Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4288

4288 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال أخبرني أبو النضر الفقيه نا محمد بن نصر ح قال : و أخبرني إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم نا أبي فالا : نا يحيى بن يحيى أنا عبد العزيز بن أبي حازم عن أبيه عن بعجة بن عبد الله بن بدر عن أبي هريرة : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعه طار عليه ينبغي القتل و الموت من مظانة أو رجل في غنيمة في رأس شعبة من هذه الشعاب أو بطن واد من هذه الأودية يقيم الصلاة و يؤتي الزكاة و يعبد ربه حتى يأتيه اليقين ليس من الناس إلا في خير رواه مسلم في الصحيح عن يحيى بن يحيى

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابوالنضر فقیہ نے ان کو محمد بن نصر نے ’’ح“ وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے ان کو ان کے والد نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے ان کو عبدالعزیز بن ابوحازم نے ان کو ان کے والد نے ان کو بعجہ بن عبداللہ بن بدر نے ان کو ابوہریرہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرماتے ہیں۔ کہ لوگوں میں بہترین زندگی والا وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے کھڑا ہے۔ جب بھی کوئی خطرے کی آواز سنتا ہے یا ڈر کی بات سنتا ہے گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر اس کے تعاقب میں ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ اور اس پر سوار ہو کر قتل کے یا موت کے تعاقب میں اڑ جاتا ہے اور خطرے کی جگہ پہنچ جاتا ہے یا وہ آدمی جو اپنی بکریوں کا ریوڑ لئے ہوئے کسی گھاٹی کے سرے پر ان گھاٹیوں میں سے ٹھہرا ہوا ہے یا ان وادیوں میں سے کسی وادی کے بطن میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہے وہیں نماز قائم کرتا ہے زکوٰۃ بھی دیتا ہے اپنے رب کی عبادت بھی کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس موت آ جاتی ہے۔ نہیں ہے وہ لوگوں میں مگر خیر میں اور بھلائی میں۔اس کومسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں یحییٰ بن یحییٰ سے۔

مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4288

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4289

4289 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي السقا أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب القاضي نا عمرو بن مرزوق أنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار عن أبيه عن أبي صالح عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : تعس عبد الدينار و عبد الدرهم و عبد الخميصة عن أعطى رضي و إن منع سخط تعس و انتكس و إذا شيك فلا انتقش طوبى لعبد آخر آخذ بعنان فرسه في سبيل الله أشعث رأسه مغبرة قدماه إن كانت الحراسة كان في الحراسة و عن كانت السباقة كان في السباقة إن استأذن لم يؤذن له و عن شفع لم يشفع طوبى له ثم طوبى له رواه البخاري في الصحيح عن عمرو بن مرزوق

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی سقا نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب قاضی نے ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابوافلح نے ان کو ابوہریرہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ فرماتے ہیں۔ ہلاک ہو گئے درہم و دینار کے بندے اور کملی و چادر کے بندے کہ اگر ان کو دے دیا جائے تو خوش ہو جاتے ہیں اور اگر روک دیا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں ایسا شخص ہلاک و برباد ہو اسے جو کانٹا چبھ گیا وہ نہیں نکلا (یا نہیں نکل سکا)۔ مبارک بادی ہے اس بندے کے لئے جو اپنے گھوڑے کی باگ تھامے ہوئے اللہ کی راہ میں کھڑا ہے سر کے بال بکھرے ہوئے قدموں پر غبار آتا ہوا ہے اگر چوکیداری کرنا پڑے تو چوکیداری میں مگن رہے (اگر حملہ کرنے کے لئے) گھڑ دوڑ کا مقابلہ کرنا پڑے تو گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر ہوا میں تیرتا ہے اگر چھٹی مانگے تو چھٹی اس کو نہ ملے اگر سفارش کروائے تو کوئی بھی سفارش قبول نہ کرے(الغرض صرف جہاد اور جہاد) مبارک بادی ہے اس کو مبارک بادی ہے اس کو۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں عمرو بن مرزوق سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِىٍّ السَّقَّا

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4289

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4290

4290 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرىء أنا الحسن بن محمد بن إسحاق نا يوسف بن يعقوب نا أبو الوليد الطيالسي نا الليث بن سعد عن يزيد بن أبي حبيب عن أبي الخير عن أبي الجطاب عن أبي سعيد قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك و هو مسند ظهره إلى نخلة فقال : ألا أخبركم بخبر الناس قالوا : بلى يا رسول الله ؟ قال : خير الناس رجل يحمل على ظهر فرسه أو ظهر بعيره أو قدميه في سبيل الله حتى يأتيه الموت و إن شر الناس فاجر جرىء يقرأ كتاب الله و لا يرعوي إلى شيء منه

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد بن علی مقری نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ان کو ابوالولید طیالسی نے ان کولیث بن سعد نے ان کو یزید بن ابوحبیب نے ان کو ابوالخیر نے ان کو ابوالخطاب نے ان کو ابوسعید نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خطبہ دیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کھجور کے تنے کے ساتھ سہارا لگا رکھا تھا اور فرمایا۔ کیا میں تمہیں سب سے بہتر لوگ نہ بتا دوں؟ لوگوں نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ۔ فرمایا سب لوگوں میں بہتر وہ آدمی ہے جو اپنے گھوڑے یا اونٹ کی پشت پر سوار ہوتا ہے یا اپنے قدموں پر اللہ کی راہ میں یہاں تک کہ اس کو موت آ جاتی ہے۔ اور سب لوگوں سے براوہ ہے جو بدکردار ہے، گناہوں پر جری ہے۔ کتاب اللہ کو پڑھتا ہے لیکن اس کی کسی شئی سے نہیں ڈرتا۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أبي الجطاب ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أبو الحسن علي بن محمد بن علي المقرىء

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4290

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4291

4291 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري نا عبد الله بن أيوب المخرمي نا سفيان بن عيينة عن عبد الله بن أبي نجيح عن مجاهد عن أم مبشر : تبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير الناس منزلة رجل على متن فرسه يخيف العدو و يخيفونه

ہمیں خبر دی ابومحمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابوسعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے ان کو عبداللہ بن ایوب مخرمی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عبداللہ بن ابونجیح نے ان کو مجاہد نے ان کو ام مبشر نے وہ حضور تک اس کو پہنچاتی ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مرتبہ میں سب لوگوں سے بہتر وہ آدمی ہے جو اپنے گھوڑے کی پشت پر سوار رہتا ہے وہ دشمن سے ڈرتا ہے اور وہ اس سے ڈرتے ہیں۔

خير الناس منزلة رجل على متن فرسه يخيف العدو و يخيفونه ← أم مبشر تبلغ به النبي صلى الله عليه و سلم ← مُجَاهِدٍ ← عبد الله بن أبي نجيح ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4291

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4292

4292 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو جعفر أحمد بن عبيد الحافظ بهمدان نا إبراهيم بن الحسين نا يحيى بن صالح الوحاظي أنا جميع بن ثوب الرحبي عن خالد بن معدان عن أبي أمامة الباهلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن أحرس ثلاث ليالي مرابطا من وراء بيضة المسلمين أحب إلي من أن تصيبني ليلة القدر في أحد المسجدين المدينة أو بيت المقدس

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوجعفر احمد بن عبید حافظ نے ہمدان میں ان کو ابراہیم بن حسین نے ان کو یحییٰ بن صالح نے وحاظی نے ان کو جمیع بن ثواب رحبی نے ان کو خالد بن معدان نے ان کو ابوامامہ باھلی نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا البتہ اگر میں تین رات تک نگرانی کروں دشمن کے مقابلے میں گھوڑا باندھنے والا مسلمانوں کے شہر کے باہر تو یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ مجھے پہنچے لیلتہ القدر دو میں سے کسی ایک مسجد میں مسجد نبوی میں یا مسجد بیت المقدس میں۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، ← جميع بن ثوب الرحبي ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحَافِظُ -بِهَمْدَانَ-، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4292

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4293

4293 - و بإسناده عن أبي أمامة الباهلي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من مات مرابطا في سبيل الله أمنه الله من فتنة القبر

اور اس اسناد کے ساتھ مروی ہے ابوامامہ باھلی سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اللہ کی راہ میں نگرانی کرتا ہوا فوت ہو جائے اللہ تعالیٰ اس کو فتنہ قبر سے امان دیں گے۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← و بإسناده

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4293

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9527

9528 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أنا أبو العباس القاسم بن القاسم السياري بمرو قال : نا أبو الموجه محمد بن عمرو قال : نا عمرو بن محمد الناقد نا عبد العزيز بن أبي حازم قال : حدثني هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم يزل جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه رواه مسلم في الصحيح عن عمرو بن محمد الناقد

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حآفظ نے ان کو ابو العباس قاسم بن قاسم سیاری نے مرو میں ان کو ابو الموجہ محمد بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی عمرو بن ناقد نے ان کو عبدالعزیز بن ابو حازم نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو سیدہ عائشہ نے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جبرائیل ہمیشہ مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے کہ میں نے خیال کیا کہ عنقریب یہ اس کو وارث ٹھہرائیں گے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عمرو بن محمد ناقد سے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9527

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9528

9529 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار قال : نا أحمد بن محمد البرقي قال : نا محمد بن المنهال قال : نا يزيد بن زريع قال : نا عمر بن محمد بن يزيد بن عبد الله بن عمر عن أبيه عن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما زال جبريل عليه السلام يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه رواه البخاري في الصحيح عن محمد بن المنهال و رواه مسلم عن القوارير عن يزيد

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبردی ابو عبداللہ بن محمد بن عبداللہ صفار نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی محمد بن منہال نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو یزید بن زریع نے ۔ ان کو عمر بن یزید بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا دائمی طور پر جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے کہ میں نے گمان کر لیا کہ بے شک وہ عنقریب اس کووارث بنا دیں گے بخاری نے اس کو روایت کیا ہے محمد بن منہال سے اور مسلم قواریر سے اس نے یزید سے۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عمر بن محمد بن يزيد بن عبد الله بن عمر ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَرْقِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9528

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9529

9530 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني قال : أنا أبو سعيد بن الأعرابي قال : نا سعدان بن نصر قال : نا سفيان عن عمرو بن نافع بن جبير بن مطعم عن أبي شريح الخزاعي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليحسن إلى جاره من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت رواه مسلم في الصحيح عن زهير بن حرب و ابن نمير عن سفيان

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے اس نے ابو سعید بن اعرابی سے اس نے سعد ان بن نسر سے اسد نے سفیان سے اس نے عرمو بن نافع بن جبیر بن مطعم سے اس نے ابو شریح خزاعی سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسیہ کے ساتھ نیک سلوک کرے اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ یا تو خیر کی بات کرے ورنہ چپ رہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر بن حرب اور ابن غیر سے اس نے سفیان سے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← عمرو بن نافع بن جبير بن مطعم ← سُفْيَانَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9529

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9530

9531 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : أخبرني أبو النضر الفقيه قال : نا معاذ بن نجدة ابن العريان القرشي قال : نا عاصم بن علي قال : نا ليث بن سعد عن سعيد المقبري عن أبي شريح العدوي أنه قال : سمعته أذناي و أبصرته عيناي حين تكلم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته قالوا و ما جائزته ؟ قال : يوم و ليلة و الضيافة إلى ثلاث فما كان وراء ذلك فهو صدقة عليك و لا يثوى عنده حتى يخرجه رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن الليث

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی ابو النضر فقدیہ نے ان کو معاذ بن نجدہ بن عربان قرشی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو سعید مقبری نے ان کو ابو شریح عدوی نے فرماتے ہیں اس حدیث کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور حضور ﷺ کو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہﷺ کلام فرما رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: جو شخص ایمان رکھتا ہے اللہ کے ساتھ اور آخرت کے ساتھ اس کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ اور جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے بطور احسان اور اکرام کے ۔ لوگوں نے پوچاھ کہ اس کا اکرام کس قدر ہو گا؟ آپ نے فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات۔ اور ضیافت تین دن رات ہے ۔ اس کے بعد جوکچھ ہو گا وہ پ کے اوپر صدقہ بوجھ ہو گا اور وہ نہ ٹھہرے اس کے پاس ا سوقت تک کہ وہ اس کو خود نکال دے ۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے عبداللہ بن یوسف سے اس نے لیث سے۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← معاذ بن نجدة ابن العريان القرشي ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9530

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9531

9532 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد منصور الرمادي ح و أخبرنا أبو محمد بن يوسف قال : أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان قال : نا أحمد بن يوسف السلمي قالا : أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليكرم ضيفه من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فلا يؤذي جاره و من كان يؤمن بالله و اليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو ابو منصور مادی نے ح اور ہمیں خبر دی ہے محمد بن یوسف نے ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے زہری سے ان کو ابو سلمہ نے ان کو ابو ہریرہ نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کےساتھ اور آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اللہ کےساتھ یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ کے ساتھ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات کرے ورنہ چپ رہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ ← و، ← أحمد منصور الرمادي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9531

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9532

9533 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا إسماعيل بن أحمد الجرجاني قال : أنا محمد بن الحسن ابن قتيبة قال : نا حرملة بن يحيى قال : أنا ابن وهب قال : أخبرني يونس عن ابن شهاب : فذكره بإسناده نحوه غير أنه قال : فليكرم جاره رواه مسلم في الصحيح عن حرملة و أخرجه البخاري من حديث معمر

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو اسماعیل بن احمد جرجانی نے ان کو محمد بن حسن ابن قتبیہ نے ان کو حرملہ بن یحییٰ نے ان کو ابن وہب نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی یونس نے ابن شہاب سے اس نے اس کو اپنی اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے مذکور کی مثل۔ سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا۔ اس کو چاہیے کہو ہ اپنے پڑوسی کا اکرام کرے۔ اس کو مسلم نے نقل کیا ہے حرملہ سے اور بخاری نے اس کو نقل کیا حدیث معمر سے۔

حرملة و أخرجه البخاري من حديث معمر ← فليكرم جاره رواه مسلم في الصحيح ← ابن شهاب فذكره بإسناده نحوه غير أنه ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← محمد بن الحسن ابن قتيبة ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9532

chevron_left Previous
1…798799800…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood