Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9518

9519 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن بالوية نا عبد الله بن أحمد بن حنبل نا أبي نا محمد بن حميد المعمري عن سفيان الثوري عن شيخ من الأنصار قال : إذا أحببت رجلا في الله ثم أحدث فلم أبغضه فلم أكن أحببته في الله

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو بکر بن بالویہ نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن حمید معمری نے ان کو سفیان ثوری ن ے اس کو انصار کے ایک شیخ نے وہ فرماتے ہیں جب میں کسی آدمی کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں پھر وہ کوئی نئی بات دین میں گھڑ لیتا ہے پھر میں اس سے نفرت نہ کروں تو درحقیقت میں اس سے محبر اللہ کی رضا کے لیے نہیں کر رہا ہوں۔

شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْمَعْمَرِيِّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9518

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9519

9520 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري نا أبو العباس هو الأصم نا الخضر بن ابان نا سيار نا جعفر نا مالك بن دينار : بلغنا أن موسى نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : يا رب من أهلك الذين هم أهلك الذين تظلهم في ظل عرشك ؟ قال : هم المتحابون بجلالي الطاهرة قلوبهم النقية أبدانهم إذا ذكروا ذكرت بهم و الذين يأوون إلى ذكري كما تأوي النسور إلى أوكارها و الذين يكلفون بذكري كما يكلف الصبي و الذين يغضبون لمحارمي إذا استحلت كما يغضب النمر إذا حرب

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو محمد مقری نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو خضر بن ابان نے ان کو سیار نے ان کو جعفر نے ان کو مالک بن دینار نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ موسیٰ اللہ کے نبی نے عرض کی اے میرے رب تیرے اہل کون ہیں جن کو آپ اپنے عرش کے سائے تلے جگہ دیں گے؟ اللہ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو میرے جلال کے سبب ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں جن کے دل پاک ہیں جن کے جسم صاف ستھرے ہیں جب وہ ذکر کرتے ہیں میں ان کو یاد کرتا ہوں۔ اور وہ لوگ جو میرے ذکر یا میرے قرآن کی طرف اس طرح ٹھکانہ اور جگہ پکڑتے ہیں جیسے چیلیں اپنے آشیانوں میں جگہ پکڑتی ہیںاور وہ لوگ جو میرے ذکر کے ساتھ ساتھ ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے بچہ خوش ہوتا ہے اور وہ لوگ جو میری حرام کردہ چیز وں سے غصہ کرتے ہیں جب ان کی حرمت ریزی ہوتی ہے جیسے شیر غصہ کرتا ہے جب اس کے ساتھ جنگ کی جائے۔

جَعْفَرٌ، ← سَيَّارٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد المقري

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9519

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9520

9521 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو الطيب محمد بن عبد الله بن المبارك نا عبدوس بن محمد الشنجوري نا أبو خالد الفراء نا ابن المبارك نا الحسن بن عمرو الفقيمي عن منذر أبي يعلى الثوري عن محمد بن الحنفية قال : من أحب رجلا على عدل ظهر منه و هو في علم الله من أهل النار آجره الله كما لو كان من أهل الجنة و من أبغض رجلا على جور ظهر منه و هو في علم الله من أهل الجنة آجره الله كما لو كان من أهل النار

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الطیب محمد بن عبداللہ بن مبارک نے ان کو عبدوس بن محمد شخوزی نے ان کو ابو خالد فراء نے ان کو ابن مبارک نے ان کو حسن بن عمرو فقیمی نے ان کو منذار ابو یعلیٰ ثوری نے ان کو محمد بن حنفیہ نے ۔ فرماتے ہیں جو شخص کسی آدمی سے کسی انصاف پر حجت کرے جو اس سے ظاہر ہو ا ہو حالانکہ وہ اللہ کے علم میں اہل جہنم میں سے ہو اللہ تعالیٰ اسد کو جہنم سے پناہ دے دین گے ۔ اور وہ شخص جو کسی آدمی سے نفرت کرتا ہے کسی ظلم یا گناہ کی وجہ سے جو اس سے سر زد ہو ا ہو حالانکہ وہ اللہ کے علم میں اہل جنت میں سے ہو اللہ اس کو اجر دیں جیسے کہ وہ اگر ہوتا اہل جہنم میں سے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← مُنْذِرٍ أَبِي يَعْلَى الثَّوْرِيِّ، ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو خَالِدٍ الْفَرَّاءُ، ← عبدوس بن محمد الشنجوري ← أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9520

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9521

9522 - أخبرنا أبو الحسين بن فهر المصري بمكة نا الحسن بن رشيق نا علي بن سعيد الرازي نا إسحاق بن أبي إسرائيل قال : سمعت سفيان بن غيينة يقول : لا تجد مبتدعا إلا وجدته ذليلا ألم تسمع إلى قول الله عز و جل : { إن الذين اتخذوا العجل سينالهم غضب من ربهم وذلة في الحياة الدنيا }

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن فہر مصری نے مکہ میں ان کو حسن بن رشیق نے ان کو علی بن سعید رازی نے ان کو اسحٰق بن ابو اسرائیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں۔ آپ ہمیشہ بدعت کرنے والے کو ذلیل و رسواہی پائیں گے۔ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا۔ بے شک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا عنقریب ان کو ان کے رب کی طرف سے غضب پا لے گا اور دنیا کی زندگی کی رسوائی ۔

سفيان بن غيينة ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ← الحسن بن رشيق ← أبو الحسين بن فهر المصري بمكة

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9521

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9522

9523 - و أخبرنا أبو الحسين نا أبو علي الحسن بن علي بن سفيان نا محمد بن سعيد المهراني نا أحمد بن المقدام العجلي نا حزام بن أبي حزام القطيعي عن الحسن قال : عمل قليل في سنة خير من كثير في بدعة

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن علی بن سفیان نے ان کو محمد بن سعید مہرانی نے ان کو احمد بن مقدام عجلی نے ان کو حزم بن ابو حزم قطیعی نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ سنت کے دائرے میں رہ کر تھوڑا عمل کرنا زیادہ بہتر ہے بدعت میں رہ کرزیادہ عمل کرنے سے۔

عمل قليل في سنة خير من كثير في بدعة ← الْحَسَنِ، ← حزام بن أبي حزام القطيعي ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← محمد بن سعيد المهراني ← أبو علي الحسن بن علي بن سفيان ← أَبُو الْحَسَينِ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9522

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9523

9524 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو الحسن الطرائفي نا عثمان بن سعيد نا عبد الله بن صالح عن معاوية بن صالح عن علي بن أبي طلحة عن ابن عباس في قوله : ـ { و الجار ذي القربى } يعني الذي بينك و بينه قرابة { و الجار الجنب } الذي ليس بينك و بينه قرابة { و الصاحب بالجنب } يقول : الرفيق في السفر و هكذا ذكره مجاهد و قتادة ثم الكلبي : و مقاتل بن حيان و مقاتل بن سليمان زاد مقاتل بن سليمان في { الصاحب بالجنب } يعني الرفيق في السفر و الحضر

ہمیں خبر دی ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو ابو الحسن طرائی نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو عبداللہ بن صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو علی بن ابو طلحہ نے ان کو ابن عباس نے اس قول باری کے بارے میں۔ والجارذی القربی یعنی وہ پڑوسی جس کی تیرے اور اس کے درمیان قرابت داری رشتہ داری ہو۔ والجار الجنب یعنی وہ پڑوسی جو غیر ہو جس کے ساتھ آپ کی رشتہ داری نہ ہو۔ والصاحب بالجب : یعنی رفیق سفر۔ اسی طرح اس کو ذکر کیا ہے مجاہد نے اور قتادہ نے پھر کلبی نے اور مقابل بن حیان نے اور مقاتل بن سلیمان نے صاحب بالجنب کے بارے میں یعنی اس سے رفیق سفر و حضر مراد ہے ۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9523

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9524

9525 - و روينا عن علي و عبد الله ثم عن إبراهيم و غيره : في الصاحب بالجنب أنها المرأة

اور ہم نے روایت کی علی سے اور عبداللہ سے پھر ابراہیم وغیرہ سے کہ صاحب بالجنب سے مراد عورت مراد ہے ۔

إبراهيم و غيره في الصاحب بالجنب أنها المرأة ← علي و عبد الله ثم ← و روينا

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9524

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9525

9526 - و عن سعيد بن جبير في رواية : كذلك و في رواية الرفيق الصالح

اور سعید بن جبیر سے اسی طرح مراد ہےایک روایت میں کہ اس سے مراد رفیق صالح مرد ہے ۔

سعيد بن جبير في رواية كذلك و في رواية الرفيق الصالح ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9525

شعب الإيمان · السابع و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في إكرام الجار ـ · حديث 9526

9527 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أحمد بن سلمان الفقيه نا الحسن بن مكرم نا يزيد بن هارون قال : أنا يحيى بن سعيد ح و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : نا محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العتكي قال : نا الفضل بن محمد الشعراني قال : نا ابن أبي أويس قال : حدثني مالك عن يحيى بن سعيد قال : أخبرني أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن عمرة بنت عبد الرحمن عن عائشة أم المؤمنين : أنها سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه ليورثه و في رواية يزيد عن عائشة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و قال : سيورثه رواه البخاري في الصحيح عن إسماعيل بن أبي أويس و رواه مسلم عن قتيبة عن مالك

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو احمد بن سلیمان فقیہ نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو یزید بن ہارون نے وہ کہتے ہیں کہ ہمی خبر دی یحییٰ بن سعید نے ح اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی محمد بن قاسم بن عبدالرحمٰن عتکی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی فضل بن محمد شرانی نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابن اوب اویس نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مالک نے یحییٰ بن سعید سے ان کو ابو بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے اس نے سیدہ عائشہ سے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہمیشہ جبرائیل مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ شاید یہ اس کو وارث قرار دے دیں گے۔ اور یزید کی سیدہ عائشہ سے ایک روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: پھر راوی نے حدیث ذکر کی ۔اور فرمایا سیورثہ۔ عنقریب اس کو وارث بنا دے گا۔ اس کو بخاری نے روایت کیا صحیح میں اسماعیل بن ابو اویس سے اور مسلم نے اس کو روایت کیا قتبیہ بن مالک سے۔

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أبو بكر بن محمد بن عمرو بن حزم ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَتَكِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← و، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty-seventh of the people of faith › And it is a door in honoring the neighbor · Hadith 9526

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4285

4285 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ أخبرني أبو النضر الفقيه أنا عثمان بن سعيد الدارمي نا أبو الوليد قال : و نا بكر بن إسحاق أنا عثمان بن سعيد الدارمي حدثنا محمد بن أيوب أنا الوليد الطيالسي نا الليث بن سعد عن أيوب بن موسى عن مكحول عن شرحبيل بن السمط عن سليمان الفارسي قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : رباط يوم و ليلة كصيام شهر و قيامه فإن مات جرى عليه الرباط و يؤمن من الفتان و يقطع له رزق في الجنة لفظ أبي النضر رواه مسلم في الصحيح عن عبد الله بن عبد الرحمن عن أبي الوليد

ہمیں خبر دی محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالنضر فقیہ نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو ابوالولید نے ’’ح“ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے بکر بن اسحاق نے ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ان کو محمد بن ایوب نے ان کو ابوالولید طیالسی نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے ان کو مکحول نے ان کو شرحبیل بن سمط نے ان کو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے تھے۔ ایک دن اور ایک رات دشمن کے مقابلے میں تیار ہو کر کھڑے ہونا مہینے بھر کے دنوں کے روزوں اور راتوں کو عبادت کرنے کے برابر ہے۔ اگر اسی دوران مر جائے تو ہمیشہ اس کا یہ عمل جاری رہے گا (اور لکھا جاتا رہے گا) اور بڑے فتنے سے محفوظ رہے گا (قیامت کا فتنہ) اور جنت میں اس کا رزق الگ کر لیا جائے گا۔ یہ الفاظ ابوالنضر کی روایت کے ہیں۔اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے اس نے ابوالولید سے۔

أَبُو الْوَلِيدِ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4285

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4286

4286 - أخبرنا أبو محمد السكري انا إسماعيل بن محمد الصفار نا عباس بن عبد الله الترقفي نا أبو عبد الرحمن المقرىء نا سعيد يعني ابن أبي أيوب نا محمد بن عبد الرحمن أبي الأسود عن مجاهد عن أبي هريرة : أنه كان في المرابطة ففرغوا فخرجوا إلى الساحل ثم قيل لا بأس فانصرف الناس و أبو هريرة واقف فمر به إنسان فقال ما يوقفك يا أبا هريرة فقال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : موقف ساعة في سبيل الله خير من قيام ليلة القدر عند الحجر الأسود

ہمیں خبر دی ابومحمد سکری نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو عباس بن عبداللہ ترقفی نے ان کو ابوعبدالرحمٰن مقری نے ان کو سعید نے یعنی ابن ابوایوب نے ان کو محمد بن عبدالرحمٰن نے ابوالاسود نے ان کو مجاہد نے ان کو ابوہریرہ نے کہ وہ مرابطہ میں تھے جب فارغ ہوئے تو ساحل کی طرف نکل گئے اس کے بعد کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے کہ لوگ چلے گئے ہیں اور ابوہریرہ کھڑا ہے اتنے میں ان کے پاس سے ایک آدمی کا گذر ہوا تو اس نے پوچھا ابوہریرہ کیسے کھڑے ہو بولے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ اللہ کی راہ میں ایک ساعت کھڑا ہونا لیلتہ القدر کی عبادت سے اور اس کے قیام سے بہتر ہے وہ بھی حجر اسود کے پاس کی عبادت۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُجَاهِدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ← أبو عبد الرحمن المقرىء ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّرْقُفِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4286

شعب الإيمان · السابع و العشرون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في المرابطة في سبيل الله عز و جل · حديث 4287

4287 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا علي بن عيسى قال نا أحمد بن نجدة القرشي نا سعيد بن منصور نا عبد الله بن وهب أخبرني أبو هاني عن عمرو بن مالك عن فضالة بن عبيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : كل ميت يختم على عمله إلا المرابط فإنه ينمي له عمله إلى يوم القيامة و يؤمن من فتنة القبر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو احمد بن نجدہ قرشی نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو عبداللہ بن وہب نے ان کو خبر دی ابوہانی نے ان کو عمرو بن مالک نے ان کو فضالہ بن عبید نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر میت کا عمل ختم ہو جاتا ہے مگر مرابط کا عمل جاری رہتا ہے۔ بلکہ قیامت تک اس کا عمل بڑھتا رہتا ہے اور وہ فتنۂ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، ← أَبُو هَانِئٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Twenty-seventh of the people of faith › And it is a door in the maintenance for the sake of God Almighty · Hadith 4287

chevron_left Previous
1…797798799…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood