شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2657
2657 - أخبرنا محمد بن موسى بن الفضل ثنا أبو العباس الأصم ثتا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ثنا أبو أسامة عن الوليد يعني ابن كثير ثنا محمد بن إبراهيم التيمي أن أبا حازم مولى هذيل حدثه : أن رجلا من بني بياضة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم حدثه أن النبي صلى الله عليه و سلم جاور في المسجد في قبة على بابها قطعة حصير فكشف رسول الله صلى الله عليه و سلم الحصير ثم قال أنصتوا أيها الناس فأنصتوا قال : فوعظ رسول الله صلى الله عليه و سلم فرغب و حذر فأبلغ جدا ثم قال : أن المصلي إذا صلى فإنما يناجي ربه فلينظر عبد ما يناجي به ربه و لا يجهرن بعضكم على بعض بالقرآن ثم دخل رسول الله صلى الله عليه و سلم و أعاد الحصير فقال الناس : أن هذه الليلة مباركة وعظ فيها رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس وحضهم قال : فذهبنا ننظر فإذا ليلة ثلاثة و عشرين و قد روينا قوله في المصلي يناجي ربه عن أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم
ہمیں خبر دی محمد بن موسیٰ بن فضل نے ، ان کو ابوالعباس اصم نے ، ان کو احمد بن عبدالحمید حارثی نے ، ان کو ابو اسامہ نے ولید سے ، یعنی ابن کثیر سے ان کو محمد بن ابراہیم تیمی نے یہ کہ ابو حازم مولیٰ ھذیل نے اس کوحدیث بیان کی ہے کہ بنی بیاضہ کا ایک آدمی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سے اس کو حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مسجد میں ایک خیمے میں متکف وہ کر بیٹھ گئے ۔ خیمے کے دروازے پر چٹائی کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چٹائی ہٹائی ، پھر فرمایا لوگو چپ ہو جاؤ لوگو خاموش ہو جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وعظ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کچھ چیزوں کی ترغیب دلائی اور کچھ چیزوں سے تنبیہ فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اتہائی بلیغ وعظ فرمائی ۔ اس کے بعد فرمایا کہ نمازی جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات اور رازونیاز کر رہا ہوتا ہے بندے کو دیکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ کس طرح سر گوشی کر رہا ہے اور بعج تمہارا بعض پر قرأت کرنے میں جہر نہ کرے ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوبارہ خیمے میں چلے گئے اور چٹائی دوبارہ ڈال دی ۔ پس لوگوں نے کہا کہ یہ رات برکت والی ہے ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو وعظ فرمایا ہے اور انہیں نیکیوں پر ابھارا ہے ۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ ہم لوگوں نے سوچا تو وہ تئیسویں شب تھی۔ اور تحقیق حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا قول روایت کیا ہے نمازی کے بارے میں کہ وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے ۔ روایت حضرت ابو سعید خدری سے ۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ۔
محمد بن إبراهيم التيمي أن أبا حازم مولى هذيل ← الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ کَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أبو العباس الأصم ثتا أحمد بن عبد الحميد الحارثي ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2657
