Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4356

4356 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد الدرامي نا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة : عن ابن عباس في قوله : { يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود } يعني بالعهود و يعني ما أحل الله و ما حرم و ما فرض و ما حد في القرآن كله

ہمیں خبر دی ہے ابوزکریا بن ابواسحاق نے ان کو ابوالحسن طرائفی نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کوعلی بن ابوطلحہ نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا اس قول کے بارے میں: ياايها الذين امنوا اوفوا بالعقود. یعنی عهود. اے ایمان والو عقد پورے کرو یعنی عہد پورے کرو اس کی مراد ہے کہ اللہ نے جو کچھ حلال کیا ہے اور جو کچھ حرام کیا ہے اور جو کچھ فرض کیا ہے اور جس کو حد مقرر کیا ہے قرآن میں و وسب پورا کرو۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4356

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4357

4357 - أخبرنا أبو الحسن علي بن الحسين بن علي البيهقي صاحب المدرسة أنا أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد بقرميسين نا محمد بن إبراهيم بن زياد الطيالسي نا الحسن بن أحمد بن أبي شعيب الحراني نا مسكين بن بكير نا معاذ بن رفاعة عن علي بن زيد عن القاسم عن أبي أمامة قال : جاء ثعلبة بن حاطب إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا ثعلبة قليل تؤدي شكره خير من كثير لا تطيقه قال : يا رسول الله ادع الله أن يرزقني مالا فو الله لئن أعطاني الله لأتصدقن و لأفعلن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم ارزقه مالا قال : فصارت له غنيمة فكان يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما كثرت غنمه و نمت خرج من المدينة فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا المغرب و العشاء فنمت غنمه فتقدم فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا الجمعة فنمت غنمه و كثرت فتقدم فكان لا يشهد مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في جمعة و لا غيرها قال : فبعث النبي صلى الله عليه و سلم رجالا يأخذون الصدقة فذهبوا إليه فقال لهم : إذا فرغتم و انصرفتم اجعلوا طريقكم علي أو نحوها قال : فلما فرغوا و انصرفوا أتوه فقال : و الله ما هذه إلا جزية فانصرفوا عنه و لم يأخذوا منه الصدقة فأتوا النبي صلى الله عليه و سلم فأخبروه بما قال : فأنزل الله عز و جل : { ومنهم من عاهد الله لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين } إلى قوله : { يكذبون } قال : فلما نزل فيه القرآن جاء بصدقته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأبى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يأخذها فلما قبض رسول الله صلى الله عليه و سلم جاء بصدقته إلى أبي بكر فأبي أن يأخذها و قال شيء لم يأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم لا أخذها و أبى أن يأخذها فلما قبض أبو بكر جاء بصدقته إلى عمر فأبى أن يأخذها و قال شيء لم يأخذها رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا أخذها و أبى ذلك قال الشيخ أحمد رحمه الله : و إنما لم يأخذ النبي صلى الله عليه و سلم زكاة ماله و جرى في ذلك أبو بكر و عمر على سنته لأنه كان قد ناففق و الكتاب الذي نزل في شأنه ناطق بذلك حيث قال : { فأعقبهم نفاقا في قلوبهم إلى يوم يلقونه بما أخلفوا الله ما وعدوه وبما كانوا يكذبون } و علموا بهذا بقاؤه على نفاقه حتى يموت و أن إتيانه بصدقة ماله مخافة أن يؤخذ منه قهرا و في إسناد هذا الحديث نظر و هو مشهور فيما بين أهل التفسير و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن حسن بن علی بیہقی صاحب مدرسہ نے ان کو ابوحفص عمر بن احمد بن محمد قرمیسین میں ان کو محمد بن ابراہیم بن زیاد طیالسی نے ان کو حسن بن احمد بن ابوشعیب حرانی نے ان کو مسکین بن بکیر نے ان کو معاذ بن رفاعتہ نے ان کو علی بن زید نے قاسم سے اس نے ابوامامہ سے وہ کہتے ہیں کہ ثعلبہ بن حاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا یا رسول اللہ آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ثعلبہ قلیل مال جس کا تو شکر ادا کرتا ہے وہ اس کثر مال سے بہتر ہے جس کا تو شکر نہ ادا کر سکے۔ کہنے لگا یا رسول اللہ نہیں بس آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے اللہ کی قسم اگر اس نے مجھے مال دے دیا تو میں ضرور صدقہ کروں گا۔اور میں یہ کروں گا وہ کروں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اللہ ثعلبہ کو مال عطا کر۔ قاسم کہتے ہیں کہ اللہ نے اس کو بکریاں عطا کر دیں اس سے پہلے وہ رسول اللہ کے پاس حاضری دیتا تھا جب بکریاں زیادہ ہوگئیں اور بڑھ گئیں تو وہ مدینے سے باہر نکل گیا پھر وہ صرف مغرب اور عشاء میں رسول اللہ کے پاس آتا تھا جب بکریاں بڑھ اور زیادہ ہو گئیں تو پھر وہ صرف جمعہ میں حضور کے پاس آتا تھا جب بکریاں اور بڑھ کر زیادہ ہوگئیں تو اس نے جمعہ کے دن آنا بھی چھوڑ دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگ بھیجے کہ اس سے صدقہ یعنی زکوٰۃ کا مال وصول کر آئیں وہ جب پہنچے تو اس نے ان کو ٹال دیا اور کہا کہ پہلے اور لوگوں سے لیں جب واپس جانے لگیں تو میری طرف سے آئیں (میں جب دے دوں گا ابھی تو میں مصروف ہوں) وہ لوگ فارغ ہوکر جب پہنچے تو اس نے کہا اللہ کی قسم یہ مال دینا تو تاوان ہی ہے یا ایسے ہی کچھ جواب دیا راوی کہتے ہیں کہ ان لوگوں نے یہ سن کر مال زکوٰۃ وصول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ کر شکایت کی جو کچھ اس نے کہا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ومنهم من عاهد اللّٰه لئن آتانا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصالحين فلما اتاهم من فضله بخلوا به وتولوا وهم معرضون فاعقبهم نفاقا في قلوبهم الى يوم يلقونه بما اخلفوا اللّٰه ما وعدوه وبما كانوا يكذبون. کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں مال عطا کرے تو ہم ضرور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے اور ہم ضرور نیکوکار بن جائیں گے جب انہیں اللہ نے اپنا فضل دے دیا تو انہوں نے اس کے ساتھ بخل کرنا شروع کر دیا اور اپنے عہد سے پھر گئے۔اور منہ پھیرنے لگے۔ان کے جھوٹ بولنے اور اللہ سے وعدہ خلافی کرنے کی وجہ سے اس نے خیانت کیا ان کے دل میں نفاق بھر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب قرآن اتر اتو ثعلبہ اپنی زکوٰۃ اور صدقات کا مال لے کر حضور کے پاس آیا مگر آپ نے اس سے مال لینے سے انکار کر دیا حضور جب فوت ہو گئے تو وہ اپنا صدقہ لے کر ابوبکر صدیق کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا جب ابوبکر صدیق کا انتقال ہوگیا تو وہ مال لے کر حضرت عمر کے پاس آیا انہوں نے بھی لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جو مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لیا اور ابوبکر نے نہیں لیا میں بھی نہیں لوں گا۔ شیخ احمد بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ حضور نے مال نہ لیا اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کی سنت پر عمل کیا اس لئے کہ وہ منافق ہو چکا تھا اور وہ آیت کتاب اللہ جو اس کے بارے میں نازل ہوئی وہ اس بات کی دلیل ہے اور اسی پر ناطق ہے۔وہ یہ ہے: فاعقبهم نفاقا في قلوبهم الخ. اسی آیت سے شیخین نے جان لیا تھا کہ اب وہ قیامت تک اور موت تک نفاق پر قائم رہے گا۔ باقی رہا اس کا اپنے مال کی زکوۃ و صدقہ لے کر پیش ہونا تو وہ اس کی اس خوف سے تھا تا کہ اُس سے جبراً نہ لے لیا جائے۔ اور اس حدیث کی اسناد میں ضعف ہے حالانکہ مشہور ہے اہل تفسیر کے درمیان۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ ← مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الطَّيَالِسِيُّ، ← أبو حفص عمر بن أحمد بن محمد بقرميسين ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ صَاحِبُ الْمَدْرَسَةِ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4357

شعب الإيمان · الثاني و الثلاثين من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الإيفاء بالعقود · حديث 4358

4358 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد الصفار نا أحمد بن عبيد الله النرسي نا يحيى بن أبي بكير نا شعبة عن أبي الفيض قال : سمعت سليم بن عامر قال : كان بين معاوية و بين الروم عهد فأراد أن يغزوهم فتعجل شهرا قال : فجعل رجل في أرض الروم على برذون يقول : و قالا : غدر فإذا هو عمرو بن عنبسة فدعاه معاوية فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من كان بينه و بين قوم عهد فلا يحل له أن يحل عقدة حتى ينقضي أمدها أو ينبذ إليهم على سواء

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو احمد بن عبیداللہ نرسی نے ان کو یحییٰ بن ابوعبید نے ان کو شعبہ نے ان کو ابوالفیض نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سلیم بن عامر سے وہ کہتے کہ حضرت معاویہ اور رومیوں کے مابین معاہدہ تھا (جنگ نہ کرنے کا) انہوں نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا اور طے شدہ مہینے سے عجلت کی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سرزمین روم پر خچر پر سوار ہوا اور کہنے لگا اور دونوں نے کہا کہ یہ تو غدر ہے، دھوکہ ہے، دیکھا تو وہ عمر بن عبسہ تھا حضرت معاویہ نے اسے بلایا اور پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا تھا جس آدمی کے اور کسی قوم کے مابین کوئی معاہدہ ہو اس کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے عقد کو توڑے بلکہ مدت پوری کرے یا ان کو بھی برابر کا اختیار دے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← غدر فإذا هو عمرو بن عنبسة فدعاه معاوية ← و، ← فجعل رجل في أرض الروم على برذون ← كان بين معاوية و بين الروم عهد فأراد أن يغزوهم فتعجل شهرا ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْفَيْضِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The thirty-second of the people of faith › And it is the door of fulfillment of contracts · Hadith 4358

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 445

444 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا سعيد العلاف يقول سمعت عبد الله بن القاسم الواعظ يقول سمعت أبا دجانة يقول سمعت ذا النون بن إبراهيم يقول : الأنس مع الله نور ساطع و الأنس مع الناس سم قاطع

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید علاف نے ان کو عبداللہ بن قاسم واعظ نے انہوں نے سنا ابو دجانہ سے انہوں نے سنا ذوالنون بن ابراہیم سے وہ کہتے تھے ۔ اللہ کے ساتھ محبت کرنا بلند ہونے والا نور ہے اور بندوں کے ساتھ محبت کرنا زہر قاتل ہے۔

الأنس مع الله نور ساطع و الأنس مع الناس سم قاطع ← ذا النون بن إبراهيم ← أبا دجانة ← عبد الله بن القاسم الواعظ ← أبا سعيد العلاف ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 445

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 446

445 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : سمعت أبا عثمان الحناط يقول سمعت ذو النون يقول : ثلاثة من أعلام الأنس بالله : استلذاذ الخلوة و الاستيحاش من الصحبة و استحلاء الوحدة و ثلاثة من علامات الوصول : الأنس به في جميع الأحوال و السكون إليه في جميع الأعمال و حب الموت لغلبة الشوق في جميع الأشغال قال : و ثلاثة من أعلام الشوق : حب الموت مع الراحة و بغض الحياة مع الدعة و دوام الحزن مع الكفاية

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان حناط نے کہتے تھے کہ میں نے ذوالنون مصری سے سنا کہتے تھے کہ اللہ کے ساتھ محبت کی تین نشانیاں ہیں۔ خلوت میں لذت محسوس کرنا۔ جلوت میں وحشت و نفرت کرنا۔ وحدت کو شیریں سمجھنا۔ اور (اللہ تعالیٰ ) وصل کی تین علامات ہیں ۔ تمام حالات میں اللہ کےساتھ انس و محبت رکھنا اور تمام اعمال میں اسی کی طرف سکون پانا۔ اور تمام اشغال میں غلبہ شوق (دیدار الٰہی) میں موت کی محبت رکھنا۔ اور فرمایا کہ شوق کی تین علامات ہیں۔ راحت و سرور کے باوجود موت کی محبت ۔ اور سکون و آرام کے باجود زندگی سے نفرت ہمیشہ کا غم ہر ضرورت پوری ہونے کے باوجود۔

ذَو النُّونِ، ← أبا عثمان الحناط ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 446

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 447

446 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو زكريا عبد الله بن أحمد بن البلاذري الحافظ ثنا محمد بن عبد الله المعمري ثنا إبراهيم بن الجنيد حدثني محمد بن الحسين عن بكار بن خالد عن أبيه عن صالح المري قال : رأيت ريحانة المجنونة و قد كتبت من وراء جيبها : ( أنت أنسي و منيتي و سروري قد أبى القلب أن يحبى سواكا ) ( يا عزيزي و منيتي و اشتياقي طال شوقي متى يكون لقاكا ) ( ليس سؤلي من الجنان نعيم غير أني أريدها لأراكا ) و إذا على صدرها مكتوب : ( حسب المحب من الحبيب بعلمه أن المحب ببابه مطروح ) ( و القلب فيه و إن تنفس في الدجى بسهام لوعات الهوى مجروح )

ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذ باری نے ان کو ابو زکریا عبداللہ بن احمد بن بلاذری حافظ نے ان کو محمد ن عبداللہ معمری نے ان کو ابراہیم بن جنید نے ان کو محمد بن حسین نے ان کو بکار بن خالد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صالح مری نے انہوں نے کہا کہ میں نے ریحانہ مجنونہ کو دیکھا ان کے پچھلے دامن پر لکھا ہوا تھا۔ (یعنی اللہ کی محبت کی دیوانی)۔ "انت انسی ومنیتی وسروری ، قدابی القلب ان یحب سوا کا" تو ہی میری محبت ہے تو ہی میری آرزو ہے تو ہی میرا سرور ہے۔ دل تیرے سوا کسی اور سے محبت کرنے سے انکار کرتی ہے۔ "باعزیزی ومنیتی و اشتیاقی، طال شوقی متی یکون لقاکا" اے میرے پیارے اے میرا آرزو اے میرے اشتیاق۔ میرا شوق طویل ہو گیا ہے تیری ملاقات کب ہو گی؟ "لیس سولی من الجنان نعیم، غیر اننی اریدھا لا راکا" میرا سوال (تجھ سے) جنت کی نعمتوں کا نہیں ہے ۔ میں اس کے سوا کچھ نہیں چاہتی کہ میں تیرا دیدار کروں۔ (سامنے دیکھا تو ) سینہ کی جانب لکھا ہوا تھا۔ " حسب المحب من الحبیب بعلمہ ، ان المحب ببابہ مطروح" عاشق کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اس کے محبوب کے علم میں ہے۔ کہ عاشق اس کے دروازے پر پڑا رہے۔ " والقلب فیہ وان تنفس فی الدجی ، بسھام لو عات الھوی مجروح " عاشق اگرچہ رات کی تاریکی میں سانس لیتا ہے مگر دل تو اس کی محبت میں گرم عشق و محبت کے تیروں سے زخمی ہے۔

صالح المري ← أَبِيهِ ← بكار بن خالد ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْجُنَيْدِ، ← محمد بن عبد الله المعمري ← أبو زكريا عبد الله بن أحمد بن البلاذري الحافظ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 447

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 448

447 - سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول سمعت أبا نصر الأصبهاني يقول سمعت أبا جعفر الحداد يقول سمعت علي بن سهل يقول : الأنس بالله أن تستوحش من الخلق إلا من أهل ولاية الله فإن الأنس بأهل ولاية الله هو الأنس بالله

میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے کہتا ہے میں نے سنا ابو نصر اصفہانی سے کہتے ہیں میں نے سنا ابو جعفر حداد سے وہ کہتے تھے میں نے سنا علی بن سہل سے کہتےتھے: اللہ کے ساتھ محبت یہ ہے کہ تجھے مخلوق سے وحشت ہو مگر صرف اللہ سے محبت کرنے والوں سے، بےشک اللہ سے محبت رکھنے والوں سے محبت کرنا اللہ سے محبت کرنا ہے۔

علي بن سهل ← أبا جعفر الحداد ← أبا نصر الأصبهاني ← أبا عبد الرحمن السلمي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 448

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 449

448 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي قال : سمعت عبد الله الرازي يقول كتبت هذا من كتاب أبي عثمان و ذكر أنه من كلام شاه : علامة الأنس للاستيحاش من الغافلين و السكون إلى الوحدة و مرافقة الأحبة قال و سمعت عبد الله الرازي يقول سمعت أبا عثمان يقول : إذا صح للإنسان مكان السرور بالله يتولد له من ذلك مقام الأنس به فإذا صح أنسه به استوحش من كل شيء سواه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رازی سے کہتے تھے میں نے اسے ابو عثمان کی کتاب سے لکھا تھا ۔ اس نے ذکر کیا تھا کہ یہ کلام شاہ میں سے ہے۔ محبت الٰہی کی علامت ۔ غافل لوگوں سے وحشت محسوس کرنا۔ اور وحدت میں سکون محسوس کرنا۔ احباب سے نرمی کرنا۔ ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ کا قول: کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رازی سے سنا کہتے تھے کہ میں نے سنا ابو عثمان سے وہ کہتے ہیں: جب انسان کے لئے اللہ کے لئے اللہ کے ساتھ خوشی اور سرور کا مقام ٹھیک ہو جائے تو اس سے اس کے ساتھ انس کا مقام پیدا ہو تا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ انس و محبت ٹھیک ہو جائے تو اللہ کے سوا ہر شئی سے وحشت و نفرت کرتاہے۔

كتبت هذا من كتاب أبي عثمان و ← عبد الله الرازي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 449

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 450

449 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الحناط قال : سمعت السري يقول سمعت فضيلا يقول : عن ابنة له توجعت كفها فعادها فقال لها : يا بنية كيف كفك هذه ؟ فقالت له : يا أبت إن قد بسط لي ثوابها ما لا أؤدي شكره عليها أبدا فتعجبت من حسن يقينها قال الفضيل فأنا عندها قاعد إذ أتاني ابن لي له ثلاث سنين فقبلته و ضممته إلى صدري فقالت لي : يا أبت سألتك بالله أتحبه ؟ فقلت : إي و الله يا بنية أني لأحبه فقالت لي : سوأة لك من الله يا أبت إني ظننت أنك لا تحب مع الله غير الله فقلت لها : أي بنية أو لا تحبون الأولاد ؟ فقالت : المحبة للخالق و الرحمة للأولاد قال : فلطم الفضيل رأس نفسه و قال : يا رب هذه ابنتي هجنتني في حبها و حب أخيها و عزتك لا أحببت معك أحدا حتى ألقاك

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو عثمان حناط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سری سقطی سے سنا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے فضیل بن عیاض سے سنا وہ اپنی بیٹی کے بارے میں بتاتے تھے کہ اس کی ہتھیلی میں تکلیف ہو گئی تھی انہوں نے اس سے اس کے بارے میں بیمار پرسی کی اور کہا کہ اے بیٹا تیری ہتھیلی اب کیسی ہے؟ اس خاتون نے کہااے میرے بابا جان، اللہ تعالیٰ نے میرے لئے اس کا ثواب (یعنی تکلیف زیادہ کر کے) بڑھا دیا ہے۔ اس قدر کہ میں اس پر کبھی بھی شکر ادا نہیں کر سکتی (فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ) میں اس حسن یقین سے خوش ہو گیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں اس بیٹی کے ہاں بیٹھا تھا کہ اچانک میرا چھوٹا بیٹا جس کی عمر ابھی تین سال کی تھی میرے پاس آ گیا میں نے اسے بوسہ دیا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔ تو میری بیٹی بولی ابا حضور میں آپ سے اللہ کی قسم کے ساتھ پوچھتی ہوں کیا آپ اس بیٹے سے محبت کرتے ہیں؟ میں نے کہاں ہاں بیٹا میں اس کو محبوب رکھتا ہوں۔ بیٹی نے کہا میرے ابا جی یہ بات اللہ کے ہاں آپ کے لئے باعث شرم و عار ہے۔ میرے ابا جان میں تو خیال کرتی تھی کہ آپ اللہ کے ساتھ اللہ کے ماسوا کی محبت نہیں رکھتے (یعنی محبت صرف اللہ سے کرتے ہیں اور بس) میں نے اسے جواب دیا کہ بیٹا کیا تم لوگ اولاد سے محبت نہیں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ محبت تو خالق کے لئے ہوتی ہے اور اولاد کے لئے رحمت و شفقت ہوتی ہے فرماتے ہیں کہ فضیل نے (بیٹی کا جواب سن کر خفت محسوس کرتے ہوئے) اپنا سر پیٹ لیا اور کہنے لگے اے میرے پروردگار میری بیٹی نے مجھے (لاجواب ) اور ذلیل کر دیا ہے اپنی محبت کے بارے میں بھی اور اپنے بھائی کی محبت کے بارے میں بھی (لہذا آج کے بعد ) مجھے تیری عزت کی قسم ہے میں تیرے ساتھ کسی کی محبت نہیں رکھوں گا یہاں تک کہ میں تجھے ملوں( یعنی زندگی بھر) اللہ کے سوا کسی سے محبت نہیں کروں گا۔

له يا أبت ← لها يا بنية كيف كفك هذه ← ابنة له توجعت كفها فعادها ← فُضَيْلًا ← السَّرِيُّ، ← أَبُو عُثْمَانَ الْحَنَّاطُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 450

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 451

450 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ثنا عبد الله بن أحمد الشيباني قال : سمعت زنجويه بن الحسن ثنا علي بن الحسن ثنا إبراهيم بن الأشعث يقول سمعت الفضيل يقول : طوبي لمن استوحش من الناس و أنس بربه و بكى على خطيئته

Not Found

طوبي لمن استوحش من الناس و أنس بربه و بكى على خطيئته ← الْفُضَيْلُ ← إبراهيم بن الأشعث، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ← زنجويه بن الحسن ← عبد الله بن أحمد الشيباني ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 451

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 452

451 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف أنا أحمد بن محمد بن زياد ثنا سلم بن عبد الله أبو محمد الخراساني قال : سمعت الفضيل بن عياض يقول : كفى بالله محبا و بالقرآن مونسا و بالموت واعظا و كفى بخشية الله علما و الاغترار بالله جهلا

ہمیں خبر دی ہے محمد بن یوسف نے ان کو احمد بن محمد بن زیاد نے ان کو سلم بن عبداللہ ابو محمد خراسانی نے انہوں نے کہا کہ میں نے فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ سے سنا تھاوہ کہتے تھے: اللہ محبت کرنے والا کافی ہے ۔ قرآن مونس و دل بہلانے والا کافی ہے، اور موت نصیحت کرنے والا واعظ کافی ہے اور خشیت الٰہی و خوف خدا کے لئے علم کافی ہے۔ اور غافل رہنے کے لئے جہالت کافی ہے۔

الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← سلم بن عبد الله أبو محمد الخراساني ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 452

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 453

452 - سمعت أبا محمد عبد الله بن يوسف يقول سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن فراس يقول سمعت إبراهيم بن أحمد الخواص يقول : لا تطمع في لين القلب مع فضول الكلام و لا تطمع في حب الله مع حب المال و الشرف و لا تطعم في الأنس بالله مع الأنس بالمخلوقين

میں نے سنا ابو محمد عبداللہ یوسف سے وہ کہتے تھے کہ میں نے ابو اسحٰق ابراہیم بن فراس سے سنا تھا کہتے تھے کہ میں نے ابراہیم بن احمد خواص سے سنا وہ فرماتے تھے کہ: فضول گوئی کے ساتھ دل کی نرمی کی توقع نہ کرنا۔ جب مال و جب جاہ و مرتبہ کے ساتھ اللہ کی محبت کی توقع نہ کرنا مخلوق کے ساتھ انس و محبت کے ساتھ اللہ کی محبت کی توقع نہ کرنا۔

إبراهيم بن أحمد الخواص ← أبا إسحاق إبراهيم بن فراس ← أبا محمد عبد الله بن يوسف

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 453

chevron_left Previous
1…805806807…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood