شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2729
2729 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن حمران بن أبان : أن عثمان بن عفان رضي الله عنه أتى بالوضوء لصلاة العصر و هو بالمقاعد فقال عثمان إني قد رأيت ألا أحدثكم بحديث ما أظنني محدثكموه قال : الحكم بن أبي العاص يا أمير المؤمنين إنما هو خير نتبعه أو شر نتقيه قال : أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم و هو بالمقاعد بالوضوء قال : من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى فأتم ركوعها و سجودها كفر عنه ما بينه و بين الصلاة الأخرى ما لم يركب مقتلة يعني ما لم يركب كبيرة و بمعناه رواه عاصم بن بهدلة عن موسى بن طلحة عن حمران
ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابو داؤد نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ھشام بن عروہ نے ان کو ان کے والد نے انکو حمران بن ابان نے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس نماز عصر کے وضو کے لیے وضو کا پانی لایا گیا جبکہ وہ وضو کی چوکی پر تشریف فرما تھے۔ حضرت عثمان نے فرمایا بے شک میں نے خیال کیا تھا کہ تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا جو میں گمان کروں کہ کوئی تمہیں حدیث بیان کر دے گا اتنے میں حکم بن ابو العاص نے کہا اے امیر المؤمنین یا تو وہ کوئی خیر کی بات ہو گی تو ہم اس کی اتباع کر لیں گے یا کسی شر کی بات ہو گی تو ہم اس سے بچ جائیں گے ۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کی جگہ پر بیٹھے تھے اور فرما رہے تھے جو شخص وضو کرے اورا چھے طریقے سے کرے اس کے بعد وہ نماز پڑھے اور اس کے رکوع اور سجود کو مکمل کرے وہ نماز اس کی وجہ سے کفارہ بن جائے گی اس نماز سے دوسری نماز تک جب تک کہ وہ بندہ کسی ہلاکت کا ارتکاب نہ کرے یعنی جب تک وہ کسی کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ اسی مفہوم میں اس کو روایت کیا ہے عاصم بن بہدلہ نے موسیٰ بن طلحہ سے اس نے حمران سے۔
حُمْرَانَ بْنَ اَبَانَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2729
