شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2753
2753 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان ببغداد أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان ثنا عبد الله بن صالح الجهني حدثني معاوية بن صالح الحمصي قاضي أندلسي عن أبي عثمان عن جبير بن نفير و ربيعة بن يزيد عن أبي إدريس الخولاني و عبد الوهاب بن بخت عن الليث بن سليم الجهني كلهم يحدث عن عقبة بن عامر قال عقبة : كنا خدام أنفسنا نتداول رعية الإبل بيننا فأصابتني رعية الإبل فرحت بعشي فأدركت رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو قائم يحدث الناس و أدركت من حديثه و هو يقول ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ الوضوء ثم يقوم فيركع ركعتين يقبل عليهما بقلبه و وجهه إلا وجبت له الجنة و غفر له فقلت ما أجود هذا فقال قائل من بين يدي التي قبلها يا عقبة أجود قال : فنظرت فإذا هو عمر بن الخطاب قال : قلت و ما هي يا أبا حفص قال : أنه قال قبل أن تأتي : و ما منكم من أحد يتوضأ فيبلغ الوضوء فيقول : أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له و أن محمدا عبده و رسوله إلا فتحت له أبواب الجنة الثمانية يدخل من أيها شاء أخرجه مسلم من حديث عبد الرحمن بن مهدي عن معاوية بن صالح غير أنه لم يذكر رواية عبد الوهاب بن بخت
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو عبداللہ بن صالح جہنی نے ان کو معاویہ بن صالح حمصی قاضی اندلسی نے ان کو ابو عثمان نے جبیر بن نفیر سے اور ربیعہ بن یزید نے ان کو ابو ادریس خولانی نے اور عبدالوہاب بن بخت نے لیث بن سلیم جھنی سے وہ سب کے سب حدیث بیان کرتے ہیں عقبہ بن عامر سے عقبہ نے کہا کہ ہم لوگ اپنے نفسوں کے خادم تھے اپنے درمیان اونٹ چرانے کا تبادلہ کرتے تھے۔ ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی تو میں اس کام کے لیے شام کو گیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پالیا وہ کھڑے ہو کر لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات میں سے کچھ بات سمجھ لی وہ فرما رہے تھے کہ تم میں سے کوئی آدمی جو وضو کرے اور اچھی طرح سے کرے پھر کھڑا ہو جائے اور دو رکعت پڑھے اپنے دل اور چہرے کے ساتھ مکمل انکی طرف توجہ رکھے مگر اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ اور اس کو بخش دیا جائے گا۔ میں نے کہا کتنی اچھی ہے یہ بات اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے اچھے ہیں کسی نے کہا میرے سامنے جو پہلے سے تمہارے عقبہ اچھائی کر میں نے نظر اٹھا کے دیکھا تووہ عمر بن خطاب تھے کہتے ہیں کہ میں نے کہا یہ کیسے ہو گی اے ابو حفص انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ آنے سے قبل تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جووضو کرے اور پورا پورا کرے اور پھر یہ کہتے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کو کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں مگر اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔ اس کو مسلم نے قتل کیا ہے عبدالرحمٰن بن مہدی کی روایت سے اس نے معاویہ بن صالح سے سوائے اس کے کہ انہوں نے عبدالوھاب بن بخت کی روایت کو ذکر نہیں کیا ہے۔
عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← اللَّيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ الْجُهَنِىِّ كُلِّهِمْ ← أبي إدريس الخولاني و عبد الوهاب بن بخت ← جبير بن نفير و ربيعة بن يزيد ← أَبِي عُثْمَانَ ← معاوية بن صالح الحمصي قاضي أندلسي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْجُهَنِىُّ ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2753
