Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9533

9534 - حدثنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قال : أنا إبراهيم بن الحارث البغدادي قال : نا يحيى بن أبي بكير قال : نا ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا مخلد بن جعفر الباقرجي نا محمد بن يحيى بن سليمان نا عاصم بن علي نا محمد بن عبد الرحمن بن أبي ذئب عن المقبري عن أبي شريح الكعبي : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : و الله لا يؤمن و الله لا يؤمن و الله لا يؤمن ثلاثا قالوا : و من ذاك يا رسول الله ؟ قال : الجار لا يأمن جاره بوائقه قالوا و ما بوائقه ؟ قال شره رواه البخاري في الصحيح عن عاصم بن علي

ہمیں حدیث بیان کی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابراہیم بن حارث بغداری نے ان کو یحییٰ بن ابو بکیر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ابن ابو ذئب نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو عبداللہ حافظ نے ان کو مخلد بن جعفر باقرجی نے ان کو محمد بن یحییٰ بن سلیمان نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن بن ابو ذئب نے ان کو مقبری نے انکو ابو شریح کعبی نے نبی کریم ﷺ سے آپ نے فرمایا اللہ کی قسم نہیں ایمان رکھتا۔ اللہ کی قسم نہیں ایمان رکھتا۔ اللہ کی قسم نہیں رکھتا تین بار فرمایا۔ لوگوں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ یا رسول اللہ آپﷺ نے فرمایا: کہ جس کا پڑوسی ادس کی ہلاکتوں سے پرامن نہیں۔ لوگوں نے پوچھا کہ اس کی ہلاکتیں کیا ہیں؟ فرمایا اس کا شر بخاری نے صحیح میں اس کو روایت کیا ہے ۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← محمد بن يحيى بن سليمان ← مخلد بن جعفر الباقرجي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ. و ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9533

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9534

9535 - أخبرنا أبو صالح بن أبي طاهر العنبري قال : أنا أحمد بن يحيى بن منصور القاضي قال : نا أحمد بن سلمة قال : نا قتيبة بن سعيد قال : نا إسماعيل يعني ابن جعفر عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يدخل الجنة من لا يأمن جاره بوائقه رواه مسلم في الصحيح عن قتيبة

ہمیں خبر دی ابو صالح بن ابو طاہر عنبری نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی احمد بن یحییٰ بن منصور قاضی نے وہ کہتے ہی ہمیں خبر دی احمد بن سلمہ نے وہ کہتے ہیں کہ اسکو قتبیہ بن سعید نے ان کو اسماعیل بن جعفر نے العلاء سے اس نے اپنے والد سے اس نے ابو ہریرہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ دشخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کا پڑوسی اس کی ہلاکت خیزیوں سے محفوظ نہ ہو ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں قتبیہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ← أحمد بن يحيى بن منصور القاضي ← أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9534

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4294

4294 - و بإسناده عن أبي أمامة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن المرابط في سبيل الله أعظم أجرا من رجل جمع كعبيه بزناد شهر صامه و قامه

اسی اسناد کے ساتھ ابوامامہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک اللہ کی راہ میں سواری کی لگام تھام کر حفاظت کرنے والا بڑے اجر والا ہے اس آدمی سے جو ملاتا ہے اپنے دونوں ٹخنے اپنے ہاتھوں کے پہنچوں کے ساتھ مہینہ بھر کہ وہ اس کے روزے رکھتا ہے اور اس کا قیام کرتا ہے۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4294

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4295

4295 - و بإسناده عن أبي أمامة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن صلاة المرابط تعدل خمس مائة صلاة و نفقة الدينار و الدرهم منه أفضل من تسع مائة دينار ينفقه في غيره

اور اسی اسناد کے ساتھ ابوامامہ سے مروی ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک اسلام کے محافظ کی نماز پانچ سو نماز کے برابر ہوتی ہے۔اور دینار اور درہم کو خرچ کرنا اس سے افضل ہے نو سو د ینار سے جو خرچ کرے اس کے علاوہ کسی اور نیکی کے کام میں۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4295

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4296

4296 - و بإسناده عن أبي أمامة الباهلي : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من رجل يغبار وجهه في سبيل الله إلا أمن الله وجهه يوم القيامة و ما من رجل يغبار قدماه في سبيل الله إلا من سبيل الله إلا أمن الله قدميه من النار يوم القيامة

اور اس کی اسناد کے ساتھ مروی ہے ابوامامہ باہلی سے کہ نبی کریم نے فرمایا جو آدمی اپنے چہرے کواللہ کی راہ میں غبار آلود کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو قیامت کے دن امان دے گا اور جو آدمی اللہ کی راہ میں اپنے قدموں کو غبار آلود کرتا ہے اللہ اس کے قدموں کو آگ سے قیامت کے دن امن دے گا۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4296

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4297

4297 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر بن عبيد نا إبراهيم بن الحسين نا أبو صالح عبد الله بن صالح أن عبد الرحمن رجل من الأزد يقال له شعوذ بن عبد الرحمن حدثه قال : سمعت ابن عائذ يقول خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في جنازة رجل فلما وضع قال عمر بن الخطاب : لا تصل عليه يا رسول الله فإنه رجل فاجر فالتفت رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى الناس فقال : هل رآه أحد منكم على عمل الإسلام فقال رجل نعم يا رسول الله حرس ليلة في سبيل الله فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم و حثى التراب عليه و قال أصحابك يظنون أنك من أهل النار و أنا أشهد أنك من أهل الجنة و قال يا عمر إنك لا تسأل عن أعمال الناس و لكن تسأل عن الفطرة

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر بن عبید نے ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو ابوصالح عبداللہ بن صالح نے یہ کہ عبدالرحمٰن آدمی تھے قبیلہ ازد سے انہیں شعود بن عبدالرحمٰن کہا جاتا تھا اس نے ان کو حدیث بیان کی اس نے سنی ابن عائذ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے جنازے میں گئے جب میت رکھی گئی تو عمر بن خطاب نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آپ نماز جنازہ نہ پڑھائیے یہ فاسق فاجر آدمی تھا (یا بد کردار تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس کو اسلام کا کوئی عمل کرتے دیکھا تھا۔ ایک آدمی نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ اس نے ایک رات جہاد کی سبیل اللہ میں چوکیداری کی تھی یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور اس پر مٹی بھی ڈال دی اور فرمایا کہ تیرے احباب گمان کرتے ہیں کہ تو اہل جہنم میں سے ہے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ تو اہل جنت میں سے ہے۔ اور فرمایا اے عمر بے شک تم لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہیں پوچھے جاؤ گے بلکہ تم فطرت کے بارے میں پوچھے جاؤ گے۔ (فطرت اسلام) یا یوں تعبیر ہے کہ تم لوگوں کے عمومی اعمال سے بحث نہ کرو ان کی فطرت کے بارے میں جانو۔

أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو جعفر بن عبيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4297

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4298

4298 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان نا أبو الأزهر المقرىء نا سعيد بن أبي أيوب نا يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير مرئد بن عبد الله بن البزني : عن عقبة بن عامر أنه تلا هذه الآية : { وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة } قال : ألا إن القوة الرمي

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر محمد بن حسین قطان نے ان کو ابوالازہر مقری نے ان کو سعید بن ابوایوب نے ان کو یزید بن ابوحبیب نے ان کو ابوالخیر مرثد بن عبداللہ بن یزنی نے ان کو عقبہ بن عامر نے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی - واعـد و الـهـم مـا استطعتم من قوة کفار دشمنوں کے مقابلے کے لئے جس قدر استطاعت رکھتے ہو تم طاقت تیار کرو۔عقبہ بن عامر نے کہا الا ان الـقـوة الـرمی۔ بے شک طاقت تیراندازی ہے۔

ألا إن القوة الرمي ← عقبة بن عامر أنه تلا هذه الآية ← أبي الخير مرئد بن عبد الله بن البزني ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو الأزهر المقرىء ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4298

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4299

4299 - و قد روينا هذا عن أبي علي ثمامة بن شفي أنه سمع عقبة بن عامر يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : { وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة } ألا إن القوة الرمي قالها ثلاثا أخبرناه أبو عبد الله الحافظ أنا أحمد بن محمد بن عبدوس نا عثمان بن سعيد نا أحمد بن صالح نا ابن وهب أخبرني عمرو بن الحارث عن أبي علي بهذا الحديث أخرجه مسلم في الصحيح من حديث ابن وهب

تحقیق ہم نے اس کو روایت کیا ہے ابوعلی ثمامہ بن شفی سے اس نے سنا عقبہ بن عامر سے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ فرماتے ہیں کہ واعــد و الـهـم ما استطعتم من قوة۔دشمنوں کے مقابلے کے لئے جتنی ہو سکے طاقت تیار کرو۔ الا ان القوۃ الرمی خبر دار ہو کہ طاقت تیر پھینکنا ہے۔ تین بار یہی جملہ فرمایا۔ ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن محمد بن عدوس نے سے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو احمد بن صالح نے ان کو ابن وہب نے ان کو خبر دی عمرو بن حارث نے ان کو ابوعلی نے اسی حدیث کے ساتھ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے صحیح میں حدیث بن وہب سے۔

أبي علي بهذا الحديث أخرجه مسلم في الصحيح من حديث ابن وهب ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← وأعدوا لهم ما استطعتم من قوة ألا إن القوة الرمي قالها ثلاثا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أبي علي ثمامة بن شفي أنه ← و قد روينا هذا

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4299

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4300

4300 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر القطان نا أبو الأزهر نا عبد الرزاق أنا الثوري عن الأعمش عن زياد بن حصين عن أبي العالية عن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم مر بقوم و هم يرمون فقال : رميا بني إسماعيل لقد كان أبوكم راميا

ہمیں خبر دی ابوطاہر فقیہ نے ان کو ابوبکر قطان نے ان کو ابوالازہر نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو ثوری نے ان کو اعمش نے ان کو زیاد بن حصین نے ان کو ابوالعالیہ نے ان کو ابن عباس نے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم پر گذرے وہ لوگ تیراندازی کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خوب تیراندازی کرو اے اولاد اسماعیل بے شک تمہارا باپ (اسماعیل علیہ السلام) بھی تیرانداز تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← زِيَادِ بْنِ حُصَيْنٍ، ← الْاَعْمَشِ ← الثَّوْرِيُّ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبُو الْأَزْهَرِ ← أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4300

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4301

4301 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني بمكة نا إسحاق بن إبراهيم نا عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن أبي كثير عن زيد يعني أبا سلام عن عبد الله بن زيد الأزرق قال : كان عقبة بن عامر الجهني يخرج كل يوم و يستبعه فكان كاد أن يمل فقال : ألم أخبرك ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : قال بلى قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : أن الله عز و جل يدخل بالسهم الواحد ثلاثة نفر الجنة صانعه الذي يحتسب في صنعته الخير و الذي يجهز به في سبيل الله و الذي يرمي به في سبيل الله و قال : ارموا و اركبوا فإن ترموا خير من أن تركبوا و قال كل شيء يلهو به ابن آدم فهو باطل إلا ثلاثة رميه عن قوسه و تأديبه فرسه و ملاعبة أهله فإنهن من الحق قال : و توفي عقبة و له بضعة و سبعون قوسا مع كل قوس قرن و نبل فأوصى بهن في سبيل الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوعبدالله۔ محمد بن علی صنعانی نے مکہ مکرمہ میں ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو زید نے یعنی ابوسلام نے ان کو عبداللہ بن زید ازرق نے وہ کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر جھنی روزانہ نکلتے تھے۔ زید ازرق پیچھے ہوئے قریب تھا کہ تھک جائیں فرمانے لگے کیا میں تجھے نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ سے حدیث سنی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں ضرور بتائیے فرمایا کہ میں نے سنا تھا آپ نے فرمایا تھا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے بدلے میں تین آدمیوں کو جنت میں داخل کریں گے۔ایک وہ جس نے تیر بنایا تھا جو بنانے میں ثواب کے حصول کی نیت رکھتا تھا۔ دوسرا وہ شخص جس نے تیر کو خرید کر مجاہد فی سبیل اللہ کو دے دی۔ تیسرا وہ مجاہد جس نے اس تیر کو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے پھینک دیا۔اور فرمایا تیراندازی کرو دیکھو اور سواری سیکھو تمہارا تیراندازی سیکھنا سواری سیکھنے سے بہتر ہے۔ اور فرمایا کہ ہر وہ کام ابن آدم جس کے ساتھ کھیل کرتا ہے وہ سب کا سب باطل ہے۔ مگر تین لوک۔ یا تین کام۔ اپنی کمان سے تیر پھینکنا۔ اس کا اپنے گھوڑے کو سدھانا اور اس کا اپنی اہلیہ سے کھیلنا۔ یہ تینوں کا حق ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ جب فوت ہوئے تو ان کے گھر میں ستر سے زائد کمانیں تھیں ہر کمان کے ساتھ سینگ بھی تھا اور بھالہ پھر انہوں نے وصیت کی تھی کہ یہ ساری کمانیں اللہ کی راہ میں دے دی جائیں۔

كان عقبة بن عامر الجهني يخرج كل يوم و يستبعه فكان كاد ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَزْرَقِ ← زيد يعني أبا سلام ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4301

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4302

4302 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق نا معمر عمن سمع حرام بن معاوية يقول كتب إلينا عمر بن الخطاب : أن لا يجاوركم خنزير و لا يرفع فيكم صليب و لا تأكلوا على مائدة يشرب عليها الخمر و أدبوا الخيل و أمسوا بين الفرضين

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اس کو ابوعبداللہ صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے اس نے جس سے سنا حرام بن معاویہ سے وہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف حکم لکھا عمر بن خطاب نے کہ تمہارے پاس خنزیر نہیں ہونا چاہئے۔ اور تمہارے اندر صلیب اونچی نہیں کی جانی چاہئے۔ اور تم ایسے دستر خوان پر کھانا مت کھاؤ جس پر شراب دی جائیں اور گھوڑوں کو سدھاؤ اور دو فرضوں کے درمیان وقفہ کرو شام کا۔

حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← معمر عمن ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4302

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9535

9536 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا أبو جعفر محمد بن عمرو الرزاز قال : نا أحمد بن الوليد الفحام قال : نا أبو أحمد قال : نا سفيان عن عبد الملك بن أبي بشير عن عبد الله بن أبي المساور قال : سمعت ابن عباس و هو ينحل ابن الزبير يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ليس المؤمن الذي يشبع و جاره جائع إلى جنبه و قال : غير أبي أحمد عبد الله المساور

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو ابو جعفر محمد بن عمر و رزاز نے ان کو احمد بن ولید فحام نے ان کو ابو احمد نے ان کو سفیان نے ان کو عبدالملک بنابو بشر نے عبداللہ بن ابو المساور سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابن عباس سے وہ ابن زبیر کو مالی عطیہ دے رہے تھے فرمایا کہ میں نے سنا رسول اللہﷺ فرما رہے تھے وہ شخص مؤمن نہیں جو خود تو شکم سیر ہو مگر اس کا پڑوسی برابر میں بھوکار ہے ۔ اور دیگر نے کہا کہ ابو احمد عبداللہ بن مساور نام ہے ۔

غير أبي أحمد عبد الله المساور ← ليس المؤمن الذي يشبع و جاره جائع إلى جنبه و ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← ابن عباس و هو ينحل ابن الزبير ← عبد الله بن أبي المساور ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9535

chevron_left Previous
1…799800801…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood