شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2633
2633 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن سليمان الزاهد البخاري قدم علينا حاجا ثنا أبو نصر أحمد بن نصر بن حمدويه الفقيه إملاء ثنا محمد بن أيوب ثنا أبو بكر بن أبي شيبة عن محمد بن بشر ثنا عبد الله بن الوليد أخبرني عمرو بن أيوب أخبرني أبو إياس معاوية بن مرة قال : كنت نازلا على عمرو بن النعمان بن مقرن فلما حضر رمضان جاءه رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال : أن الأمير يقرئ عليك السلام و يقول أنا لم ندع قارئا شريفا إلا و قد وصل إليه منا معروفا فاستعن بهاتين على نفسك شهرك هذا فقال عمرو : اقرأ على الأمير السلام و قل له إنا و الله ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا و رد عليه
ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن سلیمان زاہد بخاری نے جو کہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہمارے پاس بھی آئے تھے ۔ ان کوحدیث بیان کی ابو نصر نے ، ان کو احمد بن نصر بن حمدویہ فقیہ نے بطور املاء کے ، ان کو محمد بن ایوب نے ، ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ، ان کو محمد بن بشر نے ، ان کو عبداللہ بن ولید نے ، ان کو عمرو بن ایوب نے ، ان کو ابو ایاس معاویہ بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن نعمان کے پاس مہمان بن کر ٹھہرا ہوا تھا ۔ جب رمضان شریف آگیا تو ایک آدمی ان کے پاس دو ہزار درہم لے کر آیا حضرت مصعب بن زبیر کی طرف سے اور کہنے لگا کہ امیر آپ کو سلام کہتا ہے اور وہ پیغام دیتا ہے کہ بے شک ہم کسی محترم قاری کو نہیں چھوڑتے ۔ سب کے پاس ہمارا تعاون پہنچتا ہے ۔ آپ ان ہزار درہم کے ساتھ اس مہینہ میں مدد لیجیے ۔چنانچہ عمر نے جواب دیا کہ امیر کو وعلیکم السلام کہیے اور ان سے کہئے کہ بے شک ہم نے قرآن اس لئے نہیں پڑھا کہ ہم اس کے ذریعے دنیا کو چاہیں اور حاصل کریں ۔ چنانچہ انہوں نے وہ عطیہ دو ہزار ریال کا واپس کر دیا۔
أبو إياس معاوية بن مرة ← عَمْرِو بْنِ أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو نصر أحمد بن نصر بن حمدويه الفقيه
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2633
