Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2633

2633 - أخبرنا أبو الحسن علي بن أحمد بن محمد بن سليمان الزاهد البخاري قدم علينا حاجا ثنا أبو نصر أحمد بن نصر بن حمدويه الفقيه إملاء ثنا محمد بن أيوب ثنا أبو بكر بن أبي شيبة عن محمد بن بشر ثنا عبد الله بن الوليد أخبرني عمرو بن أيوب أخبرني أبو إياس معاوية بن مرة قال : كنت نازلا على عمرو بن النعمان بن مقرن فلما حضر رمضان جاءه رجل بألفي درهم من قبل مصعب بن الزبير فقال : أن الأمير يقرئ عليك السلام و يقول أنا لم ندع قارئا شريفا إلا و قد وصل إليه منا معروفا فاستعن بهاتين على نفسك شهرك هذا فقال عمرو : اقرأ على الأمير السلام و قل له إنا و الله ما قرأنا القرآن نريد به الدنيا و رد عليه

ہمیں خبر دی ابو الحسن علی بن احمد بن محمد بن سلیمان زاہد بخاری نے جو کہ حج کرنے کے لیے آئے تو ہمارے پاس بھی آئے تھے ۔ ان کوحدیث بیان کی ابو نصر نے ، ان کو احمد بن نصر بن حمدویہ فقیہ نے بطور املاء کے ، ان کو محمد بن ایوب نے ، ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ، ان کو محمد بن بشر نے ، ان کو عبداللہ بن ولید نے ، ان کو عمرو بن ایوب نے ، ان کو ابو ایاس معاویہ بن مرہ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن نعمان کے پاس مہمان بن کر ٹھہرا ہوا تھا ۔ جب رمضان شریف آگیا تو ایک آدمی ان کے پاس دو ہزار درہم لے کر آیا حضرت مصعب بن زبیر کی طرف سے اور کہنے لگا کہ امیر آپ کو سلام کہتا ہے اور وہ پیغام دیتا ہے کہ بے شک ہم کسی محترم قاری کو نہیں چھوڑتے ۔ سب کے پاس ہمارا تعاون پہنچتا ہے ۔ آپ ان ہزار درہم کے ساتھ اس مہینہ میں مدد لیجیے ۔چنانچہ عمر نے جواب دیا کہ امیر کو وعلیکم السلام کہیے اور ان سے کہئے کہ بے شک ہم نے قرآن اس لئے نہیں پڑھا کہ ہم اس کے ذریعے دنیا کو چاہیں اور حاصل کریں ۔ چنانچہ انہوں نے وہ عطیہ دو ہزار ریال کا واپس کر دیا۔

أبو إياس معاوية بن مرة ← عَمْرِو بْنِ أَيُّوبَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ ← أبو نصر أحمد بن نصر بن حمدويه الفقيه

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2633

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2634

2634 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن نظيف الفراء بمكة ثنا أبو حفص عمر بن علي بن الحسن العتكي ثنا محمد بن جعفر الرزاز بمتيح ثنا صالح بن زياد أبو شعيب : سمعت الزبيدي يقول : عبر حمزة الزيات على باب قوم بالبصرة فاستسقى منهم فلما خرج إليه الكوز رده فقيل له في ذلك فقال أخشى أن يكون بعض صبيان هذه الدار قرأ علي فيكون ثوابي منه قال البيهقي رضي الله عنه : ـ و أما بيع المصاحف و اشتراؤها فقد ذكرنا في آخر كتاب البيوع من كتاب السنن أن الصحابة رضي الله عنهم فمن بعدهم تكلموا في ذلك فمنهم من كره ذلك و منهم من كره بيعها و لم يكره اشتراءها و معنى الكراهية و الله أعلم تعظيم المصحف من أن يجعل متجرا و قد رخص في بيعها جماعة من التابعين منهم جابر بن زيد و الحسن و الشعبي و عكرمة و أما تعليم القرآن بالأجرة فقد كرهه جماعة و ورد فيه أخبار و رخص فيه آخرون و حديث أبي سعيد في الرقية بفاتحة الكتاب و أخذ الجعل عليها و الذي روى عن ابن عباس في تلك القصة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله عز و جل يدل على جواز ذلك و الله أعلم و روينا عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كان يرزق المعلمين و عن عطاء و الحسن و ابن سيرين و أبي قلابة و الحكم الرخصة في ذلك

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ محمد بن نظیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ، ان کو ابو حفص عمر بن علی بن حسن عتکی نے ، ان کو محمد بن جعفر ازاز نےمقام میتح میں ان کو صالح بن زیاد نے ابو شعیب سے ، انہوں نے فرمایا کہ میں نے یزید سے سنا کہتے ہیں کہ حضرت حمزہ زیات بصرے میں ایک دروازے سے گذر رہے تھے ( پیاس لگی ہوئی تھی) لہذا ان کو لوگوں سے انہوں نے پینے کے لیے پانی مانگ لیا ۔ جب پانی کا گلاس ان کے لیے باہر آیا تو لے کر انہوں نے پھر واپس کردیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں کیا ہے ( تو بتایا کہ مجھے ایک خیال آیا جس کی وجہ سے میں نے پانی واپس کر دیا ہے ) کہ میں ڈر گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس گھر کا کوئی بچہ مجھ سے قرآن پڑھا ہوا ہو ۔ لہذا میری اس محنت کا ثواب اس پانی کے بدلے میں چلا جائے۔

الزُّبَيْدِيِّ، ← صالح بن زياد أبو شعيب ← محمد بن جعفر الرزاز بمتيح ← أبو حفص عمر بن علي بن الحسن العتكي ← أبو عبد الله محمد بن نظيف الفراء

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2634

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في الحمام و الكنيف و المواضع القذرة تعظيما للقرآن · حديث 2635

2635 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة ثنا أبو الفضل بن حميرويه ثنا أحمد بن نجدة ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو بكر بن عياش عن أبان عن مورق العجلي قال : شهد كتاب عمر إلى أبي موسى رضي الله عنهما : أن بلغني أن أهل الأمصار إتخذوا الحمامات فلا يدخلن أحد أو قال مسلم : إلا بمئزر و لا يذكر فيه اسم الله حتى يخرج منه أو قال لا يذكروا لله فيه اسما حتى يخرجوا منه و لا يستنقع إثنان في حوض

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کوابوالفضل بن حمیرویہ نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو احمد بن یونس نے ، ان کو ابوبکر بن عیاش نے، ان کو ایان نے نا کو مورق عجلی نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خط دیکھا تھا جو انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو لکھا تھا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ شہروں میں رہنے والوں نے غسل خانے بنالیے ہیں تو (سنو) کہ کوئی ایک آدمی یا یوں کہا تھا کوئی مسلمان غسل خانے میں غسل کرنے کے لیے تہہ بند کے بغیر غسل کرنے کے لیے داخل نہ ہوا کرے ۔ یعنی شرم و حیا کا تقاضا پورا کیا جائے ) اور ان جگہوں میں اللہ کا نام ذکر نہ کیا جائے بلکہ باہر نکل کر لیا جائے۔ یا یوں فرمایا تھا اس میں اللہ کا نام ذکر نہ کریں۔ یہاں تک کہ باہر آ جائیں۔ (یعنی اسماء الٰہیہ کی تعظیم کا تقاضا پورا کیا جائے)۔ اور کسی حوض میں دو آدمی ننگے ہو کر نہ نہائیں (بلکہ شرم و حیا کا تقاضا پورا کریں۔ )

مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، ← أَبَانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on neglecting to recite the Qur’an in the bathroom, in the toilet, and in dirty places, to honor the Qur’an · Hadith 2635

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في الحمام و الكنيف و المواضع القذرة تعظيما للقرآن · حديث 2636

2636 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ثنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا سعدان بن نصر ثنا أبو معاوية عن حماد عن إبراهيم : سئل عن القراءة في الحمام قال : ليس لذلك بني

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ نب عبدالجبار سکری نے ، ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ، ان کو سعد ان بن نصر نے ، ان کو ابو معاویہ نے حماد سے اس نے ابراہیم سے کہ ان سے حمام میں قرأت کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ اس لیے نہیں بنائے گئے۔

ليس لذلك بني ← القراءة في الحمام ← إبْرَاهِيمَ سُئِلَ ← حَمَّادٌ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on neglecting to recite the Qur’an in the bathroom, in the toilet, and in dirty places, to honor the Qur’an · Hadith 2636

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في الحمام و الكنيف و المواضع القذرة تعظيما للقرآن · حديث 2637

2637 - قال : و ثنا أبو معاوية عن مجاج عن حماد عن سليمان بن بشير عن إبراهيم عن عبد الله مثله قال : ـ

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے حجاج سے ، اس نے حماد سے ، اس نے سلیمان بن بشیر سے ، اس نے ابراہیم سے ، اس نے عبداللہ سے مذکور ہ کی مثل انہوں نے کہا۔

عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سليمان بن بشير ← حَمَّادٌ، ← مجاج ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on neglecting to recite the Qur’an in the bathroom, in the toilet, and in dirty places, to honor the Qur’an · Hadith 2637

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في الحمام و الكنيف و المواضع القذرة تعظيما للقرآن · حديث 2638

2638 - و ثنا أبو معاوية عن الحجاج عن عطاء : أنه كان يرى بالقراءة في الحمام بأسا فهذا على الجواز و ما مضى على الكراهية

اور ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو معاویہ نے حجاج سے، انہوں نے عطاء سے کہ وہ حمام میں قرأت کو غیر درست کہتے تھے ۔ یہ بات اس کے جواز پر اور اس سے پہلی والی اس کی کراہت پر دلالت کرتی ہے ۔

الْحَجَّاجِ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on neglecting to recite the Qur’an in the bathroom, in the toilet, and in dirty places, to honor the Qur’an · Hadith 2638

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في الحمام و الكنيف و المواضع القذرة تعظيما للقرآن · حديث 2639

2639 - أنا أبو محمد بن يوسف ثنا أبو سعيد بن الأعرابي ثنا سعدان بن نصر ثنا معاذ بن معاذ ثنا أبو عون قال : كنا مع أبي السوار في الحمام فسمع رجلا يقرأ فجعل يقول : لم تقرأها هنا لم تقرأها هنا ؟

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے ، ان کو ابو سعید بن اعرابی نے ، ان کو سعد ان بن نصر نے ، ان کو معاذ بن معاذ نے ، ان کو ابو عون نے ، انہوں نے کاہ کہ ہم لوگ ابوالسوار کے ساتھ حمام میں تھے ، اس نے ایک آدمی کو سنا جو وہاں تلاوت کر رہا تھا ۔ لہذا انہوں نے سننے کے بعد فوراً کہا یہاں پر مت پڑھو، یہاں پر مت پڑھو۔ یا یوں تعبیر ہے یہاں پر کیوں پڑھ رہے ہو۔یہاں پر کیوں پڑھ رہے ہو؟

لم تقرأها هنا لم تقرأها هنا ← كنا مع أبي السوار في الحمام فسمع رجلا يقرأ فجعل ← أَبُو عَوْنٍ ← مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ← سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on neglecting to recite the Qur’an in the bathroom, in the toilet, and in dirty places, to honor the Qur’an · Hadith 2639

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2640

2640 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق قالا : ثنا أبو الحسن الطرائفي ثنا عثمان بن سعيد الدارمي ثنا يحيى بن بكير ثنا مالك ح قال و ثنا القعنبي فيما قرأه على مالك عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي سعيد الخدري أنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم و صيامكم مع صيامهم و عملكم مع عملهم يقرؤن القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية تنظر في النصل فلا ترى شيئا و تنظر في القدح فلا ترى شيئا و تنظر في الريش فلا ترى شيئا و يتمارى في الفوقة رواه البخاري في الصحيح عن عبد الله بن يوسف عن مالك و أخرجاه من وجه آخر كما :

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو زکریا بن ابو اسحاق نے ، دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسن ظرائفی نے ، ان کو عثمان بن سعید دارمی نے ، ان کو یحییٰ بن بکیر نے، ان کو مالک نے (ح) وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے قعنبی نے ، اس میں جو انہوں نے مالک کے آگے پڑھا اس نے یحییٰ بن سعید سے اس نے محمد بن ابراہیم سے ، اس نے سلمہ بن عبدالرحمٰن سے، اس نے ابو سعید خدری سے یہ کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا وہ فرما رہے تھے ۔ تم لوگوں میں ایک قوم باجماعت نکلے گی جو اپنی نمازوں کے ساتھ تمہاری نمازوں کو حقیر سمجھیں گے اور اپنے روزوں کے آگے تمہارے روزوں کو حقیر جانیں گے اور اپنے عمل کے مقابلے میں تمہارے عمل کو حقیر جانیں گے ۔ وہ قرآن مجید کو تو پڑھیں گے مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں گذرے گا ۔ وہ لوگ دین میں سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے نشانے سے نکل جاتا ہے ۔ آپ اس کے پھالے پر نظر ڈالیں تو آپ کو کچھ لگا ہوا اس پر نظر نہیں آتا ۔ آپ اس کے تیر کو دیکھیں تو آپ کو کچھ نطر نہیں آئے گا اس کے پر میں دیکھیں تو کچھ نظر نہیں آئے گا۔ (یعنی دین کا تو ان پر کوئی نشان نظر نہیں آئے گا مگر وہ تقویٰ اور برتری کا دعویٰ اور مقابلہ کریں گے )۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← القعنبي فيما قرأه على مالك ← و، ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو زكريا بن أبي إسحاق

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2640

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2641

2641 - أخبرناه أبو طاهر الفقيه أنا أبو بكر محمد بن الحسين القطان ثنا أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف الفريابي قال : ذكر سفيان عن محمد بن المنكدر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : سيجيء قوم يقرؤون القرآن يقيمونه إقامة القدح يتعجلون أجره و لا يتأجلونه هكذا رواه الثوري مرسلا و كذلك رواه ابن عيينة عن ابن المنكدر مرسلا

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے ، ان کو ابو بکر محمد بن حسین قطان نے ، ان کو احمد بن یوسف سلمی نے ، ان کو محمد بن یوسف فریابی نے ، انہوں نے کہا کہ سفیان نے ذکر کیا ہے محمد بن منکدر سے ، اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا عنقریب کچھ لوگ آئٰں گے وہ قرآن مجید کی قرأت کریں گے اور اس کو تیر کی طرح سیدھا کریں گے اور اس کا اجر او رمعاوضہ حاصل کرنے کی جلدی کریں گے (یعنی اس کا معاوضہ دنیا میں دینوی مال و متاح کے طور پر لیں گے ) اور اس کو آخرت کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔ ثوری نے اس کو اسی طرح مرسل روایت کیا ہے اور اس کو ابن عیینہ نے ابن منکدر سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← اَحْمَدُ بْنُ یُوْسُفَ السُّلَمِیُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2641

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2642

2642 - و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو صادق العطار قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق ثنا أبو سعيد الحداد ثنا خالد عن عبد الله عن حميد الأعرج عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله قال : خرج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم و نحن نقرأ القرآن و فينا العجمي و العربي فقال : إقرؤا بكل حسن و سيجيء أقوام يتعجلونه و لا يتأجلونه و تابعه أسامة بن زيد على وصله

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ اور ابو بکر قاضی اور ابو صادق عطاء نے ، انہوں نے کہا کہ ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق بن اسحاق نے ، ان کو ابو سعید حداد نے ، ان کو خالد نے ، ان کو عبداللہ نے ، ان کو حمید اعرج نے ، ان کو محمد بن منکدر نے ، ان کو جابر بن عبداللہ نے ، انہوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمارے پاس نکل کر تشریف لائے ، جب کہ ہم لوگ قرآن مجید پڑھ رہے تھے ۔ ہم میں عربی بھی اور عجمی بھی تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ ہر ایک صحیح ہے درست ہے اور عنقریب کچھ قومیں اور جماعتیں آئیں گی جو اس کی اجرت میں جلدی کریں گے ، یعنی دینوی معاوضہ لیں گے اور تاخیر نہیں کریں گے ۔ یعنی آخرت کے لیے نہیں چھوڑیں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← خَالِدٌ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْحَدَّادُ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو بكر القاضي و أبو صادق العطار ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2642

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2643

2643 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل القاضي ثنا إسماعيل بن أبي أويس ثنا سليمان بن بلال عن أسامة بن زيد أن محمد بن المنكدر أخبره أن جابر بن عبد الله أخبرهم قال : كنا جلوسا نقرأ القرآن فخزج علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم مسرورا فقال : إقرؤا القرآن فيوشك أن يأتي قوم يقرؤونه فيقومونه كما يقوم القدح و يتعجلونه و لا يتأجلونه و رواه عبد العزيز بن محمد الداروي عن أسامة بن زيد عن محمد بن المنكدر عن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى قوما يقرؤون القرآن في المسجد فقال اقرؤا القرآن قبل أن يأتي قوم يقيمونه إقامة القدح يتعجلونه و لا يتأجلونه

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید صفار نے، ان کو اسماعیل قاضی نے ، ان کو اسماعیل بن ابو اویس نے ، ان کو سلیمان بن بلال نے ، ان کو اسامہ بن زید نے ان کو محمد بن منکدر نے ا س کو خبر دی ہے کہ جابر بن عبداللہ نے ان کو خبر دی ہے کہ ہم لوگ بیٹھے قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ہمارے اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لائے جو کہ خوش خوش تھے اور فرمانے لگے پڑھ لو تم لوگ قرآن مجید قریب ہے کہ کچھ لوگ آپ کے جو اس کو پڑھیں گے اور اس کو تیر کی مانند سیدھا کریں گے اور اس کا معاوضہ لینے میں جلدی کریں گے ۔ اس میں تاخیر نہیں کریں گے ۔ (مطلب یہ ہے کہ اس کا معاوضہ دنیوی مال و متاع کی صورت میں دنیا میں لے لیں گے ۔ آخرت میں لینے کے لئے تاخیر نہیں کریں گے ۔ اس کو روایت کیا ہے کہ عبدالعزیز بن محمد دراور دی نے اسامہ بن زید سے اس نے محمد بن منکدر سے ، اس نے جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک قوم کو دیکھا جو مسجد میں بیٹھے قرآن مجید پڑھ رہے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ قرآن مجید پڑھو اس سے قبل کہ وہ لوگ آجائیں جو اس کو تیر کی مانند سیدھا کریں گے دنیا میں اس کا معاوضہ لینے کی جلدی کریں گے ۔ اسے آخرت کے لیے نہیں چھوڑیں گے ۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2643

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك التعمق في القرآن · حديث 2644

2644 - أخبرناه علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا أبو جعفر الدينوري ثنا أبو مروان العثماني ثنا عبد العزيز فذكره و رواه موسى بن عبيدة عن أخيه عن سهل بن سعد : عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال في الحديث يتعجلون أجره و لا يتأجلونه

ہمیں اس کی خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو ابو جعفر دنیوری نے ، ان کو ابو مروان عثمانی نے، ان کو عبدالعزیز نے اس کو ذکر کیا اور اس کو روایت کیا ہے موسیٰ بن عبیدہ نے اپنے بھائی سے ، اس نے سھل بن سعد سے ، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے اور اس نے کہا کہ حدیث میں ہے کہ وہ اس کے معاوضہ کی جلدی کریں گے ، دیر نہیں کریں گے۔ (یعنی دنیا میں دنیوی معاوضہ اور اجرت کے حاصل کرنے کی جلدی کریں گے آخرت کی اجرت و معاوضہ پر صبر نہیں کریں گے)۔

في الحديث يتعجلون أجره و لا يتأجلونه ← النبي صلى الله عليه و سلم و ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَخِيهِ ← عبد العزيز فذكره و رواه موسى بن عبيدة ← أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ← أبو جعفر الدينوري ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › A chapter on letting go deeper in the Qur’an · Hadith 2644

chevron_left Previous
1…697071…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood