Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 454

453 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا أبو عمرو بن السماك ثنا محمد بن علي بن بحر ثنا محمد بن إبراهيم البرجلاني عن أبيه يقول سمعت بشرا يقول : كان إبراهيم بن أدهم يؤدب نفسه حتى يكون ترك الطيبات ألذ من أكلها و قال بشر : أوحى الله عز و جل إلى داود يا داود خلقت الشهوات و اللذات لضعفة عبادي فأما الأبطال فمالهم و للشهوات و اللذات ؟ يا داود فلا تعقلن قلبك منها بشيء فأدنى ما أعاقبك به أن أنسخ حلاوة حبي من قلبك

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے ان کو ابو عمر و بن سماک نے ان کو محمد بن علی بن بحر نے ان کو محمد بن ابراہیم برجلانی نے کہ نفیس اور عمدہ چیزوں کو ترک کرنے میں ان کے کھانے سے زیادہ ان کو لذت ملتی تھی۔ اور بشر نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو وحی کی تھی کہ میں نے خواہشات اور لذات کو اپنے کمزور بندوں کے لئے پیدا کی ہیں۔ اے داؤد آپ اپنے دل کو ان میں سے کسی شے کے ساتھ نہ لٹکانا (ورنہ اس پر)سب سے کم تر گرفت جو میں تجھ سے کروں گا وہ یہ ہو گی کہ میں اپنی محبت کی حلاوت تیرے دل سے ختم کر دو ں گا۔

بِشْرًا ← أَبِيهِ ← محمد بن إبراهيم البرجلاني ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 454

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4359

4359 - و أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله نا سليمان بن حرب نا شعبة عن أبي الفيض شيخ من بني عقيل عن سليم بن عامر قال : كان بين معاوية و بين الروم عهد قال : فكان يسير حتى يكون قريبا من أرضهم فإذا انقضت المدة غزاهم فجاء رجل على فرس له و هو يقول : الله أكبر وفاء لا غدر فإذا رجل من بني سليم يقال له عمرو بن عنبسة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان بينه و بين قوم عهد فلا يشد عقده فلا يشد عقده و لا يحلها حتى ينقضي أمدها أو ينبذ إليهم على سواء قال : فرجع معاوية بالجيوش

اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابومسلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوالفیض نے جو شیخ تھے بنو عقیل سے اس نے سلیم بن عامر سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ اور اہل روم کے درمیان کوئی معاہدہ تھا مگر وہ ان سے لڑنے کے لئے تیاری کر کے روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب ان کی سرزمین کے قریب پہنچے تو اس وقت مدت پوری ہوگئی۔لہذا انہوں نے ان سے جہاد شروع کیا۔ چنانچہ ایک آدمی اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ اکبر معاہدہ پورا کرنا چاہئے دھوکہ نہیں کرنا چاہئے۔ اچھانک دیکھا تو بنی سلیم میں سے تھا اسے عمرو بن عبسہ کہتے تھے اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی تھی فرماتے تھے۔ جس کے درمیان اور کسی قوم کے درمیان کوئی معاہدہ ہو وہ نہ تو اس کو سخت کرے اور نہ اس کو توڑے بلکہ مدت پوری ہونے دے ورنہ اس کو بھی اختیار دے۔ کہتے ہیں کہ (یہ حدیث سن کر) حضرت معاویہ اپنے لشکروں کو واپس لے آئے۔

سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← أبي الفيض شيخ من بني عقيل ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4359

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4360

4360 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي نا أحمد بن سلمان الفقيه نا إسماعيل بن إسحاق نا يحيى بن عبد الحميد نا إسحاق بن سعيد القرشي حدثني أبي عن أبي هريرة قال : كيف أنتم إذا لم تجدوا مالا أو لم تجدوا دينارا و لا درهما قالوا : أو نرى ذلك يا أبا هريرة كائنا ؟ قال : نعم و الذي نفسي بيده عن الصادق المصدوق رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا : متى ذلك يا أبا هريرة ؟ قال : تنتهك ذمة الله و ذمة رسوله صلى الله عليه و سلم فيمسك القطر عن أهل الأرض فيمسك الأسخياء بجدبهم

ہمیں خبر دی ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ خرقی نے ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو اسماعیل بن اسحاق نے ان کو یحییٰ بن عبید الحمید نے ان کو اسحٰق بن سعید قرشی نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوہریرہ نے کہتے ہیں۔ تم اس وقت کیسے ہوگے جب تم کوئی مال نہیں پاؤ گے یا کہا تھا تم کوئی دینار اور درہم نہیں پاؤں گے لوگوں نے کہا کہ کیا ہم وہ وقت بھی دیکھیں گے اے ابوہریرہ کہ یہ بھی ہونے والا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ یہ صادق مصدوق فرمان ہے۔ لوگوں نے پوچھا یہ کب ہوگا؟ اے ابوہریرہ۔فرمایا اللہ اور اس کے رسول کے عہد کو توڑ دیا جائے گا لہذا اہل زمین سے بارش روک لی جائے گی اور سخی لوگ اپنا مال روک لیں گے۔ (یعنی خوشی کے باوجود خرچ نہیں کریں گے۔)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي ← إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ ← يحيى بن عبد الحميد ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله الخرقي

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4360

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4361

4361 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت علي بن حمشاذ يقول : نا محمد بن يونس نا السميدع بن واهب نا شعبة حدثني جرير بن حازم عن عمه قال : سمعت المهلب بن أبي صفرة يقول لابنه عبد الملك : يا بني إنما كانت وصية رسول الله صلى الله عليه و سلم غدات أنفذها أبو بكر الصديق فلا تبدأ بالعدة فإن مخرجها سهل و مصدرها وعر و اعلم أن لا و إن قبحت فربما زوجت و لم توجب الطمع

ہمیں خبر دی ہے ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا علی بن حمشاذ سے وہ کہتے ہیں ان کو محمد بن یونس نے ان کو سمیدع بن واھب نے ان کو شعبہ نے ان کو جریر بن حازم نے ان کو ان کے چچا نے انہوں نے سنا مہلب بن ابوصفر سے وہ کہتے ہیں اپنے بیٹے عبدالملک سے اے بیٹے بے شک رسول اللہ کی وصیت تروتازہ تھی اسے ابوبکر نے نافذ کیا تھا نہ ابتداء کر تو عدت کے ساتھ اس کا مخرج آسان ہے اور مصدر مشکل ہے اور تو جان لے... اور اگر تو برا کرے ..... بسا اوقات تو شادی کرتا ہے مگر تو امید لازم نہیں کرتا۔

الْمُهَلَّبَ بْنَ أَبِي صُفْرَةَ ← عَمِّہٖ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← السَّمْيَدَعُ بْنُ وَاهِبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4361

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4362

4362 - حدثنا أبو محمد بن يوسف نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا الحسن بن علي بن عفان نا أسباط بن محمد نا محمد بن سوقه عن جامع عن ميمون بن مهران قال : ثلاثة المسلم و الكافر فيهن سواء من عاهدته وفى بعهده مسلما كان أو كافرا فإنما العهد لله عز و جل و من كانت بينك و بينه رحم فصلها مسلما كان أو كافرا و من ائتمنك على أمانة فأدها إليه مسلما كان أو كافرا و قد روي هذا مرفوعا بإسناد ضعيف

ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو اسباط بن محمد نے ان کو محمد بن سوقہ نے ان کو جامع نے ان کو میمون بن مہران نے وہ کہتے ہیں کہ تین کام ایسے ہیں کہ ان میں مسلم اور کافر برابر ہیں۔ پہلا جس کے ساتھ عہد کریں معاہدہ کریں اس کو پورا کریں۔ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو۔ سوائے اس کے نہیں کہ عہد اللہ کے لئے ہے اور تیرے اور جس کے درمیان کوئی رشتہ داری ہو اس کو جوڑے رکھو۔ مسلمان ہو یا کافر ہو اور جو تجھے امانت سپرد کرے اس کو لوٹا دے خواہ کافر ہو یا مسلمان ہو۔ یہ حدیث مرفوعاً بھی روایت کی گئی ہے۔سند ضعیف کے ساتھ۔

مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← جَامِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4362

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4363

4363 - حدثنا أبو محمد بن يوسف أنا أبو الحسن علي بن عبد الرحمن السبيعي بالكوفة نا علي بن العباس بن الوليد البجلي نا محمد بن عمارة بن صبيح نا إسماعيل بن أبان نا عمرو بن ثابت عن جابر عن غياث بن عبد الرحمن عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث ليس لأحد من الناس فيهن رخصة بر الوالدين مسلما كان أو كافرا و الوفاء بالعهد لمسلم كان أو كافرا و أداء الأمانة إلى مسلم كان أو كافرا

ہمیں حدیث بیان کی ہے ابومحمد بن یوسف نے ان کو ابوالحسن علی بن عبدالرحمٰن سبعی نے کوفے میں ان کو علی بن عباس بن ولید بجلی نے ان کو محمد بن عمارہ نے بن صبیح نے ان کو اسماعیل بن ابان نے ان کو عمرو بن ثابت نے ان کو جابر نے ان کو غیاث بن عبد الرحمٰن نے ان کو علی بن ابی طالب نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تین کام ایسے ہیں جن میں لوگوں کے لئے کوئی رخصت نہیں ہے۔ والدین کے ساتھ نیکی کرنا خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر ہوں۔عہد پورا کرنا جس کے ساتھ عہد ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ہو۔ امانت ادا کرنا صاحب امانت مسلمان ہو یا کافر ہو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← غياث بن عبد الرحمن ← جَابِرٍ ← عمرو بن ثابت ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ صُبَيْحٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْوَلِيدِ الْبَجَلِيُّ، ← أبو الحسن علي بن عبد الرحمن السبيعي بالكوفة ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4363

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4364

4364 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله الشعيري نا إبراهيم بن مخلد البلخي نا حاتم بن بكر بن غيلان نا أبو عامر العقدي نا إبراهيم بن طهمان عن علي بن عبد الأعلى عن أبي النعمان عن أبي الوقاص عن زيد بن أرقم قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من وعد منكم رجلا عدة و من نيته أن يفي بذلك فلم يف لموعده فلا إثم عليه رواه أبو داود عن محمد بن المثنى عن أبي عامر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالطبیب محمد بن عبداللہ شعیری نے ان کو ابراہیم بن مخلد بلخی نے ان کو حاتم بن بکر بن غیلان نے ان کو ابوعامر عقدی نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو علی بن عبدالاعلی نے ان کو ابونعمان نے ان کو ابووقاص نے ان کو زید بن ارقم نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص تم میں سے کسی آدمی سے کسی مقررہ وقت کا وعدہ کرے اور اس کی نیت ہی ہو کہ وہ اپنے وعدے کو پورا کرے گا اس کے بعد وہ کسی وجہ سے اس وعدے کو پورا نہ کر سکے تو اس پر کوئی گنا نہیں ہے۔ اس کو روایت کیا ہے ابوداؤد نے محمد بن مثنی سے اس نے ابوعامر سے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أبي الوقاص ← أَبِي النُّعْمَانِ ← عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← حَاتِمُ بْنُ بَكْرِ بْنِ غَيْلَانَ، ← إبراهيم بن مخلد البلخي ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّعِيرِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4364

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4365

4365 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي الحافظ نا أبو يعلى الموصلي نا خلف بن هشام نا حماد بن زيد عن علي بن زيد عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن الأسود بن سريع قال : قلت يا رسول الله مدحت الله بمدحه و مدحتك بأخرى هات و ابدأ بمدحة الله هكذا رواه علي بن زيد بن جدعان

ہمیں خبر دی ابوسعد مالینی نے ان کو ابواحمد بن عدی حافظ نے ان کو ابویعلی موصلی نے ان کو خلف بن ہشام نے ان کو حماد بن زید نے ان کو علی بن زید نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابوبکرہ نے ان کو اسود بن سریع نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ میں اللہ کی مدح کرتا ہوں ایک بار اور دوسری بار آپ کی تعریف کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آ تو ابتدا کر تو اللہ کی تعریف کے ساتھ (یعنی اللہ کی ہی حمد کر)۔ ان کو اسی طرح روایت کیا ہے علی بن زید بن جدعان نے۔

قُلْتُ ← الأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خلف بن هشام، ← اَبُوْ یَعْلَی الْمَوْصِلِیُّ ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4365

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4366

4366 - و قد أخبرنا أبو الحسين بن بشران نا إسماعيل بن محمد الصفار نا الحسن بن سلام نا محمد بن مقاتل المروزي نا عبد السلام بن حرب الملائي نا يونس بن عبيد عن الحسن : عن الأسود بن سريع أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني حمدت ربي بمحامد قال : أما إن ربك يحب الحمد و لم يستنشده

اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو حسن بن سلام نے ان کو محمد بن مقاتل مروزی نے ان کو عبدالسلام بن حرب ملائی نے ان کو یونس بن عبید نے ان کو حسن نے اسود سریع سے کہ وہ نبی کریم کے پاس آیا اور بولا کہ میں اپنے رب کی تعریفیں کرتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک تیرا رب تعریف کو پسند کرتا ہے اور اس کے شعر سننا پسند نہیں کرتا۔

أما إن ربك يحب الحمد و لم يستنشده ← إني حمدت ربي بمحامد ← الأسود بن سريع أنه أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← الْحَسَنِ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ الْمَرْوَزِيٌّ ← الْحَسَنُ بْنُ سَلامٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و قد

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4366

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 455

454 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أخي يقول : تعبد رجل من بني إسرائيل في غيضة في جزيرة في البحر أربعمائة سنة فطال شعره حتى كان إذا مر في الغيضة تعلق بأغصانها بعض شعره فبينا هو ذات يوم يدور إذ مر بشجرة فيها وكر طير فنقل موضع مصلاه إلى قريب منها قال : فنودي أنست بغير ؟ و عزتي لأحطنك مما كنت فيه درجتين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان حناط نے ان کو احمد بن ابوالجواری نے ان کو ان کے بھائی نے انہوں نے کہا بنی اسرائیل کے ایک آدمی نے سمندر کے ایک جزیرہ میں چار سو سال تک عبادت کی اور اس کے بال لمبے ہو گئے یہاں تک کہ جب وہ جزیرے کی جھاڑیوں سے گزرتا تو اس کے بال ان کی ٹہنیوں میں الجھ جاتے تھے ایک دن وہ اس جزیرے کی جھاڑیوں اور درختوں میں گھوم رہا تھا کہ ایک درخت سے گذرا جس پر کسی پرندے کا گھونسلا تھا چنانچہ اس نے اپنے مصلے کی جگہ اس کے قریب منتقل کر دی کہتے ہیں کہ اسے آواز آئی کہ تم نے میرے سوا غیر سے انس کر لیا ہے پس میری عزت کی قسم ہے میں نے تجھے اس مقام سے جس پر تو تھا دو دریجے نیچے اتار دیا ہے۔

أَخِي ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 455

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 456

455 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت أبا منصور بن عبد الله الأصبهاني يقول : سئل الشبلي ما علامة المعرفة ؟ قال : نسيان كل شيء معروقة فقال : ما علامة صحة المحبة ؟ قال : العمى عن كل شيء سوى محبوبه قال : و سمعت الشبلي يقول في قوله : { وما كنا عن الخلق غافلين } فقال : و ما كنا عن من قرب منا غافلين و لا عن من أقبل علينا شاغلين

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے سنا ابو نصر منصور بن عبداللہ اصفہانی سے وہ کہتے ہیں کہ (مشہور بزرگ) شبلی سے دریافت کیا گیا کہ معرفت کی کیا علامت ہے؟ انہوں نے جواب دیا اپنے محبوب کے سوا ہر شئی کی دیکھنے سے اندھا ہو جانا۔ کہتے ہیں کہ میں نے شبلی سے اس آیت کے بارے میں سنا تھا: "وما کان عن الخلق غافلین " (مومنون 17) ہم اپنی مخلوق سے غافل نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس کا مطلب ہے یعنی جو ہم سے قریب ہے ہم اس سے بے خبر نہیں ہیں ، اور جو ہمارے پاس آئے ہم اس سے معروف نہیں ہیں۔

من أقبل علينا شاغلين ← من قرب منا غافلين و لا ← الخلق غافلين فقال و ما كنا ← في قوله وما كنا ← الشبلي ← و، ← كل شيء سوى محبوبه ← الْعَمِّيُّ، ← نسيان كل شيء معروقة فقال ما علامة صحة المحبة ← سئل الشبلي ما علامة المعرفة ← أبا منصور بن عبد الله الأصبهاني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 456

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 457

456 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله الطيري يقول : سمعت علي بن سهل بن الأزهر يقول : الغافلون يعيشون في حلم الله و الذاكرون يعيشون في رحمة الله و العارفون يعيشون في لطف الله و الصادقون يعيشون في قرب الله و المحبون يعيشون في الأنس بالله و بالشوق إليه

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن عبداللہ طبری سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا علی بن سہل بن ازہر سے وہ کہتے تھے کہ عامل لوگ جیتے ہیں اللہ کے حوصلے میں۔ اور ذکر الٰہی کرنے والے جیتے ہیں اللہ کی رحمت میں۔ عارف لوگ جیتے ہیں اللہ کے لطف کرم میں صادق لوگ جیتے ہیں اللہ کے قرب میں۔ عاشق لوگ جیتے ہیں اللہ کے انس و محبت میں اور اس کی طرف شوق میں۔

علي بن سهل بن الأزهر ← أبا بكر محمد بن عبد الله الطيري ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 457

chevron_left Previous
1…806807808…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood