Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تنوير موضع القرآن ـ · حديث 2705

2705 - أخبرنا أبو محمد عبد الله الحافظ بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا سفيان بن عيينة عن عمار الدهني عن سالم بن أبي الجعد : أن عليا رضي الله عنه فرض لمن قرأ القرآن ألفين ألفين قال سالم : و كان أبي ممن قرأ القرآن فأعطاه فلم يأخذ

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ حافظ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ان کو سعید بن اعرابی نے ان کو سعد ان بن نصر نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو عمار دہنی نے ان کو سالم بن ابو الجعد نے ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ۔ فرض ہے اس شخص کے لیے جس نے قرآن پڑھا ہے دو دو ہزار سالہ ہے کہا ،کہ میرے والد ان لوگوں میں سے تھے جس نے قرآن پڑھا اور اس کو کسی نے کچھ دیا تو اس نے نہیں لیا۔

سالم و كان أبي ممن قرأ القرآن فأعطاه فلم يأخذ ← سالم بن أبي الجعد أن عليا فرض لمن قرأ القرآن ألفين ألفين ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أبو محمد عبد الله الحافظ بن يوسف الأصبهاني

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on enlightening the position of the Qur’an · Hadith 2705

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تنوير موضع القرآن ـ · حديث 2706

2706 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني علي بن عيسى ثنا إبراهيم بن أبي طالب ثنا ابن أبي عمر ثنا سفيان عن عاصم الأحول عن عكرمة عن ابن عباس قال : من قرأ القرآن لم يرد إلى أرذل العمر لكيلا يعلم من بعد علم شيئا و ذلك قوله عز و جل ثم رددناه أسفل سافلين إلا الذين آمنوا قال : إلا الذين قرؤا القرآن و رواه أبو الأحوص عن عاصم عن عكرمة من قوله لم يرفعه إلى ابن عباس

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو ابراہیم بن ابو طالب نے ان کو ابن ابو عمر نے ان کو سفیان نے ان کو عاصم احول نے ان کو عکرمہ نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا کہ جس نے قرآن پڑھا تو وہ رذیل ترین عمر کی طرف نہیں لوٹایا جائے گا تاکہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جانے اور اللہ تعالیٰ کا قول ہے ۔"ثم رددناہ اسفل سافلین الا الذین آمنوا قال : الا الذین قرء والقرآن" پھر ہم اس کو لوٹا دیں گے جہنم کے نچلے طبقے میں مگر جو لوگ ایمان لائے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ انہوں نے قرآن پڑھا۔ اور اس کو ابو الاحوص نے روایت کیا ہے عاصم سے اس نے عکرمہ سے اپنے قول سے جس کو انہوں نے ابن عباس کی طرف مرفوع نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ أَبِي عُمَرَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on enlightening the position of the Qur’an · Hadith 2706

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تنوير موضع القرآن ـ · حديث 2707

2707 - أخبرنا محمد بن موسى أنا أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد بن عيسى البرتي ثنا مسلم بن إبراهيم ثنا شعبة عن أبي بشر عن سعيد بن جبير : أن عمر سمع رجلا يقرأ بالنهار و يجهر بالقراءة و هو يصلي فقال ابن عمر من ذا فقال رجل يا أبا عبد الرحمن هذا رجل لا يعقل فقال له ابن عمر يقول لرجل يقرأ كتاب لا يعقل ثم قال للرجل أن صلاة النهار لا يجهر فيها

ہمیں خبر دی ہے محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن عیسیٰ برتی نے ان کو مسلم بن ابراہیم نے ان کو شعبہ نے ان کو ابو بشر نے ان کو سعید بن جبیر نے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے سنا کہ وہ دن میں قرأت کر رہے تھے اور قرأت میں جہر کر رہے تھے حالانکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ وہ کون ہے ؟ اس آدمی نے کہا اے ابو عبدالرحمٰن وہ ایسا آدمی ہے جو عقل نہیں رکھتا ۔ چنانچہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ وہ اس آدمی کے بارے میں جو کہتا ہے کتاب اللہ کو پڑھتا ہے کہ وہ سمجھتا نہیں ہے پر اس آدمی سے کہا کہ دن کی نماز میںجبرنہیں کیا جاتا۔

للرجل أن صلاة النهار لا يجهر فيها ← لرجل يقرأ كتاب لا يعقل ثم ← له ابن عمر ← رجل يا أبا عبد الرحمن هذا رجل لا يعقل ← ابن عمر من ذا ← رجلا يقرأ بالنهار و يجهر بالقراءة و هو يصلي ← سعيد بن جُبَير: أنَّ عمرَ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on enlightening the position of the Qur’an · Hadith 2707

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في تنوير موضع القرآن ـ · حديث 2708

2708 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا محمد بن صالح بن هانئ ثنا أبو سهل القاسم بن خالد بن قطن المروزي بنيسابور ثنا يحيى بن معين ثنا أبو مسهر حدثني الحكم بن هشام الثقفي ثنا عبد الملك بن عمير قال : كان يقال أبقى الناس عقولا قراء القرآن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابو سہل قاسم بن خالد بن قطن مروزی نے نیسا پور میں ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو ابومسہر نے ان کو حکم بن ہشام ثقفی نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے انہوں نے کہا کہ کہا جاتاتھا کہ سب زیادہ جن کا عقل قائم رہتا ہے وہ قرآن مجید کے قاری ہیں ( جو قرآن کو کثرت کے ساتھ پڑھتے رہتے ہیں۔)

كان يقال أبقى الناس عقولا قراء القرآن ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← الحكم بن هشام الثقفي ← اَبُوْ مُسْھِرٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أبو سهل القاسم بن خالد بن قطن المروزي بنيسابور ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on enlightening the position of the Qur’an · Hadith 2708

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الطهارات · حديث 2709

2709 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ أنا أبو أحمد بكر بن محمد الصيرفي بمرو ثنا محمد بن علي بن بطحاء ثنا عفان ح و حدثنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أملاء أنا أبو بكر أحمد بن إسحاق بن أيوب أنا محمد بن عيسى بن السكن ثنا عفان أنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي مالك الأشعري : عن النبي صلى الله عليه و سلم إنه كان يقول : الطهور شطر الإيمان و الحمد لله تملأ الميزان و سبحان الله و الله أكبر تملأ ما بين السماء و الأرض و الصلاة نور و الصدقة برهان و الصبر ضياء و القرآن حجة لك أو عليك و الناس يغدون فبائع نفسه فموبقها أو مبتاع فمعتقها أخرجه مسلم في الصحيح من حديث أبان بن يزيد العطار قال : أبو عبد الحليمي رحمه الله فيما بلغه عن يحيى بن آدم في قوله و الطهور شطر الإيمان قال : لأن الله عز و جل سمى الصلاة إيمانا فقال { و ما كان الله ليضيع إيمانكم } يعني صلاتكم إلى بيت المقدس و لا يجوز الصلاة إلا بوضوء فهما شيئان كل واحد منهما نصف الآخر

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حافظ نے ان کو ابو احمد بکر بن محمد صیرفی نے مقام مرو میں ان کو محمد بن بطحاء نے ان کو عفان نے(ح) اور ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے بطور املاء کے ان کو خبر دی ابو بکر احمد بن اسحاق بن ایوب نے ان کو محمد بن عیسیٰ بن سکن نے ان کو عفان نے ان کو ابان بن یزید نے انکو یحییٰ بن ابو کثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابو سلام نے ان کو ابو مالک اشعری نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ آپ فرمایا کرتے تھے طہارت و پاکیزگی حاصل کرنا " غسل وضو وغیرہ " نصف ایمان ہے" یا ایمان کا حصہ ہے" اور الحمد اللہ کہنا ترازو کے پلے کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ کہنا اور اللہ اکبر کہنا آسمان و زمین کے درمیان خلاء کو بھر دیتے ہیں اور نماز نور اور روشنی ہے اور صدقہ کرنا دلیل و برہان ہے اور صبر کرنا ضیاء اور روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے یا تو تیرے واسطے یا تیرے خلاف اور لوگ صبح کو جب اُٹھتے ہیں تواپنے آپ کو فروخت کرتے ہیں وہ اپنے نفس کو ہلاک کرتے ہیں یا اس کے فائدے کو ساتھ خریدتے ہیں اور اس کو آزاد کرواتے ہیں"یعنی انسان کی روز مرہ کی زندگی اپنے ہر کام کے اختیار سے مسلسل ایک سودا گری یا اللہ کی بندگی اور رضا طلبی یا غرو ضا والی ایک نجات کا دوسری ہلاکت کا سبب ہے۔ اس کو مسلم نے صحیح میں نقل کیا ہے ابان بن یزید عطار کی روایت سے۔ ابو عبدالحلیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس روایت میں جوان کو پہنچی ہے یحییٰ بن آدم سے اس قول کے بارے میں الطھور شطر الایمان کی طہارت "وضو" آدھا ایمان ہے شیخ فرماتے ہیں یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ایمان کا نام دیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وماکان اللہ لیضیح ایمانکم اللہ تعالیٰ ایسے نہیں ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کر دیں یعنی بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو اور نماز وضو کے بغیر جائز نہیں ہو سکتی تو یہ دو چیزیں ہیں ہر ایک دونوں میں سے دوسری کی نصف ہے یعنی دوسری کے مقابلے میں نصف۔ نصف ایمان طہارت اور نصف ایمان نماز دونوں مل کر پورا ایمان ہیں۔ (مترجم)

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السَّكَنِ، ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و، ← عَفَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَطْحَاءَ، ← أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter of the Twenty People of Faith and it is a chapter in the purity · Hadith 2709

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الطهارات · حديث 2710

2710 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن مرزوق ثنا وهب بن جرير ثنا شعبة عن سماك بن حرب عن مصعب بن سعد قال : جعل الناس يثنون على ابن عامر عند موته قال : فقال ابن عمر أما إني لست بأغشهم لك و لكني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يقبل الله عز و جل صلاة بغير طهور و لا صدقة من غلول أخرجه مسلم في الصحيح من حديث غندر عن شعبة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید محمد بن موسیٰ نے دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو وہب بن جریر نے ان کو شعبہ نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو مصعب بن سعد نے انہوں نے کہا لوگ ابن عامر کی موت کے وقت ان کی تعریف کرنے لگے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا خبردار بے شک میں وہ تو نہیں ہوں کہ ان لوگوں کو فریب دوں یا کھوٹ کروں لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر کوئی نماز قبول نہیں کرتے اور چوری و خیانت کے حامل کا صدقہ قبول نہیں کرتے اس کو مسلم نے نقل کیا ہے اپنی صحیح میں غندر کی روایت سے شعبہ سے۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter of the Twenty People of Faith and it is a chapter in the purity · Hadith 2710

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الطهارات · حديث 2711

2711 - أخبرنا محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا العباس بن محمد ثنا حسين المروزودي عن سليمان بن قرم عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مفتاح الجنة الصلاة و مفتاح الصلاة الوضوء

ہمیں خبر دی ہے محمد بن ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسی نے دونوں کو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد سے ان کو حسین مروزی نے ان کو سلیمان بن قرم نے ان کو ابو یحییٰ قتات نے ان کو مجاہد نے ان کو حضرت جابر نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضو ہے۔

جَابِرٍ ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← حسين المروزودي ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← محمد بن عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter of the Twenty People of Faith and it is a chapter in the purity · Hadith 2711

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ باب العشرون من شعب الإيمان و هو باب في الطهارات · حديث 2712

2712 - أخبرنا أبو بكر بن فورك أنا عبد الرحمن بن جعفر ثنا يونس بن حبيب ثنا إبراهيم بن عبد العزبز ثنا أبو داود ثنا سليمان بن معاذ الضبي عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن جابر بن عبد الله قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مفتاح الصلاة الوضوء و مفتاح الجنة الصلاة قال البيهقي رضي الله عنه : هذا حديث مما فات يونس بن حبيب عن أبي داود الطيالسي فرواه عن رجل عن أبي داود

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر بن فورک نے ان کو عبداللہ بن جعفر نے ان کو یونس بن حبیب نے ان کو ابراہیم بن عبدالعزیز نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سلیمان بن معاذ ضبی نے ان کو ابو یحییٰ قتات نے مجاہد سے اس نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ رسول اللہ نے فرمایا نماز کی چابی وضو ہے اور جنت کی چابی نما ز ہے بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حدیث ان میں سے ہے جن میں یونس بن حبیب رہ گئے ہیں ابو داؤد طیالسی سے لہٰذا اس نے اس کو روایت کیا ہے ایک آدمی سے اس نے ابو داؤد سے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← إبراهيم بن عبد العزبز ← يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter of the Twenty People of Faith and it is a chapter in the purity · Hadith 2712

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ المحافظة على الوضوء و اسباغه · حديث 2713

2713 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني بالكوفة ثنا إبراهيم بن إسحاق القاضي الزهري ثنا محمد بن عبيد ثنا الأعمش عن سالم بن أبي الجعد عن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استقيموا و لن تحصوا و اعلموا أن من أفضل أعمالكم الصلاة و لن يحافظ على الوضوء إلا من مؤمن

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن محمد بن عقبہ شیبانی نے کوفے میں ان کو ابراہیم بن اسحاق قاضی الزھری نے ان کو محمد بن عبید نے ان کو اعمش نے سالم بن ابو الجعد سے ان کو ثوبان نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا استقامت رکھو" دین پر پکے رہو" اور تم ہر گز دین کا احاطہ نہیں کر سکتے اور تم لوگ یقین کرو کہ تمہارا افضل عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت تو صرف مؤمن ہی کرتا ہے۔

ثَوْبَانَ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي الزُّهْرِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Maintain ablution and make it beautiful · Hadith 2713

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ المحافظة على الوضوء و اسباغه · حديث 2714

2714 - و أخبرناه أبو بكر أحمد بن محمد بن محمد بن إبراهيم الأشناني أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد ثنا مسدد ثنا خالد بن عبد الله ثنا ليث بن أبي سليم عن مجاهد عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره غير أنه قال : و لن يحافظ على الوضوء إلا مؤمن

ہمیں خبر دی ہے کہ ابو بکر احمد بن محمد بن محمد بن ابراہیم اشنافی نے ان کو ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوش نے ان کو عثمان بن سعید نے ان کو مسدد نے ان کو خالد بن عبداللہ نے ان کو لیث بن ابو سلیم نے ان کو مجاہد نے ان کو عبداللہ بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اس کے بعد اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ وضو کی حفاظت مؤمن کرتا ہے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مُجَاهِدٍ ← ليث بن أبي سليم ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُسَدَّدٌ ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Maintain ablution and make it beautiful · Hadith 2714

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ المحافظة على الوضوء و اسباغه · حديث 2715

2715 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا محمد بن الفضل بن جابر ثنا سريح بن يونس ثنا الوليد بن مسلم ثنا ابن ثوبان ثنا حسان بن عطية أن أبا كبشة السولي أخبره أنه سمع ثوبان يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سددوا و قاربوا و اعلموا أن خير أعمالكم الصلاة و لا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن قال البيهقي رحمه الله : ابن ثوبان هذا هو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان و هذا إسناد موصول و حديث سالم بن أبي الجعد منقطع فإنه لم يسمع من ثوبان و الله أعلم

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدانی نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو محمد بن فضل بن جابر نے ان کو سریح بن یونس نے ان کو ولید بن مسلم نے ان کو ابن ثوبان نے ان کو حسان بن عطیہ نے کہ ان کو ابو کبثہ سلولی نے خبر دی ہے کہ اس کو ثوبان سے سنا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ نے فرمایا درست اور سیدھے چلو ایک دوسرے سے قرب و محبت کرو میانہ روی کرو تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو کی حفاظت تو مؤمن ہی کرتا ہے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ابن ثوبان یہ وہی عبدالرحمٰن بن ثابت بن ثوبا ن ہے یہ اسناد موصول ہے اور سالم بن جعد کی حدیث منقطع ہے کیونکہ اس نے ثوبان سے نہیں سنی۔ واللہ اعلم۔

ثَوْبَانَ، ← أَنَّهُ ← حسان بن عطية أن أبا كبشة السولي ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← سريح بن يونس ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Maintain ablution and make it beautiful · Hadith 2715

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ المحافظة على الوضوء و اسباغه · حديث 2716

2716 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا إبراهيم بن إسحاق الأنماطي ثنا هارون بن عبد الله ثنا أبو أسامة حدثني أبو حيان التيمي عن أبي زرعة بن عمرو بن جرير عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لبلال عند صلاة الفجر يا بلال حدثني بأرجى عمل عملته عندك منفعة في الإسلام فإني سمعت الليلة خشف نعليك بين يدي في الجنة فقال : ما عملت عملا أرجى عندي منفعة من أني لم أتطهر طهورا تاما في ساعة من ليل أو نهار إلا صليت لربي عز و جل ما كتب لي أن أصلي رواه مسلم في الصحيح عن أبي كريب عن أبي أسامة

ہمیں خبر دی ہے عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن اسحاق انماطی نے ان کو ہارون بن عبداللہ نے ان کو ابو اسامہ نے ان کو ابو حیان تیمی نے ان کو ابو زرعہ بن جریر نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے صبح کی نماز کے وقت حضرت بلال سے فرمایا تھا اے بلال آپ مجھے اللہ کی بارگاہ میں زیادہ امید والا عمل بتائیے جو آپ نے عمل کیا ہو جو منفعت کے اعتبار سے تیرے پاس ہے جسے آپ نے عمل کر رکھا ہو اسلام لانے کے بعد بے شک میں نے تیری جوتیوں کی کھڑ کھڑا ہت جنت میں اپنے آگے آگے سنی ہے بلال نے جواب دیا یا رسول اللہ اور تو کوئی پر امید عمل میں نے نہیں کیا جس کی منفعت کی اللہ کے پاس زیادہ امید کر سکوں مگر ایک بات ہے کہ میں نے جب بھی وضو کیا خواہ کسی بھی وقت ہو دن میں ہو یا رات میں مگر میں نے اپنے رب کے لیے نماز ضرور پڑھی ہے جو اس نے میری تقدیر میں نماز پڑھنی لکھی ہے اس کو مسلم نے صحیح میں ابو کریب سے اور انہوں نے ابو اسامہ سے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Maintain ablution and make it beautiful · Hadith 2716

chevron_left Previous
1…757677…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood