Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2645

2645 - أخبرناه أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا روح بن عباده ثنا موسى بن عبيدة حدثني عبد الله بن عبيدة حدثني سهل بن سعد الساعدي قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن نقترئ يقرئ بعضنا بعضا فقال : الحمد لله كتاب الله فيكم وأجد فيكم الأخيار فيكم الأحمر و الأسود اقرؤا و اقرئوا قبل أن يأتي قوم يقرؤنه يقومونه يقيمون حروفه كما يقام السهم لا يجاوز تراقيهم يتعجلون أجره و لا يتأجلونه

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ، ان کو روح بن عبادہ نے ، ان کو موسیٰ بن عبیدہ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عبیدہ نے، ان کو حدیث بیان کی ہے سہل بن سعد سعدی نے، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے جب کہ ہم ایک دوسرے کو پڑھا رہے تھے ۔ یعنی بعض ہمارا بعض کو پڑھا رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ کاشکر ہے کہ اللہ کی کتاب تمہارے اندر موجود ہے اور پاتا ہوں اخیار اور بہترین لوگوں کو ۔ تم لوگوں میں گورے بھی ہیں اور کالے بھی ہیں ۔ قرآن مجید کو پڑھ اور ایک دوسرے کو پڑھاؤ۔ اس وقت سے پہلے کہ وہ لوگ آجائیں جو اس کو پڑھیں گے، اس کو کھڑا کریں گے اور اس کے حروف کو سیدھا کریں گے ۔ جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید ان کی ہنسلیوں سے تجاروز نہیں کرے گا (یعنی نیچے اتر کر دل میں جگہ نہیں پکڑے گا) اس کی اجرت دنیا میں لے لیں ، اسے آخرت کے لئے نہیں چھوڑیں گے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← موسى بن عبيدة ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2645

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2646

2646 - أخبرنا أبو سعد الماليني أنا أبو أحمد بن عدي ثنا الفريابي ثنا أبو قدامة ثنا إسحاق بن سليمان الرازي قال : سمعت موسى بن عبيدة يذكر عن أخيه عبد الله بن عبيدة عن سهل بن سعد : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن نقترئ يقرئ بعضنا على بعض فقال : الحمد لله كتاب الله واحد فيكم الأخيار فيكم الأحمر و الأسود اقرؤا قبل أن يجيء أقوام يقيمونه كما يقام القدح لا يجاوز تراقيهم يتعجلون أجره و لا يتأجلونه 2646 - مكرر ـ و لهذا شاهد من حديث ابن وهب عن عمرو بن الحارث عن بكر بن سوادة عن وفاء بن شريح عن سهل بن سعد أشار إليه البخاري في التاريخ : ـ

ہمیں خبر دی ہے ابو سعد مالینی نے، ان کو ابو احمد بن عدی نے ان کو فریابی نے ،ا ن کو ابو قدامہ نے ، ان کو اسحاق بن سلیمان رازی نے ، وہ کہتےہیں کہ میں نے سنا موسیٰ بن عبیدہ سے، وہ اپنے بھائی عبداللہ بن عبیدہ سے ذکر کرتا تھا اور وہ سھل بن سعد سے کہ رسول الہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ باہم قرآن پڑھ رہے تھے ۔ یعنی بعض ہمارا بعض کو پڑھ کر سنا رہا تھا۔ (یعنی ہم لوگ قرآن مجید کو دور کر رہےتھے) آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کتاب اللہ ایک ہے ۔ تم لوگوں میں اچھے لوگ بھی ہیں اور تم میں سرخ بھی ہیں سیاہ بھی اس وقت سے پہلے قرآن مجید کو پڑھو کہ کچھ قومیں آئیں گی جو اس کو ایسے سیدھا کریں گی جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے ۔ قرآن ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھے گا ۔ اس کا معاوضہ جلدی لیں گے ۔( یعنی دنیاوی اسباب کی صورت میں ) اور آخرت میں لینے کی تاخیر و انتطار نہیں کریں گے ۔ مکرر ہے۔ اور س کے لیے شاہد ابن وھب کی روایت ہے اس نے عمرو بن حارث سے ، اس نے بکر بن سوادہ سے اس نے وفاء بن شریح سے ، اس نے سہل بن سعد سے اور بخاری نے التاریخ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔

أَخِيهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، ← موسى بن عبيدة يذكر ← إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو قُدَامَةَ، ← الْفِرْيَابِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2646

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2647

2647 - أخبرناه أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه ثنا أبو داود ثنا أحمد بن صالح ثنا عبد الله بن وهب أخبرني عمرو و ابن لهيعة عن بكر بن سواده عن وفاء بن شريح الصدفي عن سهل بن سعد قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يوما و نحن نقترئ فقال : الحمد لله كتاب الله واحد و فيكم الأحمر و الأبيض و فيكم الأسود إقرؤوه قبل أن يقرأه أقوام يقيمون كما يقوم السهم يتعجل أجره و لا يتأجله

ہمیں اس کی خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ، ان کو ابوبکر بن داسہ نے ، ان کوابوداؤد نے ، ان کو احمد بن صالح نے ، ان کو عبداللہ بن وہب نے ، ان کو خبر دی عمرو بن لھیعہ نے ، ان کو بکر بن سوادہ نے ، ان کو وفاءبن شریح صد فی نے سھہ بن سعد سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایک دن ہم لوگوں پر تشریف لائے او رہم لوگ قرآن مجید کا دور کر رہے تھے ۔ فرماتے لگے اللہ کا شکر ہے کہ کتاب اللہ ایک ہے ۔ تم لوگوں میں سرخ بھی ہیں اور سفید بھی ، تم میں کالے بھی ہیں ۔ تم لوگ اس کو پڑھو اس وقت سے قبل کہ وہ لوگ اس کو پڑھیں جو اس کو سیدھا کھڑا کریں گے جیسے تیر سیدھا اور درست کیا جاتا ہے ۔ اس کا معاوضہ لینے کی جلدی کریں گے دیر نہیں کریں گے ۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← وَفَاءِ بْنِ شُرَيْحٍ الصَّدَفِيِّ ← بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، ← عمرو و ابن لهيعة ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2647

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2648

2648 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي عمارة عن حذيفة قال : يقرأ القرآن أقوام يقومونه كما يقام القدح و لا يدعون منه ألفا و لا واوا و لا يجاوز إيمانهم حناجرهم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو ابو معاویہ نے اعمش سے ، اس نے ابو عمارہ سے ، اس نے حذیفہ سے ، اس نے کہا قرآن کو کچھ لوگ پڑھیں گے۔ اس کو ایسے سیدھا کریں گے اور درست کریں گے جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے وہ نہ اس میں الف چھوڑیں گے نہ واؤ چھوڑیں گے ۔ (یعنی سب کا تقاضا پورا کریں گے ان کا ایمان ان کی ہنسلیوں سے تجاوز نہیں کرے گا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي عُمَارَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2648

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2649

2649 - أخبرنا أبو الحسين بن الفضل القطان أنا عبد الله بن جعفر ثنا يعقوب بن سفيان حدثني الوليد بن عتبة الدمشقي و إسحاق بن إبراهيم قالا : ثنا بقية بن الوليد و حدثني حصين بن مالك الفزاري قال : سمعت شيخا يكنى أبا محمد و كان قديما يحدث عن حذيفة بن اليمان : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال : إقرؤا القرآن بلحون العرب و أصواتها و إياكم و لحون أهل الفسق و أهل الكتابين فإنه سيجيء من بعدي قوم يرجعون بالقرآن ترجيع الغناء و الرهبانية و النوح لا يجاوز حناجهم مفتونة قلوبهم و قلوب من يعجبهم شأنهم قال بقية ليس إلا حديث واحد و هو من أهل أفريقية

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن فضل قطان نے ، ان کو عبداللہ بن جعفر نے ، ان کو یعقوب بن سفیان نے، ان کو ولید بن عتبہ دمشقی نے اور اسحٰق بن ابراہیم نے ، انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ بن ولید نے ، ان کو حصین بن مالک خزار نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے سنا اس شیخ سے جس کی کنیت ابو محمد ہے ۔ وہ بزرگ تھے حضرت حذیفہ بن یمان سے حدیث بیان کرتے تھے ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید کو عرب لہجوں کے ساتھ پڑھا کرو اور عربوں کی آوازوں کے ساتھ اور اہل فسق کے لہجوں سے اپنے آپ کو بچاؤ ( یعنی گانے بجانے والے بد کرداروں کے لہجوں اور سروں سے ) اور اہل کتابین (یہود ونصاریٰ کے ) لہجوں سے بچاؤ۔ بے شک بات یہ ہے کہ میرے بعد کچھ لوگ آئیں گے وہ قرآن کی آواز کو گانے کی آواز کی طرح حلق میں دھرائیں گے اور راھبوں اور نوحہ بین کرنے والوں کی طرح ۔ حالانکہ قرآن ان کے حلق سے نیچے (دل کی جانب ) نہیں اترے گا ۔ اس کے دل فتنے میں پڑے ہوئے ہوں گے اور ان کے دل بھی جن کو ان کی حالت پسند آئے گی اور اچھی لگے گی۔ بقیہ نے کہا کہ حصین فزاری کی صرف یہی ایک مروی حدیث ہے اور اہل افریقہ سےتھے۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← شيخا يكنى أبا محمد و كان قديما ← حُصَيْنِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيِّ ← بقية بن الوليد و ← الوليد بن عتبة الدمشقي و إسحاق بن إبراهيم ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2649

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2650

2650 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا أبو عتبة ثنا بقية : فذكره بإسناده مثله غير أن هذا الإسناد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم و لم يذكر قول بقية في آخر الحديث

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابوبکر بن حسن نے ، دونوں کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ، ان کو ابو عتبہ نے ، ان کو بقیہ پھر اس کو اس نے ذکر کیا ہے ۔ اسی اسناد کے ساتھ اس کی مثل۔ سوائے اس کے یہ اسناد ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مگر آخر حدیث میں بقیہ کا قول ذکر نہیں کیا۔

بقية فذكره بإسناده مثله غير أن هذا الإسناد ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر بن الحسن ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2650

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2651

2651 - أخبرنا أبو عبد الله و أبو بكر قالا : ثنا أبو العباس ثنا أبو عتبة ثنا بقية ثنا نصر بن علقمة الحضرمي عمن حدثه قال : قال أبو الدرداء : إياكم و الذين يحرفون القرآن و إياكم و الهذاذين بالقرآن الذين يهذون القرآن و يسرعون بقراءته فإنما مثل ذلك كمثل الأكمة لا أمسكت ماء و لا أنبتت كلأ

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور ابو بکر دونوں نے او العباس سے ، ان کو عتبہ نے ان کو بقیہ نے ، ان کو نصر بن علقمہ حضرتمی نے ، اس نے اس سے جس نے اس کو حدیث بیان کی تھی ۔ اس نے کہا کہ حضرت ابو درداء نے کہا تھا بچاؤ تم اپنے آپ کو ان لوگوں سے جو قرآن کی تحریف کریں گے (بدلیں گے ) اور بچانا اپنے آپ کو قرآن مجید کے جلدی جلدی پڑھنے والوں سے جو قرآن بڑبڑائیں گے اور اس کی قرأت میں سرعت اور جلدی کریں گے ۔ اس کی مثال اس ٹیلے جیسی ہے جو نہ تو اپنے اوپر پانی کو روک سکے اور نہ ہی سبزہ اگا سکے ( بلکہ پانی اوپر سے پھسل جائے)۔

نصر بن علقمة الحضرمي عمن ← بَقِيَّةُ ← أَبُو عُتْبَةَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ ← أبو عبد الله و أبو بكر

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2651

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2652

2652 - و روينا عن ابن مسعود أنه قال : أعربوا القرآن فإنه عربي و سيكون بعدكم أقوام يثقفونه و ليس بخياركم عني يسردنه

اور ہم نے روایت کی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے فرمایا قرآن مجید کو اچھی طرح ظاہر اور واضح کرکے پڑھو۔ بے ش ک وہ عربی ہے ۔ عنقریب تمہارے بعد کچھ اقوام آئیں گی وہ اس کو نیزوں کی طرح سیدھا کریں گی ۔ وہ تمہارے اچھے لوگ نہیں ہوں گے یعنی مسلسل (ٹھہرے اور روکے بغیر ) تیزی کے ساتھ پڑھیں گے ۔ (یعنی قرأت میں تو موتی پروئیں گے مگر عمل میں اچھے نہیں ہوں گے۔مترجم)( ترجمہ کی دوسری تعبیر یہ ہو سکتی ہے ) کہ قرآن مجید کے معانی و مطلب کو واضح بیان کرو ۔ کیونکہ وہ اصح عربی ہے ۔ عنقریب تمہارے بعد بعض لوگ ہوں گے جو تسلسل کے ساتھ پڑھیں گے ، نیزوں کی طرح سیدھا کریں گے ۔یعنی موتی پروتے ہیں (لیکن وہ فقط الفاظ کی بناوٹ و سجاوٹ پر سارا زور لگائیں گے معنی و مطلب سے کوئی سروکار نہیں رکھیں گے ۔ ) وہ تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہوں گے ۔

ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ ← و روينا

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2652

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2653

2653 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي الهروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا أبو شهاب عن الصلت بن بهرام عن الحسن قال : أن هذا القرآن قرأه عبيد و صبيان لم يأخذوه من أوله و لا علم لهم بتأويله ـ أن أحق الناس بهذا القرآن من رؤى في عمله قال الله عز و جل : { كتاب أنزلناه إليك مبارك ليدبروا آياته وليتذكر أولو الألباب } و إنما تدبر آياته أتباعه بعمله يقول أحدهم لصاحبه : تعال أقارئك و الله ما كانت القراء تفعل هذا و الله ما هم بالقراء و لا الورعة لا أكثر الله في الناس أمثالهم لا أكثر الله في الناس أمثالهم

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور نضروی ھروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو ابو شہاب نے ان کو بن صلت بن بہرام نے ، ان کوحسن نے انہوں نے کہا کہ بے شک یہ قرآن اس کو پڑھا ہے غلام نے اور بچوں نے ، نہ اس کو اس کے اول سے حاصل کیا ہے اور نہ ہی اس کی تاویل تشریح کو سیکھا ہے ۔ (انہوں نے درحقیقت اس کو پڑھنے کا حق ادا نہیں کیا ہے ) بے شک اس قرآن مجید کو پڑھنے ، سمجھنے کی نسبت جتلانے اور ظاہر کرنے کا سب سے زیادہ حقدار وہ شخص ہے جس کے عمل میں دیکھا جائے اور قرآن اس کے عمل میں نظر آئے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ "کتاب النزلناہ الیک مبارک لیدبو و اایاتہ ولیتذکر اولواالالباب"۔ یہ کتاب ہے اس کو ہم نے نازل کیا ہے برکت والی ہے ۔( اس لیے ہم نے اتاری ہے ) تاکہ لوگ اس کی آیات میں غوروفکر کریں۔اور صاحب عقل اس سے عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔

الْحَسَنِ، ← الصَّلْتِ بْنِ بَھْرَامَ ← أَبُو شِهَابٍ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو منصور النضروي الهروي ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2653

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2654

2654 - أخبرنا أبو بكر محمد بن إبراهيم الفارسي أنا أبو إسحاق الأصبهاني ثنا أبو أحمد بن فارس ثنا محمد بن إسماعيل البخاري قال : قال لي عثمان بن سعيد ثنا زهير عن ليث عن عثمان عن زاذان سمع عابس الغفاري قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يعني خصالا يتخوفهن على أمته من بعده إمارة السفهاء و استخفافا بالدم و قطيعة الرحم و كثرة الشرط و نشئ يتخذون القرآن مزامير يتغنون غناء يقدمون الرجل بين أيديهم ليس بأفضلهم و لا أعلمهم لا يقدمونه إلا ليغنى لهم

ہمیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن ابراہیم فارسی نے ، ان کو اسحاق اصفہانی نے ، ان کو ابو محمد بن فارس نے ان کو محمد بن اسماعیل بخاری نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کہا تھا عثمان بن سعید نے ، ان کو زھیر نے ، ان کو لیث نے ، ان کو عثمان نے ، ان کو زاذان نے ، اس نے سنا عابس غفاری سے انہوں نے کہا کہ میں نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے۔ یعنی بعض ان خصلتوں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی امت پر جن کے بارے میں ڈرتے رہتے تھے اپنے بعد۔ کم عقلوں کے امیر اور حکمران بن جانے ، خون کو حقیر سمجھنا، بے قدر کر دیا ۔ قطع رحمی کرنا۔ کثرت سے شرط لگانا۔ اور ایسے لوگوں کا پیدا ہو جانا جو قرآن مجید کو راگ گانے بنالیں گے ۔ گانے کی طرح اس کو گائیں گے ۔ ایسے آدمی کو اپنا پیشوا بناکر آگے کریں گے جو نہ تو ان میں سے فضل والا ہوگا۔ نہ ہی ان میں سے زیادہ علم والا ۔ وہ ایسے آدمی کو اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ ان کے لیے گائے اور سُر لگائے۔

عابس الغفاري ← زَاذَانَ ← عُثْمَانَ، ← لَيْثٌ، ← زُهَيْرٍ ← لي عثمان بن سعيد ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2654

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2655

2655 - قال : و ثنا محمد ثنا حمدان ثنا شريك عن أبي اليقظان عن زاذان عن عليم سمع عابس الغفاري و رواه موسى الجهني زاذان عن عابس أو ابن عابس قال البيهقي رضي الله عنه : ـ : فإذا كانوا جماعة يقرؤن فلا يرفع بعضهم على بعض في القراءة لما فيه من الأذى على أصحابه

کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد نے ، ان کو حمدان نے ، ان کو شریک نے ا ن کو ابولیقظان نے ان وک زاذان نے ان کو علیم نے ، اس نے سنا عباس غفاری سے اور اس کو روایت کیا ہے موسیٰ جھنی نے زاذان سے عابس سے ایا ابن عباس سے۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : جب ایسے لوگ جماعت اور گروہ کی صورت میں ہوتے ہیں اور قرآن پڑھتے ہیں تو پھر بعض دوسرے بعض پر قرأت میں برتری اور تعلیٰ نہیں کرتا ۔ اس لیے اس میں اس کے اپنے احباب اور ساتھیوں کے لیے ایذا اور تکلیف دینا ہے ۔

عابس أو ابن عابس ← عابس الغفاري و رواه موسى الجهني زاذان ← عُلَيْمٍ ← زَاذَانَ ← أَبِي الْيَقْظَانِ ← شَرِيکٍ ← حمدان ← مُحَمَّدٍ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2655

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2656

2656 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن أبي حازم التمار عن البياضي : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج على الناس و هم يصلون و قد علت أصواتهم بالقرآن فقال : أن المصلي يناجي ربه فلينظر ما يناجيه و لا يجهر بعضكم على بعض بالقراءة

ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابواسحاق نے ، ان کو ابو الحسن طرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے، ان کو مالک نے ، ان کو یحییٰ بن سعید نے، ان کو محمد بن ابراہیم بن حارچ تیمی نے ، ان کو ابوحازم تمار نے البیاضی سے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم لوگوں کے سامنے تشریف لائے ، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن کی تلاوت کرنے کے ان کی آوازیں اونچی ہو رہی تھیں ۔ پس فرمایا کے بے شک نماز پڑھنے والا اپنے رب کے ساتھ سر گوشی کر رہا ہوتا ہے ۔ اسے دیکھنا چاہیے کہ کس قدر اور کیسی اس کے ساتھ سرگوشی کر رہا ہے ۔ بعض تمہارا بعض پر قرأت کرنے میں جہر نہ کرے ۔

البياضي ← أَبِي حَازِمٍ التَّمَّارِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2656

chevron_left Previous
1…707172…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood