نے پوچھا کہ بتانا زرا کیسے کہا تھا تم نے؟ کہتے ہیں کہ میں نے دوبارہ وہ الفاظ دہرائے تو رسول اللہ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے دیکھا کہ تیس سے زائد فرشتے ایک دوسرے سے جلدی کر رہے تھے کہ کون پہلے پہلے ان الفاظ کو اوپر لے جائے اس کے الفاظ میں مبارکاً علیہ کا اضافہ ہے مگر دوبارہ کہنے میں نہیں ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4383

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4384

4384 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا يحيى بن معين نا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن سعيد الجريري عن أبي الورد عن أبي محمد الحضرمي عن أبي أيوب الأنصاري قال : سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا يقول : الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صاحب الكلمة ؟ لم يقل إلا صوابا قال : أنا يا رسول الله قلتها أرجو بها قال و الذي نفسي بيده رأيت بضعة عشر ملكا يبتدرونها أيهم يرفعها إلى الله عز و جل

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عبدالاعلی بن عبدالاعلیٰ نے ان کو سعید جریری نے ان کو ابوالورد نے ان کو ابومحمد حضرمی نے ان کو ابوایوب انصاری نے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے ایک آدمی کو یہ پڑھتے ہوئے سنا۔ الحمدللّٰه حمداً كثيرا طيباً مباركاً فيه. تو رسول اللہ نے فرمایا کون ہے جس نے یہ کلمہ کہا ہے؟ جس نے کہا ہے درست کہا ہے۔ اس آدمی نے کہا میں نے کہا ہے اور میری اس سے ثواب کی نیت تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے دس فرشتوں کی جماعت کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے جلدی کر رہے ہیں کہ کون ان میں سے ان کو اللہ کی طرف اوپر لے جائے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، ← رسول الله صلى الله عليه و سلم رجلا ← اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4384

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4385

4385 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا الباغندي نا قبيصة نا سفيان عن عبد الملك بن عمير عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا تعار من الليل قال : الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا و إليه النشور رواه البخاري في الصحيح عن قبيصة

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید باغندی نے ان کو قبیصہ نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو ربعی بن حراش نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت رات کو بیدار ہوتے تو یہ فرماتے تھے۔ الحمدللّٰه الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور. اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں دوبارہ زندگی دی اس کے بعد کہ اس نے ہمیں موت دے دی تھی (نیند بھی ایک قسم کی موت ہے) اور اسی کی طرف سے دوبارہ جی کر جانا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں قبیلہ سے۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← الْبَاغَنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4385

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4386

4386 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو محمد الحسن بن محمد بن حليم نا أبو الموجه أنا عبدان أنا أبو حمزة قرأه عن منصور عن ربعي بن حراش عن خرشه بن الحر عن أبي ذر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أخذ مضجعه من الليل قال : باسمك أموت و أحي و إذا استيقظ قال : الحمد لله الذي أحيانا بعد مماتنا و إليه النشور رواه البخاري في الصحيح عن عبدان قال : بعد ما أماتنا

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابومحمد حسن بن محمد بن حلیم نے ان کو ابوالموجہ نے ان کو عبدان نے ان کو ابوحمزہ نے اس نے اس کو پڑھا منصور سے اس نے ربعی بن حراش سے اس نے خرشہ بن حر سے اس نے ابوذر سے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ رات بستر پر آتے تو یہ فرماتے بـاسـمك اموت واحی. تیرے نام کے ساتھ میں مرتا ہوں (سوتا ہوں) اور تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں گا (نیند سے اٹھوں گا) پھر جب آپ نیند سے جاگتے تو یہ فرماتے: الحمدللّٰه الذي احيانا بعد ما أتنا و اليه النشور. اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو زندہ کیا بعد اس کے کہ اس نے ہمیں موت دیدی تھی۔ اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عبدان سے اس نے امانتاً کہا ہے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← أبو حمزة قرأه ← عَبْدَانُ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4386

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4387

4387 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا محمد بن إسحاق نا إبراهيم بن المنذر حدثني صدقة بن بشير مولى العمرين قال : سمعت قدامة بن إبراهيم الجمحي يحدث عن عبد الله بن عمر بن الخطاب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حدثهم أن عبدا من عباد الله قال : يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك و لعظيم سلطانك ففضلت على المالكين فلم يدريا كيف يكتبانها فقال الله لهما : أكتباها كما قال عبدي حين يلقاني فأجزيه بها

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو ابراہیم بن منذر نے ان کو صدقہ بن بشیر نے مولیٰ عمرین نے انہوں نے سنا قدامہ بن ابراہیم جمحی سے وہ حدیث بیان کرتے ہیں عمر بن خطاب سے یہ کہ رسول اللہ نے ان کو حدیث بیان کی ہے۔ کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے کہا : يارب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك اے میرے رب بزرگی تیرے لئے ہے جیسے تیری ذات کے جلال کے لائق ہو اور تیرے عظیم اقتدار کے شایان شان ہو۔ چنانچہ یہ الفاظ نیکی لکھنے والے فرشتوں پر اتنے بھاری گذرے کہ ان کے اجر کو کیسے لکھیں لہذا ان سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے ہی لکھ دو جیسے کہ میرے بندے نے کہا ہے جب وہ مجھے ملے گا تو میں اس کی جزا اس کو خود دے دوں گا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← قدامة بن إبراهيم الجمحي ← صدقة بن بشير مولى العمرين ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4387

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4388

4388 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري أنا جدي يحيى بن منصور القاضي نا محمد بن عمرو كشمرد أنا القعنبي نا الحسين بن عبد الله بن ضميرة عن أبيه عن جده عن أبيه عن جده عن علي رضي الله عنه أنه كان يقول : من قال حين يصبح الحمد لله على حسن المساء و الحمد لله على حسن المبيت و الحمد لله على حسن الصباح فقد أدى شكر ليلته و يومه أظنه قال و يومه

ہمیں خبر دی ہے ابوصالح بن ابوطاہر عنبری نے ان کو ان کے دادا یحییٰ بن منصور قاضی نے ان کومحمد بن عمرو کشمود نے ان کو قعنبی نے ان کو حسین بن عبداللہ بن خمیرہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ان کے دادا نے (اس نے اپنے باپ سے اس نے ان کے دادا سے) اس نے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ بے شک وہ کہتے تھے جو شخص صبح کے وقت یہ پڑھے: الحمدللّٰه على حسن المسآء و الحمدللّٰه على حسن المبيت. و الحمدللّٰه على حسن الصباح فقدادی شکر لیلتتہ ويومہ اللہ کا شکر ہے اچھی شام گذرنے اچھی رات گذرنے اور اچھی اور خیریت کے ساتھ صبح کرنے پر۔ تو گویا اس شخص نے اس رات اور اس دن کا شکر ادا کرلیا۔ میرا خیال ہے کہ یوم کا لفظ بھی کہا تھا۔

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← الحسين بن عبد الله بن ضميرة، ← الْقَعْنَبِيُّ ← محمد بن عمرو كشمرد ← جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4388

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4389

4389 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا إسماعيل بن الفضل نا منجاب بن الحارث نا علي بن الصلت العامري عن عبد الله بن شريك عن بشر بن غالب أو بشير بن غالب شك منجاب عن علي : أن النبي صلى الله عليه و سلم نزل عليه جبريل عليه السلام فقال : يا محمد إذ سرك أن تعبد الله عز و جل ليلة حق عبادته أو يوما فقل اللهم لك الحمد حمدا كثيرا خالدا مع خلودك و لك الحمد حمدا لا تنتهي له دوم مشيئتك و لك الحمد حمدا لا أجر لقائه إلا رضاك قال الشيخ أحمد : لم أكتبه إلا هكذا و فيه انقطاع بين علي و من دونه

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو اسماعیل بن فضل نے ان کو منجاب بن حارث نے ان کو علی بن صلت عامری نے ان کو عبداللہ بن شریک نے ان کو بشر بن غالب نے یا بشیر بن غالب نے منجاب کو شک ہے۔ ان کو علی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جبرائیل نازل ہوئے اور فرمایا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ جب آپ کو یہ بات پسند آئے کہ آپ رات کو عبادت کرتے ہوئے اس کی عبادت کا حق ادا کریں یا دن کو بھی تو آپ یہ پڑھا کیجئے۔ اللهم لك الحمد حمدا كثيرا خالدامع خلودك ولك الحمد حمد الاتنتهى له دون مشیتک ولك الحمد حمدا لا اجر لقائله الا رضاک. اے اللہ تیری حمد ہے ایسی حمد جو کثیر ہے دائمی ہے تیرے دوام کے ساتھ۔اور تیری تعریف ہے جو تیرے لئے ختم نہیں ہوتی۔ تیری مشیت کے سوا۔ اور تیری تعریف ہے ایسی تعریف کہ جس کے کہنے اور کرنے والے کے لئے تیری رضا کے سوا کوئی اجر نہیں ہے۔ شیخ احمد نے فرمایا کہ۔ میں نے اس کو اسی طرح ہی لکھا ہے اور اس روایت میں علی کے اور دیگر کے درمیان انقطاع ہے۔

عَلِيٍّ، ← بشر بن غالب أو بشير بن غالب شك منجاب ← عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ ← علي بن الصلت العامري ← مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4389

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4390

4390 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن ماتي السبيعي نا الحسين بن الحكم الحيري نا حسن بن حسين العربي نا عيسى بن عبد الله بن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده عن علي قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم سرية من أهله فقال : اللهم إن لك علي أن رددتم سالمين أن أشكرك حق شكرك قال : فما لبثوا أن جاءوا سالمين قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الحمد لله على سابغ نعم الله فقلت : يا رسول الله ألم تقل إن ردهم الله عز و جل أن أشكره حق شكره ؟ قال : أو لم أفعل ؟ قال الحاكم : تفرد به عيسى بن عبد الله العلوي قال الشيخ أحمد : و قد روي في ذلك بإسناد آخر

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے۔ان کو ابوالحسین علی بن عبدالرحمٰن بن ماتی سبیعی نے ان کو حسین بن حکم حیری نے ان کو حسن بن حسین عربی نے ان کو عیسیٰ بن عبداللہ بن محمد بن عمر بن علی بن ابوطالب نے انہوں نے اپنے والد سے اس نے اپنے دادا سے اس نے علی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ایک جہادی دستہ بھیجا اپنے اہل میں سے اور فرمایا۔اے اللہ تیرے ذمے ہے تو ان کو اگر سلامت واپس لے آئے گا تو میں تیرا شکر ادا کر دوں گا جیسے تیرے شکر کرنے کا حق ہے۔ کہتے ہیں کہ کچھ ٹھہرنے کے بعد وہ لوگ صحیح سالم واپس آگئے۔ کہتے ہیں کہ۔ رسول اللہ نے فرمایا۔ الحمدللّٰه على سابغ نعم اللّٰہ اللہ کا شکر ہے ۔ اللہ کی کامل نعمتوں پر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ اگر ان کو اللہ تعالیٰ واپس لائے گا تو میں تیرا شکر ادا کروں گا جیسے تیرے شکر ادا کرنے کا حق ہے ؟حضور نے فرمایا کہ کیا پھر میں نے شکر کیا نہیں؟ حاکم نے کہا کہ اس روایت میں عیسیٰ بن عبداللہ علوی متفرد ہے۔ شیخ احمد نے کہا کہ تحقیق اس بارے میں دوسری اسناد کے ساتھ بھی حدیث مروی ہے۔

عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← حسن بن حسين العربي ← الحسين بن الحكم الحيري ← أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاتِي السَّبِيعِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4390

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 491

490 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني جعفر بن محمد حدثني الجنيد بن محمد قال : رفع إلي سري مرة رقعة فقال لي احفظ هذه الرقعة فإذا فيها مكتوب : ( و لما شكوت الحب قال كذبتني فما لي أرى الأعضاء منك كواسيا ) ( فما الحب حتى يلصق الجلد بالحشي و تذبل حتى لا تجيب المناديا ) ( و تنحل حتى لا يبقي لك الهوى سوى مقلة تبكي بها أو تناجيا )

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ہے جعفر بن محمدنے ان کو بات بتائی ہے جنید بغداد ی بن محمد نے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ سری سقطی نے میرے پاس ایک رقعہ بھیجا اور فرمایا کہ اس رقعہ کو حفاظت سے رکھنا (میں نے دیکھا تو ) اس میں یہ اشعار لکھے تھے: "ولما شکوت الحب قال کذبتنی ، فما لی اری الا عضاء منک کواسیاً " جب بھی میں نے (درد) محبت کی شکایت کی اس نے کہا کہ تم نے مجھ سےجھوٹ بولا، اب میرے پاس (کوئی چارہ نہیں سوا اس کہ) میں دیکھو اعضاء کو تیری محبت میں کھال کا لباس پہننے والا ۔ "فما الحب حتیٰ یلصق الجلد باالحشی ، وتذیل حتیٰ لا تجیب المنا دیا " پس نہیں ہے محبت (اس وقت تک) جب تک کہ کھال آنتوں سے نہ لگ جائے اور تو گھل جائے یہاں تک کہ تو آواز دینے والے کا جواب بھی نہ دے سکے۔ وتنحل حتیٰ لا یبقی لک الھوی، سوی حقلۃ تبکی بھا اوتنا جیاً" اور گھل جا تو یہاں تک کہ تیری کوئی بھی خواہش باقی نہ رہے ، سوائے آنکھ کے جس کے ساتھ تو روتے یا منا جات کر کے۔

لي احفظ هذه الرقعة فإذا فيها مكتوب و لما شكوت الحب ← رفع إلي سري مرة رقعة ← الْجُنَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 491

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 492

491 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا محمد بن بشير الكندي ثنا إبراهيم بن مسلم المزني قال : قال الحسن بن محمد ابن الحنفية : من أحب حبيبا لم يبغضه ثم قال : ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه عار عليك إذا فعلت شنيع ) ( لو كان حبك صادقا لأطعته إن المحب لمن أحب مطيع ) و قال أيضا : ( ما ضر من كانت الفردوس منزله ما كان في العيش من بؤس و إقتار ) ( تراه يمشي حزينا خائفا شعثا إلى المساجد يسعى بين أطمار )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو محمد بن بشر کندی نے ان کو ابراہیم بن مسلم مزنی نے وہ کہتے ہیں کہ احسن بن محمد ابن الحنفی نے جو شخص کسی محبوب سے محبت کرتا ہے تو اس سے بغض و نفرت نہیں کرتا پھر شعر کہا: "تعصی الالہ وانت تظھر حبہ ، عار علیک اذا فعلت شنیع " معبود حقیقی کی تو نافرمانی کرتا ہے حالانکہ تو اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے یہ بات تیرے لئے باعث شرم ہے جب تو یہ فعل قبیح کرتا ہے۔ " لوکان حب صادقاً لاطعتہ ، ان المحب لمن احب مطیع" اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا۔ بے شک عاشق اپنے محبوب کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا: ماضر من کانت الفردوس منزلہ ، ماکان فی العیش من بؤس واقتار" جس شخص کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہو اس کو یہ بات کوئی نقصان نہیں دے سکتی کہ دنیوی زندگی میں سختی بھوک اور افلاس ہو۔ "تراہ یمشی حزیناً خائفا ً شیعثاً ، الی المساجد یسعی بین اطمار " (خواہ ) آپ دیکھیں اس کو اس حال میں کہ خوف زدہ پریشان حال مغموم چلتاپھرتا ہے (تمام پریشانیوں کے باوجود ) مساجد کی طرف دوڑتا ہے پرانے طمار میں۔

الحسن بن محمد ابن الحنفية من أحب حبيبا لم يبغضه ثم ← إبراهيم بن مسلم المزني ← محمد بن بشير الكندي ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 492

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 493

492 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا نصر محمد بن محمد بن إسماعيل يقول : سمعت أبا القاسم الرازي الواعظ يقول سمعت أبا دجانة يقول : كانت رابعة إذا غلب عليها الحب تقول : ( تعصي الإله و أنت تظهر حبه هذا محال في الفعال بديع ) ( لو كان حبك صادقا لأطعته إن المحب لمن أحب مطيع )

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو نصر محمد بن محمد بن اسماعیل سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابوالقاسم رازی واعث سے کہتے تھے کہ میں نے ابو دجانہ سے وہ کہتے تھے کہ رابعہ بصریہ پر جب محبت الٰہی کا غلبہ ہوتا یہ کہتی تھیں۔ "تعصی الا الہ وانت تظھر حبہ، ھذا محال فی الفعال بدیع " معبود کی تو نافرمانی کرتا ہے اور تو اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے یہ محال ہے اور فعل و عمل کے اعتبار سے عجیب بات ہے۔ " لوکان حبک صادقاً لاطعتہ ، ان المجب لمن احب مطیع " اگر تیرمحبت سچی ہوتی تو تو ضرور اس کی اطاعت کرتا بے شک محبت کرنے والا جس سے محبت کرتا ہے اس کا مطیع ہوتا ہے۔

أبا دجانة ← أبا القاسم الرازي الواعظ ← أبا نصر محمد بن محمد بن إسماعيل ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 493

chevron_left Previous
1…811812813…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood