شعب الإيمان · الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في العتق ووجه التقرب إلى الله عز و جل · حديث 4344
4344 - أخبرنا قال الحسين بن الفضل القطان ببغداد نا أبو سهل بن زياد القطان نا محمد بن يونس نا عبد الملك بن قريب الأصمعي نا شبيب بن شيبة قال : كنا بطريق مكة و بين أيدينا سفرة لنا نتغذى في يوم قائظ فوقف علينا أعرابي و معه جارية له زنجية فقال : يا قوم أفيكم أحد يقرأ كلام الله حتى يكتب لي كتابا قال : قلنا : أصيب من غدائنا حتى نكتب لك ما تريد قال : إني صائم فعجبنا من صومه في تلك البرية فلما فرغنا من غدائنا دعونا به فقلنا : ما تريد ؟ فقال : أيها الرجل إن الدنيا قد كانت و لم أكن فيها و ستكون و لا أكون فيها فإني أردت أن أعتق جاريتي هذه لوجه الله و ليوم العقبة أتدري ما يوم العقبة قوله عز و جل { فلا اقتحم العقبة } { وما أدراك ما العقبة } { فك رقبة } فاكتب ما أقول لك و لا تزيدن علي حرفا هذه فلانة خادم فلان قد أعتقها لوجه الله و ليوم العقبة قال شبيب : فقدمت البصرة فأتيت بغداد فحدثت بهذا الحديث المهدي فقال : مائة نسمة تعتق على عهدة الأعرابي
ہمیں خبر دی ابوالحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو ابوسہل بن زیاد قطان نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو عبدالملک بن قریب اصمعی نے ان کو شبیب بن شیبہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ کے راستے میں تھے۔ اور ہمارے سامنے ہمارا دستر خوان بچھا ہوا تھا ہم لوگ گرمی کے دن کھانا کھا رہے تھے چنانچہ ایک دیہاتی آ کر ہمارے اوپر کھڑا ہوگیا اس کے ساتھ اس کی زنگی لونڈی تھی۔ کہنے لگا لوگو! کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو کلام اللہ پڑھتا ہو تا کہ وہ میرے لئے بھی لکھ دے۔ ہم نے کہا کہ ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ہم تجھے وہ لکھ دیں گے جو آپ چاہیں گے اس نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ ہمیں اس جنگل بیابان میں اس کے روزے کا سن کر حیرانی ہوئی۔ جب ہم کھانا کھا چکے تو اس کو بلایا اور ہم نے پوچھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟ اس نے کہا۔ لوگو! بے شک دنیا تھی مگر میں اس میں نہیں تھا۔ اور عنقریب ایک وقت آئے گا کہ دنیا ہوگی مگر میں اس میں نہیں ہوں گا۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی اس لونڈی کو محض اللہ کی رضا کے لئے آزاد کر دوں۔ اور یوم عقبہ کے لئے کیا تمہیں معلوم ہے کہ کیا ہے یوم عقبہ؟ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: فلا اقتحم العقبة وما ادراك ما العقبة فك رقبة. پس تو لکھ جو کچھ میں تجھے کہوں میری بات سے زیادہ کچھ نہ لکھنا۔ یہ فلانی ہے فلاں کی خادمہ ہے اس نے اس کواللہ کی رضا کے لئے آزاد کر دیا ہے۔ اور یوم عقبہ کے لئے۔ شبیب نے کہا کہ میں بصرے میں آیا پھر میں بغداد میں آیا میں نے یہ بات مہدی کو بتائی۔ اس نے کہا کہ ایک سو نسمہ آزاد کئے گئے اعرابی کی ذمہ داری پر۔
Shuab ul Iman · Thirty people of faith › And it is a door to manumission and an approach to God Almighty · Hadith 4344
