Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2621

2621 - و قد أنبأني محمد بن موسى بن الفضل أجازة أن أبو عبد الله الصفار ثنا أحمد بن محمد بن مهران الأصبهاني ثنا أبو الوليد خلف بن الوليد ثنا المحاربي عن بكر بن خنيس عن ضرار بن عمرو عن الحسن قال : قرأ القرآن ثلاثة رجل أخذه بضاعة ينقله من مصر إلى مصر إلى مصر يطلب به ما عند الناس وقوم قرؤوا القرآن و حفظوا حروفه و ضيعوا حدوده و استزلوا به الولاه و استطالوا به على أهل بلادهم فقد كثر هذا الضرب في حملة القرآن لا كثرهم الله و رجل قرأ القرآن فتداوى بدواء القرآن فوضعه على داء قلبه فسهر ليله و عملت عيناه تسربلوا الحزن و ارتدوا بالخشوع ذكروا في محاريبهم و اخفوا في برانسهم فبهم يسقي الله الغيث و ينزل النصر و يرفع البلاء و الله لهذا الضرب في حملة القرآن أقل من الكبريت الأحمر

اور تحقیق مجھے خبر دی ہے محمد بن موسیٰ بن فضل نے بطور اجازت کے ان کو خبر دی ہے ابو عبداللہ صفار نے ان کو احمد بن محمد بن مہران اصفہانی نے ان کو ابو الولید خلف بن ولید نے ان کو محاربی نے ان کو بکر بن خنیس نے ان کو ضرار بن عمرو نے ان کو حسن نے فرماتے ہیں کہ تین طرح کے لوگوں نے قرآن کو پڑھا ہے ایک تو وہ آدمی جس نے اس کو سامان تجارت کی طرح لیا ہے وہ اسے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرتا رہتا ہے اس کے ذریعے وہ مال طلب کرتا ہے جو لوگوں کے پاس ہے دوسرے وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن پڑھا ہے اور اس کے الفاظ کی حفاظت کی ہے اور اس کی حدود کو ضائع کر دیا ہے اور اس کے ذریعے انہوں نے حکمرانوں کو بہکایا ہے اور اس کے ذریعے اپنے اہل شہر پر اپنی برتری دکھائی ہے یہ قسم حاملین قرآن میں بہت ہے اللہ ان کی تعداد کو زیادہ نہ کرے ۔اور ایک وہ آدمی بھی ہے جس نے قرآن پڑھا ہے اور اس نے قرآن کی دواء کے ساتھ علاج کیا ہے یعنی اس کو اپنے دل کی بیماری پر استعمال کیا ہے اور اپنی راتوں کو جاگا ہے اور اپنی آنکھیں کام میں لگ گئی ہیں کہ انہوں نے حزن و غم کا لباس پہن لیا ہے اور خشوع کا چادر اوڑھ رکھا ہے اپنےحجروں محرابوں میں اس کو یاد کرتے ہیں اور اپنی ٹوپیوں کے نیچے (عاجزی کرتے ہوئے ) چھپ گئے ہیں انہیں (نیک لوگوں کی ) بدولت اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے انہیں کے بسبب مدد خدا وندی اترتی ہے اور مصیبت دور ہوتی ہے ۔ اللہ کی قسم لوگوں کی قسم حاملین قرآن میں یاقوت احمر سے بھی کم ہے ۔

الْحَسَنِ، ← ضرار بن عمرو ← بكر بن خنيس ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← أبو الوليد خلف بن الوليد ← أحمد بن محمد بن مهران الأصبهاني ← محمد بن موسى بن الفضل أجازة أن أبو عبد الله الصفار ← و قد

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2621

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2622

2622 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو عثمان الخياط ثنا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا زكريا يحيى بن العلاء و كان من البكائين قال : إذا قرأ ابن آدم القرآن ثم خلط ثم عاد يقرأ يقول الله له مالك أو قال : ما أنت و لكلامي

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحٰق نے ان کو ابو عثمان خیاط نے انکو احمد بن ابو الحواری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو زکریا یحییٰ بن علاء سے وہ خوف خدا سے مشہور رونے والوں میں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب ابن آدم قرآن پڑھتا ہے اس کے بعد نیک و بد اعمال میں خلط کرتا ہے پھر وہ لوٹ کر آتا ہے اور تلاوت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرماتے ہیں تجھے میرے کلام سے کیا نسبت ہے ۔

ما أنت و لكلامي ← الله له مالك أو ← إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ خَلَطَ ثُمَّ عَادَ يَقْرَأُ ← أبا زكريا يحيى بن العلاء و كان من البكائين ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← أَبُو عُثْمَانَ الْخَيَّاطُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2622

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك المباهاة بقراءة القرآن · حديث 2623

2623 - قال : و ثنا أحمد قال : سمعت أبا سليمان يقول الزبانية يوم القيامة أسرع إلى حملة القرآن الذين عصوا الله بعد قراءة القرآن منهم إلى عبدة الأوثان غضبا عليهم حين عصوا الله بعد قراءة القرآن

انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد نے انہوں نے کہا میں نے سنا ابو سلیمان سے وہ کہتے ہیں کہ خیر کا دربان زبانیہ فرشتہ قیامت کے دن ان حاملین قرآن کی گرفتار کرنے کے لیےجنہوں نے اللہ کی نافرمانی کی تھی قرأت قرآن کے با وجود زیادہ تیز ہیں اس سے بھی جتنی کہ وہ بت پرستوں پر غضبناک ہو جب کہ وہ اللہ کی نافرمانی کریں پڑھنے کے بعد۔

أَبَا سُلَيْمَانَ، ← أَحْمَدُ، ← و،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on leaving boasting about reading the Qur’an · Hadith 2623

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2624

2624 - أخبرنا الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا أبو عمر إسماعيل بن نجيد ثنا محمد بن أيوب البجلي ثنا سهل بن بكار ثنا أبان بن يزيد عن يحيى بن أبي كثير عن زيد بن سلام عن أبي سلام عن أبي راشد الحبراني عن عبد الرحمن بن شبل الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ـ اقرأوا القرآن و لا تغلوا فيه و لا تجفوا عنه و لا تأكلوا به و لا تستكثروا به رواه علي بن المبارك عن يحيى بن أبي كثير و زاد فيه : اقرؤا القرآن و اعملوا بما فيه

ہمیں خبر دی امام ابو لطیب سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو ابو عمرو اسماعیل بن نجید نے ان کو محمد بن ابوبجلی نے اس کو سہل بن بکار نے ان کو ابان بن یزید نے ان کو یحییٰ بن ابوکثیر نے ان کو زید بن سلام نے ان کو ابوسلام نے ان کو ابو راشد حبرانی نے ان کو عبدالرحمٰن بن شبل انصاری نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ قرآن مجید کو پڑھو اور اس میں غلو اور زیادتی نہ کرو ( یا اس میں خیانت نہ کرو) اور اس سے دور نہ ہو وہ۔یا بوجھل نہ ہو ، نہ ہی اسے کھانے کا ذریعہ بناؤ اور نہ ہی اس کے ذریعے مال جمع کرو۔ اس کو روایت کیا ہے علی بن مبارک نے ان کو یحییٰ بن ابو کثیر نے اور اس نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ۔ قرآن کو پڑھو اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کرو۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ، ← أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← محمد بن أيوب البجلي ← أبو عمر إسماعيل بن نجيد ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2624

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2625

2625 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم بن حبيب المفسر من أصل كتابه و محمد بن موسى بن الفضل قالوا أنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الأصبهاني ثنا أحمد بن هيثم ابن أبي نعيم الفضل بن دكين ثنا علي بن قادم الخزاعي عن سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة و وجهه عظم ليس عليه لحم

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو القاسم بن حبیب مفسر نے اپنی اصل کتاب سے اور محمد بن موسیٰ بن فضل نے انہوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ صفار اصفہانی نے ان کو احمد بن ہثیم ابن ابو نعیم نے فصل بن اکین نے ان کو علی بن قادم خزاعی نے ان کو سفیان ثوری نے ان کو علقمہ بن مرثد نے ان کو سلیمان بن بریدہ نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص قرآن مجید پڑھے اور اس کے ذریعے لوگوں کا مال کھائے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ ہڈی ہوگا اس پر گوشت نہیں ہوگا۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← علي بن قادم الخزاعي، ← أحمد بن هيثم ابن أبي نعيم الفضل بن دكين ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2625

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2626

2626 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني عبد الله بن إسحاق الخزاعي بمكة ثنا ابن أبي ميسرة ثنا المقري ثنا حيوة أخبرني بشير بن أبي عمرو الخولاني أن الوليد بن قيس التجيبي حدثه أنه سمع أبا سعيد الخدري يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ـ و تلا هذه الآية { فخلف من بعدهم خلف } فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يكون خلف من بعد ستين سنة أضافوا الصلاة و اتبعوا الشهوات فسوف يلقون غيا ثم يكون خلف يقرؤن القرآن لا يعدو تراقيهم و يقرأ القرآن ثلاثة مؤمن و منافق و فاجر قال بشير فقلت للوليد ما هؤلاء الثلاثة فقال المنافق كافر به و الفاجر يتأكل به و المؤمن يؤمن به

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی عبداللہ بن اسحٰق خزاعی نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابن ابو میسرہ نے ان کو مقری نے ان کوحیاۃ نے ان کو بشیر بن ابی عمرو خولانی نے کہ ولید بن قیس تجیبی نے ان وک حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے ابو سعید خذری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سےسنا آپ فرماتے تھے اور آپ نے یہ آیت تلاوت کی تھی ۔ فختلف من بعدھم خلف ۔ کہ ان کے بعد ناخلف پیدا ہو گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا نا خلف ہوں گے ساٹھ سال کے بعد وہ نمازوں کو ضائع کر دیں گے ، اور شہوات و لذات کے پیچھے چلیں گے پس بہت جلدی پالیں گے وادی غیبی (جہنم کی وادی) کو پھر اس کے بعد دوسرے ناخلف یعنی نالائق پیدا ہوں گے جو قرآن کو تو پڑھیں گے ۔ لیکن قرآن ان کے ہنسلیوں سے نیچے نہیں اترے گا،اور قرآن کو پڑھتے ہیں تین طرح کے لوگ پہلے نمبر پر صحیح مؤمن دوسرے نمبر پر منافق تیسرے نمبر پر بدکردار ، بشیر بن عمرو خولانی کہتے ہیں میں نے ولید بن قیس سے پوچھا کہ ان تینوں کی ماہیت و حقیقت کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ منافق تو سرے سے قرآن (کو پڑھنے کے باوجود ) منکر اور کافر ہوتا ہے اور فاجر یعنی گنہگار و بدکردار اس کے ذریعے سے کھاتا ہے (یعنی پیٹ پالتا ہے ) اور مؤمن حقیقت میں اس کے ساتھ ایمان رکھتا ہے ۔

و تلا هذه الآية ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَنَّهُ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الْخَوْلَانِيُّ،أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ قَيْسٍ التُّجِيبِيَّ ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← ابْنُ أَبِي مَيْسَرَةَ ← عبد الله بن إسحاق الخزاعي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2626

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2627

2627 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي أنا أحمد بن محمد بن دلوية ثنا أحمد بن حفص عن عبد الله حدثني أبي حدثني إبراهيم بن طهمان عن الحسن بن عمارة عن الأعمش عن خيثمة عن الحسن البصري أنه قال : كنت مع عمران بن حصين إذ مر رجل يقرأ سورة يوسف فاستمع له فلما فرغ سأل فقال عمران بن حصين إنا لله و إنا إليه راجعون سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول اقرؤا القرآن سلوا به الله فإنه سيجيء قوم يقرؤون القرآن يسألون به الناس

ہمیں خبر دی ابو الحسن محمد بن حسن علوی نے ان کو احمد بن محمد بن دلویۃ نے ان کو احمد بن حفص نے ان کو عبداللہ نے ان کو ان کے والد نے ان کو ابراہیم بن طہمان نے ان کو حسن بن عمارہ نے ان کو اعمش نے ان کو خیثمہ نے ان کو حسن بصری نے انہوں نے کہا کہ میں عمران بن حصین کے ساتھ تھا اچانک ایک آدمی گذرا جو کہ سورۃ یوسف پڑھ رہا تھا عمران نے اس کی طرف کان لگا لیا جب وہ فارغ ہوئے تو مانگنا شروع کر دیا پس عمران بن حصین نے کہا انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا فرماتے تھے قرآن مجید پڑھو (مگر سوال ) اس کے ذریعے اللہ سے کرو بے شک عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر اس کے ذریعے لوگوں سے سوال کریں گے۔

الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← الحسن بن عمارة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ← أحمد بن محمد بن دلوية ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2627

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2628

2628 - أخبرنا أبو محمد بن يوسف إملاء ثنا أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن فراس بمكة ثنا محمد بن صالح ثنا نصر بن علي ثنا أبو أحمد ثنا سفيان عن الأعمش عن خيثمة عن الحسن عن عمران بن حصين : أنه مر علي قاص قرأ ثم سأل فاسترجع من ذلك و قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ القرآن فليسأل الله به فإنه سيأتي قوم يقرؤون القرآن يسألون الناس به

ہمیں خبر دی ابو محمد بن یوسف نے بطور املاء کے ، ان کو ابو اسحاق ابراہیم بن احمد بن فراس نے مکہ میں ، ان کو محمد بن صالح نے ، ان کو نصر بن علی نے ان کو ابو احمد نے ، ان کو سفیان نے ، ان کو اعمش نے ، ان کو خیثمہ نے ، ان کو حسن نے ، ان کو عمران بن حصین نے کہ وہ ایک وعظ کرنے والے کے پاس سے گذرے ، جس نے تلاوت کے بعد مانگنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے انا للہ پڑھا اس بات پر اور بولے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے تھے جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کرے اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے مانگے اس کے ذریعے سے ۔ بے شک عنقریب کچھ لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت کریں گے اور اس کے ذریعے لوگوں سے مانگیں گے ۔

الْحَسَنِ، ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ← أبو إسحاق إبراهيم بن أحمد بن فراس، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2628

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2629

2629 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي ثنا أحمد بن نجدة ثنا سعيد بن منصور ثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن خيثمة بن أبي خيثمة البصري قال : كان رجل يطوف و يقرأ سورة يوسف فيجتمع الناس عليه فإذا فرغ سأل فقال الحسن كنت مع عمران بن حصين فمر به السائل فقام فاستمع لقراءته فلما فرغ سأل فقال عمران إنا لله و إنا إليه راجعون إذهب بنا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ القرآن فليسأل الله به فإنه سيجيء قوم يقرؤون القرآن فيسألون به الناس

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابو منصور تصروی نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو سعید بن منصور نے ، ان کو جریر بن عبدالحمید نے ، ان کو منصور نے ، ان کو خیثمہ نے ، ان کو ابو خیثمہ بصری نے ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی طواف کر رہاتھا اور سورہ یوسف بھی پڑھ رہا تھا ۔ لوگ اس کے پاس جمع ہو گئے ۔ جب وہ پڑھ کر فارغ ہوا تو سوال کرنا اور مانگنا شروع کر دیا ۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ میں عمران بن حسین کے پاس بیٹھا تھا ۔ چنانچہ ان کے پاس سے کوئی سائل گذرا ، وہ کھڑے ہو کر توجہ کے ساتھ اس کی تلاوت سننے لگے۔ جب وہ پڑھ کر فارغ ہوا تو اس نے مانگنا شروع کیا۔ عمران بن حصین نے انا للہ پڑھا ۔ لے چلئے ہمیں ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرما تے تھے جس نے قرآن پڑھا اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے مانگے ، عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن کو پڑھیں گے اور اس کے بعد لوگوں سے مانگیں گے۔

خيثمة بن أبي خيثمة البصري ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2629

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2630

2630 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أحمد بن محمد بن حمدان أنا الحسن بن سفيان ثنا هشام بن خالد الأزرق ثنا الوليد ثنا ابن لهيعة عن موسى بن وردان عن أبي الهيثم عن أبي سعيد الخدري : أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : تعلموا القرآن و سلوا به الجنة قبل أن يتعلم قوم يسألون به الدنيا فإن القرآن يتعلمه ثلاثة : رجل يباهي به و رجل يستأكل به و رجل يقرأ لله عز و جل

ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے ، ان کو احمد بن محمد بن حمدان نے ، ان کو حسن بن سفیان نے ، ان کو ہشام بن خالد زرق نے ، ان کو ولید نے ، ان کو ابن لھیعہ نے ، ان کو موسیٰ بن وردان نے ، ان کو ابو الھیثم نے ، ان کو ابو سعید خدری نے کہ انہوں نے سنا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے تھے قرآن سیکھو اور اس کے ذریعے جنت مانگو۔ اس سے قبل کہ کچھ لوگ اس کو ایسے سیکھیں جو اس کے ذریعے دنیا مانگیں گے ۔ بے شک قرآن کو تین طرح کے لوگ سیکھیں گے ۔ ایک تو وہ آدمی جو اس کے ذریعے دوسروں پر فخر کریں گے اور دوسرے وہ جو اس کے بعد کھانا طلب کریں گے اور تیسرے وہ آدمی جو اللہ کی رضا کے لیے پڑھے گا۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← مُوسَى بْنَ وَرْدَانَ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← الْوَلِیْدُ ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2630

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2631

2631 - أخبرنا أبو الحسن بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا جعفر بن أحمد بن عاصم ثنا هشام بن عمار ثنا مروان بن معاوية ثنا أبو يعقوب ثنا أبو ثابت عن أم رجاء الأشجعية قالت : قال عبد الله بن مسعود : أنه سيجيء زمان يسئل فيه بالقرآن فإذا سألوكم فلا تعطوهم

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن عبدان نے ، ان کو احمد بن عبید نے ، ان کو جعفر بن احمد بن عاصم نے ، ان کو ہشام بن عمار نے ، ان کو مروان بن معاویہ نے ، ان کو ابو یعقب نے ، ان کو ابو ثابت نے ، ان کو ام رجاء اشجعیہ نے ، وہ کہتی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں قرآن کے ذریعے مانگا جائے گا اور سوال کیا جائے گا جب تم سے (ایسے لوگ) مانگیں گے تو بالکل نہ دینا۔

أم رجاء الأشجعية ← أَبُو ثَابِتٍ ← أَبُو يَعْقُوبَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← جعفر بن أحمد بن عاصم ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2631

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك قراءة القرآن في المساجد و الأسواق ليعطى و يستأكل به · حديث 2632

2632 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الفضل بن حميرويه أنا أحمد بن نجدة ثنا أحمد بن يونس ثنا أبو معشر عن سعيد عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن لهذا القرآن شره ثم للناس عنه فترة فمن كانت فترته للقسط و السنة فنعم ما هو و من كانت فترته إلى الأعراض فأولئك هم بور قال البيهقي رضي الله عنه : ـ قوله شره يعني رغبة و نشاطا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ، ان کو ابوالفضل بن حمیرویہ نے ، ان کو احمد بن نجدہ نے ، ان کو احمد بن یونس نے ، ان کو ابو معشر نے ، ان کو سعید نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا: بے شک اس قرآنکے لیے اس کی رغبت اور خوشی ہوگی ۔ پھر لوگوں کے لیے اس سے رک جانا ہوگا ۔ جس کا رک جاناعدل کے لیے اور سنت کے لیے ہو یہ بات بہت اچھی ہے ۔ اور جس کی فترۃ دولت کے لیے ہوگی وہ لوگ ہلاکت والے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← أبو معشر ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أبو الفضل بن حميرويه ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on giving up reading the Qur’an in mosques and markets, to be given and eaten · Hadith 2632

chevron_left Previous
1…686970…939
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood